اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ١

تلاشِ دینِ حق

بعض لوگوں کا خیال ہےکہ یہ ان کی ذمہ داری نہیں کہ کسی دین کو تلاش کریں بلکہ ان کاکہنا ہے کہ ہمیں ضرورت ہی کیا کہ ہم دین کی تلاش میں سرگرداں ہوں؟
ہم ان حضرات کی خدمت میں اس ’’مختصر رسالے‘‘ کے ذریعہ تلاشِ دینِ حق کیوں ضروری ہے دو طریقوں سے پیش کرتے ہیں:
۱ دنیا کا ہر صاحب عقل انسان اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ وہ احسان فراموش نہ کہلائے۔ بلکہ اس پر جتنے احسان ہوں ان کا شکر گذار ہو۔
۲ یہ بھی ہر عقل سلیم والا کہتا نظر آتا ہے کہ ہر قسم کے خطرے اور نقصان سے اپنے کو بچانا ضروری ہے یہاں تک کہ ہرامکانی خطرات سے بھی!

تفصیلات
ہم کائنات کی تمام چیزوں سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اعضائے بدن میں ہر ایک عضو دوسرے سے بڑھ کر اہمیت والاہے۔ اس کے علاوہ سورج ، چاند، درخت، ہوا، زمین کے سینے میں چھپی ہوئی نعمتیں سب کی سب وہ چیزیں ہیں جن سے آج کا انسان فائدہ اٹھا رہاہے۔
اور ان تمام چیزوں سے بڑھ کر خود انسان کی عقل و استعداد کہ جس کے ذریعہ وہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے ۔ پانی جیسی چیز سے عظیم چیزوں کو چلاتا اور لوہے جیسی سخت چیز سے نازک سے نازک کام انجام دیتا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے کہ دل چاہتا ہے کہ پوچھا جائے کہ آخر ان نعمتوں کا دینے والا کون ہے؟ اور کیا اس کی تلاش ضروری ہے تاکہ اس کی بارگاہ میں شکر بجا لایا جائے۔
اگر ایک رحم دل شخص ایک ایسے شیرخوار بچے کو گود لے جس کے ماں باپ کسی حادثے میں ختم ہوچکے ہوں اور پھر اس بچے کو آرام و آسائش کے ذرائع مہیا کرے یہاں تک کہ جب وہ لکھنے پڑھنے کے لائق ہوتو اچھے سے اچھے اسکول میں تعلیم دلائے پھر اپنی دولت کا ایک معقول حصہ اس کو دےدے تاکہ وہ اپنی باقی زندگی بھی آرام وسکون سے گذار سکے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس بچے کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اس محسن کا پتا چلائے اور اس کے احسانات کا شکریہ ادا کرے ۔ جب یہ بات ضروری ہے تو اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اس زندگی میں یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے ارد گرد نعمتوں کے انبار دیکھیں تو اس کے عطا کرنے والے کو تلاش کریں اور ان احسانات و نعمات کے خالق کو پہچانیں۔
عقل اسی لئے تلاشِ دینِ حق کا حکم دیتی ہے ۔ وہ شخص جس نے صحیح راستہ تلاش نہ کیا بلکہ خیالات میں الجھاہوا ہے اس کےلئے ضروری ہے کہ تھک کر بیٹھ نہ جائے بلکہ کسی صاف اور واضح دلیل کے ذریعہ راہِ حق اور صحیح دینِ حق کے چشمہ تک پہنچ جائے تو بڑے خشوع وخضوع اور پورے جوش وولولے کے ساتھ اپنے خالق کی بارگاہ میں سجدہ ٔ شکر بجالائے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ:
اگر کوئی بچہ آپ سے کہے کہ ایک بچھو آپ کی قمیص کے اندر ہے یا کسی لباس کے اندر ہے تو آپ کا پہلا ردّ عمل(ایکشن) یہ ہوگا کہ آپ اچھل کر فوراً اپنی جگہ چھوڑدیں گے اور فوراً قمیص اتار کر اس موذی جانور کو تلاش کریں گے۔ بہت غور سے ایک ایک گوشے کو دیکھیں گے کہ یا تو بچھو مل جائے یا اس بات کااطمینان ہوجائے کہ ہمارے لباس میںنہیں ہے۔
اسی طرح اگر سفر کرتے ہوئے معلوم ہو کہ اگلے اسٹیشن پر یا اگلی سڑک پر فساد ہوگیا ہے تو پھر آپ کے قدم اس کی طرف اس وقت تک نہ اٹھیں گے جب تک کہ اس بات کا اطمینان نہ ہوجائے کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔
ان دونوں مثالوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ صرف خطرے کے امکان کے وقت بھی اپنے کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ اور اس کو ہر انسان خوب سمجھتا ہے ویسے اس کا امکان ہے، بعض اوقات خطرہ بہت معمولی ہوتا ہے جس کی بنا پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتا۔ وہ سوچتا ہے کہ میں بچ کر نکل جاؤں گا اور نکل بھی جاتا ہے لیکن ____جس وقت کوئی بہت اہم خبر ہو شدید خطرہ ہو، ایسا خطرہ جس میں جان کا خطرہ ہو زندگی تباہ ہوجانے کی بات ہو اس وقت؟____ اس وقت کوئی بھی بے اعتنائی نہیں کرتا بلکہ اپنے بچاؤ کی ہر ممکن صورت سوچتا ہے اور تلاش کرتا ہے۔

زبردست خطرہ
انسانیت کی پوری تاریخ میں بہت سی ایسی شخصیتیں آئی ہیں جو اپنی سچائی اور حقانیت میںعظیم شہرت کی حامل ہیں اور ان شخصیتوں نے خود کو اللہ کا نمائندہ بتلایا اور ہمیں اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی اور ان کی مسلسل و پے درپے کوششوں سے دنیا کے گوشے گوشے میں ان کے ماننےاور کلمہ پڑھنے والے موجود ہیں۔ جیسے کہ حضرت موسیٰؑ، جناب عیسیٰؑ اور ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
اب ہم خود اپنے آپ سے ایک بات پوچھیں کہ یہ جو الٰہی نمائندے لوگوں کو دین اور اعمال خیر کے لیے عمل کی تلقین کیا کرتے تھے اور بُرے اعمال کے نتیجے میں سخت سزا سے ڈرایا کرتے تھے اور جن کا کہنا تھا کہ ایک دن بہرحال ایک ’’عادل‘‘ کی بارگاہ میں حاضری دینا ہے اور جو ہمیشہ قیامت کی مصیبتیں اور عذاب کی شدت کی طرف اشارہ کرتے تھے اور لوگوں کو ڈراتے تھے تو کیا الٰہی نمائندوں کی باتیں اس بچھو کی خبر دینے والے بچے کی خبر کے برابر بھی نہیں ہیں؟ اور جتنا خوف اس بچے کی خبر سے ہواتھا اتنا بھی اس صادق و امین کی خبر سے نہ ہوگا۔ کیا یہ بات صحیح ہے کہ ہم ان الٰہی نمائندوں کی باتوں کو کوئی اہمیت نہ دیں جنھوں نے اپنے عمل سے اور مستحکم کردار سے اپنی سچائی و حقانیت کو واضح کردیا؟ جب کہ وہ آپ اپنے عقیدے اور ایمان پر اس سختی سے قائم تھے کہ اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے بلکہ بڑی قربانی دیتے نظر آئے۔
یہاں پہونچ کر یہ بات تو دل میں اتر ہی جاتی ہے کہ ان صادق و امین الٰہی نمائندوں کی باتیں اگر یقین نہیں دلاتیں تو کم ازکم یہ بات ذہن میں آہی جاتی ہے کہ ممکن ہے کہ ’’یہ بات صحیح ہو‘‘ پس اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ کل خدا وند عادل کی بارگاہ میں ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں عقلِ انسان یہ کہنے پر مجبور ہے کہ اپنے کو ہر امکانی’’خطرے سے بچاؤ‘‘ اور دین کی طرف متوجہ ہوجاؤ! اور یہ صرف آخرت کی بات نہیں۔ وہ الٰہی نمائندے لوگوں کو ایک اچھی صحیح سالم زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں ایک خوش حال معاشرہ ایک ترقی یافتہ تہذیب اور ایک کامل اخلاق کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں او روہ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک عظیم دنیا اورابدی نعمتیں عمل صالح کرنے والوں کی منتظر ہیں۔ اور وہی خبردیتے ہیں کہ وہاں سکون و اطمینان کی زندگی ہوگی۔ وہاں غم پریشانیاں ، بیماریاں اور دوسری مصیبتوں کا گذر نہ ہوگا____ تو کیا کسی کی عقل یہ کہتی ہے کہ ان تمام باتوں کو سننے کے بعد ا سے نظر انداز کرے؟____ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ جن چیزوں کی خبر الٰہی نمائندوں نے دی ہے اور جن چیزوں سے ڈرایا ہے اس کو اہمیت دیں اور تلاشِ دینِ حق میں مصروف ہوں اور کچھ اس کےلئے بھی سوچیں!