ایک مسلّم قانون
ہم روز مرہ کی زندگی میں ایسی چیزیں پاتے ہیں جو آثار و خواص رکھنے والی ہیں لیکن ان کے اثرات ہر جگہ ایک جیسے نہیں بلکہ دوری اور نزدیکی کافی حد تک موثر ہے۔ یہ بات ممکن ہے کسی شئے کے اثرات ایک خاص حد تک ہوں لیکن اس حد کے بعد اس کے اثرات کا نام ونشان نہ ہو۔
ذرا ان مثالوں میں غور وفکر فرمائیے:
(۱)قوت جاذبہ (مقناطیس)
یہ کشش تمام جگہوں پر ایک جیسی نہیں ہے بلکہ لوہا جس قدر مقناطیس سے قریب ہوگا اتنی ہی زیادہ قوت کے ساتھ مقناطیس کی طرف کھنچے گا اگر آپ لوہے کی ایک کیل کو ایک مرتبہ دو سینٹی میٹر کے فاصلہ پر رکھیں اور دوسری مرتبہ دس سینٹی میٹر کے فاصلہ پر رکھیں تو پہلی صورت میں کیل زیادہ قوت کےساتھ مقناطیس کی طرف کھنچے گی____ بہ نسبت دوسری صورت کے۔
(۲) حرارتِ آفتاب
حرارت آفتاب کرۂ ’’زہرہ‘‘ اور سطح زمین پر ایک جیسی نہیں ہے چونکہ زہرہ آفتاب سے زیادہ قریب ہے لہٰذا وہ زمین کی بہ نسبت کافی گرم ہے۔
(۳) بلب کی روشنی
ایک بلب کی روشنی ممکن ہےسومیٹر کے فاصلہ تک جائے لیکن ان تمام فاصلوں پر روشنی ایک جیسی نہیں ہے بلکہ آپ جتنا بلب سے دورہوتے جائیں گے روشنی کم ہوتی جائے گی اور جتنا جتنا نزدیک ہوتے جائیں گے اتنی اتنی روشنی زیادہ ہوتی جائے گی۔
(۴) آواز
ایک شاعر یا ایک مقرر کی آواز ہوسکتا ہے پچاس میٹر تک جائے لیکن تمام جگہوں پر آواز ایک جیسی نہیں بلکہ جتنا نزدیک ہوں گے اتنا ہی صاف سنائی دے گی۔
ان مثالوں پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کسی شئے کا ایک مرکز ہوتو اس کے اثرات تمام جگہوں پر یکساں نہیں رہتے بلکہ مرکز سے جتنا جتنا نزدیک ہوتے جائیں گے اتنے ہی اس کے اثرات صاف اور زیادہ ہوتے جائیں گے او رجیسے جیسے دور ہوتے جائیں گے ویسے ویسے اثرات کم ہوتے چلے جائیں گے۔
کیا خدا کا بھی کوئی مرکز ہے
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید خدا بھی آفتاب یااور دوسری موجودات کی طرح ایک خاص مرکز رکھتا ہے آسمان کے اوپر مسند لگائے بیٹھا ہوا ہے اور وہیں سے دنیا کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
درآنحالیکہ ایسی کوئی بھی بات نہیںہے اس لئے کہ سمندروں کی گہرائیوں سے لے کر کہکہشانوں کی بلندیوں تک جس ذرّہ پر نظر ڈالئے جس کو بھی نظر اٹھا کر دیکھئے ایک خاص قسم کا نظم وضبط آپ کو نظر آئے گا۔ کوئی بھی ذرّہ ایسا نہیںملے گا جو نظم وضبط کا لباس نہ پہنے ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ایک خاص مرکز ہو کہ اس کے اردگرد جو چیزیں ہوں ان میں تو نظم و ضبط کی نغمہ سرائی ہو اور وہ چیزیں جو اس مرکز سے دور ہیں ان میں بدنظمی کارفرما ہو۔
اگر آپ ساری کائنات کے چپہ چپہ کو تلاش کرڈالیں تب بھی آپ کو کوئی ذرّہ نہیں مل سکتا ہے جس میں نظم وضبط نہ ہو۔
ہر جگہ اور ہر مقام پر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں نظم کا پایا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خالق کائنات خداوندعالم کا کوئی خاص مرکز نہیں بلکہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت ہے۔
اس کے علاوہ خداوند عالم نے خود مکان کو پیدا کیا ہے اور یہ بات محال ہے کہ خالق خود اپنی مخلوق کا محتاج ہو۔
جیسا کہ گذشہ درس میں بیان کیا جاچکا ہے کہ خالق اور موجد میں بے انتہا فرق ہے____ یہ ہوائی جہاز وغیرہ بنانے والے موجد ہیں خالق نہیں ہیں اور ان موجد حضرات کا شاہکار یہ ہے کہ ان لوگوں نے بعض چیزوں کے عمل اور عکس العمل (ایکشن) سے استفادہ کرتے ہوئے خاص ترکیب و ترتیب کے ذریعہ بعض چیزیں ایجاد کی ہیں____ لیکن یہ حضرات ان چیزوں کے خالق نہیں ہیں۔ درآنحالیکہ خداوندعالم کائنات کا خالق ہے وہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا ہے ۔ چیزوں کے عمل اور عکس العمل(ایکشن) سے استفادہ نہیں کیا ہے اور یہی فرق اس بات کا سبب ہے کہ یہ حضرات اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے محتاج ہوسکتے ہیں____ لیکن خدا اپنی مخلوق کا محتاج نہیں ہوسکتا۔
کیا خدا دیکھا جاسکتا ہے
جب یہ بات واضح ہوچکی کہ خداوند عالم کوئی مکان نہیں رکھتا تو یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ خداوندعالم جسم نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کو مکان کی ضرورت ہوتی ہے کوئی ایسا جسم نہیں کہ جو مکان کا محتاج نہ ہو لیکن چونکہ خداوند عالم جسم نہیں ہے اس لئے وہ مکان کا بھی محتاج نہیں ہے وہ دکھائی بھی نہیں دے سکتا۔
خدا کسی کا محتاج نہیں
خدا وند عالم ہی تمام کی تمام ضروریات زندگی کا پیدا کرنےوالا ہے اور ان کا خالق ہے یہ بات ابھی ثابت کرچکے ہیں کہ خالق اپنی مخلوق کا محتاج نہیں ہے چونکہ خدا وندعالم تمام چیزوں کا خالق ہے لہٰذا وہ کسی شئے کا محتاج نہیں ہے۔
خدا اس کامل اور مکمل حقیقت کا نام ہے کہ جو کسی شئے کا محتاج نہیں نہ مکان رکھتا ہے نہ زمان ، نہ جسم، نہ جسمانیات اور تمام چیزیں اس کی محتا ج ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں سوال اٹھے کہ جب خداوند عالم جسم نہیں مکان نہیں، کسی شے کا محتاج نہیں یہ سب کچھ نہیں نہیں تو آخر خدا ہے کیا؟
جواب کے لئے مثال کافی ہے کہ:
بجلی____________جامد نہیں
بجلی____________سیال نہیں ہے( بہنے والا مادہ)
بجلی____________گیس نہیں ہے
آیا یہ نہیںنہیں کیا اس بات کی دلیل بن سکتے ہیں کہ بس بجلی کوئی چیز نہیں ہے____آیا آپ یہ کہیں گے کہ بجلی ان چیزوں کے علاوہ ایک دوسری حقیقت کا نام ہے۔
بس خدا کے بارے میں بھی ہم یہی کہتے ہیں کہ :
خدا____________جسم نہیں ہے
خدا____________مکان نہیں ہے
خدا____________دیکھا نہیں جاتا
یعنی خداوندعالم ان چیزوں کے علاوہ ایک دوسری حقیقت ہے۔ یہ جسم و مکان نقص ہے اور خدا کی ذات کہ جو عین کمال ہے اس میں ان چیزوں کا گذر نہیں ہے یہ تمام باتیں خدا کو تمام دوسری چیزوں سے جدا اور ممتاز کردیتی ہیں۔
درحقیقت یہ وہ خدا ہے کہ جس کا اعتقاد رکھنا چاہیے۔ اسی خدا کوانسانی فطرت قبول کرتی ہے ۔ ہر عاقل اور منصف مزاج اس حقیقت کے سامنے سربسجود ہے ۔
وہ لوگ جو خدا کےلئے جسم ، فرزند اور دوسری بشری صفات کے قائل ہیں۔بالکل انھوں نے خدا کو صحیح معنوں میں پہچانا ہی نہیں اور یہ لوگ اسلامی تعلیمات سے کس قدر دور ہیں۔
چونکہ دنیا کے سامنے خداوند عالم کا صحیح تصور پیش نہیں کیا گیا جس کی بنا پر مادہ پرست وجودِ خدا کے منکر ہوگئے اگر ان کے سامنے صحیح معنوں میں خدا کے عقیدہ کو پیش کیا جائے تو عجب نہیں یہ لوگ حقیقی خدا کے سامنے سربسجود ہوجائیں۔