خداوند حکیم اورمہربان نے انبیا مبعوث فرمائے تاکہ ان کی رہبری میں کاروانِ بشریت صحیح راہ پر گامزن رہے اور ضلالت کی وادیوں میں نہ بھٹکے۔ معراجِ کمال وارتقا کی آخری منزل تک پہنچ جائے اور اپنے کو انسانی صفات اور اخلاقی عادات سے آراستہ کرے۔
اسی بنا پر خداوند حکیم اور مہربان نے اپنے تمام انبیا کو ہر قسم کی خطا اور اشتباہ اور گناہ سے محفوظ اورمعصوم رکھا تاکہ زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی صحیح اور کامل رہنمائی کرسکیں اور ان میں احکام خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھردیں اور انھیں اِدھر اُدھر بھٹکنے سے محفوظ رکھیں۔
وہ دلیل جو ضرورت انبیا کے ذیل میں بیان کی گئی ہے ، وہی دلیل انبیا کے لئے عصمت کو ضروری قرار دیتی ہے۔ انسانیت کی رہبری کے لئے انبیاء کا معصوم ہونا نہایت ہی ضروری ہے ۔ کیوں کہ بعثتِ انبیاء کی غرض اور مقصد انسان کی تربیت اور کاروانِ بشریت کی ہدایت کی طرف رہنمائی ہے۔ یہ مقصد صرف عصمت ِانبیاء کے سایہ میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ بات بدیہی(واضح) ہے کہ گناہ، خطا، اشتباہ ، بے مقصد امور ، ان تمام چیزوں کا انجام یہ ہے کہ لوگ متنفر ہوجائیں گے اور ان کا اعتماد اٹھ جائے گا اور اس طرح مقصدِ بعثت فوت ہوجائے گا اور لوگوں کی ہدایت اور تربیت نہ ہوپائے گی۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی عقل مند اپنے مقصد و ہدف کو بے کار نہیں کرتا ہے ۔ بطور مثال: ایک شخص کی خواہش ہے کہ اس کی محفل و جشن میں معزّز اور محترم ہستیاں شرکت کریں، اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ یہ شخصیتیں اس وقت تک تشریف نہیں لائیں گی جب تک انھیں باقاعدہ دعوت نہ دی جائے۔ ان لوگوں کو دعوت دینے کے لئے وہ کبھی بھی ایسے شخص کو منتخب نہیں کرے گا جس کو دیکھتے ہی لوگ متنفر ہوجائیں ، بلکہ وہ ایسے شخص کو تلاش کرے گا جو اُن لوگوں کے نزدیک محترم اور قابلِ اعتماد ہو۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور صورت اختیار کی تو کوئی بھی اس کے فعل کو عاقلانہ نہ کہے گا اور نہ اس شخص کو عقل مند کہے گا بلکہ سب اس کی مذمت ہی کریں گے۔
خداوندحکیم اور مہربان نے ان تمام چیزو ں کا لحاظ رکھاہے جو انسان کی ہدایت اور تربیت میں مؤ ثر ہیں۔ خداوندعالم نے کبھی یہ نہ چاہا کہ انسان ہواوہوس کا پیرورہے اور ہوس رانوں کا آلۂ کا ربنارہے۔جس کی بنا پر وہ اپنے ارتقائی سفر کو طے نہ کرسکے اور اپنی زندگی کو کامل نہ بناسکے۔
خداوندعالم نے معصوم انبیا کو بھیجا تاکہ لوگوں کی ہدایت کریں اور بہترین طریقہ پر ان کی تربیت کریں۔
انبیا علیہم السلام کا معصوم ہونا کیوں ضروری ہے؟ ایک ذرا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:
تربیت
گذشتہ درس میں یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ بعثتِ انبیا کی غرض انسان کی تعلیم وتربیت ہے۔ یہ بات بدیہی (واضح)ہے کہ تربیت میں معلم اور مربی کا عملی کردار اُس کے قول سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
مربی (تربیت کرنے والا) کے کردار میں یہ اثر ہے کہ وہ لوگوں میں ایک بنیادی انقلاب پیدا کرسکتا ہے۔ تربیت کے اصول میں یہ بات قطعی ہے کہ انسان نفسیاتی طورپرمربی کے اخلاق و کردار، عادات و اطوار کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور اتنا زیادہ اس کا ہم رنگ ہوجاتا ہے جس طرح صاف و شفاف پانی میں آسمان کا عکس۔ یہ پانی بھی آسمانی رنگ کا معلوم ہوتا ہے۔
صرف گفتار میں یہ صلاحیت نہیںہے کہ وہ صحیح طورپر تربیت کرسکے۔ بلکہ تربیت (جو کہ مقصدِ بعثت ہے) کے لئے ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام ایسے صفات و عادات سے آراستہ ہوں جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو اور ان سے خطا ولغزش کا بھی امکان نہ ہو، تاکہ کامیابی سے انسان کی تربیت کرسکیں اور ایک مقدس مقصد کی طرف اس کی صلاحیتوں کو جذب کرسکیں۔
یہ واضح ہے کہ جو خود گناہ گار ہوگا خواہ اس نے گناہ کا ارتکاب کتنی ہی تنہائی میں کیا ہو کسی کو اس کی خبر تک نہ ہوئی ہو اور یہ شخص اپنے کو لوگوں کے سامنے کتنا ہی زیادہ پارسا و پاکیزہ ظاہر کرے ،ایسے شخص میں ہرگز وہ روحی استقامت اور معنوی ثبات نہ ہوگا جس کی بنا پر انسانوں میں بنیادی اور روحی انقلاب لاسکے۔
جو شخص خود شراب خوار ہے وہ دوسروں کو شراب خواری سے کیوں کر روکے گا، اور کیوں کر اس لت(خصلت) سے برسرِپیکار ہوگا۔
انبیاء علیہم السلام خاص کر آنحضرت ؐ کا گناہ آلود اور فسادپرور معاشرے سے سخت اذیت محسوس کرنا اور سماج کے درد میں بیکل(بے چین) رہنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تمام حضرات گناہ اور خطا سے پاک تھے۔
انبیاء علیہم السلام کی کامیابی کا ایک اہم راز ہے کہ ا ن کے کردار و گفتار ، افعال واقوال میں زبردست اتحاد تھا۔ یہی گفتار و کردار کا اتحاد تھا جس نے سماج میں انقلاب برپا کردیا اور لوگوں کی منزل کمال و ارتقا کی طرف رہنمائی کی۔
جذب واعتماد
کہنے والے پر جس قدر اعتماد ہوگا اور جتنا زیادہ ایمان ہوگا، اسی قدر لوگ اس کی بات کو جذب اور قبول کریں گے اس کے برخلاف جس قدر اعتماد و ایمان میں کمی ہوگی لوگ اسی قدر اس بات کو کم قبول کریں گے۔
انبیاء علیہم السلام جو احکام خداوندی کے ترجمان تھے اور لوگوں کو گناہ کی آلودگی سے باز رکھنے والے تھے ان کےلئے بدرجۂ اولیٰ لازمی ہے کہ وہ ہر عالی صفت سے متصف ہوں اور ہر انسانی اخلاق سے آراستہ ہوں۔ ہر قسم کے گناہ ، خطا ، بلکہ اشتباہ سے دور ہوں تاکہ لوگوں کا اعتماد بڑھتا جائے اور ایمان و عقیدت میں اضافہ ہوتا جائے اور جس قدر یہ ایمان مستحکم ہوگا اسی قدر لوگ ان کی باتوں کو زیادہ سے زیادہ جذب اور قبول کریں گے۔ اور ان کے احکام کے نفاذ کے لئے ان کو عملی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اور دل کی گہرائیوں سے ان کو اپنا رہبر اور ہادی مانیں گے تاکہ بعثت کا مقصد حاصل ہوجائے اور انسان معراجِ کمال تک پہنچ جائے۔ اگر یہ صورت نہ ہوئی (انبیاء کا معصوم ہونا) تو مقصدِ بعثت حاصل نہ ہوگا۔ یہ بات حکمت خداوندی سے بہت دور ہے۔
یہ انبیاء کی عصمت تھی جس کی بنا پر لوگ ان کے دل باختہ اور عاشق ہوگئے تھے۔ بعض لوگ محبتِ پیغمبرؐ میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے اور خود فراموش ہوگئے تھے کہ اطاعتِ پیغمبرؐ میں اپنی جان تک کی بازی لگادی۔
آیا ہوسکتا ہے کہ ایک انسان ہر قسم کے گناہ و لغزش سے پاک و پاکیزہ ہو اور اصطلاح میں معصوم ہو؟ آئیے اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں اور اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہیں۔
حقیقی محبت
انبیاء علیہم السلام عشق الٰہی سے سرشار تھے اور کیوں نہ ہوں؟ کیوں کہ یہ حضرات خداوند عالم کو تمام دوسرے لوگوں سے زیادہ پہچانتے تھے۔ اس کی عظمت ، بزرگی، شکوہ، جلال سب ان کی نگاہ کے سامنے تھیں۔ ان کو خدا کی بزرگی کا یقین تھا۔ خدا کو قابلِ عشق اور اس کو اطاعت کے لائق جانتے تھے۔ صرف ان کی رضا اور خوشنودی ان کی نظروں کے سامنے تھی۔خدا کے علاوہ کوئی بھی چیز ان کی نظروں میں نہ آتی تھی۔ تمام چیزوں کو اس پر فدا کردیتے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ کس کی اطاعت کرنی چاہیے۔
یہی وجہ تھی کہ انبیاء علیہم السلام تبلیغ کی راہ میں ہر مشکل اور ہر حادثہ کا استقبال کرتے تھے۔ وہ بحرانی دور میں بھی کشادہ روی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اور خدا کی طرف متوجہ رہتے تھے ، خدا کی راہ میں سختیاں برداشت کرنے میں انھیں خوشی محسوس ہوتی تھی۔
انبیاء علیہم السلام کی فداکاریاں، جانبازیاں، قربانیاں اور اس کے مقابلہ میں لوگوں کی بدسلوکی ، بدرفتاری…… سب تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔ مشکلات میں ثابت قدم رہنا، پامردی سے ان کا مقابلہ کرنا، خدا کے احکام کی تبلیغ کرنا ان سب کا سرچشمۂ عشق خداوندی کے علاوہ اور کیا ہے۔
جو راہِ خدا میں اس قدر ڈوبا ہوا ہو، فکر وخیال میں صرف خدا اور صرف خدا کا تصور ہو،دل ودماغ کی گہرائیوں میں بس اسی کا خیال ہوتو کیا ایسے شخص سے خدا کی نافرمانی کی امید کی جاسکتی ہے____؟ نہیں ۔ بلکہ یہ شخص ہمیشہ اس کی اطاعت میں ہمہ تن مشغول و مصروف رہے گا۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا گیا:یا رسول اللہ!ؐ آپ (عبادت میں) اس قدر کیوں زحمت برداشت کرتے ہیں جب کہ آپ ہر قسم کے گناہ سے پاک وپاکیزہ ہیں؟ تو اس وقت رسولِ خدا ؐ نے ارشاد فرمایا:
’’اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔‘‘
کیا میں شکرگزار اور سپاس گزار بندہ نہ بنوں۔
(تفسیر نورالثقلین ج۲،ص۳۶۷)
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے پیغمبر اسلامؐ کی صفات کی طرف یوں اشارہ فرمایا:
’’خداوند عالم نے آنحضرتؐ کو رسول اور پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا اس حالت میںکہ آپ ؐ لوگوں کو بشارت دینے والے اور ان کے ڈرانے والے تھے۔ اپنے بچپن میں سب سے برتر اور بڑھاپے میں سب سے افضل و بہتر تھے۔ آپؐ کی طبیعت ہر متقی سے پاکیزہ ترتھی بارانِ جو دوسخا ہر سخی سے کہیں زیادہ وسیع اور تیز تھی۔‘‘
(تاریخ طبری ج۵، ص۲۲۶۹،ص۲۲۷۱)
’’آپؐ ہر متقی وپرہیزگار کے امام اورہرہدایت یافتہ کی روشنی ہیں۔‘‘
(نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۵)
ہاں انبیاء علیہم السلام کی معرفت کامل اور عشقِ حقیقی انھیں ہر خطا اور ہر لغزش سے محفوظ رکھےتھا۔ ارتکاب گناہ کیسا، بلکہ یہ لوگ خیال اور تصورِ گناہ سے کوسوں دور تھے۔
معرفتِ کامل
تمام انسانوں کی فکر اور معرفت ایک جیسی نہیں ہے۔ ایک جاہل کبھی بھی جراثیم کے بارے میں اس طرح فکر نہیں کرے گا جیسا کہ ایک ڈاکٹر فکر کرتا ہے۔ ایک وہ ڈاکٹر جس نے مدتوں جراثیم کے بارے میں تحقیق اور جستجو کی ہے اور برسوں خوردبین کے ذریعہ اس کی آزمائش کی ہے اور اس کے اثرات کو دیکھاہے اسے تمام اشخاص کا انجام معلوم ہے جو اس مسئلہ میں لا اُبالی ہیں اور جراثیم کوکوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر کبھی بھی جراثیم کے بارے میں لاپرواہی نہیں برتے گا۔
اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جاہل جراثیم کے اثرات سے ناواقف گندہ پانی استعمال کرلیتا ہے اسے کسی چیزکی کوئی فکر بھی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن وہ ڈاکٹر ہرگز اس پانی کو استعمال نہیں کرے گا بلکہ اس کے استعمال کی فکر بھی نہیں کرے گا۔
اس اجتناب کاسبب ڈاکٹر کا علم اور اس کی معرفت ہے جس طرح سے جاہل کیچڑ کو استعمال نہیں کرتا ہے کیوں کہ کیچڑ کے مضرات(نقصانات) سے آگاہ ہے اور اس کے نقصانات کا اسے علم ہے لیکن ایک سال کا بچہ کیچڑ سے بھی پرہیز نہیں کرے گا کیوں کہ اسے اس کے نقصانات کابالکل علم نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اکثر اشخاص تدریجی نقصانات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے ہیں جب کہ یہی لوگ ناگہانی بلا سے وحشت زدہ ہوجاتے ہیں اور اس کے روک تھام کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے وہ شخص جس کے دانت میں کیڑے لگ گئے ہیں وہ ان کو نکلوانے میں کاہلی اور سستی برتتاہے اور ڈاکٹر تک جانے کے لئے آج اور کل لگائے رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے سارے دانت خراب ہوجاتے ہیں پھریہ شخص مختلف امراض کا شکار ہوجاتا ہے اور طرح طرح کے درد میں مبتلا ہوجاتا ہے لیکن یہ شخص جب گُردے میں تکلیف محسوس کرتا ہے تو فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ علاج کراتا ہے۔
اگر کوئی پڑھا لکھا ڈاکٹرشراب خواری کا عادی بن جائے تو وہ اس وجہ سے ہے کہ وہ شراب کے روحانی اور معنوی نقصانات سے بے خبر ہے۔ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہوئے اس کے تدریجی ضرر کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا ہے۔
عام طور سے لوگ گناہ کو ایک سطحی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے تمام دوسرے پہلوؤں پر نظر نہیں ڈالتے ہیں، گناہ کا اثر روح اور جسم پر کیا ہوتا ہے اس سے لوگ بے بہرہ رہتے ہیں۔ لیکن انبیاء علیہم السلام جو معرفت اور علم کے لحاظ سے تمام لوگوں سے افضل او ربرتر ہیں وہ گناہ کی حقیقت سے خوف واقف ہیں۔ دنیائے آخرت میں گناہ کے اثرات کیا ہوں گے اسے وہ اسی دنیا میں اپنی معنوی طاقت کی بنا پر مشاہدہ کرتے ہیں۔ لہٰذا کبھی بھی خواہشاتِ نفس کے سامنے تسلیم نہیں ہوتے ہیں او رنہ وہ اپنے دامن کو گناہ سے آلودہ کرتے ہیں بلکہ ان کے دل ودماغ میں فکرِ گناہ بھی راہ نہیں پاتی ہے۔
عالمِ آخرت اور عالم برزخ میں گناہ کے اثرات کا باقاعدہ مشاہدہ کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے ۔ اس ذیل میں پیغمبر اسلامؐ سے متعدد روایتیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے بعض کو یہاںذکر کیا جاتا ہے:
حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کا بیان ہے: ہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ہمراہ پیغمبر اسلامؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے دیکھا کہ آنحضرت ؐ بشدت گریہ فرمارہے ہیں۔ میں نے رسول خداؐ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہؐ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں! آپ کیوں گریہ فرمارہے ہیں؟
آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: میں جس شب معراج میں لے جایا گیا، وہاں میں نے اپنی امت کی عورتوں کو سخت ترین عذاب میں مبتلا دیکھا۔ ایک عورت کو دیکھا کہ بال باندھ کر لٹکا دی گئی ہے او راس کا بھیجہ آ گ کی شدت سے کھول رہا ہے۔ دوسری عورت کو دیکھا کہ زبان باندھ کر لٹکا دی گئی ہے اور اس کی حلق میں کھولتا ہوا پانی ڈالا جارہا ہے ایک دوسری عورت کو دیکھا کہ وہ اپنے بدن کا گوشت کھارہی ہے اور اس کے پیر کے نیچےآگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، ایک ا ور عورت کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ پیر باندھ دئے گئے ہیں اور جہنم کے سانپ و بچھو اس پر مسلط ہیں……. کسی کے گوشت کو آگ کی قینچی سے کاٹ رہے ہیں، کوئی کتے کی صورت میں ہے نیچے کی طرف سے آگ ڈالی جاتی ہے اور منھ سے نکلتی ہے۔ عذاب کے فرشتے اس پر آگ کے کوڑے برسارہے ہیں………
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے خدمتِ رسولؐ میں عرض کی کہ: ان عورتوں نے کیا کیا تھا جو اس طرح کے عذاب میں مبتلا ہوئیں؟
پیغمبر اسلامؐ نے ارشاد فرمایا، وہ عورت جو اپنے بالوں میں لٹکی ہوئی تھی یہ وہ عورت ہے جو دنیا میں اپنے بالوں کو نامحرموں سے نہیں چھپاتی تھی۔ وہ عورت جو زبان پر لٹک رہی تھی یہ وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کو اذیت دیتی تھی۔ وہ عورت جو اپنے بدن کا گوشت کھارہی تھی یہ وہ عورت ہے جو نامحرموں کے لئے آرائش کرتی تھی۔وہ عورت جس کے ہاتھ پیر باندھ دئے گئے تھے اور اس پر جہنم کے سانپ اور بچھو مسلط تھے۔ یہ وہ عورت ہے جو وضو، طہارت ، پاکیزگیٔ لباس اور غسلِ جنابت اور حیض کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھی اور نماز کو ہلکا اور سبک خیال کرتی تھی۔ وہ عورت جس کے گوشت کو آگ کی قینچی سے کاٹا جارہا تھا یہ وہ عورت ہے جواپنے کو اجنبی اور نامحرم کے سپرد کردیتی تھی، وہ عورت جو کتے کی صورت میں محشور ہوئی تھی اور اس کے نیچے سے آگ ڈالی جاتی تھی اور منہ سے نکلتی تھی یہ وہ عورت تھی جو دنیا میں گاتی بجاتی تھی………
اس کے بعد آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: لعنت ہو اس عورت پر جو اپنے شوہر کو غصہ دلائے اور خوش قسمت ہے وہ عورت جس سے اس کا شوہر راضی اور خوشنود ہو۔‘‘
(بحارالانوار جلد۱۸،صفحہ۳۵۱)
رسول خداؐ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ انھیں آگ کے قلابے میں لٹکایا گیا ہے ۔ میں نے جبرئیلؑ سے پوچھا :یہ لوگ کون ہیں؟جبرئیل نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنھیں خدا نے رزقِ حلال دیا تھا اور انھیں حرام سے بے نیاز ومستغنی کردیا تھا لیکن یہ لوگ حرام کا ارتکاب کرتے رہے۔
دوسرے بعض لوگوں کو دیکھا کہ اُن کی جلد آگ کے دھاگے سے سلی جارہی تھی پوچھا :یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرئیل نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لڑکیوں سے ناجائز روابط رکھتے تھے۔
(بحارالانوار جلد۱۸، ص۳۳۳)
آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا :جو لوگ سود خوار ہیں خداوند عالم ان کی پیٹ کو آتشِ جہنم سے بھردے گا جس قدر انھوں نے سودکھایا ہوگا۔
(ثواب الاعمال و عقاب الاعمال ، ص۳۳۶)
اس طرح آنحضرتؐ نے شراب خواری اور دوسرے گناہوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ یہ وہ بیانات ہیں جو انسانوں کو گناہ سے روکتے ہیں چہ جائیکہ پیغمبرؐ جو خود اپنی نگاہوں سے برزخ اور آخرت میں گناہوں کے اثرات دیکھ رہے تھے۔
مختصر یہ کہ آخرت کی یاد ، آخرت میں گناہوں کے اثرات کا مشاہدہ ، یہ وہ چیزیں ہیں جس کی بنا پر فعلِ گناہ تو درکنار انبیا فکرِ گناہ بھی نہ کرتے تھے۔
خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحٰقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ ﴿45﴾ إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ ﴿46﴾ وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ ﴿47﴾
(سورہ ٔ ص آیت ۴۵۔۴۶۔۴۷)
اے میرے پیغمبر ! یاد کیجئے ہمارے بندوں میں سے ابراہیمؑ، اسحٰقؑ اور یعقوب ؑ کو، کہ سب صاحب اقتدار اور بابصیرت تھے ہم نے انھیں اس بناپر خالص قرار دیا کہ وہ آخرت کی یادکیا کرتے تھے تو بے شک یہی ہمارے نزدیک منتخب اور نیک بندے ہیں۔