اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٩

علم ازلی و ابدی و لا محدود

یہ بڑے بڑے قوی ہیکل’’بلڈوزر‘‘ جو سڑک بنانے میں کام آتے ہیں اور دوسرے اہم کاموں میں استعمال کئے جاتے ہیں ایک معمولی سا آدمی بھی اس قوی ہیکل ’’بلڈوزر‘‘ کو دیکھ کر بآسانی یہ پتا لگا سکتا ہے کہ جس انجینئر نے اس بلڈوزر کو بنایا ہے وہ مکینک اور دوسرے ضروری علوم میں کامل مہارت رکھتا تھا۔ بلکہ آپ ہر اس چیز کو دیکھ کر جس میں مہارت فن، ظرافت، پائیداری اور باریکیاں پائی جاتی ہوں یہ پتا لگاسکتے ہیں کہ ان کے بنانے والے کس قدر ان چیزوں کے اصول و قوانین عمل و ردّعمل (ایکشن) سے واقفیت رکھتے تھے اور ان تمام جزئیات سے بھی باقاعدہ آشنا تھے۔

ناقابل قیاس

لیکن اس عظیم کائنات میں کس قدر اسرار ورموز پوشیدہ ہیں، کس قدر استحکام ، کس قدر ظرافت____ اس کو ہم ایک بلڈوزر یا اور دوسری چیزوں سے جنھیں انسانی ہاتھوں نے درست کیا ہے قیاس اورتقابل نہیں کرسکتے۔ جس طرح سے ایک بلڈوزر کی ترکیب وترتیب اس کے بنانے والے کے علم و فن کی عکاسی و ترجمانی کرتی ہے اسی طرح کائنات کے اسرارو رموز خداوند عالم کے لامحدود علم وقدرت کو ہماری عقلوں کے سامنے مجسم کردیتے ہیں۔

نمونےکے طورپر چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

نیوٹن

۱ نیوٹن کا کہنا ہے: آنکھ اور کان کے بارے میں مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت مجسم ہو کر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے کہ جس ذات نے ’’کان‘‘ کو بنایا ہے وہ ان تمام اسرار و رموز اور قوانین سے باقاعدہ واقف تھا جو ’’آواز سے تعلق رکھتے ہیں اور جس ذات نے ’’آنکھ‘‘ بنائی ہے وہ ان تمام اصول و قوانین سے باخبر تھا جو ’’نور‘‘ اور دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اسی طرح سے آسمانوں کی وسعتوں کو دیکھ کر جن میں ایک خاص قسم کا نظم ونسق حکم فرما ہے تو وہ ذات کہ جس نے ان آسمانوں کو وجود بخشا ہے وہ ایک لامتناہی علم ودانش کی مالک ہے۔ (دائرۃ المعارف و جدی جلد۱۰ ، ص۴۴۸)۔

۲ جس وقت تاریکی چھا جاتی ہے چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے جب کہ ہاتھ کو ہاتھ سوجھائی نہیں دیتا لیکن اسی گھٹا ٹوپ اندھیری رات میں ایک چیز ادھر اُدھر بغیر روک ٹوک کے اڑتی پھرتی نظر آتی ہے۔ گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اندھیری رات اس کےلئے روز روشن کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ چمگادڑ ہے کہ جو اپنی مہارت دکھارہی ہے کبھی غور فرمایا کہ آخر کیا وجہ ہے جب کہ سارا جہاں خاموشی اور خواب کے عالم میں پڑا ہوا ہے رات کی تاریکی ہر قدم پر سدّراہ بن جاتی ہے لیکن اس چمگادڑ کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے اس مختصر سی جان میںایک عظیم اور حیرت انگیز مشینری کو ودیعت کردیا ہے اور وہ مشینری ۔ راڈار‘‘ ہے۔

راڈار کا کام یہ ہے کہ وہ فضا میں ایسی لہریں منتشر کرتا ہے کہ جو ساری فضا کو چھالیتی ہیں۔ اگر ہوائی جہاز یا اور کوئی چیز فضا میں گذرتی ہے تو وہ لہروں کو منتشر ہونے سے روک لیتی ہے اور وہ لوگ جو وہاں پر موجود ہوتے ہیں وہ انھیں لہروں کے ذریعہ سے پتا لگالیتے ہیں کہ اس وقت فضا میں کون سی چیز ہے اور کتنے فاصلہ پرہے۔

یہی عظیم اور حیرت انگیز مشینری اس مختصر سی جان میں خداوند عالم نے ودیعت فرمائی ہے کہ جس کے ذریعہ وہ رات کی اس گھٹا ٹوپ تاریکی میں بھی پتا لگالیتی ہے کہ اس کی راہ میں کو ن سی چیز رکاوٹ بن رہی ہے اسی بنا پر اس راستہ کو چھوڑ کر ایک دوسرا راستہ اختیار کرتی ہے۔

۳ کیڑے مکوڑے جو دیکھنے میں بہت ہی معمولی ہوتے ہیں اور ظاہری نظر رکھنے والے خیال کرتے ہیں کہ ان میں کوئی خاص قسم کی باریکی یا کوئی حیرت انگیز بات نہیں پائی جاتی۔

لیکن اگر ان میں غورو فکر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک ’’جان دار‘‘ موجود کی زندگی کی بقا کےلئے جو چیزیں درکار ہیں وہ تمام چیزیں ان میں بطور احسن و اکمل پائی جاتی ہیں۔ جن دانش مندوں نے ان چھوٹے چھوٹے کیڑوں کے بارے میں تحقیقات کی ہیں ان کا کہنا ہے کہ: چوں کہ یہ کیڑے اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ اپنے سروں کو ادھر اُدھر ہلاسکیں اور اپنے آس پاس کی چیزوں کو دیکھ سکیں۔

لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ خداوندعالم نے ان کو اس نعمت سے محروم رکھاہو بلکہ اس ضرورت کو پوری کرنے کےلئے ان کو اس قسم کی آنکھیں عنایت کی ہیں کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے آس پاس اور ادھر اُدھر کی چیزوں کو باقاعدہ دیکھ سکتے ہیں۔ واقعاً کسی قدر حیرت انگیز بات ہے کہ خود کیڑے کی جان کتنی مختصر اور اس میں آنکھ کا وجود کتنا مختصر ان تمام چیزوں کے باوجود بھی قادر مطلق اور عالم مطلق نے کتنی باریکیاں اور حیرت انگیزیاں ہیں جو اس میں بھردی ہیں۔

ان چند مثالوں پر غور وفکر کرنے کے بعد یہ بات بالکل واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ ان چیزوں کا پیدا کرنے والا، زیورِ وجود سے آراستہ کرنے والا لامتناہی علم و دانش کا مالک ہے اب جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ خداوندعالم نے ان چیزوں کو جو پیدا کیا ہے ان کی خلقت کے بعد آیا ان کا علم بھی رکھتا ہے؟

ہاں! یقیناً:

خدا کائنات کی ہر شئے کی خواہ وہ کسی جگہ کیوں نہ ہو، خبررکھتا ہے ۔ آسمان کی پیشانی پر ایک چھوٹے سے دور ترین ستارے کی چمک سے بھی سمندروں کے دور ترین ساحلوں پر مضطرب موجوں کے تلاطم سے، پہاڑ کے دامنوں میں انتہائی گہرے، حیرت انگیز خوف ناک درّوں سے ، عندلیب سحر کی خوش الحانیوں سے ، درندوں کی چنگھاڑسے، درختوں اور پتّوں کی جھرمٹ میں جگنوؤں کی چمک دمک سے ، سمندروں کی گہرائیوں میں انواع واقسام کی مچھلیوں کی تعداد سے____ ہاں۔ بلند پہاڑو ں ، جھکے ہوئے آسمانوں، وسیع دریاؤں، لق ودق صحراؤں، ہیرے جواہرات سے بھری کانوں سے بھی____ خلاصہ چھوٹے سے چھوٹے ذرّہ سے لے کر بڑی سے بڑی چیز سب کا علم پروردگار عالم کو ہے۔ قرآن میں ارشاد ہورہا ہے: ’’جو کچھ صحراؤں کے سینوں اور سمندر کی گہرائیوں میں ہے خدا اس سے آگاہ ہے ہرپتا جو زمین پر گرتا ہے ہر دانہ جو زمین کی تاریکیوں میں اگتا ہے بلکہ ہر خشک و تر اس کے سامنے روشن و واضح ہے۔‘‘

(سورۂ انعام۔۵۹)

خداکیوں عالم ہے؟

اس لئے کہ____ کسی شے کا پیدا کرنے والا اپنی مخلوق سے آگاہ ہوا کرتا ہے اور ہمیشہ وہ اس کا خیال رکھتا ہے اگر آپ کو ساتویں سبق کی مثال یاد ہو تو بات بالکل صاف ہے وہ صورت ذہنی جس کے آپ خالق ہیں اور وہ آپ کی مخلوق____ آپ اس ذہنی تصویر سے باقاعدہ واقف ہیں اور ہر وقت اس کی طرف متوجہ ہیں اور اگر ذرا سی آپ کی توجہ ادھر اُدھر ہوجائے تو آپ کی یہ تصویر نابود ہوجائے گی۔

جیسا کہ ساتویں درس میں گذرچکا۔ اگر آپ اپنے صفحۂ ذہن پر ایک آدمی کی تصویر کھینچیں اور وہ آدمی چل پھر رہا ہو، آپ اس کی حرکات و سکنات سے پوری طرح واقف ہیں اور اس کاکوئی کام آپ کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔اس کی وجہ صاف ظاہر ہے وہ آپ کی خلق کردہ شے ہے اس کا وجود آپ کے تصور کا اور اس کی بقا آپ کی توجہات کی مرہون منت ہے اگر آپ اس کا تصور نہ کرتے تو اس کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔خداوندعالم نے تمام کائنات کو پیدا کیا ہے تمام کائنات کو زیورِ وجود سے آراستہ کیا ہے تمام کائنات کی بقا اس کے فیض کی مرہون منت ہے اور اس کی توجہات کا نتیجہ ہے اسی بنا پر خداوندعالم کائنات کی تمام حرکات وسکنات سے واقف ہے کائنات کی ایک مختصر و ناقابل احساس حرکت کا بھی علم رکھتا ہے۔

ہاں____ہم نے جو اپنی ذہنی صورت کو وجود بخشا ہے اور خداوند عالم نے جو کائنات کو پیدا کیا ہے ، ان دونوں میں ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ یہ کہ ہم اپنی بقا اور اپنے وجود میں خداوندعالم کے محتاج ہیں۔ لیکن خدا ساری کائنات سے بے نیاز ہے اور تمام موجودات کا وہی خالق ہے۔ اسی بنا پر خالق حقیقی صرف خداوندعالم کی ذات ہے۔

خالق اور صانع میں فرق

جس شخص نے کمپیوٹر کو بنایا ہے وہ درحقیقت اس کا خالق نہیں ہے بلکہ اس نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ چیزیں اور وہ مواد جو خام صورتوں میں پہلے سے موجود تھے ان کو اپنی علمی مہارت اور فنکاری کی بنا پر ایک خاص شکل وصورت دے دی ہے لیکن یہ مشین آئندہ کن کن چیزوں کا حساب کرے گی اس بات سے اس کا بنانے والا غافل ہے اور بالکل یہی صورت حال ان تمام لوگوں کی ہے جنھوں نے اور دوسری چیزیں بنائی ہیں۔ لہٰذا ان تمام لوگوں کو اپنی بنائی ہوئی چیز کے بارے میں یہ خبر نہیں ہے کہ آئندہ اس کا کیا حشر ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام لوگ اپنی بنائی چیزوں کو بالکل عدم سے وجود میں نہیں لاتے ہیں بلکہ ان لوگوں نے موجودہ مواد کو ایک خاص شکل وصورت عنایت کی ہے مثلاً ہوائی جہاز جن چیزوں سے بنا ہے وہ تمام چیزیں پہلے کانوں میں موجود تھیں ان لوگوں نے ان چیزوں کو پگھلا کر ایک خاص سانچہ میں ڈھال کر ہوائی جہاز کی شکل وصورت دے دی۔ اس بنا پر یہ تمام لوگ اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے خالق نہیں ہیں جس کی بنا پر یہ لوگ اپنی بنائی چیز کے مستقبل سے بے خبر ہیں اور اس بات کی خبر نہیں رکھتے کہ یہ چیز جو ہم نے بنائی ہے اس کا کیا حشر ہوگا۔ انھیں باتوں کی بنا پر ہم ان لوگوں کو صانع کہتے ہیں اور خالق حقیقی تو صرف خداوند عالم کی ذات ہے ہاں ان لوگوں کو مجازی طورپر خالق کہا جاسکتاہے لیکن خداوندعالم نے جن چیزوں کو پیدا کیا وہ ان کو بالکل عدم سے وجود میں لایا ہے اور اس نے جس چیز کو پیدا کیاہے تو ان تمام چیزوں کو بھی پیدا کیا ہے جو اس چیز کے وجود کےلئے ضروری تھیں۔ اسی بنا پر خداوند عالم اپنی مخلوقات کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت سے بھی واقف ہے جیسا کہ خود قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: ’’آیا خالق اپنی مخلوق کے رازوں سے باخبر نہیں ہے‘‘ (سورۂ ملک آیت۔۱۴)

اب ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ہم اور ساری کی ساری کائنات خداوندعالم کی نگاہ قدرت و عظمت سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سفر ہو یا حضر۔کائنات کا کوئی بھی گوشہ ہو دریا کی گہرائیاں ہوں یا آسمان کی وسعتیں صحرا ہو یا گلستاں ، جہاں بھی ہوں وہ ہم سے دور نہیں ہے اگر ہم بند قلعہ میں بھی اچھا یا بُرا کام انجام دیں خدا اس سے آگاہ ہے اور وہ شخص جو ایسے عالم و قادر خدا پر ایمان رکھتا ہو کبھی گناہ یا برا کام نہیں کرسکتا۔