انسان کی خلقت کس لئے؟
آیا خداوندعالم نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ اس دنیا کے توالد و تناسل (زادوولد) میں اس کی حیثیت مشین کے ایک پرزے کی طرح ہو۔ اور انسان مشینی اور صنعتی انسان کہلائے؟
آیا انسان کی خلقت صرف عیش و عشرت کے لئے ہے؟
یا انسان اس لئے پیدا کیا گیاہے کہ زمین میں پوشیدہ ذخیروں کا پتا چلائے اور اپنی دولت وثروت میں برابر اضافہ کرتا رہے۔ انسانی خواہشات کے چراغ کی لو اور بڑھادے؟
ہاں____ اس کے علاوہ کوئی اور نظریہ پیشِ نظر نہیں ہے؟
بہت سے لوگ ایسے ہیں جو انسان کی حقیقت سے ناواقف اور اس کی عظمت و منزلت سے بے بہرہ ہیں ان لوگوں نے انسان کے صرف مادی پہلو پر نظر رکھی ہے اور اس عظیم سکّے کے دوسرے رخ سے بالکل غافل ہیں۔
لیکن وہ لوگ جو انسان شناس ہیں ان کاکہنا ہے کہ انسانی زندگی کے تین پہلو ہیں
۱۔مادی اور شخصی(نجی) زندگی
۲۔ اجتماعی زندگی
۳ ۔دنیائے روح و حقیقت
وہ لوگ جو صرف پہلے پہلو پر نظر جمائے رہے وہ انسان کے لئے بے قید و شرط آزادی کے قائل ہوگئے خواہ ایسی آزادی انسان کے لئے نقصان دہ ثابت کیوں نہ ہو۔ یہ لوگ انسان کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور دوسرے دواہم پہلوؤں سے بالکل غافل ہیں۔
وہ لوگ جنھوں نے صرف پہلے اور دوسرے پہلو کو نظر میں رکھا اور تیسرے پہلو کو نظر انداز کردیا یہ لوگ انسان کے لئے ایک ایسے سماج کی تشکیل دیتے ہیں جس میں اخلاقی اور انسانی صفات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
سماجیات کے ماہر’’ٹوین بی‘‘ نے مجلہ لائف LIFE کے خبرنگار کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا:
’’ہم نے اپنے کو مادیات کے سپرد کردیا ہے اور اس طرح ہم مادی ضروریات سے بے نیاز ہوگئے ہیں لیکن اخلاقی لحاظ سے ہم بالکل فقیر اور محتاج ہیں۔ اور میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ابھی غنیمت ہے کہ ہم غلط راستے کو چھوڑ کر صحیح راہ اختیار کرلیں اور مذہب کے پابند ہوجائیں‘‘_______(ماہ نامہ ’’مسائل ایران‘‘ دی ماہ)
محققین اور عاقبت اندیش حضرات نے انسان کے دونوں پہلوؤں کو نظر میں رکھتے ہوئے قدم آگے بڑھایا اور انسان کے تینوں پہلوؤں پر نظر ڈالی اور اس کی غرضِ خلقت کا مطالعہ کیا تو صحیح طور سے انسان کی معرفت حاصل کی اور اگر تینوں پہلوؤں کو نظر میں رکھے بغیر انسان کی معرفت حاصل کی جائے تو وہ معرفت ناتمام اور ناقص ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر تیسرے پہلو کو مد نظر رکھا جائے تو اس وقت انسان میں اتنی صلاحیت اور استعداد نمودار ہوتی ہے جو زندگی کے ہرمیدان میں اس کو قوت بخشتی ہے، خواہ انفرادی زندگی ہو خواہ اجتماعی ، زندگی کے مسائل سمجھنے اور سلجھانے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ صحیح نقطۂ نظر بھی یہی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کمال کے ہر پہلو پر نظر رکھے اور ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرے کیوں کہ خلقت کمالات کے حصول کے لئے ہوئی ہے۔ اس بیان کے بعد یہ سوال بالکل مناسب ہے: کیا انسان کی فطرت اور اس کا ضمیر زندگی کے تینوں پہلوؤں میں اس کی راہنمائی کرسکتا ہے؟
سوال کے لئے ذرا ایک تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:
فطرت اور ضمیر
بعض ماہرینِ نفسیات نے ’’ضمیر‘‘ کے وجود سے انکار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم جسے ضمیر اور فطرت کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ اس تربیت اور سماج کا اثر ہے جس میں بچہ نے زندگی گذاری ہے ورنہ ضمیر کوئی مستقل چیز ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
جب کہ ماہرین نفسیات کی کثیر تعداد اس بات کی معتقد اور معترف ہے کہ انسانی وجود کی گہرائیوں میں ایک حقیقت موجود ہے جس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اچھائیوں اور برائیوں کو تشخیص دے سکے۔ وہ بچے جو ابھی ماحول اور سماج کے ہم رنگ نہیں ہوئے ہیں ان کی فطرت اور ضمیر میں بھی کوئی انحراف نہیں ہے۔ وہ بہت اچھی طرح اچھائیوں اور برائیوں ، نیکی اور بدی کی حقیقت سے واقف ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو انسان کی ساختہ اور پرداختہ نہیں۔
یہ بات ضرور ہے کہ بعض اچھائیاں اور برائیاں رسم ورواج کی تابع ہیں جیسے بعض مخصوص لباس اور بعض مخصوص غذائیں ایک جگہ اچھی خیال کی جاتی ہیں اور دوسرے ماحول میں حقارت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ لیکن جس شخص کے پاس تھوڑی بہت عقل ہے اور عنان ِ فکر عقل کے ہاتھوں میں ہے وہ تمام خوبیوں اور برائیوں کے سلسلے میں یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ سب کی سب عادات و رسوم کی پابند ہیں۔ اسے اس حقیقت کا یقین ہے کہ امانت ،عدل وانصاف ، وفاداری، ضعیفوں کی مدد، خدمتِ خلق، برادری اور برابری…… ان کا تعلق انسان کے وجود کی گہرائیوں سے ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر وقت او رہرجگہ قابل ستائش ہیں۔ اس کے برخلاف ظلم وستم ، خیانت ، بے وفائی، خود پسندی یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر ماحول اور ہر سماج میں قابلِ لعنت وملامت ہیں۔ ان تمام چیزوں کی اچھائی اور برائی کوئی مصنوعی نہیں ہے۔
لہٰذا ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا انسان کے وجود کی گہرائیوں میں ایک حقیقت ضرور موجود ہے جسے فطرت اور ضمیر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کی طرف بھی توجہ کرنا ضروری ہے:
ضمیر تنہا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کی راہنمائی کرے اور زندگی کے ہر موڑ پر ہدایت کرے۔ کیوں کہ ضمیر اور فطرت دونوں ہی کو تعلیم وتربیت کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ضمیر اس معدن کی طرح ہے جو پہاڑ کے دامن میں پوشیدہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو تلاش کیا جائے اور اس کو پاک و صاف کیا جائے تاکہ استعمال کے قابل ہوسکے اور کندن بن سکے۔ضمیر اور فطرت بسا اوقات ماحول اورسماج کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور اپنی اصلی اور صحیح راہ سے منحرف ہوجاتے ہیں اور ان کا وجود اس قدر بے نور ہوجاتا ہے کہ بعض ماہرینِ نفسیات بھی اُن کے وجود سے انکار کر بیٹھتے ہیں۔
لہٰذا ایک سعادت مند اور پُر افتخار زندگی کے لئے ایک معصوم رہبر کی ضرورت ہے جو ہر شعبۂ حیات میں انسان کی راہ نمائی اور ہدایت کرسکے۔
بشری نظریات
جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے ہزاروں سال پہلے سے آج تک انسان نے اجتماعی اور انفرادی اصلاح کے لئے مختلف نظریات پیش کئے ہیں لیکن چوں کہ انسان کی معلومات نہایت محدود ہے سعادت اور کمال کے تمام پہلوؤں پر اس کی نظر نہیں ہے انسان اخلاقی اور مادی پہلوؤں سے بطور کامل آشنا نہیں ہے ا س بنا پر انسان کبھی اس بات پر قادر نہ ہوسکا کہ وہ کوئی ایسا نظریہ پیش کرسکے جو انسان کے تمام فطری تقاضوں کا بھر پور جواب ہو۔
ڈاکٹر ’’بروز‘‘ کاکہنا ہےکہ میں نے چند سال قبل ’’اینسٹائن‘‘ کو کہتے ہوئے سُنا:
’’علم ہمیں ان چیزوں سے آگاہ کرتا ہے جو ہیں لیکن دین(وحی) ہمیں ان چیزوں سے آگاہ کرتا ہے جنھیں ’’ہونا چاہیے____‘‘
(کتاب فائدہ ولزوم دین ص۵ نقل از الثقافۃ الاسلامیہ‘‘ مقالہ ڈاکٹر پلربروز ، زیرعنوان اسلام میں رابطۂ علم دین۔)
ویکٹر ہیگو کا کہناہے: انسان جتنی زیادہ ترقی کرتا جائے گا۔ اسی اعتبار سے دین کی ضرورت زیادہ ہوتی جائے گی۔
(کتاب سابق، ص۵ نقل از آئین سخنوری جلد۲ تالیف و ترجمہ ذکاء الملک فروغی۔)
اس کے علاوہ افکار ونظریات کی راہ میں ایک اہم اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ انسانی عقل نے جن نظریات کا اظہار کیا ہے کہ وہ صددر صد(سوفی صد) صحیح اور کامل ہیں۔ لیکن انسانی نظریات کے پاس کوئی نفاذی ضمانت نہیں ہے کیوں کہ بہت سے لوگوں کے لئے یہ بات علم اور تجربہ کے ذریعہ ثابت ہوچکی ہے کہ شراب ، جوا، چوری ، جرم یہ تمام چیزیں سماج کے لئے کس قدر مضر اور نقصان دہ ہیں لیکن اُس کے باوجود یہ حضرات اس میں گرفتار ہیں اور اس کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔
اس حقیقت سے سب اچھی طرح واقف ہیں کہ وہ ’’اقوام متحدہ‘‘ جس کے دنیا کے اکثر وبیشتر ممالک ممبر ہیں۔ دنیا کا یہ عظیم ترین ادارہ اس قدر مجبور اور ناتواں ہےکہ اس کے اکثر دستورات وقوانین صرف کاغذ کی حدود تک محدود رہ جاتے ہیں اور اس کے آگے دنیائے عمل میں قدم نہیں رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسانی افکارونظریات کے پاس کوئی ’’نفاذی ضمانت‘‘ نہیں ہے وہ افکار و نظریات کو قبول کرلیتا ہے لیکن خود ہی ان پر کاربند نہیں رہتا ہے۔
لیکن آسمانی قوانین جس کا سرچشمہ علم خداوندی ہے جو لامحدود ہے جہاں اشتباہ اور خطا کا گمان تک نہیں ہے اور اس کی منزل پیغمبروں کا قلب مطہر ہے لہٰذا آسمانی قوانین کے اثرات کہیں زیادہ ہیں۔
اس کے علاوہ ہر فعل کے انجام یا ترک پر جزا اور سزا معین کی گئی ہے۔ یہ چیز آسمانی قوانین کو اور زیادہ عملی بنادیتی ہے۔ عقل اور فکر تنہا کوئی ’’نفاذی ضمانت‘‘ نہیں رکھتے بلکہ ضروری ہے کہ جس چیز کو انسانی عقل نے تشخیص کیا ہے غیب سے اس کی تائید او ر توثیق و( تصدیق) ہوتا کہ وہ عملی ہوسکے۔
یہاں تک یہ بات باقاعدہ روشن ہوگئی کی فطرت ، ضمیر اور بشری نظریات تنہا انسان کے لئے سعادت کی راہیں معین نہیں کرسکتے ہیں اور نہ بطور کامل اس کی راہنمائی کرسکتے ہیں۔ ہاں ان تمام چیزوں میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ پیغمبروں کی نجات بخش گفتار اور آسمانی قوانین کے ذریعہ ان کی صحیح تربیت کی جائے تاکہ یہ چیزیں منحرف اور بے راہ روی کا شکار نہ ہونے پائیں اور انسان کو نیکی اور کامیابی کے ساحل سے ہم کنار کردیں۔
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں انبیاء علیہم السلام کی غرضِ بعثت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’خداوندعالم نے پیغمبروں کو اس لئے بھیجاتا کہ وہ فراموش شدہ نعمتوں کو یاددلائیں اور عقل و فکر کے پوشیدہ خزانوں کو ابھاریں اور صحیح راہ پر لگائیں۔‘‘
اگر یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ تمام انسانی افکار و نظریات صحیح ہیں تو کیا قدرت مند اور صاحبانِ ثروت و اقتدار اس بات کی اجازت دیں کہ حق کو باطل سے جُدا کیا جاسکے اور اس کی معرفت حاصل کی جاسکے بلکہ یہ صاحبانِ ثروت و اقتدار اپنے اقتدار اور تمام دوسری کوششوں سے حق کے حقیقی چہرے کو چھپادیں گے تاکہ لوگ صحیح اور غلط کے درمیان تمیز نہ دے سکیں اور حق کو قبول نہ کرسکیں۔
اس کے برخلاف و ہ قوانین جو خدائی ہیں لوگ معجزات اور دوسری نشانیوں کے ذریعہ ان کی سچائی کو پرکھ سکتے ہیں کہ خداوندعالم نے ان قوانین کو پیغمبروں کے ذریعہ ہم تک بھیجا ہے۔ ان پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس طرح سے ان تمام لوگوں پر بھی حجتِ خدا تمام ہوجاتی ہے جو اس کے آئین کی مخالفت کرتے ہیں تاکہ قیامت کے دن ان کے لئے کوئی بہانہ باقی نہ رہے اور یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے پا س کوئی ذریعہ ہی نہ تھا جس کے ذریعہ ہم دین الٰہی کی معرفت حاصل کرسکتے۔
ضرورتِ بعثت
چونکہ:
۱۔ زندگی کے ہر شعبہ میں کمال کی ارتقائی منزل طے کرنا غرضِ خلقت ہے۔
۲ ۔تنہا فطرت اور ضمیر اسے کمال کی آخری منزل تک نہیں پہنچا سکتے ہیں۔
۳۔ بشری نظریات بھی تمام فطری تقاضوں کا صحیح جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی ’’نفاذی ضمانت‘‘ بھی نہیں ہے۔
۴۔ انبیاء کا آنا اور معجزات کے ذریعہ ان کی نبوت کا ثابت ہونا اور ہر ایک کے لئے حق اور باطل کا جدا ہوجانا جس کے بعد کوئی بہانہ باقی نہ رہے تاکہ حق کی عدمِ معرفت کا عذر پیش نہ کیا جاسکے۔
اب یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ کمال کی ارتقائی منزل طے کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا آنا ضروری اور لازمی ہے۔ انبیاء کی غرضِ بعثت یہی ہے کہ وہ اس ارتقائی سفر میں انسان کو ان تمام باتوں کی طرف متوجہ کریں جو ضروری ہیں اور جن کی انھیں ضرورت ہے تاکہ سعادتِ حقیقی کی راہ میں قدم اٹھائیں۔ یہ تصور بالکل غلط ہے کہ خداوند حکیم اپنی مخلوقات کو بغیر کسی دستورِ حیات کے چھوڑ دے یا وہ اپنی مخلوقات کو قدرت مندوں کے حوالے کردے تاکہ یہ لوگ انسان کو اپنے ناجائز مقاصد کے لئے استعمال کریں اور اسے اس کے ارتقائی سفر سے باز رکھیں۔
عظیم فلسفی بوعلی سینا اپنی کتاب ’’شفا‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’انسان کی بقا اور حصولِ کمال کےلئے انبیاء کی بعثت پلک اور ابرو کے اوپر بال اُگنے سے اور تلوے کی گہرائی (جس کے بغیر انسان صحیح طورسے کھڑا نہیں ہوسکتا ہے)سے کہیں زیادہ ضروری اور لازمی ہے۔‘‘
(کتاب شفا بحث الہیات فصل نبوت)
غرض خلقت کے حصول کے لئے مادی اور معنوی منزل میں کمال حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خداوندعالم انبیاء علیہم السلام کو بھیجے تاکہ مشعل ِوحی کے ذریعہ بشریت کی ہدایت کریں۔
ہشام ابن حکیم کا بیان ہے:
ایک شخص (جو خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا) نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ نے ضرورتِ بعثت اور انبیاء علیہم السلام کو کہاں سے ثابت کیا ہے؟اور اس کی دلیل کیا ہے؟
امام ؑنے ارشاد فرمایا :
’’جب ہم یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ ہم کو ایک ذات نے پیدا کیا ہے جس میں مخلوقات کی کوئی صفت نہیں پائی جاتی ہے وہ حکیم ہے اور ہر چیز سے بلند و بالا ہے ، لوگ نہ تو اس کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس کومس کرسکتے ہیں تاکہ اس سے بحث وگفتگو کریں اور اپنے احکام اس سے دریافت کریں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کے نمائندے ہوں تاکہ اس کے اور مخلوقات کے درمیان واسطہ او ررابطہ ہو۔
لوگوں کو ان کے سودوزیاں(نفع ونقصان) سے آگاہ کریں اور ان کی بقا اور فنا جس چیز سے مربوط ہے اس کی طرف انھیں متوجہ کریں اور بتائیں کہ کون سے کام انھیں انجام دینا ہے اور کس چیز سے پرہیز کرنا ہے۔ پس ایسے افراد کاوجود ضروری ہے جو لوگوں کے درمیان امرونہی کے فریضہ کو انجام دیں۔
خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہوں یہ مقدس ہستیاں انبیاء علیہم السلام ہیں جو خداوندعالم کے برگزیدہ بندے ہیں جنھیں خدا نے ادب وحکمت کے زیور سے آراستہ کیا اور انھیں مبعوث فرمایا ہے۔ انبیاء اور پیغمبر گرچہ شکل وصورت کے لحاظ سے تمام لوگوں سے مختلف نہیں ہیں لیکن روحی اور معنوی صفات میں کوئی ایک بھی ان کا شریک نہیں ہے۔ خداوندعالم نے انھیں علم وحکمت کے ذریعہ انبیاء اور پیغمبروں کی شناخت اور ان کے دعویٰ کی صداقت کے لئے دلیلیں معین کی اور ان کو معجزات عطا فرمائے تاکہ زمین حجتِ حق سے خالی نہ رہے۔‘‘
(اصول کافی جلد۔۱، صفحہ۱۶۸۔ طبع آخوندی۔)
آسمانی قوانین کسی خاص محور پر گردش نہیں کرتے ہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں پر ان کی گرفت ہے۔
حکومت،عدالت،اقتصاد، حکمت، پاکیزگی، شرافت، برادری، برابری، ہدایت، تربیت، علم ودانش، قدرت و طاقت ، انفرادی اور اجتماعی و ظائف، عبادت،…… اور وہ عمومی قوانین جو اپنے دامن میں جزئیات لئے ہوئے ہیں، یہ تمام کی تمام چیزیں ایک آسمانی دین کا مقصد اور ہدف ہیں اور اس طرح سے انسان کی پرورش اور تربیت کی جاتی ہے کہ وہ زندگی کے تینوں پہلوؤں میں باقاعدہ کمال حاصل کرے اور اپنے ارتقائی سفر کوسعادت مندی اور کامیابی کے ساتھ طے کرسکے۔
آسمانی ادیان نے کسی خاص طبقہ کو مورد نظر(قابل توجہ) قرار نہیں دیا بلکہ تمام طبقات پر نگاہ رکھی ہے اور تمام انسانوں کے حقوق بیان کئے ہیں۔ پس وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ دین اور مذہب حکمراں اور ثروت مند طبقوں کی پیداوار ہے یا اسے زمیں داروں اور سرمایہ داروں نے اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کے لئے وجود دیا ہے اور اسے گڑھا ہے، ایسا خیال کرنے والے دین کے مطالب و مقاصد سے ناواقف ہیں تاریخ کے صفحات اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ جب مرسل اعظمؐ نے دین کی تبلیغ شروع کی تو اس میں سرمایہ داروں کا کوئی ہاتھ نہ تھا اور نہ ان کی پشت پناہی حاصل تھی بلکہ دین نے ہمیشہ سرمایہ داروں اور زمیں داروں کے ستم وظلم کے خلاف آوازِ انقلاب بلند کی اور ان سے سرِمیدان جنگ کی۔
حکمراں ، علماء و دانش مند ، دیہاتی وشہری تہی دست اور آسودہ حال….. نے صرف اس لئے دین اسلام قبول کیا کہ ان کے تمام فطری تقاضوں کا جواب صرف اسلام کے دامن میں موجود تھا ۔ تنہا دین میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ تمام افرادِ بشر کو کمال کی راہ پر گامزن کرے اور اس ارتقائی سفر میں ہر قدم پر ان کی رہنمائی کرتا رہے خوش قسمتی سے آج کل علماء و دانش مند حضرات دین کی عظمت اور اہمیت کے قائل ہورہے ہیں اور اس حقیقت کے معترف ہیں کہ حقیقی امن و امان اطمینان بخش اور آسودہ زندگی صرف دین اور ایمان کے سایہ میں میسر ہے اور بس۔
ضرورت معجزہ
جب یہ بات باقاعدہ روشن ہوگئی کہ سعادتِ کامل کے حصول کے لئے پیغمبروں اور انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی کی سخت ضرورت اور احتیاج ہے اور صرف انہیں کی تعلیمات کے سایہ میں سعادت مند زندگی کی تعمیر ہوسکتی ہے اور انہی کی ڈالی ہوئی بنیاد پر منزلِ ارتقا کی تعمیر کی جاسکتی ہے جس کی بنیاد پر انسان اپنے دل کی گہرائیوں میں انبیاء علیہم السلام سے ایک خاص عقیدت، خلوص اور محبت محسوس کرتا ہے۔
یہ عقیدت اور خلوص اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ لوگ تعلیماتِ انبیاء کی تبلیغ اور نشرواشاعت کی راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے بلکہ انبیاء علیہم السلام کی فرمائشات کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتے اور ان کے احکام کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
انبیاء علیہم السلام سے یہ عقیدت ، خلوص اور دل کی گہرائیوں سے ان کے احکام نافذ کرنا یہ سب چیزیں بعض جاہ طلب اور اقتدار پرست کی نگاہوں میں کھٹکیں اور وہ اس فکر میں پڑگئے کہ کس طرح سے اس عقیدت اور خلوص سے غلط فائدہ اٹھایا جائے تاکہ اپنی خواہشات پوری کی جائیں۔
لہٰذا اگر کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کچھ لوگ اس کے گرد جمع بھی ہوگئے تو ہمیں بغیر سوچے سمجھے اس کا معتقد نہیں ہوجانا چاہیے اور بغیر تحقیق کے اس کا کلمہ نہیں پڑھنا چاہیے کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ یہ شخص اپنے دعوے میں جھوٹاہو اور اس نے غلط اور بے بنیاد دعویٰ کیا ہو۔ کیوں کہ اب تک متعدد افراد نبوت کا دعویٰ بھی کرچکے ہیں اور اکثر ان کے معتقد بھی ہوگئے تھے۔
دعوائے نبوت کی صداقت اور حقانیت دریافت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پیغمبر اپنے دعوائے نبوت کے ثبوت میں کوئی ایسی مستحکم دلیل پیش کرے جس سے سب کو اطمینان اور یقین حاصل ہوجائے تاکہ اس طرح سچے اور برحق نبی اور جعلی پیغمبروں کے درمیان امتیاز کیا جاسکے اور ایک کو دوسرے سے جدا کیا جاسکے۔
وہ دلیل اور وہ نشانی جس کے ذریعہ انبیائے برحق کی معرفت حاصل کی جاتی ہے اس کو معجزہ کہا جاتا ہے۔ مخلوقات کو اشتباہ اور جعل سازوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خداوند عالم نے انبیاء علیہم السلام کو معجزات عطا فرمائے ہیں تاکہ نبی برحق کی معرفت میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور حقانیت باقاعدہ آشکار ہوجائے۔
یہاں تک ہم یہ بات سمجھ چکے کہ انبیاء علیہم السلام کا صاحب معجزہ ہونا نہایت ضروری اور لازمی ہے تاکہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور اس کے نمائندہ ہیں اور جو کچھ یہ حضرات فرمارہے ہیں سب حق اور حقیقت ہے تاکہ لوگ آسودہ خاطر ہوکر ان کے احکام سُنیں ،ان پر ایمان لائیں اور اپنی عملی زندگی میں ان کی باتوں پر عمل کریں۔
معجزہ کیا ہے؟
معجزہ یعنی وہ کام جسے انبیاء علیہم السلام اپنے دعوائے نبوت کے ثبوت میں ارادہ اور مشیتِ خداوندی سے انجام دیتے ہیں جب کہ دوسرے لوگ اس کام کی انجام دہی سے بالکل قاصر ہیں۔
معجزہ صرف ثبوت ِرسالت کے لئے
بعض بہانہ کے متلاشی لوگ اپنے ذاتی عناد اور عداوت کی بنا پر نہ کہ ثبوتِ رسالت کے لئے بلکہ انبیا سے پرخاش(لڑائی) کی بنا پر ان سے اس بات کا مطالبہ کرتے تھے کہ وہ فلاں فلاں کام انجام دیں اور بسا اوقات تو ایسی چیزوں کا سوال کرتے تھے جو عقلی طور پر محال ہیں لیکن انبیاء علیہم السلام نے اپنی نبوت کے اثبات کے لئے بکثرت معجزات پیش کئے تھے جس کی بنا پر وہ ان لوگوں کے مطالبات کا کوئی جواب نہ دیتے تھے اور انھیں یہ بات سمجھادیتے تھے کہ ہمارا مقصد افرادِ بشر کی ہدایت ہے اور انھیں ان کے انجام سے ڈرانا ہے اور بعض ضروری مواقع پر مشیت اور ارادۂ خداوندی سے معجزات بھی پیش کرتے تھے۔
قرآن حکیم ایسے افراد کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّمَا الْآیَاتُ عِنْدَاللہِ وَاِنَّمَا اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔
(سورۂ عنکبوت۔ آیت ۵۰)
’’میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں ۔ تمام نشانیاں خدا کے پاس ہیں۔‘‘
قرآن ایک جگہ اور ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ۔
(سورۂ مومن۔ آیت۷۸)
’’کسی نبی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بغیر اذنِ خدا کے کوئی نشانی (معجزہ) پیش کرے۔‘‘ عصمتِ انبیاء