اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ١١

عبادت صرف خدا کی

انسان نے جب سے روئے زمین پر قدم رکھا ہے اس وقت سے اب تک مسلسل موجودات عالم کے بارے میںغوروفکر میں مشغول و مصروف ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ کائنات کے خالق کی تلاش اس کی فطرت میں شامل ہے اور اسی فطری تقاضے کی بنا پر وہ مسلسل سعی و کوشش میں لگا ہوا ہے۔

جب انسان تمدن اور سماجی ماحول سے کافی دور تھا جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسرکررہاتھا جب اس کی نظر اپنے گردوپیش کے ماحول پر پڑی، آسمان و زمین ، دن رات، آفتاب وماہتاب ، ستاروں کے جھرمٹ اور دامنِ شب میں ان کی آنکھ مچولیاں نسیمِ سحر کے فکر آفریں جھونکے، زمین کو بالیدگی عطا کرنے کے لئے بارش کی رم جھم لہلہاتے کھیت مہکتے چمن گلستانوں میں طائران خوش الحان کی نغمہ سرائیاں، غرض جس پر بھی نظر پڑی، جہاں نگاہ ٹھہری ہر ایک میں ایک خاص قسم کا نظم وضبط پایا اور جب اس انسان کی نظر اپنے وجود پر پڑی ، اپنے جسم کے ہر عضو کے درمیان ایک خاص قسم کا نظام پایا جو اس کی زندگی کی بقا کے لئے سرگرم عمل ہے اور ایک خاص مقصد کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو انجام دے رہا ہے۔

ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد ذہن انسانی میں یہ نتائج برآمد ہوئے ہیں:

۱۔  ان کا کوئی پیدا کرنے والا ضرور ہے۔ کیونکہ یہ حیرت انگیز نظم و ضبط کسی اتفاقی حادثہ کا نتیجہ نہیں ہے۔

۲ ۔اس وسیع کائنات کا ایک مقصد ہے جس کے تحت اس کی خلقت ہوئی ہے اور چوں کہ انسان بھی اس عظیم کائنات کا ایک جز ہے لہٰذا اس کی زندگی کا بھی ایک مقصد اور ہدف ہے۔

۳۔  اس وسیع کائنات کا پیدا کرنے والا بے پناہ قدرت وعظمت کامالک ہے اس کی عظمتوں کے سامنے سربسجود ہونا چاہیے اور اس کی عبادت کرنا ضروری او رلازمی ہے۔

۴۔ اس کائنات کا خالق اس کائنات کی تمام چیزوں سے باخبر ہے اور ہر ایک کا علم رکھتا ہے انسان کے تمام حرکات وسکنات اور سارے اعمال و افعال پر اس کی نگاہ ہے۔

لہٰذا اب اس کی عبادت اور پرستش کے لئے کسی کو واسطہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان براہ راست خالقِ کائنات کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوسکتا ہے، فرشتوں ستاروں، بتوں یا دوسری مخلوقات کو واسطہ بنا کر عبادت کرنے کا کوئی معقول مفہوم نہیں ہے بلکہ ’’شرک‘‘ ہے۔

توحید سے انحراف کے اسباب

اب تک جو کچھ بیان کیا گیا یہ انسانی پاکیزہ سرشت(طینت) اور غیر آلودہ فطرت کی ترجمانی ہے ۔ یہ اس وقت کا تذکرہ ہے جب انسانی فطرت ماحول اور سماج کی غلط تعلیمات اور بے ہودہ رسم ورواج سے ملوث نہ ہوئی ہو۔ خاندان اور معاشرے کی غلط تربیت اس پر اثرانداز نہ ہوئی ہو یہ جو ہم کہتے ہیں کہ انسان فطرتاً خداپرست ہے یہ اس وقت ہے جب انسانی ذہن رسم ورواج سے آلودہ نہ ہوا ہو۔ اب انسان شاہراہِ توحید سے کیوں کر منحرف ہوا۔ خدا کو چھوڑ کر بت کے سامنے کیوں سرِتسلیم خم کرنے لگا۔ اس کے مختلف اسباب ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱ ۔ بعض بت پرست یہ کہتے تھے کہ :____’’ چوں کہ ہماری عقلیں خدا تک پہنچنے سے قاصر ہیں اور اس کی کوئی سمت او رجہت بھی نہیں ہے تاکہ اس طرف رخ کرکے اس کی عبادت کریں۔ لہٰذا ہم مجبور ہیں کہ ہم کچھ ایسے اشخاص اور ایسی چیزوں کی عبادت کریں جو اس کے نزدیک محترم اور مقرب بارگاہ ہوں تاکہ یہ ہم سے خوش ہو کرہمارے اور خدا کے درمیان واسطہ بن جائیں اور ہمیں خدا سے قریب کردیں۔‘‘

یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں گرچہ خدا کی کوئی سمت اور جہت نہیں ہے، لیکن وہ ہر شئے پر حاوی ہے اور ہر جگہ ہے ۔ کوئی بھی جگہ اس سے خالی نہیں ہے۔ لہٰذا جس طرف بھی رخ کیا جائے خداموجود ہے اور بغیر کسی واسطے کے اس سے رازونیازکرکے اس کی عبادت بجالاسکتے ہیں۔

فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللہ‘‘ (سورہ ٔ بقرہ۔ آیت ۱۱۵)

جس طرف بھی رخ کرو خدا اس طرف ہے۔

۲ ۔کبھی یہ ہوتا تھا کہ کسی قبیلہ کا سردار جس کی لوگ بے حد عزت و احترام کرتے تھے اس کی عظمت و بزرگی کے قائل تھے۔ جب اس سردار کا انتقال ہوجاتا تو اس کی یاد میں اس کا مجسمہ بناتے اور اس کا احترام کرتے۔ خدا کی عبادت کرتے وقت اس کی طرف بھی توجہ کرتے مگر عبادت، خدا ہی کی کرتے لیکن رفتہ رفتہ ان کی توجہات خدا سے ہٹ کر اس مجسمہ پر مرکوز ہوگئیں اور دھیرے دھیرے اس مجسمہ نے بت کی صورت اختیار کرلی اور اب عبادت صرف اسی بت کی ہونے لگی۔ آنے والی نسلیں اسی بت کی عبادت کو اصل عبادت سمجھ بیٹھیں۔ تاریخ کے دامن میں یہ بات موجود ہے کہ قابیل کی اولاد نے اپنے بزرگ خاندان’’ وُد‘‘ کی یاد میں ایک مجسمہ تیارکیا اور اس کا احترام رفتہ رفتہ عبادت اور پرستش کی صورت اختیار کرگیا اور لوگ اسی کے سامنے سربسجود ہونے لگے اور اس کی عبادت کرنے لگے۔ (بحارالانوار جلد۳، ص۲۵۰ طبع جدید)

۳۔ انسان بعض موجودات کا احترام اس بنا پر کرتا تھا کہ وہ اس کے لئے فائدہ بخش اور مفید ہیں اور ان چیزوں کو مظہر خداوندی تصور کرتا تھا اور یہی احترام آہستہ آہستہ عبادت میں تبدیل ہوگیا اور اسی نظریے کے تحت قدیم ایران میں آفتاب اور آگ کی پوچا عام تھی اور ہندوستان کی آریائی قوم بھی اس نظریے کی حامی تھی بعد میں آنے والی نسلیں یہ سمجھ نہ سکیں کہ ہمارے بزرگ ان چیزوں کے احترام کے قائل تھے یا ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔

اس قسم کی تمام باتیں مل کر دنیا میں شرک اور بت پرستی کا سرچشمہ قرارپائیں۔ انسان توحید کی شاہراہ سے ہٹ کر شرک کی پُرپیچ وادیوں میں بھٹکنے لگا۔ اس نے اپنے عقائد کے سلسلے میں کبھی غوروفکر کرنے کی زحمت گوارانہ کی اور اپنے آباء واجداد کے غلط نظریے کو ہی حرفِ آخر خیال کربیٹھا۔

ادیان الٰہی اور شرک

ادیان الٰہی کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ انسان کو شرک کی پُر پیچ وادیوں سے نکال کر شاہراہ توحید پر گامزن کریں۔ قرآن کریم انبیاء کی جانفشانیوں کا تذکرہ کرتا ہے کس طرح سے انھوں نے اس راہ میں تبلیغ کی اور کس انداز سے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے۔ انھوں نے وہاں کےلوگوں سے دریافت کیا کہ:

____’’یہ مجسمے کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو؟

____ہم تو اسی راستے پر چل رہے ہیں جن پر ہمارے آباء واجداد چلاکرتے تھے۔

____تم بھی گمراہ ہو اور تمھارے آباء واجداد بھی کھلی ہوئی گمراہی کا شکار تھے۔‘‘

اب جناب ابراہیم علیہ السلام نےانداز تبلیغ بدل دیا انھوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ یہ لوگ منطقی دلیلوں سے سمجھنے والے نہیں ہیں اب ان کو عملی طورپر دکھانا چاہیے کہ یہ بُت پرستش کے لائق نہیں ہیں۔

ایک بار جب تمام لوگ شہر کے باہر چلے گئے اور بت خانہ بالکل خالی ہوگیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے موقع کو غنیمت شمار کرتے ہوئے سارے بتوں کو توڑڈالا، اور ’’تبر‘‘ بڑے بت کی گردن میں ڈال دی۔ جب لوگوں کو اس کی اطلاع ہوئی تو سخت ناراض ہوئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگے:’’کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے؟‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں وہ چیز ارشاد فرمائی جس سے ان لوگوں کو اپنے آئین و مذہب کی عدم حقانیت کا باقاعدہ احساس ہوجائے۔ و ہ جواب یہ تھا: ’’خود انھیں سے سوال کرو!‘‘

یہ جواب سن کر تھوڑی دیر تک سوچتے رہے پھر شرم ساری سے کہنے لگے کہ آپ کو تو معلوم ہے کہ یہ بول نہیں سکتے ہیں!

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ’’پھر ایسے بے بسوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جو اپنے آپ سے دفاع تک نہیں کرسکتے! ذراغوروفکر سے کام لو! عقل کو بھی استعمال کرو۔‘‘

(اقتباس از سورۂ انبیاء آیات۵۱۔۷۰۔ سورۂ صافات آیات ۸۲۔۹۸۔)

ان عظیم رہبروں کی ہمیشہ کوشش یہی رہی کہ انسان کو توحید کا پرستار بنایا جائے ان کو ہمیشہ اس کی طرف دعوت بھی دیتے رہے اور انھیں یہ بات بھی باور کراتے رہے کہ ہر وقت اور ہر جگہ خدا کی عبادت کی جاسکتی ہے اور بغیر کسی واسطہ کے بجالائی جاسکتی ہے۔ سرِتسلیم خدا کی بارگاہِ عظمت میں خم ہونا چاہیے۔ خدا کی عبادت میں کسی کو بعنوان شریک، شریک نہیںکیا جاسکتا اور اگر وقتِ عبادت کسی غیر کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تو یہ عبادت قابلِ قبول واقع نہ ہوگی۔

آثار توحید

آزادی اور استقلال

جو شخص خدائے واحد پر یقین رکھتا ہے اور اس بات پر اعتقاد ہے کہ وہ ہر چیز کا جاننے والا ، اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، دنیا کی تمام چیزیں اسی کی بنائی ہوئی ہیں اب دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بھی اس پر ذرہ برابر اثر انداز نہیںہوسکتیں۔ دولت و ثروت بھی اس کا سر اپنے سامنے خم نہیں کرواسکتیں۔ اب وہ اپنے آپ میں ایک خاص قسم کا استقلال محسوس کرتا ہے جو اس کو دوسروں سے بے نیاز کردیتا ہے ہاں اس کا سر صرف خدائے وحدۂ لاشریک کی بارگاہ ا قدس میں جھکے گا اور اسی ذات سے اپنی مشکلات کا حل طلب کرے گا۔

قدیم ایرانیوں کا رویہ یہ تھا کہ وہ اپنے حکمرانوں اور بادشاہوں کے سامنے بے چوں وچراسرنیاز خم کردیتے اور ان کو مظہرِ خداوندی خیال کرتے تھے اپنی تمام آزادی اور شخصیت کو ان کے قدموں پر نثار کردیتے تھے ۔ ان لوگوں کو نہ انفرادی آزادی حاصل تھی اور نہ اجتماعی۔

جنگ قادسیہ کے موقع پر عربوں کا نمائندہ جب ایران کے سردار سے ملاقات کے لئے آیا تو وہ بغیر کسی تکلف کے زمین پر بیٹھ گیا اور ان کے رعب و دبدبہ کو ذرا بھی نظروں میں نہ لایا۔ جب ایران کے سردار نے اس سے اس کا مقصد دریافت کیا تو اس نے جواب میں کہا:

’’خداوند عالم نے ہمیں منتخب کیا ہے تاکہ ہم لوگوں کو انسان پرستی سے نجات دلائیں اور خدا پرستی کی طرف دعوت دیں انھیں غلامی کی قید بند سے آزادی دلائیں باطل ادیان سے چھٹکارا دلائیں اور اسلام جیسے عدل پرور اور عدالت گستر نظام کی دعوت دیں۔‘‘

(تاریخ طبری جلد۵، ص۔۲۲۶۹، ص۔۲۲۷۱)

واقعی اور حقیقی عدل

خدا پر عقیدہ رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ قانونِ خداوندی کی پیروی کریں جس کی بنیاد عدل و انصاف پر ہے یہ بات بالکل واضح ہے کہ قانون الٰہی کی پیروی ہی عدالت کو دنیا میں عام کرسکتی ہے اور اسی قانون کے سایہ میں ظلم وجور سے نجات مل سکتی ہے۔

اس کے برخلاف شرک اور بت پرستی کبھی بھی دنیا میں عدالت کو عام نہیں کرسکتی بلکہ ہمیشہ جوروستم پھیلتا رہے گا کیوں کہ ہر قوم و قبیلہ نے اپنے لئے ایک الگ خدا بنارکھا ہے اور وہ اپنے خدا کے بھروسے پر دوسرے قبیلے پر ظلم و جور کو روا سمجھتا ہے جس کے نتیجے میں فساد بڑھتا ہی جاتا ہے اور جہالت روز بروز پھیلتی جاتی ہے۔

عقیدۂ توحید انسان کو آزاد، پاکیزہ خیال، متحد اور مطمئن بناتا ہے ظلم وجور کے بھیانک ماحول سے نکال کر امن وامان کے دامن میں جگہ دیتا ہے۔

ان تمام باتوں کو پیشِ نظر رکھنے کے بعد اب کلمۂ توحید کے راز کس قدر واضح ہوجاتے ہیں۔

قُوْلُوْا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُ تُفْلِحُوْا

دل کی گہرائیوں سے کہو کہ خدا کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تاکہ کامیاب و کامران ہوجاؤ۔