مُوجد اور خالق میں فرق
ان چند مثالوں پر خوب غوروفکر کیجئے کہ دنیا کی چیزیں کہاں تک اپنے بنانے والے کی محتاج ہیں:
۱ ہوائی جہاز بنانے والا ہوائی جہاز بنانے میں کون سا کام انجام دیتا ہے؟
ہوائی جہاز کا انجینئر دھات کے ٹکڑوں اور دوسری ضروری اور لازمی چیزوں کو ایک خاص انداز ے اور ایک خاص شکل وصورت سے ایک کو دوسرے سےملاتا ہے ہر ایک چیز کو اس کی مناسب جگہ پر رکھتا ہے تاکہ اس میں اس بات کی صلاحیت پیدا ہوجائے کہ وہ ہوا میں اُڑ سکے مسافر ین کو بیٹھا سکے اور سامان بارکرسکے۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہاں پر سارا کام انجینئر کے ہاتھوں کی انگلیاں انجام دیتی ہیں اور یہ انگلیوں کی حرکت ہے کہ جس کی بنا پر وہ ابتدائی مواد کو ضروری اور لازمی شکل و صورت میں ڈھال دیتا ہے ۔ ادھر ہوائی جہاز بن کے تیا ر ہوا اور بالکل مکمل ہوگیا ادھر انجینئر کاکام بھی آخری منزل تک پہونچ گیا۔ وہ تمام چیزیں جو تھوڑی دیر پہلے انجینئر کی ممنونِ احسان تھیں، اب اس کی محتا ج نہیں____ اب ان چیزوں کو انجینئر کی کوئی ضرورت نہیں، سیٹیں، انجن، لائٹ____ یہ چیزیں اب خود مستقل ہیں____ انجینئر کا وجود وعدم ان کے لئے برابر ہے۔
۲ ہم ایک گھر بنوانا چاہتے ہیں اور اسی غرض کے تحت ہم نے تعمیر کا سارا سامان جمع کرلیا ہے تمام ضروری چیزیں اکٹھا کرلی ہیں___ اینٹیں، سمنٹ لوہا وغیرہ۔ اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ ہمیں معمار کی تلاش ہے۔ آیا اس لئے ہم اس کو ڈھونڈ رہے ہیں کہ وہ آئے اور تمام ضروری چیزوں کو وجود میں لائے____یا اس لئے ہم اس کو تلاش کررہے ہیں کہ وہ ان موجودہ چیزوں میں ایک قسم کا نظم وضبط پیدا کردے اور ان کو گھر کی شکل دے دے۔
یہ بات واضح ہے ہم معمار کو اس لئے تلاش نہیں کررہے ہیں کہ وہ آکر ان چیزوں کو وجود میں لائے کیوں کہ ان چیزوں کو تو ہم پہلے ہی سے جمع کرچکے ہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ معماران موجودہ چیزوں کو ایک خاص شکل دے دے اور ہر ایک کو مناسب جگہ پر لگادے۔
۳ جس شخص نے ’’ایفل ٹاور‘‘ کو نہیں دیکھا ہے لیکن اگر اس کے سامنے ’’ایفل ٹاور‘‘ کی حیرت انگیز اونچائی اوراس کی عجیب وغریب خصوصیات بیان کی جائیں تو اس وقت یہ شخص پلک جھپکتے ہی اسی ٹاور کی تصویر اپنے ذہن میں اتار سکتا ہے بلکہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس سے کئی گنا اونچا تصور کرے اور ان تمام لوگوں کا بھی تصور کرسکتا ہے جو اس کے اوپر ٹہل رہے ہیں۔
اس ذہنی تصویر میں غوروفکر کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ مثال ان دو گذشتہ مثالوں سے مختلف ہے۔اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے کہ گھر اور ہوائی جہاز بنانے والوں نے ان کے ابتدائی موادو مصالح کو پیدا نہیں کیا تھا بلکہ موجودہ چیزوں کو ایک خاص شکل وصورت دے دی تھی لیکن اس ذہنی تصویر کی تمام ضروری اور لازمی چیزوں کو خود اس شخص نے پیدا کیا ہے اسی بنا پر یہ ذہنی تصویر خارجی چیزوں کی محتاج نہیں ہے بلکہ ذہن انسانی جتنا چاہے اس کو وسیع اور بلند بناسکتا ہے۔
پس ذہنی تصویروں کی بنیادیں ہمہ تن ہماری ذات پر ہیں تصویریں اسی وقت تک باقی رہتی ہیں جب کہ ہم چاہیں اگر ہم ذرا بھی توجہ ان سے موڑ لیں تو یہ فوراً نابود ہوجائیں گی۔
اب یہ بات واضح ہوگئی کہ ’’وہ شئی جس کا تمام تروجود دوسرے کی ذات پر منحصر ہووہ اپنی ذات میں کسی قسم کا استقلال نہیں رکھتی بلکہ ہر گھڑی اورہر لحظہ اپنے بنانے والے کی محتاج ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ موجود ات عالم جو عدم سے وجود میں آئی ہیں کس طرح کی ہیں؟ اور یہ اپنے پیدا کرنے والے کی کہاں تک محتاج ہیں؟ آیا یہ تمام موجودات عالم ہر لحظہ اپنے پیدا کرنے والے کی محتاج نہیں ہیں؟____ ممکن ہے کچھ لوگ یہ خیال کریں کہ موجودات عالم اپنی خلقت کے بعد اپنی بقا میں اپنے پیدا کرنے والے کی محتاج نہیں ہیں۔
یہ خیال ازسرتاپا دھوکہ ہی دھوکا ہے اس لئے کہ موجودات عالم تمام کی تمام خداوندعالم کی مخلوق ہیں اور بالکل اس ذہنی تصویر کی مانند جس کو ہم نے وجود بخشا ہے جو اپنے وجود اور بقا میں ہر لحظہ اور ہر آن اپنے پیدا کرنے والے کی محتاج ہے۔
اس بات کی مزید و ضاحت کے لئے، ابھی آپ اپنے ذہن میں ایک آدمی کی تصویر بنائیے کہ جو اپنے ارادہ و اختیار سے چل پھررہا ہو بات چیت کررہا ہو، کام کاج میں مشغول ہو۔آیا یہ آدمی اپنی بقا میں مستقل حیثیت رکھتا ہے؟____ یقیناً اس کا وجود اور اس کی بقا آپ کی ذات سے ہے آپ کا ایک مختصر ساارادہ اس کو فنا کردے گا۔
ساری کی ساری کائنات بالکل اس تصویر کی طرح اپنے وجود و بقا میں مستقل حیثیت کی مالک نہیں ہے بلکہ ہر آن اپنے خالق کی محتاج ہے اگر خدا نہ چاہتا تو ہرگز وجود میں نہیں آسکتی تھی اور اگر خدانہ چاہے تو ہرگز باقی بھی نہیں رہ سکتی ہے اس کا وجود اور اس کی بقا مشیت خداوندی کے تابع ہے۔
’’اے لوگو! تم سب کے سب (وجودو بقا میں) خدا کے (ہر وقت) محتاج ہو اور خدا غنی اور سزاوارحمد وثنا ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو عدم کے پردے میں لے جائے اور ایک نئی مخلوق بسائے۔‘‘ (سورۂ فاطر آیت۔۱۵۔۱۶)۔
یہ بات ایک مسلّم حقیقت ہے کہ جس کی طرف اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر وقت متوجہ کرتا ہے مثلاً ہر نماز میں سجدے سے اٹھتے وقت اس پُر معنی جملہ کی تکرار کرے:۔ ’’بحول اللہ وقوتہ اقوم واقعد‘‘ خدا ہی کی طاقت و قدرت سے میں اٹھتا اور بیٹھتا ہوں____ اگر ہم غوروفکر کریں تو یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ خدا کے مقابلہ میں ہماری کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے اور صرف وہی ہے کہ جس نے ہم کو خود مختار اور عقل مند پیدا کیا ہے تاکہ کامرانیوں اور سعادت کی راہ میں سعی وکوشش کریں اور کامیابیوں سے ہم کنار ہوسکیں۔
صرف وہی ہے کہ جس کی بے پایاں رحمتیں اور بے انتہا عنایتیں ہمہ وقت ہمارے شامل حال رہتی ہیں۔
اسی بنا پر ہم بے اختیار اس کی عظمتوں اور جلالتوں کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں____ اور دل کی گہرائیوں سے یہ جملہ زبان پر جاری ہوجاتا ہے:____
سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلٰی وَبِحَمْدِہٖ