مخلوقات میں تفاوت کا راز
آپ نے یقیناً فضائی راکٹ ’’اپولو‘‘ کا نام سنا ہوگا۔ یہ علمی اور ٹکنالوجی میدان میں انسانی ترقی کا شاہکار ہے۔
یہ راکٹ بادلوں کو چیر تاہوافضا کا سینہ شگافتہ کرکے چاند تک پہنچااور انسان نے سرزمینِ چاند پر اپنا قدم رکھا اور دنیائے فکروعمل میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔
اگر راکٹ کو نظر میں رکھیںتو ہم دیکھیں گے یہ عظیم پیچ، بولٹ اور مختلف قسم کی چھوٹی بڑی مشینوں سے آراستہ ہے ۔ ایک وہ حصہ جہاں سےاسے کنٹرول کیا جاتا ہے، ایک اس کا اصلی حصہ، اس کا ایک وہ حصہ جو چاند پر اُترے گا ، وہ حصہ جو واپس آئے گا، ضروری ایندھن کا ذخیرہ ، جنریٹر،مواصلاتی نظام ، حفاظتی و سائل…… ان میں سے ہر ایک اپنا مخصوص کا م انجام دیتا ہے ۔ یہ بات صاف اور واضح ہے کہ اگر اس راکٹ میں انواع و اقسام کی چیزیں نہ ہوتیں تو ہرگز ’’اپولو‘‘ کا وجود نہ ہوتا اور نہ اس کے ذریعہ سخت اور دشوار ترین مسافت طے کی جاتی اور نہ اس دنیا کا انسان چاند کی سرزمین پر قدم رکھتا۔
اس مثال سے جو چیز ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک منظم اور مرتبط مجموعہ میں مختلف اور متفاوت چیزوں کا وجود لازمی اور ضروری ہے۔
اب ایک نظر اس دنیاپر ڈالتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ اس دنیا میں بھی زیروزبر زندگی اور نشیب وفرازِ حیات بے مقصد اور بے سبب نہیں ہے۔ یقیناً زندگی کی زیبائی(خوبصورتی) حیات کی کشش اور پیچیدگی اسی اختلاف اور نشیب وفراز کا نتیجہ ہے۔
اگر ساری کائنات یک رنگ اورایک اندازپر ہوتی، فکر انگیز اور دل نواز رنگینیاں نہ ہوتیں توپھر انسان کا وجود بے معنی ہوتا یہ بھی بے معنی ہوتا کہ وہ پانی پئے، سبزیاں پکائے اور کھائے، تلاطم خیز موجوں سے تحریک چلانا سیکھے، بے آب و گیاہ صحراؤں سے سکون و اطمینان کا درس لے۔
غنچوں سے شگفتگی ،قطراتِ شبنم سے پاکیزگی، سینۂ آبِ دریا سے لطافت اور نرمی، آبشاروں سے تواضع اورفروتنی۔
دنیا کی خوبصورتی، زیبائی ، کشش، جاذبیت سب انھیں رنگینیوں اور نشیب وفرازِ حیات کی مرہون منت ہیں۔ یہ تمام اختلافات نہ تو بے جا اور بے کار ہیں اور نہ ہی برخلاف عدالت۔
خلافِ عدالت تو اس صورت کو کہتے ہیں جب دو چیزیں ہر لحاظ سے برابر ہوں مگر قانونی حیثیت سے ان کے ساتھ یکساں برتاؤ نہ کیا جائے۔
گذشتہ سبق میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ظلم وستم صرف اس صورت میں ہے کہ کسی ایک چیز سے استفادہ کرنے کا ایک کو برابر کا حق ہو لیکن ان کے درمیان تفاوت اور امتیاز برتاجائے۔
لیکن یہ دنیا کی چیزیں، پہلے ان کا کوئی وجود نہ تھا اور ان میں کوئی کسی چیز کی حق دار نہ تھیں، تاکہ ان کے درمیان اختلاف اور تفاوت کا وجود عدل کے خلاف ہوتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر یہ اختلاف اور تفاوت نہ ہوتا تو اس دنیا کا بھی کوئی وجود نہ ہوتا۔ یہ دنیاوی چیزوں کا آپس میں اختلاف اور تفاوت ہی دنیا کی خلقت کا سبب ہے۔ یہ مخلوقات کاآپس میں مختلف ہونا اس بات کا سبب ہے کہ یہ چیزیں وجود پیدا کریں۔ ایٹم ، نظام شمسی، کہکشاں، گیاہ(گھاس) سرسبزی وشادابی ، حیوانات ان تمام چیزوں کا وجود موجودات کے مختلف ہونے کی بنا پر ہے۔
اب آپ کی توجہات انسان کے درمیان جو تفاوت ہے اس کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔
انسانوں کے درمیان اختلاف بھی دنیا کی دیگر مخلوقات کے تفاوت اور اختلاف سے جدا نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کیوں تمام انسان ہوش اور استعداد کے لحاظ سے برابر نہیں ہیں؟ تو سب سے پہلے تو یہ اعتراض کرنا چاہیے کہ نباتات اور جمادات کو کیوں ہوش و استعداد سے محروم رکھا گیا؟
لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں کوئی بھی صورت قابلِ اعتراض نہیں ہے کیوں کہ یہ اعتراض اس وقت صحیح ہوتا جب کسی کا حق پامال ہوا ہو۔ لیکن دونوں صورتوں میں کسی کا بھی وجود پہلے سے نہ تھا اور نہ کوئی کسی چیز کا مستحق تھا تا کہ ان کے درمیان تفاوت کا وجود عدل وانصاف کے خلاف ہوتا۔
اس حقیقت کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے کہ خداوندعالم نے ہر انسان کو صرف اسی قدر ذمہ دار قراردیا ہے اور صرف اسی قدر اس سے اطاعت چاہی ہے جتنی اس میں تاب و توانائی ہے کسی سے بھی اس کے ہوش و استعداد سے زیادہ مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اور یہ بات بالکل مطابق ِعدالت ہے۔
ذرا اس مثال پر توجہ فرمائیے:
اگر ایک اسکول کا پرنسپل درجۂ ششم کا سوال ان طلبہ سے کرے جو ابھی پہلے کلاس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں تو پرنسپل کا یہ سوال یقیناً ظلم ہوگا لیکن اگر یہی پرنسپل درجۂ اول کا سوال پہلے کلاس کے طلبہ سے کرے اور درجۂ ششم کا سوال چھٹے کلاس کے طلبہ سے کرے یہ تو عین عقل مندی اور مطابقِ عدالت ہے ۔ اس صورت میں کوئی بھی اسے ظالم نہیں کہے گا بلکہ ہر ایک اسے انصاف پسند اور عادل کہے گا۔
اسی طرح سے اگر تمام موجودات کے سر ایک جیسی ذمہ داری سونپی جاتی تو اس صورت میں یقیناً موجودات کا آپس میں مختلف ہونا ظلم اور برخلافِ عدالت ہوتا۔ لیکن ہمیں یہ بات بدیہی(واضح) طورپر معلوم ہے کہ ہر ایک کے سر ایک جیسی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے بلکہ ہر ایک سے اسی قدر مطالبہ کیا گیا ہے جتنی اس میں استعداد اور سکت ہے۔
جس طرح سے ایک مشین کے چھوٹے سے پرزے سے اسی کام کی امید رکھی جائے جو ایک بہت بڑے پرزے سے توقع ہے تو یہ یقیناً ظلم اور خلافِ عدالت ہے لیکن اگر ہر ایک پرزے سے ا س کی حیثیت کے مطابق کام لیا جائے تو یہ عینِ عدالت ہے۔
اس کے علاوہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خداوندعالم حکیم ہے اور اس کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ ہمیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ ساری کائنات پر ایک خاص قسم کا نظام حکم فرما ہے اور اس دنیا کا کوئی بھی ذرّہ بغیر کسی نظم وضبط کے وجود میں نہیں آیا ہے۔ گذشتہ اسباق میں یہ بات تفصیل سے گذر چکی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی چیز منظم نہیں ہے ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ سطحی اور پہلی نظر میں وہ چیز بے فائدہ اور غیر منظم نظر آئے۔ اور یہ بھی اس بنا پر ہے کہ ہماری عقل کی رسائی اس کی حقیقت تک نہیں ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کسی چیز کا نہ جاننا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
گذشتہ بیانات کی بنیاد پر یہ بات بالکل صاف اور روشن ہوجاتی ہے کہ موجودات کا آپس میں اختلاف اور تفاوت یقیناً مصلحت کی بناپر ہے اور وجودِ کائنات کے لئے اس کا ہونا نہایت ضروری اور لازمی ہے۔ گرچہ ہماری ناقص عقل اس کی حقیقت سمجھنے سے قاصر ہی کیوں نہ رہے۔
اگر یہ کہا جائے تو یہ بہر حال ممکن تھا کہ تمام افراد ہوش اور استعداد کے لحاظ سے برابر ہوتے اور مختلف قسم کے ذوق میں یکجا ہوتے۔ اس کے بعد یہ تمام افراد ضرورت اور احتیاج کے مطابق آپس میں تمام کام تقسیم کرلیتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں یہ ہوتا کہ آرام طلب افراد اس کام کو اختیار کرتے جس میں محنت کم اور منفعت زیادہ ہوتی۔ زحمت طلب اور کم فائدہ والا کام کوئی نہ کرتا وہ یوں ہی پڑا رہ جاتا۔ کیوں کہ ان میں سے ہر ایک ہوش اور استعداد کے لحاظ سے برابر ہے ۔لہٰذا کوئی بھی ایسے کام کو کیوں اختیار کرنے لگا جس میں محنت مشقت زیادہ ہو فائدہ کم ہو اورکوئی خاص شہرت وغیرہ بھی نہ ہو۔
زندگی کے ہر پہلو سے استفادہ
انسان کی روح اخلاقی زیورات سے آراستہ ہونے کے لئے اور کمال کی آخری منزل تک پہنچنے کے لئے عجب صلاحیت کی مالک ہے۔
آرام و مشکلات کا آہستہ آہستہ سامنا کرتے ہوئے رفتہ رفتہ زندگی کی تلخیاں اور شیرینی کا ذائقہ چکھتے ہوئے انسان کی روح کامل ہوتی جاتی ہے۔
زندگی کا نشیب وفراز انسان کو صبروشکیبائی کی تعلیم دیتا ہے، کبھی انسان نعمتوں میں گھرا رہتا ہے اور کبھی اس کے چاروں طرف مشکلات ہی مشکلات ہوتی ہیں۔
خوش قسمت تو وہ ہے جو زندگی کے ہر موڑ سے گذرتے ہوئے اپنی روح کو کامل بناتارہے۔
اگر دولت و ثروت کا مالک ہے تو غریب اور بینوا کی دستگیری کرے، یتیموں کی سرپرستی کرے۔ اس طرح سے اپنی روح کوکامل سے کامل تربناتا رہے اور اس طرح انسان کی محبت اپنے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرلے۔ گرچہ یہ انسان اس بات پر بھی قادر ہے کہ اپنی تمام دولت وثروت عیش و طرب کی نذر کردے۔ اور اس طرح اپنی روح کو کمال کے بجائے اور پستی میں گرادے۔
اگر تنگ دست اور فقیر ہے تو بجائے اس کے کہ دوسروں کے مال پر ڈاکہ ڈالے ان کے حقوق غصب کرے، قناعت ،صبر اور عزت نفس کے ساتھ زندگی بسرکرے اور اپنے صبروعزم و استقلال کے پنجوں سے زندگی کی تمام مشکلات کو ریزہ ریزہ کردے اور راہِ زندگی کو صاف اور ہموار بنادے۔
زندگی کے تمام نشیب وفراز ،روح کے کمال اور اس کی ترقی کے لئے ہیں خوش قسمت اور ہوشیار وہ ہے جو زندگی کی ہر راہ سے گذرتے وقت اپنی روح کو کامل سے کامل تر بناتا جائے۔
اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ انسان خود کو اپنے ہاتھوں فقیر اور تنگ دست بنادے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم نے بہت غلط کام کا ارتکاب کیا ہے، کیوں کہ اس صورت میں ہم نے اس ہوش و استعداد کی قدر نہ کی جسے خداوندعالم نے ہماری ذات میں ودیعت فرمایا ہے بلکہ مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر ہم مسلسل کوشش کرتے رہے،لیکن ہماری کوششوں کا کوئی خاص نتیجہ نہ نکلا یا ایکا ایکی ہم دولت مند اور ثروت مند سے فقیر اور تنگ دست ہوگئے، سرمایہ لٹانے والا کوڑیوں کا محتاج ہوگیا۔ ان تمام صورتوں میں ہرگز یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ ہم بدبخت ہوگئے، تباہ و برباد ہوگئے بلکہ ہمیشہ یہ عزم و ارادہ رکھنا چاہیے کہ زندگی کے سمندر میں جس قدر اور جس طرح بھی غوطہ لگائیں خواہ نعمتوں اور آسائشوں میں ڈوبے ہوئے ہوں اور خواہ فقر اور تنگ دستی میں ہچکولے کھارہے ہوں۔ زندگی کے ہر انقلاب سے ہر تبدیلی سے ہر نشیب وفراز سے اپنی روح اور اخلاقی قدروں کو اجاگر کرتے چلیں۔ نفس کو پاکیزہ سے پاکیزہ تر بنائیں صفحۂ دل پر ایمان کے نقش ابھاریں۔ جس شخص کی زندگی کا یہ لائحہ عمل ہوگا اور یہ نقطۂ نگاہ ہوگا تو زندگی کبھی بھی اس کی نگاہ میں بے مقصد نظر نہیں آئے گی۔ دنیا کے کسی بھی حادثہ کو بے مقصد اور خلافِ عدالت تصور نہیں کرے گا بلکہ ہر ایک چیز کو اپنی کامیابی کا وسیلہ قرار دےگا۔
اس سلسلہ میں قرآن کریم کا ارشاد ہے:
’’وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا اٰتٰیکُمْ۔
(سورۂ انعام آیت ۱۶۵)
’’خداوند عالم نے تم میں سے بعض کو بعض پر برتری دی ہے تاکہ جو کچھ اس نے تمھیں دیا ہے اس میں تمھارا امتحان لے اور تمھیں آزمائے۔‘‘
آزمائش اور امتحان سے مطلب یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ تم کس طرح اپنی حالت سے استفادہ کرتے ہو۔ دنیا میں رونما ہونے والا ہر واقعہ انسان کے روحی کمالات کو اجاگر کرتا ہے بشرطیکہ اس سے صحیح طورپر استفادہ کیا جائے۔ یہ خود پروردگار عالم کا لطف عام اور عدل ہے۔
دنیا میں نشیب وفراز اور اختلافات کا راز یہ ہے جو کسی بھی صورت سے عدالت کے منافی نہیں ہے۔
اگر دنیا کے بعض حوادث کے سلسلے میں ہم اس کی عدالت اور اس کا فائدہ معلوم کرنے سے قاصر رہے اور اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہ آسکی تو ہمیں ہرگز یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ یہ حادثہ خلافِ عدل اور سراسر ظلم ہے کیونکہ کائنات کو اس ذات نے وجود بخشا ہے جس کے یہاں ظلم وستم کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہے۔ اور جو کچھ ہمارے لئے چاہتا ہے وہ اس کے رحم و کرم کا تقاضا ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم نے حوادث کی پیشانی پر بارہا دیکھا ہے ہماری ظاہری اور سطحی نگاہ نے کسی حادثہ کو مضر اور نقصان دہ بتایا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد جب حقائق سامنے آئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ حادثہ مضر اور نقصان دہ تو تھا ہی نہیں بلکہ ہمارے لئے بہت کافی فائدہ بخش اور مفید تھا۔
قرآن کا ارشاد ہے:
’’ وَعَسٰی اَنْ تُکْرِھُوْ اشَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّھُوَ شَرٌّلَّکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ۔‘‘
(سورۂ بقرہ آیت ۲۱۶)
’’بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنھیں تم پسند نہیں کرتے درآنحالیکہ وہ تمھارے لئے بہتر اور فائدہ مند ہیں۔
اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنھیں تم پسند کرتے ہو درآنحالیکہ وہ تمھارے لئے نقصان دہ ہیں۔خداجانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو۔‘‘