ہم سب نے آگ کے شعلے کو دیکھا ہے جس وقت شعلہ اٹھتا ہے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ شعلہ کیا ہے؟ آج ہم یہ جانتے ہیں کہ شعلہ گیس کی کیفیت ترکیبی سے وجود میں آتا ہے____
پرانے زمانے میں کیمیا کے ماہرین یہ تصور کرتے تھے کہ کوئلہ ، تیل…… میں کوئی ایسی چیز پوشیدہ ہے جو جلنے کے وقت شعلہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اس چیز کو مختلف ناموں سے یاد کرتے تھے کبھی اس کو ’’سلفر‘‘ کہتے تھے۔
رفتہ رفتہ اس نظریے کے کافی لوگ طرف دار ہوگئے اکثر دانشوروں نے اس کی تائید بھی کی اور اس کی نامرئی چیز کا نام فلوجسٹن (Phlogioton) رکھا۔
اشہل (Sthal) (۱۷۳۴۔۱۶۶۰) نے کہا: فلوجسٹن نامی چیز( چونکہ آگ اور شعلہ کی اصل و اساس ہے)ایندھن میں پائی جاتی ہے جو جلتے وقت شعلہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: لکڑی، کوئلہ اور تیل اس لئے جلدی آگ پکڑ لیتے ہیں کہ ان میں فلوجسٹن کی مقدار کافی ہوتی ہے جب کہ دھات میں اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
وہ اور اس نظریہ کے تمام طرف دار اس بات کے قائل تھے اگر ہم کسی چیز سے لوہے کو جلائیں تو فلوجسٹن نکل جائے گا اور بقیہ زنگ کی صورت میں باقی رہ جائے گا۔
گندھک کے بارے میں یہ کہتےتھے کہ اگر ہم گندھک کو جلائیں تو اس سے فلوجسٹن نکل جائے گا اور بغیر فلوجسٹن کی گندھک باقی رہ جائے گی۔
لاوازیر (۱۷۹۴۔۱۷۴۳) (Lovoisier) کےاستاد روئل (Rovelle) (۱۷۷۰۔۱۷۰۳) نے بھی اسی نظریہ کی تائید کی تھی اور اس کے ثبوت میں کافی دلیلیں دی تھیں۔
فرانسوی دانشور لاوازیر جو جدید کیمسٹری کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس نے اپنے استاد روئل کے نظریہ کا باقاعدہ مطالعہ کیا اور اس پر کافی فکر کی یہاں تک کہ وہ اس نتیجہ پر پہونچا کہ فلوجسٹن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
اس نے ۱۷۷۲ء میں سیسہ کے ایک ٹکڑے کو خوردبین کے ذریعہ سورج کی شعاعوں سے جلایا اور دیکھا کہ اس سیسہ کا وزن بڑھ گیا ہے۔ اس نے اپنی جگہ پر سوچا کہ اس دھات میں کچھ ہوا شامل ہوگئی ہے جس نے اس کا وزن بڑھادیا ہے اور اگر فلوجسٹن کے نظریہ کی کوئی حقیقت ہوتی تو جلنے کے بعد اس کا وزن کم ہونا چاہیے تھا____ اس بنا پر فلوجسٹن کے نظریہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
اس نے اپنے نظریہ کی تائید میں یہ دلیل پیش کی اگر ہم جلے ہوئے سیسہ کو دوبارہ پگھلائیں تو جتنی ہوا اس میں جذب ہوگئی ہے وہ خارج ہوجائے گی اور یہ ٹکڑا دوبارہ سیسہ ہوجائے گا۔
۱۷۷۶ء میں پارے سے بھرے ہوئے ظرف کے نیچے ایک چراغ روشن کرکے بارہ دن تک اسے گرم کرتا رہا زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ پارے پر سرخ رنگ کی ایک باریک پرت جم گئی۔
لاوازیر نے یہ دریافت کیا کہ ظرف کے اندر جو ہوا ہے وہ تنفس(سانس لینے) کے قابل نہیں ہے اس نے اپنے آپ سے کہا: یقیناً ظرف کے اندر کچھ پارے میں مخلوط ہوگئی ہے جس کی بنا پر یہ سرخ رنگ کی پرت وجود میں آئی ہے۔ اس نے اپنے نظریہ کی تائید کے لئے اس سرخ رنگ کی پرت کو الگ کرکے گرمایا اس وقت اس نے دیکھا کہ اس سے وہ گیس نکل رہی ہے جو تنفس کے قابل ہے آخر میں اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ جب پارہ جلتا ہے تواس سے کوئی چیز خارج نہیں ہوتی بلکہ ہوا میں ایسی گیس ہے جو پارہ میں مل کر آکسائیڈ پارہ بنادیتی ہے اس نے اس گیس کا نام آکسیژن رکھا۔
آخر میں اس نے وضاحت سے کہہ دیا کہ فلوجسٹن کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیمیائی فعل و انفعال(کام کے اثرات) کی بنا پر جن چیزوں پر تجربہ کیا جاتا ہے چیزوں کا جو وزن ہوتا وہ اس وزن کے مساوی ہوتا ہے جو حاصل ہوتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے :’’ نہ کوئی چیز نابود ہوتی ہے اور نہ کسی چیز کا اضافہ ہوتا ہے۔‘‘
اس تحقیق و انکشاف کے بعد فلوجسٹن کے طرف دار رفتہ رفتہ ختم ہوتے گئے اور آج ہم یہ جانتے ہیں کہ آگ ، تیل….. میں جو شعلہ نکلتا ہے وہ اس بنا پر ہے کہ اس میں آکسیژن سے مخلوط ہونے کی صلاحیت پائی جاتی ہے نہ یہ کہ ان میں کوئی نامرئی مادہ پایا جاتا ہو جو شعلہ کی صورت میں خارج ہوتا ہے۔
نظریہ فلوجسٹن اور نظریہ لاوازیر کی تاریخ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لاوازیر کے اس جملہ کا مقصد ’’نہ کوئی چیز نابود ہوتی ہے نہ کسی چیز کا اضافہ ہوتا ہے‘‘ کہ کیمیائی فعل وانفعال(کام کے اثرات) میں کوئی چیز نابود نہیں ہوتی اور کسی چیز کا اضافہ بھی نہیں ہوتا ۔ یہ نظریہ تخلیق کائنات سے متعلق نہیں ہے ۔ وہ ایک فلسفی مسئلہ ہے کیمسٹری سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ لاوازیر کوئی فلسفی بات کہنا چاہتا ہے۔ اس لئے وہ یہ کہتے ہیں کہ لاوازیر کا نظریہ تخلیق کائنات کے خلاف ہے کیوں کہ اس کا کہنا یہ ہے کہ نہ کوئی چیز وجود میں آتی ہے اور نہ کوئی چیز نابود ہوتی ہے۔ اب اس نظریہ کے بعد یہ بات کیوں کر تسلیم کی جائے کہ اس کائنات کو کسی نے وجود دیا ہے۔؟ اگر ہم لاوازیر کے نظریے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اس کا نظر یہ صرف کیمیائی فعل وانفعال(کام کے اثرات) کی تشریح کے بارے میں ہے۔ یعنی یہ دنیا اس طرح ہے کہ نہ اس میں سے کوئی چیز نابود ہوتی اور نہ کسی چیز کا اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ کہ یہ کائنات پیدا کی گئی ہے یا ہمیشہ سے اسی طرح تھی یہ ایک فلسفی مسئلہ ہے، لاوازیر کا نظریہ اس سلسلے میں بالکل خاموش ہے۔
لہٰذا یہ عقیدہ کہ اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے لاوازیر کے نظریہ سےکوئی منافات نہیں رکھتا۔
جب کسی دانشور کا کوئی نظریہ یا کوئی علمی تھیوری سامنے آئے تو بڑی گہری نگاہ سے اس کا مطالعہ کرنا چاہیے اور جو لوگ اس فن میں مہارت رکھتے ہوں ان سے بات کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے تاکہ بات بالکل واضح ہوجائے کیوں کہ غلط فہمی انسان کو عقیدوں سے بدظن کردیتی ہے۔
اس کے علاوہ کسی نظریہ کو فوراً تسلیم نہیں کرنا چاہیے اور نہ اس کو اٹل حقیقت تصور کرنا چاہیے کیوں کہ بہت سے نظریات ایسے ہیں کہ صدیوں دانشوراس کی تائید کرتے رہے لیکن ایک مرتبہ وہ نظریات غلط ثابت ہوئے۔ اسی نظریہ فلوجسٹن کو لے لیجئے کہ مدتوں دانشور اس کے قائل رہے مگر لاوازیر نے اس کو غلط ثابت کردیا۔ اور اس وقت لاوازیر کے نظریہ کی وہ آب وتاب نہیں ہے جو پہلے تھی ۔ لاوازیر نے صرف مادہ کی بقا کا تصور پیش کیا تھا اور آج کی جدید تحقیق نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ مادہ توانائی کی شکل میں باقی رہ سکتا ہے۔
مثلاً اگر ہم آٹھ گرام آکسیژن میں ایک گرام ہائیڈروجن ملائیں تو لاوازیر کے نظریہ کے مطابق نوگرام پانی تیار ہونا چاہیے۔ جب کہ دقیق حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ مادہ کی بہت ہی معمولی مقدار توانائی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اس بنا پر آٹھ گرام آکسیژن اور ایک گرام ہائیڈروجن سے جو پانی تیار ہوتا ہے وہ نوگرام سے کچھ کم ہوتا ہے۔