موت
’’ایک دن یہ گھر چھوڑ دینا ہے۔‘‘
ہاں، جس کو نہ موت آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی وہ صرف خدا کی ذات ہے اور ہم بندگان ِ خدا ایک دن ضرور اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے۔
ہر روز غروبِ آفتاب ہماری رحلت کی شاعرانہ مثال ہے۔ خوشا بحال! اگر دوسرے دن ہم سورج کی طرح چمکتے دمکتے روشنی پھیلاتے ہوئے قیامت کےافق سے نمودار ہوں اور یہی اہم ہے ورنہ ہمارا غروب یقینی ہے۔ موت ایک حقیقت ہے جو ہر ایک کے لئے ضروری ہے کسی کو بھی اس سے مفر نہیں ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا کیا ہم نابود ہو جائیں گے؟ موت ہماری زندگی کی آخری منزل ہے اس کے بعدکچھ نہیں؟ یا ہم موت کے بعد بھی زندہ رہیں گے اور اگر زندہ رہیں گے تو کس طرح؟
وہ لوگ جو خدا کے معتقد نہیں ہیں وہ خیال کرتے ہیں کہ موت انسان کی آخری منزل ہے، موت کے بعد انسان بالکل نابود ہوجائے گا۔ بس یہی چند روزہ زندگی ہے اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو آسمانی دین کے قائل ہیں اور وحی پرایمان رکھتے ہیں اور اس طرزِ فکر کے سخت مخالف ہیں۔ وہ موت کو آخری منزل نہیں سمجھتے بلکہ وہ موت کو بامِ ابدیت تک پہنچنے کا زینہ سمجھتے ہیں وہ موت کوقیامت، برزخ اور اس دنیا کے درمیان ایک واسطہ سمجھتے ہیں۔
برزخ
قرآن حکیم کی سیکڑوں واضح آیتیں، ائمہ علیہم السلام کی بے شمار حدیثیں یہ بتا رہی ہیں کہ موت انسان کی آخری منزل اور اس کی نابودی نہیں ہے۔ موت کے بعد بھی انسان زندہ رہے گا نعمتوں کی آغوش میں یا عذاب کے ہجوم میں ہنگامہ قیامت تک باقی رہے گا۔
موت اور قیامت کے درمیان کی مدت کو’’ برزخ‘‘ کہا جاتا ہے۔
برزخی زندگی ایک حقیقی زندگی ہے، خیالی اور فرضی زندگی نہیں ہے۔ خداوندعالم کا ارشاد ہے:
’’وہ لوگ جو راہِ خدا میں شہید ہوئے ہیں انہیں ہرگز مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے پاس رزق پا رہے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے عطا کیا ہے اس پر راضی اور خوشنود ہیں۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ ۔
(سورۂ آل عمران آیت۱۶۹۔۱۷۰۔)
اگر زندگی حقیقی زندگی نہ ہو تو اس جملہ ’’زندہ‘‘ ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس رزق پا رہے ہیں کا کوئی مفہوم نہ ہوگا۔
’’مومن آل یاسین‘‘ جس نے اپنی قوم سے وصیت کی تھی کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے نمائندوں کی پیروی کرو مگر قوم نے ان کی پیروی نہیں کی۔ قرآن نے اس کو یوں بیان کیا ہے کہ:
جب اس سے بہشت میں داخل ہونے کو کہا گیا۔ تو اس نے کہا کہ: ’’کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوجاتا کہ خداوندعالم نے مجھے بخش دیا ہے اور مجھے بزرگوں میں شمار کیا ہے۔‘‘
(سورۂ یٰسین آیت ۲۶۔۲۷۔)
اس آیت میں جس بہشت کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ یہی برزخی جنت ہے۔ صاحبان ایمان موت اور قیامت کی درمیانی مدت اس جنت میں گزاریں گے۔
وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور آخری وقت تک گناہوں میں ملوث رہے ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
جب ان میں سے کسی ایک کو موت آتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار مجھے واپس پلٹا دے تاکہ میں نیک کام انجام دے سکوں!
اس کی یہ تمنا پوری نہ ہو گی اور اس کو یہ جواب ملے گا کہ:
كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۔
ہرگز نہیں! یہ وہ بات ہے جسے وہ صرف زبان سے ادا کر رہا ہے۔( اگر اس کو دوبارہ پلٹا دیا جائے تو وہی کچھ کرے گا جو اب تک کرتا آیا ہے) موت کے بعد سے قیامت تک برزخ ہے۔
(سورۂ مومنون آیت۹۹۔ ۱۰۰۔)
اس سلسلے میں یہ واقعہ خاص توجہ کا طالب ہے:
جب جنگ بدر کا ہنگامہ ختم ہوگیا اور دشمن بھاگ گئے، دشمن اپنے کچھ لاشے میدان میں چھوڑ گئے تھے اور کچھ ایک کنویں میں ڈال گئے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کنویں کے پاس تشریف لائے اور ان مردوں سے فرمانے لگے کہ:
اے کفار! تم کیا برے پڑوسی تھے، خدا کے پیغمبرﷺ کو اس کے گھر سے نکال دیا اور اس سے جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ میں نے اپنے پروردگار کے وعدے کو سچا پایا۔ تمہارے پروردگار نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے حق پایا۔
عمر اس گفتگو کو سن رہے تھے۔ پیغمبر اسلامؐ سے کہنے لگے:رسول خداؐ یہ مردہ جسم ہے یہ آپ کی باتوں کو کیوں کر سنیں گے جو آپ ان سے گفتگو کر رہے ہیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خاموش رہو! خدا کی قسم! تم ان سےزیادہ نہیں سنتے۔ جس وقت میں یہاں سے چلا جاؤں گا عذاب کے فرشتے ،آہنی گرز ان کے سروں پر ماریں گے۔
(شرح عقاید تالیف شیخ مفید ص۴۱ بحارج۶ ص۲۵۴۔)
جس وقت جنگ جمل ختم ہو گئی غبار جنگ بیٹھ گیا۔ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام گھوڑے پر لاشوں کے درمیان گشت کر رہے تھے۔’’ کعب ابن سورہ‘‘ کے جنازے پر پہنچے۔ (عمر نےکعب کو بصرے کا قاضی معین کیا تھا اور عثمان کی آخری دو رتک قاضی رہا یہ شخص جب جنگ کرنے آیا تھا تو گلے میں قرآن حمائل کئے ہوئے تھا اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ امام علیہ السلام کے خلاف جنگ کرنے آیا تھا) امامؑ کے حکم سے اس کے جسم کو بٹھایا گیا۔ امامؑ نے اس کو مخاطب کرکے فرمایا:
اے کعب! میں نے اپنے خدا کے وعدے کو حق پایا۔ تم نے بھی اپنے خدا کے وعدے کو سچا پایا۔
اس کے بعد امامؑ نے حکم دیا کہ اس کو لٹا دیا جائے ۔اس کے بعد امامؑ نے طلحہ کے لاشے سے بھی یہی گفتگو کی۔
اس وقت ایک شخص نے امامؑ کی خدمت میں عرض کیا:آپ کے اس کام کا کیا فائدہ؟ یہ لوگ تو آپ کی باتیں سن نہیں رہے ہیں۔
فرمایا: خدا کی قسم! دونوں نے میری باتیں سنی ہیں جس طرح کشتگان بدر نے پیغمبرؐ کی باتیں سنی تھیں۔
(شرح عقاید ص ۴۲۔ بحار ج۶ ص۲۵۵۔)
’’حبہ عرنی‘‘ کا بیان ہے کہ: میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ ’’وادی السلام‘‘گیا۔ امام علیہ السلام ایک جگہ ٹھہر گئے ایسا معلوم ہورہا تھا کہ کسی سے گفتگو کر رہے ہیں۔
میں بھی کافی دیر تک کھڑا رہا یہاں تک کہ تھک کر بیٹھ گیا بیٹھے بیٹھےبھی تھک گیا پھر کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ تھک کر پھر بیٹھ گیا جب میں بالکل تھک کر چور ہو گیا۔ اپنی عبا لے کر امامؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مولا میں یہ عبا بچھا دیتا ہوں آپ کچھ دیر اس پر آرام فرمائیں۔ مجھے ڈر ہےکہ زیادہ کھڑے رہنے سے کوئی تکلیف پیدا نہ ہو جائے۔
فرمایا: اے حبہ! اس طرح کھڑے رہنے سے تکلیف نہ ہو گی کیونکہ میں مومنوں سے بڑی خوشگوار باتیں کر رہا ہوں۔
عرض کیا: کیا وہ لوگ بھی اسی طرح ہیں۔
فرمایا:ہاں!اگر تمہاری آنکھوں سے پردہ اٹھادیا جائے تو تم دیکھوگے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے باتیں کررہا ہے۔
عرض کیا: یہ اجسام ہیں یا ارواح؟
فرمایا: ارواح۔ مومن کو دنیا کے کسی بھی گوشہ میں موت آئے اس کی روح کو یہ حکم ملتا ہے کہ وہ وادی السلام میں آئے۔ یہ وادی زمین پر بہشت کا ایک ٹکرا ہے۔ مومنین کی روحیں دور اور نزدیک سے یہاں جمع ہوتی ہیں۔
(کافی ج۳ ص ۲۴۳۔ بحار ج۶ ص۲۶۷۔۲۶۸۔)
سوالِ قبر
روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ قبر میں روح کا بدن سے ایک خاص ربط ہے۔گرچہ اس نوعیت کا صحیح علم ہم کو نہیں ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جو کوئی سوال قبر کا انکار کرے وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے۔
(کافی ج۳ ص۲۴۳۔ بحار ج۶ ،ص۲۶۷۔۲۶۸۔)
جس وقت مردے کو قبر میں لٹاتے ہیں۔سوال کے فرشتے قبر میں آتے ہیں ،اس کے دین، عقائد اور اعمال کے بارے میں سوال کرتے ہیں اگر صاحب ایمان اور نیکوکار ہوتا ہے تو مومنین کے ساتھ ورنہ کافروں اور بدکاروں کے ساتھ مل جاتا ہے اور قیامت تک اپنے ہم جیسوں کے ساتھ رہے گا۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ اپنی (کتاب) اعتقادات میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ہمارا عقیدہ ہے کہ سوال قبر حق ہے جو صحیح جواب دے گا اس کی قبر نعمتوں اور راحتوں سے بھر جائے گی اور قیامت میں جنت میں جگہ ملے گی اور جو صحیح جواب نہیں دے گا اس کی قبر عذاب کا مرکز ہو گی اور آخرت میں اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ہر جمعہ کو مسجد نبویؐ میں لوگوں کو ان الفاظ سے نصیحت فرماتے تھے:
اے لوگو! تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرو تمہاری بازگشت خدا کی طرف ہے جو یہاں نیکی کرے گا وہ مستقبل میںاسے دیکھے گا۔اورجس کے اعمال ناپسندیدہ ہوں گے۔ اس کی یہ تمنا ہوگی کہ اس کے اور اس کے اعمال بد کے درمیان بڑا فاصلہ ہوتا۔خدا تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔
افسوس اے فرزند آدم! تو کس قدر غافل ہے لیکن تجھ سے غفلت نہیں برتی جائے گی۔ موت سب سے پہلے تیری طرف آئے گی اور تجھے گرفتار کرے گی گویا موت کا وقت آ پہنچا ہے موت کا فرشتہ تیرے سرہانے کھڑا ہے اور تمہاری روح تم سے واپس لے لے گا۔ تم قبر میں تنہا ہوگے۔سوال کے فرشتے سوال کی خاطر تمہارے پاس آئیں گےاور یہ سوال کریں گے۔
پہلا سوال: اس خدا کے بارے میں ہو گا جس کی عبادت کرتے تھے اور اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہوگاجو تمہاری طرف مبعوث کیا گیا۔ اور اس دین کے بارے میں سوال ہوگا جس کے تم معتقد تھے اور اس کتاب کے بارے میں جس پر تم ایمان لائے اور اس امامؑ کے بارے میں جس کی ولایت تم پر واجب کی گئی تھی، اور جس کی تم اطاعت کرتے تھے۔ تمہاری عمر کے بارے میں سوال ہوگا کہ کہاں مصرف کی۔ مال و ثروت کے بارے میں پوچھا جائے گا: کہاں سے حاصل کیا اور کس جگہ خرچ کیا ۔ بس ان سوالوں کے بارے میں اپنا محاسبہ کرو اور جواب کے لئے تیار رہو۔
اگر صاحب ایمان اورپرہیزگار ہو گے، اپنے دین کو خوب جانتے ہو گے، اپنے امام اور رہبر کی پیروی کرتے ہو گے اور خدا کے دوستوں کو دوست رکھتے ہو گے، خدا اس دن تمہاری زبان پر حق کے کلمات جاری کرے گا تمہیں جنت اور اپنی مرضی کی بشارت دے گا۔ نعمت اور رحمت کے فرشتے تمہارے استقبال کو آئیں گے____ اور اگر یہ تیاریاں نہ ہوںگی تو تمہاری زبان لکنت کرے گی اور کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔ اس وقت تمھیں عذابِ جہنم کی خبر دی جائے گی ۔ عذاب کے فرشتے آگ اور کھولتے ہوئے پانی سے تمہارا استقبال کریں گے۔
(امالی صدوق ص ۳۰۱ بحار ج۶ ص۲۲۳۔)
عذابِ قبر
دنیا میں انسان کا جیسا کردار ہوگا قبر کے مسائل اس سے لاتعلق نہ ہوںگے جن لوگوں نے پرہیزگاری کی حالت میں جان جان آفرین کے سپرد کی ہوگی ان کی قبر برزخ، بہشت کا نمونہ ہوگی ۔وہ اپنی نیکیوں کو نورانی اور خوبصورت شکلوں میں دیکھے گا۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ:
جس وقت مومن موت کی آغوش میں سو جاتا ہے اس وقت چھ نورانی اور خوبصورت شکلیں ان میں ایک سب سے زیادہ نورانی، خوبصورت اور معطر ہوگی اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہوں گی۔ داہنے، بائیں، اوپر،نیچے، سرہانے اور پائین پاکھڑی ہوجائیں گی۔ جو سب سےنورانی، خوبصورت ہو گی وہ دوسروں سے دریافت کرے گی کہ تم کون ہو؟ داہنی جانب والی کہے گی: میں’’ نماز‘‘ ہوں۔ بائیں طرف والی کہے گی: میں’’ زکوٰۃ‘‘ ہوں۔ سامنے والی کہے گی: میں ’’روزہ‘‘ ہوں، سرہانے والی کہے گی: میں ’’حج‘‘ اور عمرہ‘‘ ہوں پائین پا والی کہے گی: میں اس کی وہ نیکیاں ہوں جو اس نے اپنے بھائیوں کے حق میں کی ہیں۔ اس وقت سب مل کر اس نورانی اور خوبصورت شکل سے دریافت کریں گے کہ تم کون ہو جو ہم سے اعلیٰ ہو؟
وہ کہے گی:میں ولایت محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی دوستی اور محبت ہوں۔
(محاسن برقی ج۱ ص ۲۸۸۔ بحار ج۶ ص۱۲۴۔)
لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس دنیا کو کفر کی نجاستوں اور بدکرداری سے آلودہ کر رکھا ہو گا جب یہ لوگ قبروں میں اتارے جائیں گے تو اسے اپنے حق میں تیرہ وتاریک پائیں گے اور وہاں عذاب کے فرشتے طرح طرح کا عذاب نازل کریں گے۔
رسول خداؐ ایک انصاری کی تشییع جنازہ میں شریک ہوئے۔ دفن کے بعد اس کی قبر پر بیٹھے اور سر جھکا کر تین مرتبہ ارشاد فرمایا:
خدایا! میں عذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔
(المحجۃ البیضاء ج۸ ص۳۰۲۔)
کوئی ضروری نہیں ہے کہ سوالِ قبر اور عذابِ قبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تب ایمان لائیں بلکہ ایمان لانے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ انبیاء اور ائمہ علیھم السلام اور بزرگان دین نے اس کی خبر دی ہے۔
ملا محسن فیض کاشانی رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں کہ: اس آنکھ میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ ان چیزوں کو دیکھ سکے جو ملکوت میں رونما ہوتی ہیں اور وہ چیزیں جو آخرت اور برزخ میں پیش آتی ہیں ان کا تعلق ملکوت سے ہے۔
پیغمبرؐ کے اصحاب جبرئیل کے آنے پر ایمان رکھتے تھے گرچہ خود جبرئیل کو نہیں دیکھتے تھے۔ عذابِ قبر بھی ایک ملکوتی امر ہے اس کے ادراک کے لئے دوسری حس کی ضرورت ہے جو صرف انبیاء اور اولیائے الٰہی کے پاس ہے۔
(ماخذ سابق ص ۳۰۵۔)
موت کی یاد
بعض لوگ موت کے تذکرے سے گھبراتے ہیں اور اس کے بارے میں سوچنے سے ڈرتے ہیں ۔کبھی موت کی فکر ہی نہیں کرتے گویا انہوں نے آبِ حیات پی لیا ہے اور ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے۔ اسی لیے تو موت سے غافل ہیں۔
وہ اس بات کو خوب جانتے ہیں مگر تسلیم نہیں کرتے کہ جس ذات کو نہ موت آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی وہ صرف خدا کی ذات ہے یہ لوگ موت سے غفلت کی بنا پر بے مقصد زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنی اصلاح کی کوئی فکر نہیں کرتے ہیں ان کی اور حیوانوں کی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ان کا کردار، ان کی روش، ان کے عادات و اطوار خدا کے برگزیدہ بندوں کے کردار اور عادات و اطوار سے کوسوں دور ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ:
موت کو بہت زیادہ یاد کیا کرو۔ اس سے گناہ میں کمی ہوتی ہے اور اس دنیا کی طرف سے توجہ ہٹ جاتی ہے جو روحانی ارتقا کے مدارج طے کرنے میں کوئی مدد نہ کرسکے۔
(ماخذ سابق ص ۳۰۵۔)
اس کے بر خلاف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ائمہ علیہم السلام کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے اکثر موت کو یاد کیا کرتے ہیں اور ہر چیز میں آخرت کا فائدہ تلاش کرتے ہیں ان کی دنیا وہ دنیا ہے جو آخرت کی نعمتوں کا مقدمہ بن سکے۔ ان کی جستجو ، ان کی سعی و کوشش ہوا و ہوس کی بنا پر نہیں ہے۔ ان کی نظروں میں دنیا کی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ جس کے حاصل کرنے کے لئے گناہ جرم اور خیانت کی جائے۔ بلکہ یہ لوگ وسعت دل اور پاک نیتوں کے ساتھ اجتماعی خدمات انجام دیتے ہیں تاکہ آخرت کے لئے زیادہ سے زیادہ توشہ فراہم کر سکیں۔
یہ لوگ موت سے نہیں ڈرتے۔ ان کے سردار اور قافلہ سالار حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام ہیں جب ان کے سر اقدس پر دشمن کی تلوار لگی ہے تو پہلا جملہ یہی تھا کہ:
فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَۃ۔
رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔
(مناقب ابن شہر آشوب طبع نجف ج۳ ص۹۵۔ بحار ج ۴۲ ص ۲۳۹۔)
ہاں اس تنگ و تاریک دنیا سے نکل کر عالمی ابدیت کی وسعتوں میں قدم رکھنا کامیابی اور کامرانی ہے لیکن انہیں کے لیے جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے نقشِ قدم پر زندگی گزاری ہو۔ ساری عمر پاکیزگی میں بسر کی ہو۔روح،جان اور افکار کی تطہیر نفس کی پاکیزگی۔ خدا کی عبادت بندگان خدا کی خدمت ان کی زندگی کا شیوہ رہا ہو۔
حضرت ابوذر سے دریافت کیا گیا کہ:’’ ہم موت سے کیوں بیزار ہیں؟‘‘
فرمایا: تم نے اپنی دنیا آباد کی ہے اور آخرت ویران۔ اس لئے تم اس بات پر تیار نہیں ہو کہ آبادی سے بربادی کی طرف کوچ کرو۔
(اعتقادات صدوق ص۱۶، المحجۃ البیضاء ج۸ ص۲۵۸، بحار ج۶ ص ۱۳۷۔)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ کیا تم سب لوگ بہشت میں جانا چاہتے ہو؟ سب نے کہا: ہاں یا رسولؐ اللہ!
اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
بس اپنی تمناؤں کو کم کرو۔ ہمیشہ موت کو نگاہوں میں رکھو اور خدا سے ڈرتے رہو۔
(المحجۃ البیضاء ج۸ ص۲۴۶۔)
عزیزوں اور دوستوں کی موت کو یاد کرنا،قبرستان جانا، مومنین کی قبروں کی زیارت کرنا یہ چیزیں عبرت اور نصیحت حاصل کرنے میں بہت مفید ہیں۔
جنت
جنت وہ ابدی قیام گاہ ہے جسے خدا وند عالم نے نیکو کاروں کو ان کے اعمال کے صلہ میں عطا کرے گا۔ جنت میں ہر طرح کی نعمتیں راحت رسانی کے تمام وسائل آرام کے تمام ذرائع فراہم ہوں گے وہاں ہر وہ چیز ہوگی جسے وہ لوگ چاہیں گے۔
جنت میں کینہ، حسد ،دشمنی..... کا نام و نشان نہ ہوگا۔ وہاں سب بھائی بھائی کی طرح زندگی بسر کریں گے۔ ہر شخص وہاں ہمیشہ رہے گا اور کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو گی۔
(سورۂ حجر کی آیات ۴۷۔۴۸ سے استفادہ۔)
پاک اور مخلص بندے جنت میں کریمانہ زندگی بسر کریں گے اور باعزت رہیں گے۔ مخملی تختوںپر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے سے دوستانہ باتیں کر رہے ہوں گےجو ان خدمت گذار، صاف شفاف جام و ساغر لیے ان کے گرد ہوں گے اور وہ شراب ان کی خدمت میں پیش کریں گے جس میںنشہ نہ ہوگا اور نہ سر درد اورنہ عقل و ہوش اس سے متاثر ہو گا۔
ہر قسم کے پرندوں کا گوشت وہاں موجود ہوگا جس چیز کو وہ چاہیں گے وہ فوراً ان کے پاس آجائے گی۔
یہ ان نیکیوں کا صلہ ہوگا جو انہوں نے اس دنیا میں انجام دی ہیں۔
(سورۂ واقعہ کی آیات ۱۱۔۲۴ اور سورۂ صافات کی آیات ۴۷۔۹۳ سے اقتباس و استفادہ۔)
جنتی افراد آپس میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے ایک کہے گا: اے بہشتی دوستو! دنیا میں میرا ایک دوست تھا جو غرور و تکبر سے یہ کہا کرتا تھا کہ:
کیا تمہیں یہ یقین ہے کہ جب مر جائیں گے اور اس زمین میں ناپید ہو جائیں گے پھر دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور اپنے اپنے اعمال کا صلہ پائیں گے۔
اے دوستو! چلو اس کو دیکھیں کہ وہ کس حال میں ہے۔
جب یہ لوگ نظر اٹھا کر دیکھیں گے تو اسے جہنم میں پائیں گے۔
یہ شخص اس سےکہے گا: خدا کی قسم! تم مجھے بھی اپنی طرح ہلاک کرنا چاہتے تھے۔ اگر خدا کی توفیق میرے شامل حال نہ ہوتی اس وقت میں بھی تمہاری طرح عذاب میں گرفتار ہوتا۔
اس وقت جنتی لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: اب ہمیں دوبارہ موت نہ آئے گی۔ وہی آخری تھی جو گزر گئی اب ہمیں کوئی عذاب نہیں جھیلنا پڑے گا۔ہاں یہی ہے عظیم کامیابی۔
جو اس طرح کی جنت کا آرزو مند ہے اسے عمل کرنا چاہیے۔
لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ۔
(سورۂ صافات آیت ۵۰۔۶۱۔)
جہنم
جہنم کافروں اور گنہگاروں کی جگہ ہے جہاں کے عذاب اور شکنجہ کا اس دنیا کی مصیبتوں سے کوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔
خداوندعالم نے جہنم کی ہول ناکی کی تصویر قرآن میں اس طرح کھینچی ہے:
وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب آتش جہنم میں پھینک دئے جائیں گے جب ان کے بدن کی جلد جل کر گر جائے گی۔ ہم ان کے بدن پر دوسری جلد چڑھا دیں گے تاکہ دوبارہ جلیں اور ہمارے عذاب کا مزہ چکھیں۔ یقیناً خدا قادر اور حکیم ہے۔
(سورۂ نساء آیت ۵۶۔)
کافروں کے لئے آگ کا لباس تیار کیا جائے گا ۔ان کے سروں پر جہنم کاکھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جس سے ان کی جلد بلکہ پورا بدن آگ ہو جائے گا۔ آہنی گرزان کے سروں پر برسائے جائیں گے۔
جب یہ لوگ جہنم اور اس کے عذاب سے نکلنا چاہیں گے دوبارہ واپس کر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ خدا کی آتشیں عذاب کا ذائقہ چکھو۔
(سورۂ حج آیات ۱۹۔۲۳ سے استفادہ۔)
جہنمی افراد اپنے نگہبانوں سے کہیں گے کہ: اپنے پروردگار سے درخواست کرو کہ ایک دن کے لئے ہمیں عذاب سے نجات دے دے۔
دوزخ کے نگہبان کہیں گے کہ: کیا پیغمبرؐ معجزات اور روشن دلیلوں کے ساتھ تمہاری ہدایت کے لیے نہیں آئے تھے۔؟
وہ کہیں گے: ہاں آئے تو تھے۔
نگہبان کہیں گے: جس سے چاہو فریاد کے لئے بلاؤ ۔کافروں کی فریاد کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
(سورہ ٔ مومن آیات ۴۹۔۵۰ سے استفادہ۔)
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا لِلْطَّاغِينَ مَآبًا لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا ۔
یقیناً دوزخ سرکشوں اورستم گروں کی تاک میں ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں یہ لوگ دراز مدت تک رہیں گے۔
(سورۂ نباء آیت ۲۱۔۲۳۔)
وائے ہو غیبت کرنے والے طعنہ زن پر! جو مال جمع کرتا ہے اور بہت ہی محبت سے اسے شمار کرتا ہے وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کو اس دنیا میں ہمیشہ باقی رکھے گا۔ ہرگز ایسا نہیں ہے یقیناً وہ ’’حطمہ‘‘ میں جھونک دیا جائے گا۔ تمہیں کیا معلوم کہ’’حطمہ‘‘ کیا ہے۔ وہ اللہ کی روشن کی ہوئی آگ ہے جو دلوں تک پہنچ جائے گی۔
(سورۂ ہمزہ آیات ۱۔۹۔)
حضرت علی علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ:
یقین کرو تمہارے بدن کی جلد اتنی نازک ہے کہ وہ آتش جہنم کی گرمی برداشت نہیں کر سکتی ہے پس اپنے اوپر رحم کرو۔تم نےاپنےکو دنیا کی مصیبتوں میں آزمایا ہے تمہیں اپنی ناتوانی کا علم ہے۔ اگر تمہارے بدن میں کوئی کانٹا چبھ جاتا ہے یا تمہارا پیر زخمی ہوجاتا ہے یاگرم ریت سے تمہارا پاؤں جلتا ہے اس وقت کتنا زیادہ بے چین اور مضطرب ہوتے ہو۔پس اس وقت کیا حال ہوگا جب تم جہنم کی آگ کے درمیان ہوگے۔ جب تمہارے پہلو میں دہکتا ہوا پتھر ہوگا اور تمہارا ہم نشیں شیطان ہوگا۔
اے گروہ بندگان خدا! خدا را! خدارا!خدا کو یاد کرو۔ صحت کی حالت میں قبل اس کے کہ بیمار ہو۔ آسانیوں اور آسائشوں میں قبل اس کے کہ پریشانیوں میں مبتلا ہو۔ قبل اس کے کہ آزادی کی راہ بند ہوکوشش کرو کہ آتش جہنم سے آزاد ہو جاؤ۔خدا کی راہ میں قدم اٹھاؤ۔ اپنی آمدنی اس کی راہ میں خرچ کرو،اپنے بدن کو روح کی تقویت کے لئے استعمال کرو اور دیکھو اس میں کوتاہی نہ کرو۔
(نہج البلاغہ فیض الاسلام خطبہ ۱۸۲ ص۵۹۴۔۵۹۹۔)
شفاعت
شفاعت قرآن حکیم اور روایات کے بعض مسائل میں شامل ہے۔ شفاعت یعنی کسی کی بخشش کے لئے سفارش کرنا۔
یہ سفارش اور شفاعت وہی کرسکتے ہیں جن کو خدا نے اجازت دی ہو گی اور انہیں چیزوں کی کر سکتے ہیں جن کی خدا نے اجازت دی ہو گی۔ شفاعت کی بنیاد خداوندعالم کی رحمت اور اس کاوسیع لطف ہے۔اسی سے مومنین کی امیدیں وابستہ ہیں۔
اگر ایمان لانے والے میں یہ صلاحیت ہوگی کہ وہ بخشش اور عفو کا مستحق قرار پائے اور اس کے درجات بلند ہوں۔ اگر اسے دنیا میں توبہ کا موقع نہ ملا ہو تب بھی خدا اسے شفاعت کی بنا پر بخش دے گا۔
انبیاء علیہم السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ علیہم السلام کو خدا وند عالم نے شفاعت کا حق عطا فرمایا یہ حضرات ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جو اس کے مستحق ہوں گے۔
البتہ بعض افراد کی گناہیں اتنی زیادہ سنگین ہوں گی کہ جہنم میں کچھ دن رہے بغیر وہ شفاعت کے مستحق نہ ہوں گے۔ اور بعض گناہیں ایسی ہیں جو شفاعت کے استحقاق کو بالکل سلب کر لیتی ہیں۔روایت میں یہ روایت برابر ملتی ہے کہ:
ہم اہل بیت کی شفاعت اس کونصیب نہ ہوگی جو نماز کوسبک سمجھے گا۔
(کافی ج۳ ص۲۷۰۔)
اَلْحَمْدُلِلہِ اَوَّلًا وَآخرًا ۔وَالسَّلام۔