اس دنیا میں چھوٹے سے چھوٹے ذرے سےلے کر بڑے سے بڑے سیارے تک جس کو بھی دیکھو جس پر بھی غور کرو ایک مکمل نظام اورایک پیچیدہ انتظام دکھائی دیتا ہے اور بعض اوقات یہی نظام کی پیچیدگی بڑے بڑے سائنس دانوں کو عجیب قسم کا سرور وکیف بخشتی ہے۔
سیسل بوئیس ہمین (Cecil Boyes Hamann) کا کہنا ہے کہ: جس وقت میں پانی کے ایک قطرہ کو خوردبین میں رکھ کر دیکھتا ہوں یا جس وقت دور ترین ستارہ کو دوربین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں تو یہ کام مجھے سخت حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
ایک ایسا مستحکم نظام نظرآتا ہے کہ اس کی بنیاد پر ہونے والے ہر واقعہ کی خبرمسلّم اصول کے تحت پہلے سے دی جاسکتی ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ مسلّمہ اصول کے تحت تمام نظام قائم ہو اور ہم جو تحقیقات کیا کرتے ہیں وہ بھی صرف اسی اصول کی بنا پر ورنہ سارے تجربے بے کار ہوجائیں۔
یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں اس کی لمبائی چوڑائی سورج سے نزدیکی و دوری اس کی حرکت و سکون اتنے مکمل نظام پر چل رہے ہیں کہ انسان اسی پر زندہ ہے ورنہ اگر یہ ذرا اپنی حرکت بدل دے یا سورج سے دور یا نزدیک ہوجائے تو ساری حیات انسانی موت و زیست(حیات) کے شکنجہ میں آجائے۔
فضا ،کرۂ ہوا
جو مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے اور وہ اتنا ضخیم ہے کہ ایک ڈھال کی طرح زمین کو کروڑوں شہابوں سے جو پچاس کیلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف آتے ہیں اپنے سینے پر روک کر ختم کردیتا ہے۔
درجۂ حرارت کی کمی اور زیادتی بھی اس کرۂ ہوا کے ذمہ ہے کہ نہ اتنی زیادہ ہونے پائے کہ جل کر خاک ہوجائے نہ اتنی کم کہ منجمد ہوجانا پڑے۔
سمندروں سے بھاپ نکل کر زمین کو سیراب کرے یہ ذمہ داری بھی کرۂ ہوا کے ذمہ ہے اور اگر یہ کرۂ ہوا اس ذمہ داری کو پورا نہ کرے تو زمین ایسی خشک ہوجائے کہ نہ درخت وکھیتیاں لہلہاپائیں اور نہ انسان زندہ رہ پائے۔
کیوں زیادہ دور جائیے ہر چیز سے زیادہ قریب خود ہمارا وجود ہے۔ انسان کے وجود میں ہزاروں راز ہیں کہ سائنس داں حضرات مدتوں سے اس محدود انسان کا مطالعہ کررہے ہیں مگر ابھی تک تمام چیزوں کا اندازہ ان کی خوبیوں کے ساتھ نہیں کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر الیکس کا رل نے مدتوں مطالعہ کے بعد ایک کتاب ۔ L-Homme Cetinconnes لکھی اور اس میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ابھی تک زیست شناسی۔ بیالوجی…. اور دوسرے علوم اس بات کا اندازہ نہیں لگاسکے کہ انسان کے بدن میں نہ معلوم کتنے مسائل ہیں جو ابھی تک سربستہ(پوشیدہ) ہیں۔
ایک مختصر سی عجیب و غریب خاصیت پر توجہ فرمائیے۔ انسان کا بدن ایک عمارت کی طرح مختلف اجزا سے بنا ہے۔ جس کو غدود کا نام دیا گیاہے۔ جو خود اپنی جگہ پر ایک زندہ چیز ہے۔ یہ زندہ رہتا ہے ، کھاتا ہے، پیتا ہے، ہضم کرتا ہے،غرض تمام کام انجام دیتے ہوئےاپنا مثل بھی بناتا ہے۔
اس کے سلس اکثر دھاتوں سےبنتے ہیں ، مثلاً لوہا تانبا کیلشیم یہ دھات جیسی چیزوں جیسے آکسیجن، ہیڈروجن ازٹ وغیرہ سے۔
یہ غدود معمولی انسان کے بدن میں تقریباً ۱۰؍کھرب ہوتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ تمام غدود آپس میں مل جل کر کام کرتے ہیں سب کے سب ایک مقصد کے تحت حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بہت کمزور اور ناتواں اور ’’زودرنج‘‘ ہوتے ہیں ان کو مسلسل ان کی غذا ملتی رہنی چاہیے۔
اس کام کو خونِ دل کی مدد سے ود کرتا رہتا ہے۔ دل کی دنیا عجیب دنیا ہے اتنی مکمل اور آراستہ و پیراستہ ہے کہ وہ مرکز ہی رگوں اور نسوں کے ذریعہ پورے بدن میں خون پہونچاتی ہے۔
خون غذا کو ان غدود تک پہنچاتا ہے اور جو زہریلے اثرات ان غدود میں پیدا ہوجاتے ہیں ان کو لے کر واپس وادیٔ قلب میں داخل ہوتا ہے۔ دل اس کو فوراً صفائی کے محکمہ میں ڈال کر پھر اس کو صاف خون میں بدلوالیتا ہے اور فوراً پھر روانہ کردیتا ہے اور وہ پھر نئے جوش سے ایک ایک غدود کو اس کی غذا دینے کےلئے روانہ ہوجاتا ہے اور یہ کام ایسامسلسل ہوتا رہتا ہے کہ کبھی خون رکتا نہیں۔
جب جگر سے گذرتا ہے تو دوسرے جو کہ زہریلے اجزا ہوتے ہیں ان کو وہاں ختم کردیا جاتا ہے تاکہ کبھی بھی نظامِ بدن میں کوئی خلل واقع نہ ہونے پائے۔ آیا خون کی اس طرح گردش اور غدود تک غذا پہونچانا اور اس سے زہریلے مادہ کا اثر واپس آنا اور پھر دل کے صفائی والے شعبہ میں لے جا کر صاف کرنا اور پھر واپس لوٹانا یہ ان عجیب و غریب نظاموں میں سے ہے جس نے آج کے بڑے بڑے سائنس داں کو متحیر کردیا ہے۔ خود اس بات کا پتا نہیں چلتا کہ یہ مستحکم و مکمل نظام کے تحت کام ہورہا ہے ۔تو اگر اس بدن کو ایک پراسرار اور پھر اس کو بے انتہا منظم کہیں تو یہ کوئی مبالغہ آمیز بات ہے؟
نہیں بے شک نہیں!
یہ جان کر بہرحال اعتراف کرنا چاہیے کہ زندگی کی دنیا ایک نظام و دستور خاص پر رواں دواں ہے اور یہ طے شدہ ہے کہ کوئی نظام و دستور خود بخود نہیں ہوتا ہے اس کے پس پردہ کوئی نہ کوئی جاننے والا ، قدرت رکھنے والا ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل آپ کو اگلے سبق میں بھی ملے گی۔