مَا خُلِقْتُمْ لِلْفَنَاءِ بَلْ خُلِقْتُمْ لِلْبَقَاءِ وَاِنَّمَا تُنْقَلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ ۔
تم ہمیشہ کے لئے پیدا کئے گئے ہو فنا کے لئے نہیں صرف ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوجاؤ گے۔ (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
(بحار ج۶ ص۲۴۹۔)
تمام آسمانی مذاہب نے اس بات کی باقاعدہ وضاحت کی ہے کہ موت انسان کی آخری منزل نہیں ہے۔ موت کے ذریعے انسان اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہو جاتا ہے جہاں اسے اس کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
انبیاء علیہم السلام اور ان کے پیروکار اس نکتہ پر زور دیتے تھے کہ دنیا کا یہ نظام بے کار اور بے مقصد نہیں ہے اس دنیا سے جانے کے بعد ان تمام اعمال کا حساب کتاب ہوگا جو اس نے اس دنیا میں انجام دئے ہیں اس لئے یہ حضرات اپنے کو یقینی مستقبل اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کے لیے آمادہ کرتے تھے گویا دل کی زبان سے یہ جملہ دہراتے تھے کہ:
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔
(سورۂ آل عمران آیت۱۹۱۔)
پروردگارا! تو نے اس کائنات کو بے مقصد پیدا نہیں کیا تو بے مقصد کام سے پاک و پاکیزہ ہے ہمیں آتش جہنم سے محفوظ رکھ۔
قیامت کے سلسلے میں بعض دلیلیں ملاحظہ ہوں۔
(۱)خدا کی حکمت اور عدالت
تمام آسمانی مذاہب اور تمام انبیاء علیہم السلام نے قیامت کے بارے میں وضاحت کی ہے اور اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے اس کے علاوہ عقل، خدا کی حکمت، عدالت اور رحمت بھی قیامت کے یقینی ہونے کو بتاتی ہیں۔
خداوندعالم کی حکمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ نیکوکاروں کو ان کے اعمال کی جزا اور بدکاروں کو ان کے اعمال کی سزا ملنی چاہیے۔ ظالموں سے مظلوموں کو حق ملنا چاہیے ۔اسی کے ساتھ ساتھ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں بہت سے نیکو کاروں کو جزا نہیں ملتی ہے اور نہ بدکاروں کو مکمل سزا ملتی ہے اور ظالموں کو ان کے ظلم کا بھرپور بدلہ ملتا ہے۔بدکاراپنی تمام بدکاریوں کے باوجود اس دنیا میں راحت و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بغیر کوئی سزا بھگتے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ظالم خوش خوش اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور مظلوم کی آخری سانس بھی اسی بے چینی میں گزرتی ہے۔
اگر موت ہی کو تمام چیزوں کا خاتمہ قرار دیا جائے اور اس کے بعد قیامت اور آخرت کا کوئی تصور نہ ہو تو اس صورت میں خدا کی حکمت ،عدالت اور رحمت کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟
یہ بات کیوں کر باور کی جا سکتی ہے کہ جس عادل، حکیم اور مہربان خدا نے اس دنیا کو وجود بخشا ہے اس دنیا میں ظلم و جور میں گرفتار مظلوم بندے ظلم سہتے سہتے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں اور ان کے ساتھ انصاف نہ ہو؟
ہم سب یہی کہیں گے :یہ روش سراسر ظلم ہے، عام انسان کی حکمت، عدالت اور رحمت ہرگز اس بات کی سزاوار نہیں ہے چہ جائیکہ خداوند حکیم اور عادل اس طرح کا کام انجام دے۔ وہ خدا جس کو ہماری خلقت سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ہماری خلقت کا فائدہ خود ہمیں پہنچتا ہے تاکہ ہم نیک اعمال انجام دے کربلند درجات حاصل کریں۔کیا ممکن ہے کہ انسان کی صلاحیتوں کو باقاعدہ بارآور ہونے سے پہلے ہی وہ اس سارے سلسلے کو منقطع کردیں اور بات نامکمل رہ جائے؟
یقیناً خدا ہراعمال و کردار کا مکمل بدلہ دوسری دنیا میں دے گا۔ ذرہ برابر بھی فرو گذار نہیں کرے گا۔
أًمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أّن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاء مَّحْيَاهُم وَمَمَاتُهُمْ سَاء مَا يَحْكُمُونَ وَخَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۔
(سورۂ جاثیہ آیت۲۱۔۲۲۔)
’’.....جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیںان لوگوں کے مانند قرار دیں گے جو ایمان لائے ہیں اور نیک کام کیے ہیں۔ کیا ان کی زندگی اور موت نیکو کاروں کی حیات و موت کے برابر ہے؟ یہ لوگ کتنا برا فیصلہ کرتے ہیں اور خداوندعالم نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا جس نے جو کچھ بھی کیا ہے اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پرذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بعض اعمال کی سزا اس دنیا میں نہیں مل سکتی جیسے کسی شخص نے ایک ایٹمی بم پھینک کر لاکھوں انسانوں کو نیست و نابود کر دیا اس دنیا میں اس کا ایک مرتبہ قتل کر دینا کیا لاکھوں انسانوں کے خون کا بدلہ ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ اس ظلم کی مکمل سزا بس آخرت میں مل سکتی ہے جہاں ایک مرتبہ کے قتل سے ابدی موت نہ ہو گی بار بار زندہ کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔
اور اس کے علاوہ اس دنیا کی زندگی مختلف قسم کی پریشانیوں سے گھری ہوئی ہے یہ دنیا اس لائق نہیں ہے کہ خدا اسے نیکوکاروں کی جزا قرار دے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی ساری زندگی خدا کی مرضی کے مطابق گذاری۔ساری عمربندگان خدا کی خدمت کرتے رہے۔اس راہ میں اپنی جان کو بھی عزیز نہ رکھا بلکہ وقت آنے پر اس کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔ خود مصیبت اٹھا کر دوسروں کو موت سے نجات دلائی۔ کیا ایسے لوگوں کے اعمال کا بدلہ یہی چند روزہ دنیا قرار پا سکتی ہے۔ خدا کی عدالت اس فانی دنیا کو نیکو کاروں کے عمل کا بدلہ کیوں قرار دے گی۔
(۲)مکافات
اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے والدین پر ظلم و ستم کیا۔ ان کی زندگی تلخیوں سے بھری گزری، یا جن لوگوں نے اپنے والدین کو قتل کیا وہ عین جوانی میں موت کا شکار ہو گئے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کیا انہیں اس کاصلہ راحت و آرام کی صورت میں اسی دنیا میں ملا۔ جن لوگوں نے یتیموں کے حق میں ظلم کیا اس کی سزاانہیں اسی دنیا میں ہی بھگتنی پڑی۔
قرآن نے اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ: وہ لوگ جنہیں اپنے کمزور و ناتواں یتیموں کے بارے میں خوف و ہراس لاحق ہے کہ ان کے بعد ان کا کیا ہوگا انہیں (اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ دوسرے یتیموں پر ظلم و ستم نہ کریں کہیں اس کا بدلہ ان کے یتیموں کو نہ ملے) اور تقویٰ الہی اختیار کرنا چاہیے۔
وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُواْ مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُواْ عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللّهَ وَلْيَقُولُواْ قَوْلاً سَدِيدًا ۔
(سورۂ نساء۔آیت۹۔)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: خداوند عالم نے یتیم کا ناحق مال کھانے میں دو سزا رکھی ہے دنیا میں پریشانیاں اور آخرت میں عذاب۔
(نورالثقلین ج۱ ص۳۷۰۔)
بسااوقات انسان مصائب و مشکلات میں گرفتار ہوجاتا ہے اپنے ان بداعمالیوں کی بنا پر جو اس سے سرزد ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ مصیبتیں وہ دنیاوی عذاب ہے جو اس دنیا میں مل رہا ہے تاکہ وہ ہوش میں آئے اور اپنے کردار پر نظر ثانی کرے اور اس کی اصلاح کی کوشش کرے قرآن حکیم نے اپنی متعدد آیتوں میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ:
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۔
(سورۂ شوریٰ آیت۳۰۔)
تم پر جو بھی مصیبت پڑتی ہے وہ تمہارے ہی کیے کا نتیجہ ہے۔
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔
(سورۂ نور آیت۶۳۔)
جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ان پر کوئی مصیبت نازل ہو یا کسی درد ناک عذاب میں گرفتار ہوں۔
إِنَّ اللّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۔
(سورۂ رعد آیت۱۱۔)
خدا کسی کی بھی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو نہ بدلے۔
گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی بعض امتیں اپنی نافرمانی اور سرکشی کی بنا پر اسی دنیا میں مبتلائے عذاب ہو چکی ہے۔ قرآن حکیم نے قوم نوح، قوم ہود ،قوم صالح، قوم لوط اور قوم شعیب ......کی سرگزشت بیان کی ہے اوراس عذاب کی تشریح کی ہے جو اسی دنیا میں ان پر نازل ہوا۔
(سورۂ ہود وغیرہ۔)
یہ عذاب،یہ مصیبتیں اور یہ مکافات عمل اس بات کی دلیل ہے کہ خداوندعالم ہرگز ظلم و ستم پر راضی نہیں ہے اور اعمال کا مکمل بدلہ دوسری دنیا میں دے گا یہ دنیاوی عذاب تو صرف ایک نمونہ ہے دنیاوی عذاب دیکھنے کے بعد یقین ہوجاتا ہے کہ انسان کو خود اس کے حال پر نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ دوسری دنیا میں اس کے ہر ہر عمل کا باقاعدہ حساب کتاب ہوگا۔
یہاں اس حقیقت کی طرف توجہ کرنا بہت ضروری ہے کہ وہ مصیبتیں اور مشکلیں جو نیکو کاروں پر نازل ہوتی ہیں وہ ان کے اعمال کی سزا نہیں ہے بلکہ وہ ان کے کردار کی مزید تعمیر، روحانی ارتقا اور بلندیٔ درجات کےلئے ہے۔ اگر بدکاروں کو اس دنیا میں ان کے اعمال کی سزا نہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا ان سے خوش ہے اور ان پر اپنی رحمتیں نازل کر رہا ہے یا بھول گیا ہے بلکہ انہیں اپنے اعمال کا بھرپور بدلہ آخرت میں ملے گا اور ذرہ برابر بھی فروگذار نہیں کیا جائے گا۔
آخرت اسلامی نقطۂ نظر سے
دوسرے آسمانی مذاہب کی بہ نسبت اسلام نے آخرت پر زیادہ زور دیا ہے اسلام میں جن موضوعات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں آخرت سرفہرست ۔قرآن حکیم کی ایک ہزار سے زیادہ آیتیں آخرت کے موضوع اور اس کی جزئیات سے متعلق ہیںجب کہ وہ آیتیں جن میں انفرادی، اجتماعی، معاشرتی .....احکام و قوانین بیان کیے گئے ہیں جنہیں’’آیات الاحکام‘‘ کہا جاتا ہے ان کی تعداد پانچ سو سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ اسی بنا پر عقیدۂ قیامت اصول دین میں شامل ہے جو بھی اس کا انکار کرے گا وہ مسلمانوں کے زمرے سے خارج ہوجائے گا۔
جو آیتیں آخرت کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں انہوں نے متعدد پہلوؤں سے آخرت پر روشنی ڈالی ہے اور مختلف موضوعات کو بیان کیا ہے صرف چند پہلوؤں کو بطور نمونہ پیش کریں گے:
قیامت کے یقینی ہونے کے سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
(۱)أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ۔
(سورۂ قیامت۔آیت۳۶۔)
کیا انسان نے یہ خیال کرلیا ہے کہ اس کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا ہے؟ یعنی اس کے کردار کا حساب کتاب نہ ہوگا۔
(۲)ہم نے آسمان و زمین اور جو چیزیں ان کے درمیان ہے انہیں بے کار نہیں پیدا کیا ہے یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جوکافر ہوگئے ہیں اور آتش جہنم ہے کافروں کے لئے ۔
وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور نیکوکار ہیں کیا ہم انہیں ان لوگوں کے برابر قرار دیں گے جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یا پرہیزگاروں اور بدکاروں کو ایک درجہ دیں گے؟
(سورۂ ص آیت۲۷۔۲۸۔)
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الاَبْصَارُ ۔
(سورۂ ابراہیم آیت ۴۲۔)
ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں سے غافل ہے خدا انہیں اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں عذاب کی شدت سے خیرہ ہو جائیں گی اس وقت ان ظالموں کے اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔
مشرک قیامت پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اس کو نا ممکن خیال کرتے تھے ایک دن ’’ابی ابن خلف‘‘ ایک بوسیدہ ہڈی لے کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کو اپنی چٹکیوں سے مسل کر کہنے لگا کہ: مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ ؟
(سورۂ یٰس آیت۷۸۔)
ان بوسیدہ اور خاکستر ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟
(مجمع البیان ج۸ ص۴۳۴۔ تفسیر البرہان ج۴ ص۱۳۔)
یہ شخص اپنی خلقت کی ابتدا کو فراموش کرچکا تھا خدا نے اس کا جواب یوں دیا کہ:
قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ ۔
(سورۂ یٰسین آیت ۷۹۔)
وہ خدا جس نے ابتدا میں ہڈیوں کو پیدا کیا اور انہیں زندگی دی وہی دوبارہ بھی زندہ کرے گا اسے ہر مخلوق کا علم ہے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا:
جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کیا وہ ان جیسا پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ کیوں نہیں۔ وہ قدرت رکھتا ہے وہ بڑا ہی جاننے والا خالق ہے۔
أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ۔
(سورۂ یٰسین آیت ۸۱۔)
صاحبان ایمان اور کافروں کے انجام، بہشت میں مومنین کو کیا کیا نعمتیں ملیں گی اور کافروں کو دوزخ میں کس کس طرح کا عذاب دیا جائے گا ۔اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۔
(سورۂ نازعات آیت ۳۷۔اور اس کے بعد کی آیتیں ۴۱ تک۔)
جس نے سرکشی کی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تو یقیناً اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور جو اپنے رب سے ڈرا اور خواہشات نفس سے پرہیز کیا تو یقیناً اس کی قیام گاہ جنت ہے۔
مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ ۔
(سورۂ مومن۔ آیت۴۰۔)
جو برا کام کرے گا اس کو ایسی ہی سزا ملے گی اور جو نیک کام کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت ____اور با ایمان ہو گا وہ جنت میں جگہ پائے گا اور اسے بے حساب رزق دیا جائے گا۔
آخرت کے عذاب کی شدت کو بیان کیا تا کہ لوگ برائیوں سے دور رہے اور تقویٰ الٰہی اختیار کریں گے اس سلسلے کی یہ آیتیں ملاحظہ ہوں:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ ۔
(سورۂ حج آیت۱۔)
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو یقیناً قیامت کا زلزلہ بڑا ہی خوف ناک ہے جس دن تم دیکھوگے کہ عذاب کی شدت سے ماں اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائے گی حاملہ عورت اپنا حمل گرادےگی۔ لوگوں کو مدہوش پاؤ گے جو مدہوش نہیں ہے بلکہ عذاب کی شدت نے ان کے ہوش اڑا دئے ہیں۔
جس وقت قیامت کی ہول ناک صدا بلند ہو گی جس دن بھائی، ماں، باپ، شوہر، زوجہ اولاد سب ایک دوسرے سے فرار کررہے ہوں گے( اس دن ہر انسان صرف اپنی فکر میں ہوگا دوسرے سے بالکل لاپروا ہوگا۔
(سورۂ عبس آیت ۳۳۔۳۶۔)
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا ۔
(سورۂ آل عمران آیت۳۰۔)
جس دن ہر انسان اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے پائے گا اس وقت اس کی خواہش یہ ہوگی کہ کاش اس کے اور اس کے اعمال کے درمیان طولانی فاصلہ ہوتا۔
ان آیات کے علاوہ سینکڑوں آیتیں قیامت اور حساب و کتاب کے مسائل بیان کرتی ہیں اگر ان آیات پر غور کیا جائے اور ان کے مفاہیم پر توجہ دی جائے تو انسان کی روش میں ضرور تبدیلی آئے گی اور وہ کوئی بھی کام بغیر غورو فکر کے انجام نہیں دے گا تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرے گا۔ آخرت کی آسائشوں کے لئے اسی دنیا سے وسائل فراہم کرے گا۔ پاک طینت مسلمان آخرت کے خوف سے، اپنے کردار، اخلاق،بلکہ اپنے افکار کو بھی پاک رکھتے ہیں اور روز حساب سے پہلے خود اپنا محاسبہ کرتے ہیں راتوں کو خوشگوار نیند سے بیدار ہو کر گرم بستروں کو چھوڑ کرشب کے سنّاٹے میں خدا کی عبادت کرتے ہیں اس سے راز و نیاز کرتے ہیں اپنے اعمال کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ کوئی بھی کام ہوا و ہوس کی بنا پر انجام نہیں دیتے بلکہ اپنے اخلاق، کردار عادت واطوار کی تربیت اور پاکیزگی میں منہمک رہتے ہیں۔
’’صعصہ ابن صوحان‘‘ کا بیان ہے کہ: نماز شب کے لیے مسجد کوفہ پہنچا ۔حضرت علی علیہ السلام نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔
نماز کے بعد وہ قبلہ رخ بیٹھ گئے اور یادِ خدا میں ڈوب گئے۔ کسی ایک طرف رخ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ سورج نکل آیا اس وقت آپ نے ہماری طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا کہ میرے محبوب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایسے افراد تھے جو ساری رات رکوع وسجود میں بسر کرتے تھے۔ صبح کے وقت ان کے چہرے اداس اور غبار آلود رہتے تھے ۔سجدے کی کثرت سے ان کی پیشانی پرگھٹہ پڑ گیا تھا۔ اور جب موت کو یاد کرتے تھے تو اس طرح کانپتے تھےجیسے تیز آندھی میں درخت کی شاخیں۔ اور اتنا روتے تھے کہ آنسوؤں سے ان کا لباس تر ہو جاتا تھا۔ یہ فرماکر حضرت علی علیہ السلام کھڑے ہوگئے اور یہ فرمایا: اور جو لوگ باقی رہ گئے ہیں وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
(ارشاد ص۱۱۴۔ نہج البلاغہ طبع فیض خطبہ۹۶۔ مختصر تفاوت سے۔)
ایک دن نمازصبح کے بعد رسول خداؐ کی نگاہیں ’’ حارثہ‘‘ نامی ایک جوان پر پڑیں جو اونگھ رہا تھا چہرہ زرد تھا آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیںرسول خداؐ نے اس سے سوال فرمایا کہ کس حال میں صبح کی؟
اس نے کہا: میں نے یقین کی حالت میں صبح کی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہریقین کی ایک حقیقت ہوتی ہے تمہارے یقین کی حقیقت کیا ہے؟
اس نے کہا: میرے یقین نے مجھے رنجیدہ کردیا ہے، میری نیند اڑا لے گیا ہے اور مجھے چلچلاتی دھوپ میں پیاسا کر دیا ہے گویا میںا بھی دیکھ رہا ہوں کہ قیامت آگئی ہے۔ لوگ حساب و کتاب کے لیے جمع ہوگئے ہیں میں بھی ان میں شامل ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک گروہ بہشت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے اور جنت کے تختوں پر بیٹھے ایک دوسرے سے محو گفتگو ہیں۔ اور ایک اس دوسرے گروہ کو دیکھ رہا ہوں جو عذاب جہنم میں مبتلا ہے اور ایک دوسرے سے مدد مانگ رہا ہے ان کی آوازیں بلند ہیں۔ جہنم کے شعلوں کی آواز میرے کانوں میں آ رہی ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایاکہ: خداوندعالم نے اپنے بندے کے دل کو ایمان کے نور سے منور کر دیا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےاس جوان سے فرمایا:
اپنی اس حالت کی حفاظت کرو، یہ حالت سلب نہ ہونے پائے۔
اس نے عرض کیا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ خدا سے میرے حق میں یہ دعا فرما دیں کہ خدا مجھے آپ کے سامنے شہادت نصیب کرے۔
چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمادی۔
کچھ دن نہ گزرے تھے کہ ایک جنگ میں۹ شہیدوں کے بعد یہ جوان دسواں شہید تھا۔
(اصول کافی ج۲ ص۵۳۔۵۴۔)