اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٤

نظم وضبط کا نغمہ کہاں سے آیا

آج کا انسان اکثر اپنے بڑے بڑے اور مشکل کاموں کو کسی مشین کے ذریعہ انجام دیتا ہے تاز ہ ترین ایجادات ہی میں ایک چیز’’کمپیوٹر‘‘ ہے جس کے کارناموں سے کچھ نہ کچھ آپ ضرور واقف ہوں گے مثلاً ایک ’’کمپیوٹر‘‘ ایک پرانے مریض کے حالات پوری تفصیلات کے ساتھ کہ دس سال کے عرصہ میں اس کی حالت کیسی کیسی رہی۔ یہ کام صرف چند منٹ کے اندرڈ اکٹر کو بتاسکتا ہے بلکہ بعض اوقات تو وہ ضروری دوا تجویز کرکے مریض کو اطلاع دے سکتا ہے کہ فلاں دوا فلاں مریض کو دو،اسی طرح پورے پورے کارخانے کا انتظام سنبھال سکتا ہے آج کے دور میں بہت سے کارخانے اسی کے ذریعہ چل رہے ہیں<[1]۔ آیا یہ بات ممکن ہے کہ مشین اتفاق سے بن گئی ہو اور کوئی اس کا بنانے والا نہ ہو؟ یا اس کا اتنا باریک پن اس کے بنانے والے کی مہارت کی دلیل ہے؟ یقیناً جو شخص بھی اس مشین کو دیکھے گا یا اس کے بارے میں سنے گا فوراً اس کے بنانے والے کے بارے میں سوچے گا کہ کتنا زبردست عالم تھا وہ!

آٹومیٹک باورچی خانہ

اور بس (Orbic) ایسی ایک مشین ایجاد کی گئی ہے جو ایک گھنٹہ میں بہترین کھانے تیار کرے اور ایک ہزار آدمیوں کی دعوت کرسکتی ہے اور بعض ملکوں میں ان مشینوں سے راستوں کے ہوٹل میں کام لیا جاتا ہے اس مشین کا کام ۲۰ ماہر باورچیوں کے برابر ہے۔

جس وقت آپ کی موٹر ہوٹل کے پاس پہونچتی ہے گاڑی پارک کرتے ہیں ایک مخصوص لاؤڈ اسپیکر سے ایک آواز آئے گی: کیا نوش فرمائیں گے؟

آپ نے مختلف چیزوں کی فرمائش کی، تقریباً آٹھ منٹ اور گیارہ سیکنڈ کے بعد ایک بیرا(ویٹر) آپ کے آرڈر کےمطابق چیزیں لےکر حاضر ہوگا۔

آٹومیٹک باورچی خانے کا طریقۂ کار

جس وقت آپ نے بٹن دبایا۔ ’’اور بس‘‘ میں ایک بلب جل جاتا ہے اور جب آپ نے اپنی فرمائش بتائی وہ آدمی جو اس مشین پر بیٹھا ہے وہ ایک خاص بٹن کو دبائے گا یہ مشین فوراً کام کرنے میں لگ جاتی ہے مثلاً آپ نے ’’سینڈویچ‘‘ کی فرمائش کی تھی تو اب ایک چھری خود بخود ڈبل روٹی کے ٹکڑے کاٹنا شروع کردے گی اور اسی لمحہ تھوڑا گوشت سِکنے کےلئے اپنی جگہ پہنچ جائے گا جو کہ چارمنٹ اور گیارہ سیکنڈ میں کباب بن کر تیار ہوجائے گا۔ اور تو س جہاں رکھا ہوا ہے وہاں سج جائے گا اور پھر رفتہ رفتہ سینڈویچ کے تمام اجزا اپنی اپنی جگہوں سے روٹی تک پہونچ جائیں گے اور پھر یہ پورا سینڈویچ تیار ہو کر نائیلون کی تھیلی میں پہونچ جائے گا اور مہر بند ہو کر آپ کی خدمت میں روانہ۔<[2]

سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ ’’اور بس‘‘ مشین بغیر کسی موجد کے بن گئی اور یہ خود بخود اتفاق سے وجود میں آگئی حالات وزمانہ کی گردش نے ان تمام چیزوں کو یکجا کرکے اس مشین کی صورت میں کردیا ہے؟

اس میں کسی کو دماغ سوزی کی ضرورت نہیں پڑی۔ یا یقیناً چند ذہین او رپڑھے لکھے اشخاص نے سخت محنت اور توجہ سے اسے بنایا ہے۔

یقیناً یہ انتظام و ترتیب جو آپ نے اوپر پڑھی یہ کسی کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ اور اس نے بہت ہی باریک بینی سے تمام چیزیں سٹ کی ہیں کہ ہر چیز اپنے وقت پر تیار ہوجاتی ہے ورنہ ایسی عجیب وغریب مشین ایجاد نہ ہو پاتی۔

یہیں سے پتا چلتا ہے کہ نظم و ترتیب اور ہر چیز کا اپنے وقت پر تیار ہوجانا ان کے پردے میں کسی عالم وقادر کا ہونا ضروری ہے___ ورنہ اتفاق زمانہ کی گردش کبھی بھی اتنی اہلیت نہیں رکھتی کہ ایسی ترتیب و تنظیم کو وجود میں لے آئیں جس طرح سے ٹھنڈے پانی سے جلادینے کی توقع بے جا ہے اسی طرح اتفاق سے تنظیم و ترتیب کی توقع بے کار ہے۔

اسی لئے یہ نظام و ترتیب جو ذہن انسانی میں ،اعصاب میں بلکہ پورے اجزائے بدن بلکہ پوری کائنات میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے یہ خود ایک مستقل دلیل ہے اس بات کی کہ اس کے پردے میں کوئی ’’جاننے والا‘‘ اور ’’قدرت والا‘‘ موجود ہے ۔ ہم جتنا زیادہ دنیا کے عجائب میں چھان بین کریں گے اس خالق کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا نظر آئے گا ۔ کیا کوئی سمجھدار کہہ سکتا ہے کہ ایک کمپیوٹر کے مقابلہ میں ذہن انسانی کی اہمیت کم ہے؟

ایسا ہرگز نہیں!

کیوں کہ اس ذہن انسانی ہی نے تو اس کمپیوٹر کو بنایا ہے!

پھر ذہن انسانی کا خالق کون ہوگا۔ ہر شخص کہتا نظر آئے گا کہ یہ سب اسی عالم وقادر و خالق کی عظمت کی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ذہن انسانی میں جو سمجھنے اور سوچنے کی قوت موجود ہے یہ خود دلیل ہے کہ جس میں یہ عظیم قدرت نہ ہو وہ دوسرے کو کیسے دے سکتا ہے۔ قرآن کریم اسی نکتہ کی طرف متوجہ کرکے بار بار کہتا ہے:

خداوند عالم وہ ہے جس نے آسمان کو بغیر کسی ستون کے قائم کیا، چاند، سورج کو اپنے ارادے کے تابع بنایا یہ سب ایک خاص مدت تک حرکت کی حالت میں رہیں گے۔ خداوندعالم دنیا کے امور کو مرتب کرتا ہے اور اپنی نشانیوں کومکمل تفصیل سے پیش کرتا ہے، تاکہ تم کو روزِ جزا اور قیامت کا یقین ہوجائے۔<

[1] ماہ نامہ دانش مند ۱۹۶۸ء؁

[2] ماہ نامہ دانش مند چوتھا سال۔شمارہ۔۱۰

[3] سورۂ رعد آیت۲۔