جناب موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت مصر میں دو قبیلہ ’’قبطی‘‘ اور ’’سبطی‘‘ نام کے رہتے تھے ۔ مصر کے فرمان روا۔’’فراعنہ‘‘ قبطی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور سبطی جناب یعقوب علیہ السلام کی نسل کےافراد تھے۔ اور بنی اسرائیل کے نام سے مشہور تھے بنی اسرائیل پہلے ’’کنعان‘‘ میں رہتے تھے اور یہی ان کی قدیمی جائے پیدائش تھی۔ لیکن جب جناب یوسف علیہ السلام مصر کے حاکم ہوئے تو اس وقت بنی اسرائیل کنعان سے مصر آگئے اور یہیں رہنے لگے۔ شروع شروع میں ان کی تعداد کوئی خاص نہیں تھی مگر دھیرے دھیرے ان کی تعداد میں اضافہ ہوتاچلاگیا اور باعزت قوم میں شمار ہونے لگا۔
جناب یوسف علیہ السلام کی وفات کے بعد اور مسلسل نافرمانیوں کی بنا پر یہ لوگ اپنی عزت و آبرو کھوبیٹھے اور اس قدر گرگئے کہ قبطی ان پر مسلط ہوگئے اور ان کا استحصال کرنے لگے۔ ان سے سخت سے سخت کام لیتے تھے اور ان پر ظلم وجور روا رکھتے تھے۔
مصر کے بادشاہ کا لقب ’’فرعون‘‘ تھا جو قبطی خاندان کا ایک فرد تھا۔ اس کے ہاتھ سبطیوں کے خون سے رنگین تھے ۔ وہ اس قدر طاقت ور اور بااقتدار تھا کہ اس کا مقابلہ کرنے کی کوئی فکر تک نہ کرتا تھا۔ وہ اس قدر’’خود پسندی میں ڈوبا ہواتھا کہ اپنے کو خدا کہنے لگا اور لوگوں کو اپنی عبادت اور بت پرستی کرنے پر مجبور کرنے لگا۔
لیکن فرعون اس بات سے غافل تھا کہ خداوند عالم کبھی بھی لوگوں کو نورہدایت سے دور نہیں رکھے گا اور اس کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ہمیشہ سے سنت خدا یہ چلی آرہی ہے کہ خداوند عالم نے پیغمبروں کے ذریعہ لوگوں کو جہل اور ظلم وستم سے نجات دلائی ہے۔ فرعون اس بات کااحتمال تک نہ دیتا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ غیب کے پردوں سے کوئی ہاتھ باہر آئے اور کوئی کارنامہ انجام دے۔
پیشن گوئی کرنے والوں نے فرعون کویہ اطلاع دی تھی کہ عنقریب بنی اسرائیل کی نسل سے ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو اس کی بادشاہت اور سلطنت کے لئے زبردست خطرہ ہوگا۔ یہ سُن کر فرعون غصہ سے بھر گیا اور فوراً ہی یہ حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے تمام بچے قتل کردئے جائیں اور بنی اسرائیل کا کوئی بھی بچہ زندہ نہ بچے۔
تمام تر کوششوں اور ناکہ بندیوں کے باوجود جناب موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
بنی اسرائیل کے سروں پر جو خطرہ منڈلارہا تھا اس کے ڈرسے جناب موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے اپنی تمام تر محبتوں کے باوجود الہام خداوندی کے اشارے پر جناب موسیٰ علیہ السلام کو ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کی موجوں کے حوالے کردیا۔
اپنے محل میں دریائے نیل کے کنارے ،فرعون اور اس کی زوجہ، دریائے نیل کی موجوں کو دیکھ رہے تھے کہ یکایک نظر صندوق پر پڑی، جس میں ایک بچہ لیٹا ہوا دریائے نیل کی بلند خیز موجوں پر آرام کررہا تھا۔ جس وقت زوجۂ فرعون کی نظر اس معصوم بچہ کے چہرہ پر پڑی تو اس کا دل بھر آیا اور اس بات پر راضی نہ ہوا کہ اس چھوٹے سے بچے کو دوبارہ دریا کے حوالے کردیا جائے ۔ وہ اپنے دل میں بچے کی محبت محسوس کرنے لگی۔ اس نے فرعون سے اس بات کی اجازت مانگی کہ اس بچہ کی حفاظت محل میں کی جائے اور اپنے بچہ کی طرح رکھا جائے۔ فرعون راضی ہوگیا اور اس امید پر کہ ایک دن یہ بچہ اس کے کام آئے گا اور اس کا سہارا ہوگا۔
دودھ پیتے بچے نے کسی بھی دایہ کے پستان کو منھ تک نہ لگایا اور یہ بات ایک مشکل بن گئی۔ آخر کار جنا ب موسیٰ علیہ السلام کی والدہ بلائی گئیں اور دایہ کے فرائض ان کے سپرد کئے گئے۔ انھوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو اپنی گود میں لیا اور دودھ پلانا شروع کردیا۔
کس قدر حیرت انگیز ہے۔
فرعون خود اپنے دامن میں اپنے دشمن کی پرورش کررہا ہے!
جناب موسیٰ علیہ السلام بڑے ہوئے خداوندعالم نے انھیں علم وحکمت سے نوازا۔ فرعون کے دربارکے تمام ظلم وستم جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام صرف ظلم ہی نہیں بلکہ مظالم کو دیکھ کر روحی اذیت محسوس کرتے اور اس کے انسداد(روکنے) کے لئے ہمیشہ سوچتے رہتے تھے۔
جناب موسیٰ علیہ السلام ایک دن راستہ میں ایک فرعونی کو دیکھا جو بنی اسرائیل کے ایک فرد سے دست و گریباں تھا بنی اسرائیل کے فرد نے جناب موسیٰ کو دیکھ کر انھیں اپنی مدد کے لئے پکارا ۔ جناب موسیٰ آگے بڑھے اورایک زبردست گھونسہ اس فرعونی کو رسید کیا جس کی وجہ سے وہ وہیں پرمر گیا۔
جناب موسیٰ علیہ السلام کا ارادہ اس فرعونی کو قتل کرنے کا نہ تھا۔ لہٰذا کہنے لگے کہ یہ حادثہ ایک شیطانی کام تھا اور شیطان انسان کو گمراہ کرنے والا اور کھلا ہواد شمن ہے۔
جناب موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ گئے ۔ دوسرے روز جناب موسیٰ علیہ السلام نے پھر اسی اسرائیلی کو دیکھا کہ ایک دوسرے فرعونی کے ساتھ دست وگریباں ہے۔ اس نے پھر اپنی مدد کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پکارا۔ جناب موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے کہ دونوں کو الگ کردیں اسرائیلی اس خوف سے کہ کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کو نہ ماریں کہنے لگا کہ: ’’کیا آپ مجھے کل کے شخص کی طرح قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
اس واقعہ کے بعد ہر وقت جناب موسیٰ علیہ السلام کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جانے لگی۔فرعونیوں کو اس بات کا مکمل یقین ہوگیا تھا کہ فرعون وقت کے قاتل یہی موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اسی لئے فرعون نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے لوگوں سے مشورے طلب کئے۔
فرعون کی طرف سے کچھ لوگ جناب موسیٰ علیہ السلام پر مامور کردئے گئے تاکہ وہ جناب موسیٰ علیہ السلام کا تعاقب (پیچھا)کریں۔ ا ن دنوں جناب موسیٰ علیہ السلام بہت ہی خوف و ہراس کی زندگی بسرکررہے تھے کہ ایک ’’خداشناس‘‘ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو اس بات سے آگاہ کیا کہ جس قدر جلد ہوسکے آپ اس شہر سے نکل جائیے کیوں کہ فرعونی آپ کے قتل کے درپے ہوگئے ہیں اور آپس بھی مشورے کررہے ہیں۔
خوف و ہراس کے عالم میں جناب موسیٰ علیہ السلام شہرِ مصر سے شہرِ ’’مدین‘‘ کی طرف روانہ ہوگئے اور ظالموں سے نجات پانے کے لئے بارگاہِ خداوندی میں دست بہ دعاتھے کہ ’’رَبِّ نَجِّنِی مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ۔‘‘ خدایا! مجھے اس قومِ ستم گر سے نجات دے۔
جناب موسیٰ علیہ السلام شہرِ مدین میں وارد ہوئے اور آرام کرنے کے لئے ایک کنوئیں کے کنارے ٹھہر گئے۔ کنوئیں کے کنارے بہت سارے لوگ اپنے جانوروں کوپانی پلارہے تھے لیکن لوگوں کی اس بھیڑ سے دور دو عورتیں اپنے گوسفندوں کو لئے منتظر کھڑی تھیں۔ جناب موسیٰ علیہ السلام ان کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور ان سے ان کے انتظار کا سبب دریافت کیا۔ انھوں نے کہا:
ہمارے والد بوڑھے اور ضعیف ہوچکے ہیں لہٰذا مجبوراً ہمیں ان گوسفندوں کو پانی پلانا ہوتا ہے ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ یہ لوگ چلے جائیں تاکہ ہم اپنے گوسفندوں کو پانی پلاسکیں۔
جناب موسیٰ علیہ السلام نے ان گوسفندوں کو پانی پلایا اور سیراب کیا۔ عورتیں اپنے گھر واپس چلی گئیں۔ جناب موسیٰ علیہ السلام جوکافی زیاد ہ تھک چکے تھے او ر بھوکے بھی تھے ساتھ میں بھی کوئی چیز نہ تھی تا کہ اپنی گرسنگی(بھوک) دورکرتے۔ سایہ میں آرام کرنے کے لئے بیٹھ گئے اور خدا سے دعا مانگی کہ وہ ان کی بھوک کا کوئی سامان کردے۔ ’’رَبِّ اِنِّیْ لِمَا اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ۔ تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ ان دونوں میںسے ایک لڑکی شرم وحیا کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے جناب موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئی اور کہنے لگی: ’’ہمارے والد آپ کو بلارہے ہیںتا کہ آپ کو آپ کے کام کی اجرت دیں۔‘‘
ان دونوں لڑکیوں کے والد جناب شعیب علیہ السلام تھے جو خدا کے نبی اور پیغمبر تھے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کے ہمراہ ہولئے اوراس سے کہنے لگے کہ میں تمھارے آگے چلتا ہوں اور تم پیچھے سے راستہ بتاؤ کیوں کہ میں اس خاندان (خاندان انبیاء) سے تعلق رکھتا ہوں جو عورت کے جسم پر پشت سے بھی نگاہ نہیں کرتے ہیں۔
اس طرح جناب موسیٰ علیہ السلام جناب شعیب علیہ السلام تک پہونچے اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا۔ جناب شعیبؑ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حوصلہ افزائی فرمائی اور فرمایاکہ اب ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے اب تم ظالموں سے نجات پاچکے ہو۔
وہ لڑکی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے گئی تھی حضرت شعیب ؑ سے کہنے لگی: بابا جان! آپ ان کو نوکر رکھ لیجئے کیوں کہ یہ شخص طاقت ور بھی ہے اورامانت دار بھی۔
جناب شعیبؑ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پاک دامنی اور امانت داری سے باخبر تھے ان دو لڑکیوں میں سے ایک کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زوجیت میں دے دیا اور یہ عہد لیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دس سال تک وہیں رہیں اور جناب شعیب علیہ السلام کے کام انجام دیتے رہیں۔ چنانچہ جناب موسیٰ علیہ السلام دس سال تک حضرت شعیبؑ کے پاس رہے اور ان کے گلہ کی نگرانی اور چوپانی کرتے رہے۔
(تفسیر نورالثقلین ج۴، ص۱۱۷؍۱۲۳۔)
دس سال کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے اہل وعیال کے ہمراہ مصر کا سفر کیا اثنائے راہ شب کی تاریکی اور سردی کی وجہ سے راستہ نظر نہیں آرہا تھا ہر طرف اندھیرا چھایا ہواتھا جس کی بنا پر راستہ دکھائی نہیں دےرہا تھا۔ جناب موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل وعیال کے ہمراہ سرگرداں اور پریشان تھے کہ ان کی نگاہیں آگ کے شعلے پرپڑیںفوراً اپنی زوجہ سے کہا:’’تم یہیں ٹھہرو میں آگ کی طرف جارہاہوں ہوسکتا ہے وہاں کوئی مل جائے (اس سے راستہ دریافت کیا جائے) اور تھوڑی سی آگ بھی لیتاآؤں تاکہ سردی کا مقابلہ کیا جاسکے۔‘‘ جناب موسیٰ علیہ السلام تیز قدم بڑھاتے ہوئے آگ کی طرف گئے اور جیسے ہی وہاں پہونچے ایک درخت سے آواز آئی:
’’یَا مُوْسیٰ اِنِّی اَنَا اللہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ۔۔۔۔‘‘
’’اے موسیٰ میں ہوں خدائے واحد میں ہوں سارے عالم کا پروردگار پس جو کچھ تمہاری طرف وحی کی جارہی ہے اُسے غور سے سنو۔
میں ہوں خدائے یکتا میرے سواکوئی اور خدا نہیں ہے۔ صرف میری عبادت کرو مجھےیاد رکھنے کے لئے نماز قائم کرو ۔ قیامت یقیناً آنے والی ہے____ تاکہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جاسکے۔‘‘
(استفادہ از سورۂ قصص آیات (۱۵۔۳۱) (سورۂ طٰہ آیات۔۱۳۔۱۶)
جناب موسیٰ علیہ السلام کےہاتھوں میں لکڑی کا ایک عصا تھا جس سے وہ عصا کا کام بھی لیتے تھے اور اسی سے اپنے گوسفندوں کے لئے پتیاں بھی توڑتے تھے اس وحی میں جناب موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ اپنے عصا کو زمین پر گرادو جناب موسیٰ علیہ السلام نے اسے زمین پر گرادیا۔ عصا نے ایک اژدہے کی شکل اختیار کرلی۔ یہ دیکھ کر جناب موسیٰ علیہ السلام ڈرے اور پیچھے ہٹے خوف کے مارے اپنی نگاہوں کو نہیں ہٹارہے تھے ۔آواز غیب آئی: اے موسیٰ واپس آؤ! ڈرو نہیں! مطمئن رہو! جناب موسیٰ علیہ السلام مطمئن ہوگئے۔ سکونِ قلب مل گیا۔ واپس آئے اور حکمِ خدا سے ہاتھ بڑھا کر اژدہے کو پکڑلیا۔ وہ اژدہا حکم خداوندی سے پھر عصا میں تبدیل ہوگیا پھر ایک حکم ہوا کہ اے موسیٰ اپنے ہاتھ کو گریبان میں لے جاکر باہر نکالو! جب جناب موسیٰ علیہ السلام نے ہاتھ گریبان سے نکالا تو اپنے ہاتھ کونورانی پایا جس سے ایک سفید نور ساچھن رہا تھا ۔ یہ نور ایسا نہ تھا جس سے کہ آنکھوں کو تکلیف ہو۔
یہ تھے جناب موسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو خداوندعالم نے عطافرمائے تھے تاکہ فرعون اور اس کے حوالی موالی کو ان کی پیغمبری میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ یہ تمام چیزیں اس لئے جناب موسیٰ علیہ السلام کو عطا کی گئی تھیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ موسیٰ علیہ السلام بس یوں ہی اپنے دل سے نبوت کا دعویٰ کررہے ہیں۔
خداوندعالم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ۔ اب جناب موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا آغاز ہوچکا تھا۔
جناب موسیٰ علیہ السلام نے پہلی ہی ملاقات میں فرعون کو اپنی نبوت ورسالت سے آگاہ کیا اور اسے عبادت خداوندی کی دعوت دی اور کہا : اگر تم پاک و پاکیزہ بننا چاہتے ہوتو میں تم کو تمھارے پروردگار کی طرف رہنمائی کرتا ہوں۔
فرعون نے پوچھا: تمھارا خدا کون ہے؟
جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میرا خدا وہ ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور اسی نے ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے۔
یہ جواب سن کر فرعون برانگیختہ ہوگیا اور جناب موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگا کہ میر ی نظر میں میرے علاوہ تمھارا کوئی اور خدا نہیں ہے اگر تم نے میری پرستش نہ کی تو تمھیں سخت سزادی جائے گی۔
جنا ب موسیٰ علیہ السلام نےکہا: اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے نشانیاں اور معجزات بھی پیش کروں اس وقت کیا کرو گے؟
فرعون نے کہا: کہاں ہیں تمھارے پروردگار کی نشانیاں ؟اگر سچے ہوتو لاؤ دکھاؤ؟
جناب موسیٰ علیہ السلام نے عصا کو زمین پر پھینک دیا یہ لکڑی کا عصا اژدھا بن گیا اور اپنے دست مبارک کو گریبان میں لے جاکر باہر نکالا اور اس نورانی اور دمکتے ہوئے ہاتھ کوفرعون کے روبرو کردیا۔ یہ دیکھ کر فرعون کے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی۔ ایک طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام ،ان کا خدا اور اس کی نشانیاں تھیں۔ دوسری طرف تخت و تاج، سلطنت و مملکت اور مصریوں پر تنہا حکمرانی تھی ۔خود پسندی اور غرور نے فرعون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے تسلیم ہونے سے روکا۔ لیکن ان نشانیوں کے مقابلے میں سخت حیران تھا۔ اپنے آپ سے کہا: ایسا ہے میں ان کو جادو گر مشہورکردوں؟ اسی خیال سے اپنے اطرافیوں سے کہنے لگا: یہ ایک جادو گرہے جو تمھیں تمھارےگھروں سے بے گھر کرنا چاہتا ہے تاکہ خود تمھاری جگہ پر قبضہ کرلے۔ اس کے بارے میں تم لوگوں کا کیا خیال ہے؟
کہنے لگے: انھیں روک لو اور جادوگروں کو بلاؤ تاکہ وہ اس پر غلبہ حاصل کریں اور اس کے جادو کو باطل کرکے اس کو رسوا کریں۔
فرعون نے یہ تجویز قبول کرلی۔ فرعون کی دعوت پر اس وقت کے تمام نامی گرامی اور کہنہ مشق جادوگرجمع ہوگئے۔ اس عظیم اجتماع میں فرعون نے جادوگروں سے یہ وعدہ کیا کہ اگر تم موسیٰ پر غالب آگئے تو میرے نزدیک ہر چیز کے تم مستحق قرارپاؤ گے۔
دلوں میں یہ خیال خام لئے کہ بس ابھی اپنے جادو کے ذریعہ موسیٰ علیہ السلام پر غالب آجائیں گے اور موسیٰ علیہ السلام کو رسوا کرکے فرعون کے نزدیک منصب و مقام کے سزاوار ہوں گے____ ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں زمین پر پھینک ہی تو دیں۔جادو کے اثر کی بنا پر یہ رسیاں اور لکڑیاں تماشائیوں کی نظروں میں سانپ معلوم ہونے لگیں جو سانپ کی طرح ادھر ادھر رینگ رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے حیرت کے مارے دانتوں میں انگلیاں دبالیں۔لیکن موسیٰؑ خدا کے ساتھ تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ خدا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا جب جناب موسیٰ علیہ السلام کی نوبت آئی تو جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے عصا کو جادو کے ڈھیر کی طرف پھینک دیا جسے فرعون کے دو جادوگروں نے اکٹھا کررکھا تھا۔ سب نے دیکھا کہ لکڑی کے عصا نے ایک زبردست اژدہے کی شکل اختیار کرلی۔ اژدہے نے ایک چکر لگایا اور جادوگروں کی بنائی ہوئی ساری چیزوں کو اس طرح نگل گیا گویا کہ اس سے پہلے وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔
سب سے پہلے یہی جادو گرحضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے سب نے ایک زبان اور ایک دل ہو کر کہا کہ: ’’ہم اس خدا پر ایمان لائے ہیں جو ساری کائنات کا اور حضرت موسیٰ اورہارون کا پرو ردگار ہے ۔‘‘ سب کے سب سجدے میں گر گئے اور اپنے کئے کی معافی چاہنے لگے۔
یہ دیکھ کر فرعون کے غصہ کا پارہ اور چڑھ گیا ۔ اس نے ان جادوگروں کو دھمکی دی مگر یہ لوگ جو جادو اور معجزہ کے فرق کو ہر ایک سے بہتر سمجھ رہے تھے انھیں اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگر نہیں ہیں ان کے پاس جو قدرت و طاقت ہے وہ خدا کی عطا کی ہوئی ہے اور جناب موسیٰ علیہ السلام واقعاً ایک سچے نبی ہیں جس کی بنا پر ان جادو گروں پر فرعون کی دھمکی کا ذرا سا بھی اثر نہ ہوا۔ فرعون نے ان سے کہا تم میں یہ جرأت کہ تم میری اجازت کے بغیر ایمان لے آئے میں تمھارے ہاتھ اور پیر کو جسم سے جُدا کردوں گا اور تمھیں کھجور کی شاخوں پر سولی دے دوں گا۔ فرعون یہ سوچ رہا تھا ایمان لانے کے لئے اس کی اجازت شرط ہے۔ مگر شاید اسے یہ معلوم نہیں ایمان لانے کے لئے اس کی اجازت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
جادوگر کہنے لگے: ہم تجھ کو ہرگز اس خدا پر ترجیح نہیں دیں گے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ایمان لانے والوں میں چوں کہ ہم پہلے ہیں لہٰذا خداوندعالم سے امیدِ مغفرت رکھتے ہیں تیرا جو جی چاہے انجام دے۔ ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ یہ دنیا صرف چند روزہ ہے اس کو ہرگز دوام وثبات نہیں ہے۔
ایمان میں ڈوبے ہوئے یہ آتشیں الفاظ بھی فرعون اور اس کے ماننے والوں کےلئے بے اثر تھے۔ یہ سب جاہ وجلال کے عاشق اور منصب و مقام کے فریفتہ تھے۔
انہی لوگوں نے بنی اسرائیل کو قید ی بنایا تھا عورتیں جن سے کوئی خطرہ نہ تھا انھیں زندہ رکھتے تھے اور ان سے سخت سے سخت کام لیتے تھے اور بچوں اور جوانوں کو قتل کردیتےتھے۔خداوند عالم نے بارہا ان کی کمزوریوں کو ظاہر کیا، انھیں ذلیل و خوار کیا تاکہ اس سے کچھ عبرت حاصل کریں۔ جب بھی ان پر کوئی بلانازل ہوتی اس وقت جناب موسیٰ علیہ السلام سے یہ عہد کرتے اگر خدا نے اس بلا کو ہم سے دور کردیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے لیکن جب وہ بلا دورہوجاتی تھی تو یہ اس عہد کو بھلادیتے تھے اور پھر وہ دوبارہ ظلم کرنا شروع کردیتے تھے۔
فرعون اپنی قوم سے کہتا: مجھے اس بات کی اجازت دو کہ میں موسیٰ کے خدا کو قتل کرڈالوں کیوں کہ مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں وہ تمھیں تمھارے دین سے خارج نہ کردے۔ مجھے اس بات کا بھی خوف ہے کہ تمھاری سرزمین پر فتنہ و فساد برپا کرے۔
جناب موسیٰ علیہ السلام فرماتے تھے: میں خدا کے ذریعہ ہر اس شخص سے پناہ مانگتا ہوں جو باغی و سرکش ہو اور قیامت کا منکر ہو۔
اس دوران ایک ایسا شخص ظاہر ہوا جس نے آج تک اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا تھا ا۔ اس شخص نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تم لوگ اسے قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار ’’خدا‘‘ ہے مگر تم ان نشانیوں کو نہیں دیکھ رہے ہو جسے وہ اپنے ہمراہ لایا ہے؟
فرعون نے کہا: میں نے جو کچھ کہا ہے بس وہی صحیح ہے۔
دوبارہ پھر اسی مرد مومن نے لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: مجھے ا س کا خوف ہے کہ کہیں تمھارا بھی انجام قومِ نوح ، عاداور ثمود کی طرح نہ ہو۔ میں ڈررہا ہوں کہ کہیں خدا تمھیں آتشِ دوزخ کے حوالے کردے اور پھر کوئی تمھیں عذاب جہنم سے نجات نہ دلاسکے۔
فرعون نے اس مرد مومن کی نصیحت پر کوئی اعتنا (پرواہ)نہ کی اور اپنی سوچ میں ڈوبا رہا۔ اپنے وزیر’’ ہامان سے مسکراکرکہا: میرے لئے ایک بہت اونچا مینار بناؤ تاکہ اس کی بلندی سے آسمان کے راستوں سے آگاہی حاصل کروں۔ ہوسکتا ہے کہ وہاں موسیٰ کے خدا کا پتا چلاسکوں۔
وہ مردمومن خدا پر مکمل ایمان و اعتقاد رکھتا تھا اس نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: میری پیروی کرو میں تمھیں راہ راست کی ہدایت کروں گا۔
اے میری قوم! دنیا کی زندگانی صرف چند روزہ ہے اس پر مت اتراؤ زندگی آخرت ہی ثابت اور باقی رہنے والی ہے۔
انسانوں کے سارے اعمال کی وہاں دیکھ بھال کی جائے گی۔ بُرے اعمال والوں کو ان کے کیفر کردار تک پہونچایا جائے گا اور نیک اشخاص کو ان کے اعمال کا پوراپورا بدلہ دیا جائےگا۔
نیکیوں کی جزا بہشت اور جنت ہے۔
میں تمھیں راہ نجات کی طرف بلارہا ہوں اور تم لوگ مجھے جہنم اور دوزخ کی طرف کھینچ رہے ہو۔
تم لوگ مجھ سے مطالبہ کررہے ہو اس بات کا کہ میں خدائے واحد کا انکار کردوں اور دوسرے کو اس کا شریک قراردوں۔ میں تمھیں اس خدا کی طرف بلارہا ہوں جو صاحبِ جودوعطا اورصاحبِ عزت ہے۔ اس خدا کی طرف ہر ایک کی بازگشت ہے۔
ہر وہ شخص جو حق کو دیکھ رہا ہے ،سمجھ رہاہے، پہچان رہا ہے پھر بھی اس کے سامنے تسلیم نہیں ہوتا تو یہ شخص ہمیشہ آتشِ جہنم میں رہے گا۔
عنقریب تمھیں میری گفتگو کی صداقت معلوم ہوجائے گی۔
اس کے باوجود فرعون اور فرعون پرستوں نے اپنی راہ نہ چھوڑی خداوندعالم نے اس مرد مومن کو اپنی پناہ میں لے لیا اور فرعون اور فرعون پرستوں کو مبتلائے عذاب کردیا۔
آخر کار خداوند عالم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ تم اپنی ستم دیدہ قوم کو رات و رات شہر مصر سے لےکر نکل جاؤ ۔ جناب موسیٰ علیہ السلام قومِ بنی اسرائیل کو لے کر رات کی تاریکی میں دریائے سرخ کی طرف چل پڑے۔ ان کے دلوں میں خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فرعون اپنے لشکرسمیت آلے۔ اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی ۔ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کا تعاقب(پیچھا) کیا۔ جب بنی اسرائیل کی نظر اس عظیم لشکر پر پڑی تو پریشان ہوگئے۔ پناہ کے سارے راستے بند تھے۔ سامنے نیل کا موجیں مارتا ہوا سمندر اور پیچھے فرعون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا لشکر۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں پناہ مانگی۔ خدا کی طرف سے ان کو وحی کی گئی کہ اپنے عصا کو آبِ دریا پر مارو اور پانی سے گذرجاؤ۔ ا س وقت پھر عصا قدرتِ خداوندی کا مظہر بن گیا۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنےعصا کو پانی پر مارا۔ فوراً ہی خشک راستہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے تھا۔ جنا ب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل نے بھی اس نئے راستے پر قدم رکھے پانی نے دونوں طرف ایک مستحکم دیوار کی شکل اختیار کرلی۔ بنی اسرائیل دریا سے گذرگئے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پہنچ گیا لیکن اس سوچ میں پڑگیا کہ واپس جائے یا اسی راستہ پر آگے چل پڑے کیوں کہ اس نے خود اپنی نگاہوں سے دیکھا تھا کہ ابھی کس طرح موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اس راستے سے گذرے ہیں اور بالکل صحیح وسالم دریا کے اس پار پہنچ گئے ہیں۔ اس کے باوجودبھی خدا کی اس واضح اور روشن نشانی پر ایمان نہیں لارہا تھا۔ فرعون نےاپنی قوم کو حکم دیا: جس طرح موسیٰ کی قوم پانی سے گذری ہے تم بھی گذرجاؤ! سب نے ایک ساتھ اطاعت کی اور سب نے دریا میں قدم رکھ دیا۔ تاکہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو جالیں۔ سب کے سب نشۂ غرور میں چور تھے کہ ایکا ایکی پانی کی دونوں دیوار ایک دوسرے سے جاملیں۔ راستہ ان کے لئے کنواں بن گیا چاروں طرف سے پانی نے انھیں گھیرلیا جب فرعون نے اپنے کو چاروں طرف ے بلا میں مبتلا دیکھا موت کو سرپردیکھا تو اس وقت وہ ایمان لایا۔ لیکن اب دیر ہوچکی تھی ۔ سب ہی دریا میں غرق ہوگئے۔ سب ہی ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہوگئے۔
قرآن کریم نے فرعون کے آخری لمحات کی اس طرح تصویر کشی کی ہے:
’’جس وقت فرعون دریا میں غوطے لگارہا تھا۔ کہنے لگا! مجھے اب یقین ہوگیا کہ کوئی خدا نہیں ہے سوائے اس خدا کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔ میں اس کے سامنے تسلیم ہوں(جو اب آیا) اب اس وقت۔ ؟ درآنحالیکہ اب تک تم گناہ و سرکشی اور فتنہ و فساد برپا کرنے میں مست تھے۔ آج ہم تمہارے اس بدن کو پانی سے باہر لائیں گے تاکہ تمہارے بعد آنے والوں کے لئے ایک عبرت ہو۔ لوگ ہماری بہت سی نشانیوں سے غافل ہیں۔ (سورۂ یونس آیت۔۹۰۔۹۲)
(مصر کے تمام بادشاہوں اور حکمرانوں کا لقب فرعون تھا لیکن وہ فرعون جو جناب موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھا ا س کا نام ’’رامسس دوم‘‘ تھا۔ اس کے ممی کئے ہوئے بدن کا ۱۸۸۱ء میں انکشاف ہوا اور اس وقت مصر کے میوزیم میں ہے۔ (دائرۃ المعارف امریکہ تحت کلمۂ (Ramasels II Mummy))
اس طرح بنی اسرائیل دریائے نیل عبور کرکے دوسری طرف پہنچ گئے۔
جناب موسیٰ علیہ السلام گرچہ فرعون اور اس کے مظالم سے آسودہ خاطر ہوگئے تھے۔ لیکن اب ان کے لئے سب سے بڑی مصیبت بنی اسرائیل کی جہالت اور بات بات پر ان کے بہانے تھے۔بنی اسرائیل جب دریا عبور کرکے دوسری طرف پہونچے تو وہاں کے لوگ بت پرست تھے۔ اب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اس قوم کی طرح ان کے لئے ایک بت تیار کیا جائے۔ تاکہ یہ لوگ بت پرستی میں بھی کسی سے کم نہ رہیں۔ یہ سن کر جناب موسیٰ علیہ السلام کو بہت ہی زیادہ افسوس ہوا۔ فرمانے لگے: تم لوگ کس قدر جاہل اور نادان ہو جس خدا نے تمہیں فرعون کے ہاتھوںسے نجات دلائی اس کے علاوہ تمہارے لئے کوئی اور خدا تلاش کروں؟
خداوندعالم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے الگ ہو کر تیس دن تک ا س کی عبادت کریں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی جگہ اپنے بھائی جناب ہارون کو اپنا خلیفہ اور جانشین مقرر فرمایا اور قوم کی دیکھ ریکھ کا انھیں حکم دیا۔ جب وہ تیس راتیں گذرگئیں تو خداوندعالم کے حکم سے دس راتوں کا اور اضافہ ہوا۔ چالیس راتیں گذرنے کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام پر’’توریت‘‘ نازل ہوئی تاکہ اس وقت کی یہودی قوم کے لئے ہادی اور رہنما ہو۔
جناب موسیٰ علیہ السلام کی غیبت کے زمانے میں بنی اسرائیل کے ذہنوں میں پھر بت پرستی کا سودا سمایا۔ ’’سامری‘‘ نامی ایک شخص نے ان کے زر اور زیورات حاصل کرکے سونے کا ایک گوسالہ (بچھڑا)تیار کیا۔ اسے کچھ اس طرح بنایا تھا کہ اس سے ایک خاص قسم کی آواز نکلتی تھی۔ وہ لوگ جن کی تمام عقل ان کی آنکھوں میں تھی سامری نے ان سے کہا۔جناب موسیٰ علیہ السلام کا خدا یہی ہے اور یہی تمہارا خدا ہے ۔تمہیں اس کی عبادت کرنا چاہیے۔
لوگ اس بات کو بالکل بھلا بیٹھے تھے کہ خدا کبھی جسم نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ کسی زمان یا مکان میں سما جائے۔ ان لوگوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کی تمام تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا اور ایسی چیز کی پرستش کرنے لگے جو انھیں نہ فائدہ پہنچا سکتی تھی اور نہ نقصان ہی۔ یہ لوگ اس حقیقت سے بالکل غافل تھے اگر خدا لوگوں کے سامنے آتا تو وہ ان کی ہدایت اور ہنمائی کرتا۔ نہ کہ سامری کے گوسالہ(بچھڑا) کی طرح بے معنی آواز نکالتا۔ بے ہودہ آواز اور ہدایت کی باتوں میں بڑا فرق ہے۔
یہود اس طرح گمراہ ہوگئے ان لوگوں نے جناب ہارون ؑ کی باتوں اور نصیحت کی ذرا بھی پرواہ نہ کی۔
جب جناب موسیٰ علیہ السلام واپس آئے اور اپنی قوم میں اس عظیم انحراف اور تبدیلی کو دیکھا تو کبیدہ خاطر(رنجیدہ) ہوگئے اور جہالت کے پتلوں کی سرزنش (ملامت) کی۔
سامری سے فرمایا :دیکھ میں تیرے بنائے ہوئے خدا کا کیا حشر کرتا ہوں اس کو جلاڈالوں گا اور اس کی راکھ کو دریا میں پھینک دوں گا۔
تمہارا تو صرف ایک خدا ہے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے جسے ہر شئے کا علم ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں ہے۔اس طرح سامری کا تیارکردہ بت نیست و نابود کردیا گیا۔
ہدایت سے لبریز جناب موسیٰ علیہ السلام کی باتیں یہودیوں کے دلوں پر چنداں اثر انداز نہ ہوئیں ۔ مستقل بہانہ تلاش کیا کرتے تھے اور برابر عہدوپیمان توڑتے رہتے تھے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی ان لوگوں نے حق کی باتوں کو بہت ہی کم تسلیم کیا۔ پیغمبروں کو قتل کیا ۔ یہاں تک کہ اپنی آسمانی کتاب توریت میں بھی تحریف کرڈالی اور اس کی موجودہ شکل کردی۔ اس میں ناقص چیزیں اس قدر ہیں جن کی بنا پر اسے کسی طرح بھی آسمانی کتاب نہیں کہا جاسکتا ہے۔