اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٢

غیر مرئی چیزوں پر غور کیجئے

جس وقت ہماری نظر ایک خوبصورت اور پُر شکوہ عمارت پر پڑتی ہے تو اس بات کا احساس بہرحال ہر ایک کو ہوتا ہے کہ اس کا بنانے والا انجینئر یا معمار کتنا فن کار رہا ہوگا اور کیسا ماہر یعنی عمارت کی خوبصورت اور جاذبیت سے اس کے بنانے والے کی فنکاریت کا پتا مل جاتا ہے، اسی طرح موٹر، ریل، ہوائی جہاز، راکٹ ، کمپیوٹر غرض ہر شے اور عجیب و غریب چیز دیکھ کر ہم اس کے موجد اور بنانے والے کی مہارت کے قائل ہوجاتے ہیں۔ اور میرا خیال تو یہ ہے کہ ہم میں سے کسی ایک نے بھی ان تمام چیزوں کے بنانے والوں میں سے کسی ایک کو بھی نہ دیکھا ہوگا کیوں کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہم موجد کو خود بھی دیکھیں اور اگر فرض بھی کیجئے کہ ان موجدوں میں سے کسی ایک کو دیکھ لیا ہوتا تو ہم ان کی فنکاریت اور مہارت کا اندازہ ان کو دیکھ کر بھی نہیں لگا سکتے تھے بلکہ اس کا اندازہ تو صرف ان کی بنائی ہوئی چیزوں سے ہوتا ہے۔
تو اگر چہ ہم نے موجدوں کو نہیں دیکھا مگر ہم سب کو یقین ہے کہ جو اس کے بنانے والے تھے وہ اپنے کام میں ایسے ماہر تھے۔ یہ یقین کیوں ہے؟ اس لئے کہ ان کی بنائی ہوئی چیزوں پر جب غور کرتے ہیں تو ہم کو تعجب ہوتا ہے اور اس کی اہمیت ہمارے سامنے واضح ہوجاتی ہے تو معلوم ہوا کہ کسی چیز پر یقین کرنے کےلئے یا کسی چیز کے معلوم ہونے کے لئے خود اس کا ’’دیکھنا‘‘ ضروری نہیں ہے۔
آصف الدولہ کا امام باڑہ جب تک لکھنؤ میں باقی ہے لوگوں کو آصف الدولہ کی یاد دلاتا رہے گا او رہر ایک دیکھ کر جانے والا اس یقین کے ساتھ واپس جائے گا کہ کبھی یہاں ایک شاہی حکومت تھی اور اس کے سربراہ آصف الدولہ تھے اس وقت انھوں نے یہ امام باڑہ بنوایا تھا اگر کوئی کہے کہ آصف الدولہ کو حکومت ملی ہی نہیں بلکہ وہ تو ممبئی ہی میں مرگئے تھے ان کے بجائے حکومت تو فلاں کو ملی تھی تو صرف اس امام باڑہ کو دیکھنے والا کہہ اٹھے گا کہ جی نہیں ۔ آصف الدولہ نے حکومت کی ہے اور وہ دلیل کے طورپر کہے گا:’’ ابھی تک ان کی یادگار امام باڑہ موجود ہے۔ اثر موثر کے وجود کےلئے کافی ہے خود اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں اور اس وقت کوئی بھی نہیں کہے گا: جب آپ نے خود آصف الدولہ کو نہیں دیکھا تو آپ کو یقین کیسے؟
تو معلوم ہوا کہ تمام موجوداتِ دنیا کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
۱ وہ چیزیں جن کو ہم اپنے ظاہری حواس (یعنی آنکھ، کان، ناک، ہاتھ وغیرہ) کے ذریعہ درک کرسکتے ہیں جیسے آنکھ سے تاج محل کو دیکھتے ہیں کان سے اچھی آواز کو سنتے ہیں ناک سے بدبو یا خوشبو کا اندازہ لگاسکتے ہیں زبان سے تلخ و شیریں کا پتا چلاتے ہیں بدن کے اتصال سے گرمی یا سردی کا پتا چلاتے ہیں۔
۲ وہ چیزیں جن کا ان حواس ظاہرہ سے اندازہ نہیں ہوسکتا لیکن غور وفکر اور آثار وحالات سے ان کے بارے میں پتا چلالیتے ہیں۔ اگر چہ ا ن چیزوں کے آثار وحالات بھی ایک طرح کے نہیں ہوتے۔ کبھی و ہ حالات مادی ہوتے ہیں اور کبھی غیر مادی ، چنانچہ اس کی چند مثالیں بھی ملاحظہ ہوں:

مقناطیس
اگر مقناطیس کسی لوہے کو کھینچ رہا ہوتو ہم اس کشش کا اپنے ظاہری حواس سے اندازہ نہیں لگاسکتے بلکہ لوہے کو کھینچتے دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ دوسرے ٹکڑے میں یقیناً کشش ہے جس کی بنا پر یہ اس کو کھینچ رہا ہے۔ آج تک کسی نے بھی کشش کو نہیں دیکھا لیکن مقناطیس کی کشش کا یقین ہر شخص کو ہے!

جاذبہ (کشش)
کسی بھی چیز کو اگر آپ اپنے ہاتھ میں لے کر چھوڑ دیجئے تووہ فوراً نیچے گر جائے گی۔ یعنی زمین اس کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔ یہ کون سی قوت ہے جس کو آج تک کسی نے بھی دیکھا نہیں ہے لیکن اس کے ’’اثر‘‘ سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔

غیر مرئی شعائیں
بچوں کے ہاتھوں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ شیشہ کا کوئی تکونہ ٹکڑا لئے سورج کی روشنی کو اس میں دیکھتے ہیں تو ان کو سات رنگ نظر آتے ہیں جن کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سرخ، نارنجی، زرد، ہرا، نیلا، آسمانی، بنفشی(بیگنی)، اس کے علاوہ اور کوئی منظر نظر نہیں آتا جب کہ سائنس دانوں کاکہنا ہے کہ اگرچہ ہماری آنکھ کوئی اور رنگ نہیں دیکھتی لیکن اس کے علاوہ بھی نوراوررنگ ہے جو خود اپنا اثر بھی رکھتا ہے اور اس کا نام سرخ سےکم تر اور بنفشی(بیگنی) سے کم تر رکھا گیا ہے۔
۱۸۰۰ء؁ میں ایک ماہر فیزیک اور فلکیات جس کا نام ’’ہرشل‘‘ تھا اس نے سوچا کہ آیا جو رنگ ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان کے علاوہ بھی کوئی رنگ اور نور ہے یا نہیں اس تجربہ کے لئے اس نے پردے پر ان ساتوں رنگوں کو منعکس کیا اور باربار ان کی جگہ بدلتا تھا اور ہر ایک کے رنگ و اثر پر غور کررہا تھا یہاں تک کہ اسے اندازہ ہوا کہ سرخ رنگ کے بعد بھی حرارت بتانے والاآلہ گرمی کا ریکارڈ کررہا ہے اس سے پتا چلا کہ سرخ رنگ کے علاوہ بھی کوئی نہ دکھائی دینےو الا نور ہے۔
اسی زمانے میں ایک دوسرے ماہر فلکیات ’’ولسٹون‘‘ نے تھوڑی سی ’’کلروز نقرہ‘‘ (جو ایک کیمیائی مادہ ہے) لے کر بنفشی(بیگنی) رنگ کے بعدرکھا اور خلاف توقع اسے پتا چلا کہ یہاں پر اس کا کوئی نور تک نظر نہیں آرہا تھا وہاں کوئی موثر ہے جس نے اس کو سیاہ بنادیا ہے۔
اس کے بہت بعد پتا چلاکہ انسانی جلد کا رنگ جو دھوپ سے سیاہ ہوجاتا ہےاس کی وجہ بھی یہی موثر ہے جس کو ابھی تک دیکھا نہیں جاسکا۔{ FR 542 }
اس کے بعد یہ بات طے پاگئی کہ بنفشی(بیگنی) رنگ کے بعد بھی شعاع موجود ہے جسے دیکھا نہیں جاسکتا اس کا نام ’’بنفشی‘‘ سے کم رکھا گیا۔یا ماورائے بنفشی۔

عقل
ہم سب خود کو پہچانتے ہیں یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ ’’ہم ہیں‘‘ اور اسی طرح بہت سی دوسری اجنبی چیزوں کو بھی محسوس کرلیتے ہیں جس کو اکثر ہم اس طرح کہتے ہیں کہ ’’آج ہم نے ایک بہت بڑے مسئلے کو حل کرلیا یا فلاں تھیوری (Theory) کے بارے میں آج میں نے بہت سوچا اور میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ یہ صحیح ہے۔
اسی طرح ہر انسان جن چیزوں کو جانتا ہے ان کے بارے میں جانتا ہے کہ ان سے واقف ہے عقل کوئی دیکھنے کی چیز نہیں ہے اور نہ سننے اور نہ سونگھنے والی چیز! بلکہ واقعی ایک غیر محسوس چیز ہے لیکن پھر بھی ہم اس کو محسوس کرلیتے ہیں جیسے کوئی حساب کا ماہر کسی مسئلہ کو بتارہا ہو تو اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ اس مسئلہ کو جانتا ہے یا اگر آپ اس ماہر سے سوال کریں کہ آپ حساب کے قواعد سے آگاہ ہیں تو وہ حیرت سے دیکھ کر کہے گا کہ: ’’بے خبر نہیں ہوں‘‘۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اسے اپنے علم کااندازہ ہے۔

خیالات کی دنیا
انسان اپنے ذہن میں جس چیز کی تصویر چاہے بناسکتا ہے مثلاً تاج محل، آصف الدولہ کا امام باڑہ کہ جس کو اگر واقعی بنایا جائے تو لاکھوں کا خرچ اور ایک مدت مدید(طولانی مدت) کی ضرورت ہے لیکن ذہنِ انسانی میں اس تاج محل کی صورت ایک سیکنڈ کے ہزار ویں حصے میں تیار ہوسکتی ہے بلکہ اگر انسان کا دل چاہے تو اس کو خود تاج محل سے بھی اچھا بناسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ذہن انسانی ایسی چیزوں کی شکل بھی بناسکتا ہے جس کا دور دور تک اس خارجی دنیا میں پتا نہیں ہے جیسے ایک ایسا انسان جس کے ہزار پیر ہوں لیکن ہمارے ذہن کے اس موجود سے دنیا کی کوئی فرد واقف نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اس کو نہ بتائیں۔

دوستی و دشمنی ، عزم وارادہ
دنیا کا ہر انسان بعض چیزوں کو پسند کرتا ہے اور بعض چیزوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اس طرح دنیا کے ہر کام کے لئے ایک مکمل عزم و ارادہ کی ضرورت ہے جسے وہ اچھا سمجھتا ہے اس کا ارادہ کرتا ہے۔ جسے ناپسند قراردیتا ہے اس کے بارے میں طے کرتا ہے کہ اسے نہیں کرے گا۔
دنیا کی کوئی طاقت انسان کی پسند و ناپسند ، عزم وارادہ کا پتا نہیں لگاسکتی مگر انسان کی رفتار و گفتار سے یعنی آثار سے کیونکہ پسند وناپسند ، عزم و ارادہ دیکھنے اور سننے والی چیزوں میں سے نہیں کہ جسے ہم نظر اندازکرسکیں۔

زندگی و موت
آپ کے گھر میں ایک بلی کا خوبصورت بچہ موجود ہے گھر کے تمام بچے اس سے کھیلتے ہیں ایک دن وہ کنویں میں گرجاتا ہے اور جب تک اس کو نکالا جائے وہ ’’مر‘‘ جاتا ہے۔ باہر نکلنے کے بعد یہ وہی بچہ ہے یقیناً یہ وہی ہے لیکن نہ اب کھیلتا ہے نہ دوڑتا ہے نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہےجب کہ ظاہری طور سے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے جو چیز کم بھی ہوئی اس کو نہیں دیکھا بس نہ کھیلنے اور نہ کھانے سے اور اس کے بے جان ہونے سے ہم نے سمجھا کہ جو قوت زندگی اس میں تھی وہ ختم ہوگئی یعنی آثار سے ہم نے زندگی اور موت کو پہچانا۔
غرض آج کے علوم نے یہ بات بہت واضح کردی ہے کہ بہت سی ایسی چیزیں جن کو ہم اپنے ظاہری حواس سے دیکھ نہیں سکتے لیکن آثار سے محسوس کرسکتے ہیں ان تمام باتوں سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ بات بالکل ہی غلط ہے کہ جس چیز کو ہم دیکھ نہ سکیں اس کے وجود سے انکار کردیں کیونکہ دکھائی نہ دینا اور بات ہے اور نہ ہونا اور بات ہے اور کسی چیز کے بارے میں پتا چلانے کے لئے صرف حواس ظاہری ہی نہیں ہیں بلکہ عقل بھی اکثر یہ کام کرتی ہے کہ آثار وغیرہ سے بہت سی چیزوں کا پتا چلاتی ہے جیسے کہ بہت سے سائنس کے مسلمہ اصول جو کسی کے نزدیک بھی قابلِ تردید نہیں۔!
میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ خدا بھی انھیں نہ دکھائی دینے والی چیزوں کی طرح ہے کیونکہ خدا ایک واقعی چیز ہے وہ ان تمام چیزوں سے بہت عظیم ہے وہ بے مثال ہے بے نظیر ہے بلکہ کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ جس طرح ان چیزوں کو آثار کے ذریعہ پہچانتے ہیں۔ اسی طرح آثار کے ذریعہ خدا کو بھی پہچانا جاسکتا ہے۔
وہ لوگ جو صرف ظاہری آنکھوں سے خدا کو تلاش کرتے ہیں اور جب دکھائی نہیں دیتا تو کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے تلاش کرڈالا ہم کو کہیں خدا نظر نہیں آیا۔ لہٰذا خدا نہیںہے ایسے لوگ عقل کی آنکھوں سے معذور کہے جانے کے مستحق ہیں۔ کیونکہ یہ بات طے پاچکی ہے کہ خدا کے آثار اُس کی مخلوقات میں اتنے واضح اور زیادہ ہیں کہ اس سے خدا کو پہچانا جاسکتا ہے۔
دل کے دریچے کھولو اس وقت قدرتِ خدا نظر آئے گی بلکہ دنیا کی ہر چیز خدا کے وجود کی مستقل دلیل ہے۔
ہر شے میں جلوہ ہے تیری قدرت کا
حیراں ہوں کہ ان آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں
اور اس بات سےایک اور بات سامنے آتی ہے کہ اس کے علاوہ کہ دنیا کی ہر چیز سے اللہ کی طرف ہدایت ہوتی ہے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ساری کائنات اسی کے آثار میں سے ہے اور اس کا تعلق سب سے ہے اور کسی ایک سے مخصوص نہیں۔ ہر ہر چیز میں اس کا اثر واضح ہے تو یقیناً وہ خود سب سے الگ ہے اور بے مثل و بے نظیر چیز ہے بلکہ وہ لامحدود وجود ہے جس میں سارے کمالات جمع ہیں اور تمام نقائص ناپید !
توہم آثار الٰہی کے مطالعہ سے دو چیزوں کا پتا چلاتے ہیں:
۱ اللہ کا وجود کیونکہ تمام دنیا اس کے اثر سے ہے۔
۲ چونکہ اس کے آثار نامحدود ہیں ہمیں خبرہی نہیں کہ اس کی یہ کائنات کہاں تک ہے اور اس کے علاوہ کیا کیا ہے۔ تو پھر وہ خود بھی لامحدود ہے۔
امام رضا علیہ السلام کے غلام محمد ابن عبداللہ کا کہنا ہے کہ: ایک دفعہ کچھ لوگ امامؑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص جو خدا کے وجود کا انکار کرتا تھا وارد ہوا امامؑ نےاس سے فرمایا:۔
جیسا کہ تم کہتے ہوخدا ، پیغمبر، قیامت، حساب ، کتاب کچھ نہیں ہے تو کیا یہ ہماری نمازیں، روزے ، خمس،زکوٰۃ ہم کو کوئی نقصان پہونچائیں گے؟
وہ شخص چپ رہا۔
تو امامؑ نے فرمایا: یعنی بہرحال یہ نقصان نہیں پہونچائیں گے لیکن اگر واقعی بات ویسی ہی ہوئی جیسا ہم کہتے ہیں کہ خدا ہے دین ہے قیامت اور روزِ حساب ہے تو اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی؟
(یہ بات واضح ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ اگر صرف اس بات کا امکان ہو کہ فلاں چیز نہ کرنے سے نقصان ہوگا تو اس کو بہرحال انجام دینا چاہیے تاکہ نقصان نہ اٹھائے۔)
تب اس شخص نے پوچھا: جس خدا کےلئے آپ کہتے ہیں وہ کیسا ہے اور کہاں ہے؟
امامؑ نے فرمایا: تمہارا سوال غلط ہے کیونکہ خود اس کے بجائے کہ صاحبِ مکان ہوتا اس نے خود مکان کو خلق کیا ہے اس کے لئے کہاں کا کیا سوال؟ اور کیسا بھی اس کےلئے کہنا غلط ہے کیونکہ ساری کیفیتیں تو خود اس نے خلق کی ہیں تو کیسا ہونے کا کیا سوال؟ خدا کو اس طرح نہیں پہچانا جاسکتا خدا حواس سے نہیں سمجھا جاسکتا اس کا مقابلہ کسی چیز سے نہیں کیا جاسکتا۔ تواس شخص نے کہا اگر حواس سے سمجھ میں نہیں آتا تو پھر خداکوئی چیز نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا: خداتیری ہدایت کرے عقل کے اعتبار سے کتنے پیچھے ہو! صرف اس بنا پر کہ حواس ظاہری سے اس کو سمجھ نہ سکے اس لئے انکار کر بیٹھے ہم تو صرف اس بنا پر اس کو اپنا خدا مانتے ہیں کہ ہم اس کے سمجھنے سے بھی عاجز ہیں اور جب وہ اتنی اہم چیز ہے تو اس کے علاوہ کوئی ہمارا خالق نہیں ہوسکتا۔
پھر اس نے کہا: خدا کس زمانے میں تھا؟
آپ نے ارشاد فرمایا:یہ بتا کہ خدا کس زمانے میں نہ تھا تاکہ میں بتاؤں کہ اس زمانے میں بھی تھا خدا تو ہر زمانے میں تھا۔ کیونکہ خود زمانے کا خلق کرنے والا بھی وہی ہے۔
پھر اس نے کہا کہ: خدا کے وجود کی دلیل کیا ہے؟
امامؑ نے فرمایا: جب کبھی ہم اپنے بدن کے بارے میں سوچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہم اس کے طو ل وعرض میںنہ زیادتی کرسکتے ہیں نہ کمی اور اسی طرح رنج و غم اور خوشی و مسرت میں بھی اپنا اختیار نہیں (بلکہ کبھی ایک چیز مثلا ً بیماری سے نجات چاہتا ہوں نجات حاصل نہیں کرپاتا) اس سے سمجھتا ہوں کہ ضرور کوئی دوسرا ہے جو اس بدن کے نظام کو ٹھیک کرتا ہے۔ ورنہ بظاہر یہ چیز تو ہماری ہے مگر ہمارے اختیار میںنہیں کسی اور کا اختیار اس پر ہے۔ اسی طرح نظام شمسی ستارے ،زمین آسمان بلکہ پوری کائنات کا محافظ و پروردگار ہے جو سب کچھ جاننے والا ہے اور قدرت والا بھی ہے۔