اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ١٣

خدائے عادل

گذشتہ اسباق پر ایک نظر

۱ اس کائنات کا نظم وضبط خود اس بات کا بہترین گواہ ہے کہ اس کائنات کو وجود بخشنے والا’’عالم‘‘ بھی ہے اور ’’قادر‘‘ بھی۔

۲ اس کےعلم وقدرت کا اندازہ ہماری محدود فکر و عقل نہیں لگاسکتی کیوں کہ ہم صرف انھیں چیزوں سے اس کے علم وقدرت کا اندازہ لگاسکتے ہیں جنھیں ہم دیکھتے اور درک کرتے ہیں اور یہ چیزیں اس عظیم اور لامحدود کائنات کا ایک معمولی سا حصہ ہیں۔ اس کائنات کا ہر ذرّہ اس کی بے پناہ عظمتوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

۳        ساری کائنات اس خدائے وحدۂ لاشریک کی محتاج ہے مگر وہ کسی کا بھی محتاج نہیں ہے۔

۴        خداوندعالم اپنے تمام بندوںپر بے انتہا مہربان ہے اور اس نے اپنی تمام نعمتوں کو تمام بندوں کے لئے عام کررکھا ہے اور اس میں کسی کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ جیسا کہ خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

اَللہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّ صَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَکُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ۔ ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ فَتَبَارَکَ اللہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ۔

(سورۂ مومن آیت۔۶۴)

’’وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو تمھاری آسائش اور فائدے کے لئے پیدا کیا اور تمھیں بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا۔ اور تمھاری روزی کے لئے پاکیزہ غذائیں فراہم کیں اور خدا تمھارا پروردگار ہے وہ بابرکت ہے اور عالمین کا پالنے والا ہے۔‘‘

_______________

اب آئیے خود اپنے آپ سے سوال کریں وہ خدا جس نے اس قدر نعمتیں اپنے بندوں کے لئے عام کررکھی ہیں اور تمام ضروریاتِ زندگی کو فراہم کیا ہے، کیا وہ خدا ظالم ہوسکتا ہے؟ جب کہ ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ظلم وستم ہمیشہ جہالت اور کمزوری کا نتیجہ ہے یا منصب و مقام وغیرہ کی تلاش اسے ظلم پر آمادہ کرتی ہے اور خداوند عالم کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہے۔ ظلم وستم کے اسباب اور اس کا سرچشمہ یہ چیزیں بھی ہوتی ہیں۔

 

 

احتمال شکست و ناکامی

جب ایک کارخانہ کا مالک یہ دیکھتا ہے کہ دوسرے کارخانہ کا وجود اس کے منافع پر اثر انداز ہورہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کبھی اس کو نقصان بھی اٹھانا پڑجائے تو اس احتمال کے پیش نظر اس بات کی بھر پور کوشش کرتا ہے کہ جس طرح سے بھی ہوسکے دوسرے کارخانے کو ٹھپ کرادیا جائے اور اس کا بازار بند کردیا جائے اور وہ اس سلسلہ میں ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ ہاں اگر کوئی طاقت اسے اس کام سے باز رکھ سکتی ہے تو وہ صرف ایمانِ خداوندی ہے جو اسے باطنی طور پرظلم کرنے سے منع کیا کرتا ہے۔

 

محرومیت

جب انسان اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور زحمتیں برداشت کرتا ہے مگر جب اسے ناکام اور محرومیت نصیب ہوتی ہے تو اس وقت اس میں ایک انتقامی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو اسے آپے سے باہر کردیتی ہے اور پھر وہ حربہ استعمال کرنا چاہتا ہے جس سے اپنے مد مقابل کوزک (شکست )دےسکے اور پھر وہ جائز اور ناجائز کے فرق کو بھی روا نہیں رکھتا ہے جس کے نتیجے میں عدل کا دامن اس کے ہاتھوں سے چھوٹ جاتا ہے اور وہ ظلم کر بیٹھتا ہے اور یہی محرومیت کبھی اس کو قتل و غارت گری پر بھی آمادہ کردیتی ہے اور مقابل کی آہ وزاری اس کے لئے اطمینان بخش ہوتی ہے اور اس کے کانوں کو بھی معلوم ہوتی ہے۔

جہالت

وہ قوانین جنھیں انسان کی محدو د عقل و فکر نے بنایا ہے ان کا نفاذ اکثر و بیشتر ظلم و بے انصافی کا سبب قرار پاتا ہے انسان کا علم خواہ جتنا بھی ہو مگر محدود ہے اور وہ جس دنیا میں زندگی بسر کررہا ہے اس کے اسرار ورموز لامحدود ہیں۔ جب ایک محدود نظریہ کا بنایا ہوا قانون لامحدود دنیا پر منطبق(ٹیلی) ہوگا تو اس سلسلے میں ظلم وجور کا وجود میں آنا ایک لازمی نتیجہ ہے۔

سیاہ فاموں پر جو ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں او ران کے حقوق کو غصب کیا جارہاہے وہ صرف اس بات کا نتیجہ ہے کہ ان قانون بنانے والوں نے اپنی جگہ یہ طے کرلیا ہے کہ ہمارا بنایا ہواقانون سب سے بہتر ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور قانون نہیںہوسکتا۔ ان لوگوں نے رنگ ونسل کے فرق کو معیارِ شرافت و عزت سمجھا ہے جن کی بنا پر سفید فام کو سیاہ فام پر برتری حاصل ہے۔ درآنحالیکہ یہ با ت سب جانتے ہیں شرافت کا معیار علم وعمل ہے اور انسان کے روحانی صفات ہیں جو اسے تمام دوسرے موجودات سے منفرد کردیتی ہیں اور اس سلسلے میں سیاہ و سفید کی کوئی قید نہیں ہے۔

ان تمام باتوں کا سرچشمہ انسان کی جہالت، کمزوری، ضعف وغیرہ ہے اور ان باتوں میں سے کسی ایک کا تصور بھی خدا کے بارے میں نہیں کیاجاسکتا ۔کوئی چیز اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے اور کوئی بھی شے اس کے دائرۂ اختیار ہے باہر نہیں ہے۔ ہر چیز کا اسے علم ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے ساری دنیا اس کی محتاج ہے مگر وہ کسی کا بھی محتاج نہیں ہے۔لہٰذا خدا کے بارے میں ظلم وستم کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ تمام باتیں اس قدر واضح اور روشن ہیں جن میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے اور جو لوگ اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں یا تو دانستہ طور پر انکار کرتے ہیں یا پھر حقیقتِ عدل سے واقف نہیں ہیں۔

عدل کیا ہے؟

عدل کے معنی ہیں تمام انسانوں کے حقوق کی مراعات(رعایت) کی جائے۔ بلاوجہ اور بغیر کسی استحقاق کے کسی کے ساتھ کوئی مراعات(رعایت) نہ برتی جائے۔ کلاس میں جتنے بھی شاگرد ہیں ان میں سے جتنے شاگرد اچھے نمبر لاتے ہیں ان سب کو ایک نظر سے دیکھا جائے اور سب کو ایک ساتھ ترقی دی جائے اب ممتحن یاکسی استاد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک شاگرد کو تو درجاتِ عالیہ میں جگہ دے اور دو سرے کو اس ترقی سے محروم رکھے جب کہ دونوں کے نمبر ایک جیسے ہیں اب اگر شاگردوں کے درمیان فرق کیا جائے تو یہ شاگردوں کے حق میں ظلم ہوگا۔

ہاں اگر ان مقامات پر ’’حق‘‘ کا مسئلہ نہ ہو صرف احسان کی بنیاد پر بعض کو ترقی دی جائے تو اس صورت میں بقیہ افراد پر ظلم نہ ہوگا۔ جیسے کہ کوئی شخص فقرا کی دعوت یاا ن کی کوئی مدد کرنا چاہتا ہے اور یہ شخص صرف بعض فقیروں کی دعوت کرے۔ یا دعوت تو سب کو دے مگر بعض کی زیادہ مدد کرے۔ اور بعض کی کم۔ تو اس صورت میں جن کو دعوت نہیں دی گئی ہے یا جن کی کم مددکی گئی ہے تو ان لوگوں کے حق میں کوئی ظلم نہیں ہواہے۔ کیوں کہ اس شخص کی گردن پر کسی کا حق نہیں تھا اور نہ یہ دعوت استحقاق کی بنیاد پر ہوئی تھی بلکہ یہ تو اس شخص نے صرف احسان کی غرض سے کیا تھا۔

البتہ وہاں پر عدالت اور مساوات لازمی اور ضروری ہے جہاں حقوق کے اعتبار سے سب ایک جیسے ہوں اور اس صورت میں بعض کونظر انداز کردینا سراسر ظلم اور ناانصافی ہوگی لیکن وہ مقامات جہاں کسی کا کوئی حق نہ ہو تو اس صورت میں ظلم اور ناانصافی کا کوئی سوال نہیں پیداہوتا ہے اور اس صورت میں بعض کو نظر انداز کردینا ان کے حق میں ظلم نہیں کہلائے گا۔

وہ لوگ جو خلقتِ کائنات کے بارے میں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ خداوندعالم نے سب کو ایک جیسا کیوں نہیں پیدا کیا؟ یہ موجودات کے درمیان اختلاف کیسا؟ سب کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کیوں نہیں کیا گیا اور یہ موجودات کا اختلاف خداوندعالم کی عدالت کے خلاف ہے۔

یہ اعتراض کرنے والے دراصل عدالت کا صحیح مفہوم نہ سمجھ پائے اور غلط فہمی کا شکار ہوگئے۔ کیوں کہ یہ ساری کی ساری موجودات خداوندعالم پر کوئی حق نہیں رکھتیں تاکہ یہ اختلاف و تفاوت اس بات کا سبب قرار پاتا کہ ان میں بعض کے حق میں ظلم ہوا ہے۔ جب کسی کا کوئی حق ہی نہیں ہے تو پھر ظلم کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے کیوں کہ اگر خداوندعالم کسی ایک کو بھی پیدا نہ کرتا تب بھی کوئی ظلم اور ناانصافی نہ تھی۔

لیکن چوں کہ خداوندعالم بے پناہ علم وقدرت کا مالک ہے اور اس کا کوئی بھی فعل حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لہٰذا اب ہم یہ سوال کرسکتے ہیں کہ اس اختلاف اور تفاوت کی مصلحت کیا ہے؟

کیا یہ اختلاف اور تفاوت نظامِ کائنات کےلئے لازمی اور ضروری ہے ؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب انشاء اللہ آئندہ سبق میں پیش کیا جائے گا۔