اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٥

کائنات کے راز کُھلتے ہیں

عقل انسانی کی حیرت انگیز ترقیاں جہالت اور نادانی کے دبیز پردے یکے بعد دیگرے اٹھارہی ہیں اور غلط نظریات کی بنیادیں علم وظائف الاعضا اور دوسرے تجرباتی علوم کی وجہ سے متزلزل ہوتی جارہی ہیں۔

مثلاً گذشتہ زمانے میں جسم انسانی کے بعض اعضا کو بے کار اور بے فائدہ خیال کیا جاتا تھا لیکن آج کی علمی ترقی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اعضا جن کو بے فائدہ شمار کیا جاتا تھا وہ بہت ہی مفید ہیں اور ان کے ذمہ ایک عظیم کام سپرد کیا گیا ہے اور جوں جوں جیسے جیسے علم ترقی کرتا جائے گا ویسے ہی ویسے کائنات کے رازہائے سربستہ کھلتے جائیں گے۔ اب ذرا چند مثالوں کی طرف توجہ فرمائیے:

غدۂ تھا ئیمس (Thymus)

یہ جسم انسانی کا ایک چھوٹا سا غدہ ہے کہ جس کی جگہ سینے کی ہڈی کے پیچھے اور سانس کی نلی کے اوپر ہے۔ زمانۂ گذشتہ میں لوگ اس کے فوائد سے ناآشنا تھے بلکہ اس غدہ کو ایک زائد عضو گمان کرتے تھے لیکن آج کی تحقیق نے یہ بات واضح کردی ہے کہ اس غدہ کی ذمہ داری بدن میں ’’کیلشیم‘‘ وٹامن ’’D‘‘ اور’’فاسفورس‘‘ Meta Bolism کی منظم کرنا ہے۔ یہی غدہ ’’لنفوسیت‘‘ نام کا مادہ پیدا کرنے میںکافی موثر ہے اور یہی غدہ اینٹی باڈیز (Antibodies) مواد بھی تیار کرتا ہے۔

غدہ ایپی فیزل

یہ غدہ تھائیمس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے یہ غدہ مغز کے اندر واقع ہے۔ گذشتہ زمانے کے ڈاکٹر اس کو بیکار اور بے فائدہ خیال کرتے تھے لیکن علمی ترقی نے اس نظریہ کو بالکل بدل دیا ہے آج کل اس غدہ کے کافی فوائد بتائے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ غدہ جنسیات میں ایک توازن برقرار رکھتا ہے اور قبل از وقت بلوغ سے مانع ہے خلاصہ یہ کہ اس غدہ میں خلل واقع ہونا انسان کو موت کے گھاٹ اتاردیتا ہے۔

ٹان سیلز

پرانے زمانے کے ڈاکٹروں کا خیال یہ تھا کہ یہ غدود بے فائدہ اور بے کار ہیں اور اسی وجہ سے جب بھی ان غدود میں ورم پیدا ہوجاتا تھا تو فوراً آپریشن کرکے ان کو نکال دیتے تھے ۔ لیکن آج کی علمی ترقی نے ان غدود کے کافی فائدے کشف کئے ہیں اور ان غدود کے لئے کافی اہمیت کے قائل ہیں جس کی بنا پر بدرجۂ مجبوری ہی ان کو آپریشن کرکے نکال دینے کی رائے دیتے ہیں۔

یہ غدود سفید رنگ کا کارپاسیلز (WhiteBload Corpuo Celes) بناتے ہیں کہ جن کا کام جراثیم سے دفاع کرنا ہے۔ یہ غدود سانس کی نالی میں ایک زبردست دربان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جراثیم اور مضر چیزوں کو داخل نہیں ہونے دیتے۔ جس وقت ہوا زیادہ کثیف ہوجاتی ہے اور اس میں طرح طرح کے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں تو ان کو زبردست مقابلہ کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں ان میں ورم پیدا ہوجاتا ہے۔

اگران کو نکال دیا جائے تو حلق میں آلودگی پیدا ہوجاتی ہے تو اس وقت یہ متورم ہو کر (سوج کر) خطرے کی گھنٹی کی طرح سامنے آجاتے ہیں اور ڈاکٹر کے سامنے حلق کی حالت کی ترجمانی کرتے ہیں اگر یہ اس کام کو انجام نہ دیں تو حلق کی کیفیت ذرا دیر سے معلوم ہوگی جس کی بنا پر اور دوسری بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جیسے نمونیا وغیرہ۔

اپینڈکس (Appendix)

ڈاکٹروں کی ایک انجمن بے انتہا زحمت اور مشقت کے بعد اس نتیجہ پر پہونچ سکی ہے کہ اپینڈکس کینسر کے ساتھ مقابلہ میں کافی موثر ہے اور اگر ان کو بغیر کسی مجبوری کے نکال دیا جائے تو کینسر کےلئے میدان ہموار ہوجاتا ہے۔

ایک طبی ماہنامہ کا لکھاہے کہ وہ اشخاص کہ جن کے بارے میں کینسر کا اندیشہ ہو اگر اس صورت میں اپینڈکس کو نکال دیا جائے تو ہوسکتا ہے یہی بات کینسر کی پیدائش کا سبب بنے۔

یہ مثالیں اور اس کے علاوہ بہت سی مثالیں ____ اگر ان میں غوروفکر سے کام لیا جائے تو یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ ہم اپنی نادانی کی بنا پر کسی چیز کا فائدہ نہ معلوم کرسکیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ بس وہ چیز بے کار اور بے فائدہ ہے بلکہ ہم کو چاہیے کہ ہم انتظار کریں اس وقت کا کہ جس وقت حقائق اور اسرار کے چہرے سے پردہ اٹھے گا تو اس وقت معلوم ہوگا کہ اس چیز کافائدہ کیا ہے____ آج علمی دنیا نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے لیکن چونکہ علم کا میدان ایک وسیع میدان ہے اس لئے یہ تمام ترقیاں ابتدائی مراحل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ’’اینسٹائن‘‘ اپنی کتاب ’’فلسفۂ نسبیت‘‘ میں لکھتا ہے کہ ہم نے جو کچھ اس کائنات سے درس حاصل کیا ہے جتنی بھی کتابیں پڑھی ہیں گرچہ اس نے ہم کو بہت کچھ سکھایا ہے لیکن پھر بھی ہم اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ کائنات کےتمام اسرارورموز کو سمجھ سکیں۔

ولیم جیمس قائل ہے کہ: ’’ہمارا علم ہمارے جہل کے مقابلے میں بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک قطرہ ایک عظیم سمندر کے سامنے۔‘‘

گذشتہ بیانات سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے محدود علم ودانش کی بنا پر کسی چیز کا فائدہ نہ سمجھ پائے اور فوراً کہہ بیٹھے کہ اس چیز کا کوئی فائدہ نہیں ہے تو یہ بات عقل سے کس قدر دور ہوگی۔ اگر یہ لوگ ذرا بھی عقل و خرد سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ نہ ’’جاننے‘‘ اور نہ ’’ہونے‘‘ کےدرمیان کتنا فرق ہے۔ اور نہ جاننے کو نہ ہونے کی دلیل قرار دینا سراسر عقل کے خلاف ہے۔

لاتعداد موجودات میں سے اگر چند کی خاصیت اور فائدہ نہ معلوم ہوسکے تو یہ اس بات کا ہرگز سبب نہیں ہوسکتا کہ انسان ان تمام حیرت انگیز مثالوں اور عقل کو حیران کردینے والے نظام میں ذرا غوروفکر کرکے اس کے باشعور خالق کا پتا نہ لگاسکے بلکہ یہی موجودات جن کو وہ سمجھ چکا ہے اس بات کےلئے کافی ہیں کہ اس کو خالق حقیقی کی طرف راہ نمائی کریں۔

اگر آپ کو ایک کتاب ملے کہ جس میں شروع سے آخر تک ایک سے ایک اعلیٰ اور علمی مطالب ہوں مگر ان میں سے چند سطریں ایسی بھی ہوں کہ جن کا مفہوم آپ نہ سمجھ پارہے ہوں تو کیا اس صورت میں آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ یہ فیصلہ کربیٹھیں کہ اس کتاب کا مصنف ایک نافہم اور ناسمجھ انسان ہے یا آپ یہ فیصلہ کریں گے کہ اس کتاب کا مصنف عظیم اور بلند پایہ مفکر شخص ہے کہ جس کی عقل و فہم کی ترجمانی یہ مطالب کررہے ہیں اور چند سطریں جو بظاہر میری نظر میں نا مفہوم ہیں اس میں میراقصور ہے۔