وسیع اور پُر اسرار کائنات
اگر ا ن اسرارورمو ز سے بھری ہوئی کائنات کی کسی بھی چیز پر غور سے نظر ڈالی جائے اورفکر کی جائے تو جس ذات نے اس کو وجود بخشا ہے اس کی قدرت وعظمت مجسم ہو کر عقل کے سامنے آجاتی ہے۔
اب ذرا ان مثالوں پر غور کیجئے:
محکمۂ دفاع
ملک کی فلاح وبہبود کے لئے جہاں یہ ضرورت ہے کہ داخلی حالات درست ہوں اور امن و امان قائم ہو وہاں بے گانہ حملوں سے محفوظ رہنے کے لئے ایک ’’محکمۂ دفاع‘‘ کی بھی ضرورت ہے تاکہ ملک دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رہ سکے اور ترقی کی راہ میں قدم بڑھا سکے۔
انسانی جسم کی حیثیت بھی ایک ملک کی حیثیت ہے جہاں جسم کی صحت و تندرستی کے لئے داخلی نظام کا درست ہونا ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ خارج سے کوئی حملہ آور نہ ہوسکے۔ باقاعدہ دفاع اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب دشمن کے حملے کے مطابق اس کا جواب دیا جائے۔
اب ذرا غور فرمائیے کہ خداوند عالم نے اس انسانی جسم میں کس اعتبار سے ’’محکمۂ دفاع‘‘ کو ودیعت فرمایا ہے۔
دانش مندوں نے مدتوں غوروفکر کے بعد یہ بات کشف کی ہے کہ بدن کا دفاعی عملہ متعدد قسم کے ’’غدود‘‘ ہڈی کے گودے اور دوسرے مختلف (Cells) وغیرہ پر مشتمل ہے۔ گرچہ یہ تمام چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن اس اختلاف کے باوجود بھی اگر کوئی بے گانہ بدن پر حملہ آور ہوتا ہے تو سب مل کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس میں کوئی کسر بھی نہیں اٹھا رکھتے ہیں ان کی تمام تر کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ زہریلا مادہ جو بدن میں داخل ہوا ہے کسی اعتبار سے نابود کردیا جائے اور اس بات کا موقع نہ دیا جائے کہ بقیہ بد ن میں سرایت کرسکے اور خرابیاں وجود میں لاسکے۔
جس وقت کوئی بے گانہ جسم کی مملکت میں داخل ہوتا ہے تو سب کے سب اس نقطہ پر جمع ہوجاتے ہیں کہ جہاں سے وہ داخل ہوا ہے اور فوراً اس بے گانے جراثیم کے سامنے ایک مستحکم دیوار کی طرح کھڑے ہوجاتے ہیں اور مختلف راستوں سے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ زہریلا مادہ بقیہ جسم میں سرایت نہ کرنے پائے۔
تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر جراثیم کے مقابلے میں ایک جیسا عمل انجام دیتے ہوں بلکہ جیسے جراثیم ہوتے ہیں ویسا عمل انجام دیتے ہیں۔
مثلاً بعض تو جراثیم کے جسموں کو نیست و نابود کرتے ہیں بعض زہر کو سارے جسم میں سرایت ہونے سے مانع ہوتے ہیں ۔خواہ وہ زہر کسی قسم کاہو۔بعض کا کام یہ ہے کہ وہ جراثیم کو اَدھ مرا کردیتے ہیں بعض کا کام زہریلے مادہ کو تہ نشین کرنا ہوتا ہے اور بعض کی ذمہ داری یہ ہے کہ جس وقت باہر سے خون جسم میں داخل کیا جاتا ہے تو وہ چیزیں جو اس جسم کے خون کے مطابق نہیں ہیں ان کو جسم کے خون کے موافق بنانا ہوتا ہے۔
سب سے زیادہ تعجب خیز اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ جسم انسانی کا ’’محکمہ‘ دفاع‘‘ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ضرورت کے وقت دفاع کے لئے کچھ ایسے موادپیدا کرے جنھیں آج تک علمی دنیا کشف نہیں کرسکی ہے۔
کائنات کی وسعتیں
’’پالومار‘‘ نامی پہاڑ پر رصد خانۂ ’’لسئون‘‘ قائم کیا گیا ہے اس کے سربراہ کا بیان ہے:
جب تک اس رصد خانہ کی دوربین ایجاد نہیں ہوئی تھی اس وقت تک دنیا کی وسعت جو ہم لوگوں کو معلوم تھی پانچ سو نوری سال (نوری سال سے مراد وہ مسافت ہے جسے نور ایک سال میں طے کرتا ہے اور نور کی رفتار فی سیکنڈ تین لاکھ کیلومیٹر ہے۔) سے زیادہ نہیں تھی لیکن جب اس رصد خانہ کی دوربین وجود میں آئی تو اس وقت دنیا کی وسعت ایک ارب(۱۰۰۰۰۰۰۰۰۰) نوری سال تک پہونچ گئی جس کے نتیجہ میں لاکھوں نئی کہکشائیں کشف ہوئی ہیں اور بعض کہکشائیں تو ہم سے اتنی دور ہیں کہ ان تک پہونچنے کےلئے ایک ارب نوری سال کی مسافت درکار ہے۔ اور اس عظیم مسافت کے بعد جو چیز ہمارے سامنے آتی ہے وہ ایک خوف ناک اور تاریک فضا ہے جس میں کوئی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی۔ وہاں پر روشنی کا گذر تک نہیں ہے جس کی بنا پر یہ دوربین کسی چیز سے متاثر نہیں ہوپاتی۔ جس کے نتیجہ میں کوئی بھی تصویر ابھر کرسامنے نہیں آپاتی۔ لیکن اس گھٹا ٹوپ تاریکی کے باوجود بھی یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس تاریک فضا میں لاکھوں، کروڑوں کہکشائیں موجود ہیں اور یہ انھیں کہکشاؤں کی قوت جاذبہ ہے جس کی بنا پر ہماری دنیا قائم اور باقی ہے۔
’’یہ دنیا جس میں ہم اور آپ زندگی بسر کررہے ہیں اپنی تمام وسعتوں اور تمام کہکشاؤں کے باوجود اس عظیم کائنات کے مقابلہ میں ایک معمولی سے ذرّے کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس عظیم دنیا کے علاوہ اور دنیا ہےیا نہیں۔‘‘
اس بیان کی روشنی میں اب اگر ذرا مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کے کلمات کی طرف توجہ فرمائیے تو حقیقت کس طرح مجسم ہو کرسامنے آجاتی ہے:
’’ پروردگارا!
ہماری قدرت سے باہر ہے کہ تیری عظمت اور قدرت کی تہ تک پہنچ سکیں۔ ہاں اتنا جانتے ہیں کہ تو حیّ و قیوم ہے۔ نہ تجھے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ____ نہ نگاہیں تجھ تک پہونچ سکتی ہیں اور نہ بصارتیں تجھے پاسکتی ہیں____ فکر کی تجھ تک رسائی نہیں____ لیکن تو لوگوں کی نگاہوں سے واقف____ ان کی تمام عمریں تیرے علم میں____ اور تو ہر چیز پر قادر ہے____
باوجود اس کے کہ تیری پیدا کردہ چیزوں میں سے کسی ایک کو بھی صحیح معنوں میں نہیں سمجھ سکے ہیں۔ پھر بھی تیری قدرت و طاقت نے ہماری آنکھیں خیرہ کردی ہیں اور تیری عظمت کو ہمارے سامنے مجسم کردیا ہے۔ جب صورت حال یہ ہے کہ جو کچھ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے یا ہماری آنکھیں اس کے دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں ،غیب کے پردے ہمارے اور ان کے درمیان پڑے ہوئے ہیں وہ ان نظر آنے والی چیزوں سے کہیں زیادہ عظیم ہیں____‘‘ (نہج البلاغہ خطبہ۔۱۵۹)
یقیناً خداوندعالم نے ان تمام چیزوں کو اپنی قدرت کا ملہ سے پیدا کیا ہے اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے کہ جو اس قدرت کی حدوں سے باہر ہو۔ یہ دنیا اسی خدا کے ارادے سے باقی ہے اور جب تک وہ چاہے گا باقی رہے گی۔ جھلمل جھلمل کرتے ہوئےستارے ، یہ دمکتا ہوا ماہتاب، یہ چمکتا ہوا آفتاب سب کے سب اس کی قدرت کے گیت گارہے ہیں۔ یہ دنیا کا عجیب وغریب نظام اس کی قدرت کاملہ کا قصیدہ پڑھ رہا ہے خداوندعالم اس بات پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے اس عظیم کائنات کو جس کا ہر ذرّہ غور و فکر کے قابل ہے درہم برہم کردے اور اس کی جگہ ایک نئی دنیا وجود میں لائے۔ ہرگز ایسا نہیں ہے کہ دنیا کو پیدا کرنے کے بعد اس کے اختیار میں کچھ نہ ہو بلکہ حرکت و سکون اضطراب اور امن سب اسی کے کرم کا نتیجہ ہے بغیر اس کے ارادے کے نہ توکئی چیز وجود میں آسکتی ہے اور نہ باقی ہی رہ سکتی ہے اس کائنات کا وجود اور اس کی بقاسب اس کے ارادے کا نتیجہ ہے۔
اسی بنا پراس جہان پر عظمت کا پیدا کرنے والا، باقی رکھنے والا، نظم ونسق کی حفاظت کرنے والا صرف خداوند عالم ہے۔
نظام بالائے نظام
خداوندعالم نے اس دنیا میں گرچہ ایک خاص قسم کا نظام معین کیا ہے جس کی بنیاد پر آئندہ ہونے والے واقعات کی خبردی جاسکتی ہے اور مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کی جاسکتی ہے لیکن بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں کہ جس وقت خداوندعالم اپنی قدرت کا خاص ایک جلوہ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے جس میں ایک عجیب قسم کا نظام حکم فرما ہوتا ہے اور یہ نظام موجودہ اور عام نظام پر فوقیت رکھتا ہے۔
اس عجیب نظام کی مثالیں دامنِ تاریخ میں تو بے شمار بلکہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں بھی کم وبیش آتی رہتی ہیں۔ یہی وہ مواقع ہیں جب یہ بات روشن ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ دنیا کی بقا خداوندعالم کے ارادے کی مرہون منت ہے۔ ہم سب کے سامنے ایسی کتنی مثالیں موجود ہیں۔ خداوندعالم نے کس طرح صاحبان قدرت وطاقت ، جاہ وجلال سے سب کچھ چھین لیا اور ان کو کوڑی کا محتاج کردیا اور کس طرح مظلوموں اور فقیروں کو صاحب اقتدار و شوکت بنادیا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اشخاص جو خداوندعالم پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنی زندگی میں کسی وقت بھی اور کسی لمحہ بھی مایوس نہیں ہوتے۔ بلکہ جس وقت مایوسی کی تاریکی ہر طرف چھاجاتی ہے اس وقت بھی امید کی شمع ان کے دل میں روشن رہتی ہے اور اس شخص کو اتنا یقین و اطمینان ہوتا ہے کہ اس بھیانک اور ڈس لینے والی تاریکی میں بھی خدا اس کو نجات دلاسکتا ہے اور امید کی صبح سے ہم کنار کراسکتا ہے۔
جناب موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ کوہم سب نے متعدد بارسنا اور پڑھا ہوگا۔ ظلم ڈھانے میں فرعون اپنی آپ مثال تھا۔ یہ فرعون تھا جو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو صرف اس لئے قتل کروادیتاتھا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام وجود میں نہ آسکیں۔ کیوں کہ اس نے سن رکھا تھا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اس کا تخت و تاج خاک میں ملے گا۔ فرعون اپنے تئیں یہ خیال کئے ہوئے تھا میں اپنی اس تدبیر اور ان مظالم کی بنا پر اس بات پر قدرت پیدا کرلوں گا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام وجود میں نہ آئیں۔
لیکن اس کی تمام کوششیں نقش برآب ثابت ہوئیں اور ساری تدبیری رائیگاں اور خود فرعون ہی کی آغوش میں جناب موسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی۔
جناب موسیٰ علیہ السلام کی مادرگرامی کو خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ موسیٰ ؑکو ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کی موجوں کے حوالے کردیں۔ موجوں نے صندوق کو اپنی آغوش میں لیا اور لوریاں دیتی ہوئی فرعون کے قصر کی طرف لے گئیں۔ صندوق کا قصر سے نزدیک ہونا تھا کہ زوجۂ فرعون کی نظر صندوق پرپڑی صندوق کو دریا سے اٹھایا، دیکھا کہ ایک خوبصورت بچہ اس میں کھیل رہا ہے۔ یہ دیکھ کر زوجۂ فرعون نے فرعون سے کہا: کتنا اچھا ہوکہ ہم اس بچہ کو اپنی اولاد قراردیں۔ زوجۂ فرعون کی یہ تمنا پوری ہوئی اور فرعون اس بات پر راضی ہوگیا۔
وہی بچہ جس کے لئے لاکھوں کروڑوں بچے قتل کرڈالے گئے فرعون نے پوری طاقت صرف کردی جو کچھ اس کے امکان میں تھا اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن پھر بھی عاجز و ناتواں رہا۔ جناب موسیٰ علیہ السلام وجود میں آکے رہے اور خود اسی کے ہاتھوں جناب موسیٰ ؑ پر وان چڑھے اسی کے گھر میں پلے بڑھے اور جس تخت و تاج کی حفاظت کے لئے فرعون دن رات کو شاں رہتا تھا ، آخر کار جناب موسیٰ ؑ نے اس کے غرورِ شاہی کو خاک میں ملادیا ۔ تخت وتاج کو مسمار کردیا۔ یہ خدا کی لامحدود قدرت کا ایک کرشمہ تھا۔
جناب یوسفؑ اور ان کے بھائیوں کا قصہ بھی ہم سب نے سنا اور پڑھا ہوگا۔ جناب یوسفؑ کے بھائیوں نے جان توڑ کر کوشش کرڈالی کہ جناب یوسفؑ کو قتل کرڈالیں اور اسی بنا پر ا نھوں نے جناب یوسفؑ کو کوئیں میں ڈال دیا۔ ظاہری اسباب و نظام کی بنا پر جناب یوسفؑ کا ڈوب کرمرجانا ضروری تھا لیکن خدا وندعالم نے جناب یوسفؑ کو بچا کر ظاہر کردیا کہ ان ظاہری اسباب کے علاوہ بھی اسباب ہیں جو تمھارے اختیار سے باہر ہیں لیکن ہمارے اختیار میں ہیں۔ تمھارا خیال تھا کہ تم یوسف ؑ کو پانی میں ڈبودوگے لیکن ہم اسے عزیز مصر بنائیں گے۔
کفار مکہ نے آپس میں مل کر یہ معاہدہ کیا کہ پیامبر اسلامؐ کو قتل کرڈالا جائے اور مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں پہونچائی جائیں۔ انھیں سب باتوں کی بنا پر تین سال تک پیامبر اسلامؐ کو ’’شعب ابی طالب ‘‘ میں محصور رکھا اور بالکل قطع تعلق کرلیا اور کسی بھی قسم کی مدد کرنا جائز نہ تھا۔ کفار کی خواہش تھی کہ ان لوگوں کو اتنی ایذادو کہ بھوک و پیاس کی شدت سے یہ لوگ دنیا سے رخصت ہوجائیں اور اسلام کی آواز یہیں پر دفن ہو کر رہ جائے۔
آخر میں تو تمام قبیلے والوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہم سب مل کر پیامبر اسلامؐ کو قتل کرڈالیں اور اس بات کے لئے جتنا بھی انتظام کرسکتے تھے کر ڈالا ذرا بھی کسر اٹھا نہ رکھی ظاہری اسباب کی بنا پر پیامبر اسلام ﷺ کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی لیکن خدا کے ارادے نے ان کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی امیدوں پر مایوسی کی اوس چھڑک دی۔ اور خود اپنے پیامبرؐ کی کس طرح حفاظت فرمائی جس کے نتیجہ میں دین مقدس اسلام دن دونی رات چوگنی ترقی کرتاگیا او رکفر وشرک کی تاریکی کافور ہوتی گئی۔
اگر ان چند مثالوں پر غور کیا جائے اور تھوڑی بہت فکر کی جائے تو یہ بات صاف اور واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا کا سارا نظام خداوندعالم کے ارادے کا پابند ہے اور وہ جب چاہے ایک اور نظام جو اس موجودہ نظام کے علاوہ ہے اس پر حاکم ہو جاری کرسکتا ہے۔
اب اس مقام پر عقل چراغِ ہدایت لے کر آگے بڑھتی ہے اورانسان کو متوجہ کرتے ہوئے یوں خطاب کرتی ہے کہ:
وہ خدا جو اتنی قدرت وطاقت والا ہواور اتنا مہربان ہوتو حق یہ ہے کہ ہم اس کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کردیں اس کی جناب میں جبھ سائی کریں(اس کے حضور سرتسلیم خم کریں) صرف اسی کی عبادت کریں اس نے جن باتوں کو حکم دیا اس کی تعمیل میں ہمیشہ کوشاں رہیں اور ہمیشہ اس کی مخالفت سے پرہیز کریں گناہ کرنا تو درکنار فکرِگناہ بھی نہ کریں۔
یہ خدا ہی کا کرم ہے جس نے ہم کو مختلف منزلوں اور متعددراستوں سے گذار کر عقل وشعور کی اس منزل تک پہونچایا ہے ۔ ہمارے پاس جوکچھ بھی عقل و شعور و احساس کی دولت ہے یہ اس کی بدولت ہے اب اس صورت میں کیا درست ہے کہ ہم اس خدا کو بھول جائیں اس کی مخالفت و گناہ میں سرگرم رہیں۔
بے شک جو شخص ایسے قادر مطلق اور مہربان خدا پرکامل ایمان رکھتا ہے وہ بڑی سے بڑی مشکلوں میں بھی پریشان نہیں ہوتا بلکہ ہشاش بشاش اور چہرے سے سکون و اطمینان کے آثار نظر آتے ہیں۔
بڑی سے بڑی مصیبتیں جس میں عام لوگ ہوش وحواس کھوبیٹھتے ہیں ایسی عظیم مشکلیں جس میں بظاہر کوئی مشکل حل ہوتی نظر نہیں آتی ہے لیکن جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے اس کی نظر میں یہ ساری کی ساری مصیبتیں اور مشکلیں قابلِ حل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے سخت اور بھیانک مواقع پر بھی یہ شخص ایک عز م راسخ اور مصمم ارادے کے ساتھ مشکل کو حل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اپنے اسی مصمم ارادے سے مایوسیوں کے پہاڑ کے پرخچے اڑادیتا ہے کیوں کہ اس کو اس بات کا یقین ہے کہ میری پشت پناہ وہ ذات ہے جس کی قدرت و طاقت کی کوئی حدوانتہا نہیں اس کا ایک ہلکا سا اشارہ ان تمام مشکلات کو پانی کردے گا۔
ذراآپ عرب کے اس ماحول کو تصور کریں جس وقت رسول خداؐ کی آواز پر لبیک کہنے والا چند اشخاص کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا بلکہ پورا عرب مل کر آنحضرتؐ کی مخالفت پر تلا ہوا تھا ہر طرف مخالفت کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ چاروں طرف سے عداوت کے پتھر برسائے جارہے تھے آنحضرتؐ کو قتل کرنے کی مسلسل کوششیں جاری تھیں۔ اگر کوئی بھی آنحضرتؐ کی آواز پر لبیک کہتا تو وہ مصائب کا شکار ہوجاتا۔ مگر اسی ظلم وجور سے بھرے ہوئے ماحول میں بلالؓ نے آنحضرتؐ کی آواز پر لبیک کہی۔ لبیک کہنا تھا کہ مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ یہاں تک کہ ریگستان کی اس چلچلاتی دھوپ میں جہاں پردانا گرتا تو بھن جاتا۔ بلالؓ کو اس تپتی ہوئی زمین پر لٹا کر ایک دہکتا ہوا پتھر سینہ پر رکھ کر اور تازیانے لگانا شروع کردئے لیکن بلالؓ کی زبان پر احداً احداً کے سوا کچھ نہ تھا۔ آخر کار ظالم تھک گئے اور بلال ؓ نے عملاً بتادیا کہ جو کوئی خدا پر ایمان رکھتا ہے وہ ان مصائب سے ہرگز نہیں گھبراتا اور آخر کار کامیابی اسی کے قدموں کا بوسہ لیتی ہے۔
بے شک جس شخص کے دل میں ایمانِ خداوندی کی شمع روشن ہویا دِخدا سے دل لبریز ہو وہ کبھی اپنے کو تنہا محسوس نہیں کرتا اور کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا۔
یقیناً یہ شخص ہمیشہ اپنے کو سعادت مند بنانے اور شریفانہ زندگی بسر کرنے کے لئے سعی وکوشش میں لگارہتا ہے اور کبھی بھی ذلت و خواری اس کی زندگی میں راہ نہیں پاتی یہی شخص ہمیشہ با عزت و باسکون زندگی بسرکرتا ہے اور مشکلات کے مقابلہ میں سینہ سپر رہتا ہے۔