اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ١٢

توحید یا شرک

خیروشر

مشرکین کا یہ عقیدہ ہے کہ موجودات عالم کی دو قسمیں ہیں (۱) خیر (۲) شر اور اسی بنیاد پر وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اس کائنات کے دو خالق ہیں: ایک وہ خدا جس نے خیر (اچھائیوں) کو وجود دیا ہے اور اس کا نام ’’یزداں‘‘ ہے۔دوسرا وہ خدا جس نے شر (برائیوں) کو پیدا کیا ہے اور اس خدا کو یہ لوگ ’’اہرمن‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کو ہر نقص و عیب سے پاک اور منزہ ہونا چاہیے اور اسی بنا پر یہ دو خداؤں کا عقیدہ وجود میں آیا مگر یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ یہ نظریہ ان کو توحید سے نکال کر شرک کی وادی میں کھڑا کردے گا۔ اسی کے ساتھ ایک دوسرے اشتباہ کا بھی شکار ہوگئے جو اصل اور بنیادی تھا اور وہ اشتباہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے موجودات کی دو قسمیں کی ہیں ایک ’’خیر‘‘ اور دوسرے ’’شر‘‘۔

لیکن اگر پورے نظامِ کائنات کو نظر میں رکھا جائے اور وسعت فکرونظر سے کام لیا جائے تو ہر چیز اپنی جگہ ’’خیر‘‘ ہے اور ’’شر‘‘ کا وجود نہیں ہے ، ان لوگوں کا خیال ہے کہ خیر اور شر میں کوئی واسطہ نہیں ہے اور ایک دوسرے کا وجود بالکل جداگانہ ہے اور چوں کہ خیر اور شر دو الگ الگ حقیقتیں ہیں لہٰذا دونوں کے جداگانہ خالق ہیں۔ یزداں خیر کا خالق ہے اور اہرمن شر کو وجود دینے والا، مگر یہ تصور اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

کیوں کہ اگر ذرا بھی غور وفکر سے کام لیا جائے تو اکثر مقامات ایسے ہیں جہاں خیر و شر کا وجود ایک دوسرے سے بالکل جدانہیں ہے۔ جیسے کہ بارش یہ کسانوں ،کاشتکاروں اور باغبانوں وغیرہ کے لئے نعمت ہے اسی لئے یہ لوگ بارش کے لئے دعائیں کرتے ہیں مگر یہی بارش ان لوگوں کے لئے جن کے مکانات مٹی اور گارے سے بنے ہوئے ہیں ایک عذاب ہے یہ لوگ ہمیشہ بارش کے نہ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔

بارش کا دو الگ الگ وجود نہیں ہے کہ جن میں ایک خیرہو اور دوسراشر۔تاکہ ہر ایک کا پیدا کرنے والا دوسرے سے جدا ہو۔ یہاں تو بارش کا صرف ایک وجود ہے تو اب اس کے لئے دو خالق کی ضرورت ہی نہیں ہے۔لہٰذا اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ مشرکین کا نظریہ ’’ثنویت‘‘(دوخدا ہونا) اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

اس مسئلے کا حل جو قرآن اور احادیث سے استفادہ ہوتا ہے اور جس کی عقل سلیم بھی تائید کرتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام چیزیں جن کی اچھائیاں ہمارے لئے روشن نہیں ہیں مثلاً بھوک ، پیاس، رنج وغم سردی گرمی، زہریلے جانور سانپ بچھو وغیرہ …..یہ سب اس بنا پر ہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کو بہت ہی سطحی نگاہ سے دیکھتے ہیں لہٰذا ان کا صرف ایک پہلو ہم دیکھ پاتے ہیں لیکن اگر ہم ذرا وسعتِ نظر سے کام لیں اور ساری دنیا کے نظام کو نگاہ میں رکھیں تو بہت جلد ہم اس حقیقت سے واقف ہوجائیں گے کہ ہر چیز اپنی جگہ لاجواب ہے اور خیر ہی خیر ہے۔ مزید وضاحت کے لئے ذیل کی باتوں پر غور فرمائیے:

حفاظتی اقدامات

انسان کا جسم گوشت اور ہڈیوں کا مجموعہ ہے جس کی بنا پر یہ خطرات سے محفوظ نہیں ہے صرف آگ اس بات پر قادر ہے کہ چند لمحوں میں اس کو جلا کر بالکل خاکستر اور راکھ کا ڈھیر بنادے دوسری چیزیں اسے نقصان پہونچاسکتی ہیں۔ اس کو ختم کرسکتی ہیں ایک معمولی سا تصادم(ٹکراؤ) اس کی ہیئتِ اجتماعی(مجموعی شکل) کو بگاڑ سکتا ہے۔ اس قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے خداوندعالم نے اس بدن میں ایسی چیزیں ودیعت فرمائی ہیں جو بدن کو خطرات سے محفوظ رکھتی ہیں اور ہلاک ہونے سے بچاتی ہیں۔

۱۔بھوک اور پیاس ہوسکتا ہے ابتدا میں اچھی معلوم نہ ہوں اور ان کو لوگ ایک زحمت خیال کریں۔ مگر یہی چیزیں بدن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بدن میں جو لاتعداد چھوٹے چھوٹے ’’خلیے‘‘ ہیں یہ اس قدر حساس ہیں کہ ذرا بھی ان کی غدا میں کمی واقع ہوجائے تو یہ فوراً دم توڑ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان بھی موت سے ہم کنار ہونے لگتا ہے تو یہ بھوک اور پیاس کا احساس انسانی زندگی کی بقا کے لئے بہت ہی ضروری اور لازمی ہے۔

۲۔ درد وغم کا احساس بھی ایک عظیم نعمت ہے ۔ انسان کے اعصاب جو ایک جال کی طرح سارے جسم میں پھیلے ہوئے ہیں یہ انسان کے بد ن میں مواصلاتی کام انجام دیتے ہیں۔ یہ معمولی رنج ودرد سے انسان کو باخبر کردیتے ہیں اور انسان کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اس تازہ مصیبت کے مقابلے میں کوئی اقدام کرے تاکہ وہ صحیح وسالم رہے۔

اگریہ دردوغم کا احساس نہ ہوتا مریض کبھی بھی علاج کی طرف توجہ نہ دیتا اگر یہ احساس کی دولت انسان کے پاس نہ ہوتو اس کاجسم جل کر بھسم ہوجائے اور اسے خبر بھی نہ ہو ۔ہڈیاں ٹوٹ جائیں اور اس کا پتا نہ چلے۔ اسی طرح انسان زندگی کی نعمت سے محروم ہوجائے۔

یہ جو انسان میں اس قدر حساسیت پائی جاتی ہے جس کی بنا پر انسان ذرا سی بھی تکلیف برداشت نہیں کرپاتا یہ اس بناپر ہے کہ انسان برابر خطرات سے آگاہ ہوتا رہے اپنی سلامتی اور بقا کے لئے کوشاں رہے اور اگر جسم کو کوئی نقصان پہونچا ہے تو اس کا علاج کرے تاکہ دوبارہ صحیح وسالم ہوکر اپنی زندگی کو باقی رکھے۔ اور آئندہ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔

سختگی اور پختگی

دانشوروں کاقول ہے کہ سختگی دنیا دنیائے حرکت اور کمال ہے ۔ترقی اور کمال کا سختیوں اور دشواریوں سے ایک خاص ربط ہے اور دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیوں کہ یہی مشکلات اور سختیاں ہیں جو روحِ انسانی کو قوی اور پختہ بناتی ہیں یہی سختیاں ہیں جو بڑے بڑے سورماؤں اور عظیم مفکروں کو وجود میں لاتی ہیں جب تک انسان مشکلات اور مصائب کی بھٹی ہیں تپایا نہیں جاتا اس وقت تک اس کی روح کندن نہیں بنتی اور اس کے جوہر سامنے نہیں آپاتے۔یہی سختیاں اس کے کمال کے ظہور کا سبب قرار پاتی ہیں اور اسے ارتقائی مدارج تک پہونچاتی ہیں۔

تاریخ بشریت میں عظیم شخصیتیں وہی ہیں جنھوں نے زندگی کے نشیب وفراز دیکھے اور مشکلات کو مسکرا کر برداشت کیا ہے۔ شمع اس وقت روشنی پھیلاتی ہے جب خود جلتی ہے۔

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد

نیپولین کاکہنا ہے کہ: ’’آلام و شدائد انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں اور اسے کامل تربناتے ہیں۔‘‘

دشواریاں اور مشکلات انسان کے پوشیدہ کمالات اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ اور وسیلہ ہیں جس کی بنا پر انسان مادی، معنوی،علمی ، صنعتی ……. تمام منزلوں کو بآسانی طے کرسکتاہے۔

یہی وجہ ہے کہ جتنے بڑے بڑے لوگ گزرے ہیںان میں سے اکثر وہ ہیں جو بہت ہی معمولی اور حقیر جھونپڑیوں میں زندگی بسر کرنے والے تھے۔سختیوں اور مشقتوں نے ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کردیا اور فکری گرہوں کو کھول دیا۔  کمال اور ترقی کی دشوارگزار راہیں بھی ان کےلئے آسان ہوگئیں۔

تندیٔ بادمخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

علم اور تمدن کی تاریخ گواہ ہے کہ سختیاں ہی آج کی تمام ترقیات کا پیش خیمہ ہیں کیوں کہ اگر یہ سختیاں نہ ہوتیں تو انسان کو کبھی یہ فکر تک نہ ہوتی کہ اس سے بہتر زندگی بھی بسر کی جاسکتی ہے اور جب فکر نہ ہوتی تو سعی و کوشش کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے اور جیسے جیسے انسان مشکلات پر قابو پاتاگیا ویسے ویسے ترقی کی راہیں روشن ہوتی گئیں۔

اب یہ بات صاف روشن ہوجاتی ہے وہی لوگ سختیوں اور مشکلات سے بیزار ہیں جو ان کے عظیم فوائد سے آشنا نہیں ہیں۔

اچھائی اور بُرائی کا معیار

آریہ جو سردی ، گرمی، سانپ، بچھو……. کے برے ہونے کے قائل تھے، وہ  اس بنا پر تھے کہ ان لوگوں نے اچھائی اور برائی کا معیار اپنی ذات کو قرار دیا تھا اور اپنے ذاتی فائدے اور نقصان کی بنا پر چیزوں کی اچھائی (خیر) یا بُرائی (شر) کے معتقد تھے۔ جب کہ اپنے ذاتی مفاد کو معیار قرار دینا سراسر خلافِ عقل ہے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ یہ چیز نظامِ کائنات کے لحاظ سے کیسی ہے اور اس نظمِ کائنات میں کیا کردارادا کررہی ہے۔

جب ہم کائنات کو نظر میں رکھنے کے بعد چیزوں کا مطالعہ کریں گے تو ہمیں بہت جلد اس بات کا یقین ہوجائے گا وہ چیزیں جنھیں ہم بُرا خیال کرتے تھے ان کا وجود اس کائنات کی ترقی اور کمال کے لئے کس درجہ ضروری ہے ۔ اسی سردی اور گرمی کی بنا پر رشد و نمو پیدا ہوتا ہے۔ خزاں بہار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہر ایک ذرّۂ بے حس میں حیات دوڑنے لگتی ہے۔

جو لوگ اچھائی اور برائی کا معیار اپنی ذات کو قرار دیتے ہیں ان کی مثال اس چیونٹی جیسی ہے جو انسان کے بارے میں اس نظریے کا اظہار کرے کہ اس انسان کے وجود کا کیا فائدہ یہ تو صرف ہمیں کچلا کرتا ہے اور اس کاکوئی کام نہیں اورچوں کہ اس کا وجود ہمارے لئے بے فائدہ ہے لہٰذا یہ ’’شرمحض‘‘ ہے اور اس کے وجود سے کیا فائدہ؟

یا یو ںکہیں :یہ ہوائی جہاز، یہ بڑی بڑی مشین چوں کہ ہمارے لئے مفید نہیں ہیں لہٰذا بالکل بے فائدہ اور مضر ہیں۔

کیا انسان چیونٹیوں کے اس فیصلے کو قبول کرنے پر تیار ہے جو انسان اور اس کی مصنوعات کے بارے میں کیا ہے۔

انسان کبھی بھی اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گا اور یہ کہے گا کہ یہ فیصلہ ایک زبردست اشتباہ کا نتیجہ ہے اور وہ اشتباہ یہ ہے کہ اس نے سودوزیاں فائدہ اور نقصان کا معیار اپنی ذات کو قرار دیا ہے اور اپنے ذاتی مفاد پر ہر ایک چیز کو پرکھا ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہے کہ جیسے سمندر کے ساحل پر بسنے والا یہ کہے کہ یہ بخارات جو سمندر سے اٹھتے ہیں یہ بالکل بے فائدہ اور مضر ہیں کیوں کہ بخارات کی بنا پر ہماری زندگی جس کا شکار ہوگئی ہے۔ اس آب وہوا نے تو ہمیں کام کرنے سے روک دیا ہے۔ فضا میں ہمیشہ ایک گھٹن سی رہتی ہے۔جب کہ ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ یہی بخارات سمندری علاقوں سے ہواؤں کے دوش پر پرواز کرتے ہوئے خشک اور گرم علاقوں کو بارانِ رحمت بن کر سیراب کرتے ہیں جس سے درخت ہرے ہوجاتے ہیں کھیتیاں لہلہا اٹھتی ہیں۔ گرمی سے جھلستے ہوئے علاقوں میں زندگی کی لہر دوڑنے لگتی ہے وہاں کے بسنے والے اسی بخار کو جو بارش کی شکل میں برستا ہے اپنے لئے ایک عظیم نعمت شمار کرتے ہیں ۔ یہی بارش انسان کوقحط کی لعنت سے محفوظ رکھتی ہے۔

ساحل نشینوں کی غلطی صرف اتنی ہے کہ انھوں نے صرف اپنے ذاتی مفاد کو پیش نظر رکھا ہے اور اسی کو اچھائی اور برائی کا معیار بھی قرار دیا ۔ اگر یہ لو گ ساری کائنات کو نظر میں رکھنے کے بعد فیصلہ کرتے تو کبھی بھی سمندر سے اٹھنے والے بخارات کو ’’برا‘‘ نہ جانتے۔

گذشتہ بیانات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اچھائی اور بُرائی کا معیار کبھی اپنی ذات اور اپنے ذاتی مفاد کو نہیں قرار دینا چاہیے بلکہ ہر چیز کو نظامِ کائنات کے لحاظ سے دیکھنا چاہیے اور نظامِ کائنات کو معیار قرار دینا چاہیے اور پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ کرنا چاہیے اور فیصلہ کرتے وقت ماضی، مستقبل اور حال کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔