حضرت مریم ، مادرِ عیسیٰ علیہ السلام
جناب عمران کی زوجہ بانجھ اور عقیم تھیں،لیکن ان کے شوہر نے سن رکھا تھا کہ خداوندعالم نے ان سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انھیں ایک فرزند عطا کرے گا جو حکمِ خداوندی سے بیماروں کو شفا دے گا اور مُردوں کو زندہ کرے گا۔
(مجمع البیان ج۲، ص۴۳۵)
خداوند عالم کی قدرت پر مکمل ایمان و اعتقاد تھا۔ بارگاہِ خداوندی میں دست دعا بلند کئے کہ انھیں ایک فرزند عطا فرمائے۔
خداوندعالم نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی۔ وہ حاملہ ہوئیں اس نعمت کے شکرانے کے طورپر یہ نذر کی کہ اپنے فرزند کو خانۂ خدا ’’بیت المقدس‘‘ کی خدمت کے لئے وقف کردیں گی۔
(سورۂ آل عمران آیت ۳۴ ۔۳۵تقنیات الدرر، ج۲، ص۱۸۸)
جو بچہ متولد(پیدا) ہوا وہ لڑکی تھی جب ماں کی نگاہیں اپنی لڑکی پر پڑی تو کہنے لگیں:
خدایا!یہ مولود لڑکی ہے میں نے اپنی نذر کو وفا کرتے ہوئے اس کا نام ’’مریم‘‘ رکھا ہے( مریم عبادت گذار عورت کو کہتے ہیں۔) پروردگار اسے اور اس کی اولاد کو شیطان سے محفوظ رکھ!
(مجمع البیان ج۲،ص۴۳۶)
زوجۂ عمران’’مریم‘‘ کو خانہ (بیت المقدس) لے گئیں اور انھیں وہاں کے متولیوں کے حوالے کردیا۔ جناب عمران چوںکہ ان کے رہنما تھے۔ لہٰذا ہر ایک کی خواہش تھی کہ جناب مریم کی کفالت اور تربیت اس سے سپرد کی جائے متولیوں کے درمیان اس مسئلہ میں جو کشیدگی پیداہوگئی تھی اس کشیدگی کو دور کرنے کے لئے قرعہ اندازی کی گئی۔ قرعہ جناب زکریاؑ کے نام نکلا۔ حضرت زکریاؑ جناب مریم کی کفالت اور تربیت کرنے لگے۔جناب مریم رفتہ رفتہ بڑی ہوتی رہیں عبادت اور خانۂ خدا کی خدمت کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔
جناب مریم کی عبادت اور خلوص اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ جس وقت جناب زکریاؑ حضرت مریم کی محراب عبادت میں وارد ہوتے تھے تو جناب مریم کے پاس آسمانی غذاؤں کو پاتے تھے۔ مریم سے تعجب سے پوچھتے : اے مریم! یہ غذائیں کہاں سے آئی ہیں؟ جناب مریم کہتیں: یہ سب خدا کی طرف سے ہے وہ جس کو چاہتا ہے اسے بے حساب روزی دیتا ہے۔
زکریاؑ اوریحییٰؑ
جناب زکریا ؑکی زوجہ بھی جناب مریم کی والدہ کی طرح بانجھ اور عقیم تھیں، یہی وجہ تھی کہ جناب زکریاؑ بوڑھاپے تک لاولد رہے۔ جناب مریم کے معنوی درجات اور خداوندعالم کی بے پناہ رحمت و عطا کو دیکھ کر جناب زکریاؑ کے دل میںیہ آرزو پیدا ہوئی کہ انھیں بھی مریم جیسی اولاد نصیب ہو۔
بارگاہِ خداوندی میں دعافرمائی: خداوندا ! مجھے ایک ایسا صالح فرزند عطا فرما جس میں تیری خوشنودی ہو اور جو میرا اورآلِ یعقوب کا وارث ہو۔
(سورۂ آل عمران کی آیت ۳۹۔ تفسیر المیزان ج۳، ص۔۱۹۰۔سورۂ مریم آیات۔۱۔۶)
جناب زکریاؑ محراب عبادت میں نماز پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے انھیں بشارت دی کہ خدا آپ کو ایک فرزند عطا کرے گا جس کا نام’’یحییٰ‘‘ ہوگا اور جو پارسا پیغمبروں سے ہوگا۔
جناب زکریاؑ کی نظر جب اپنے بڑھاپے پر اور اپنی زوجہ کے بانجھ پن پر پڑی، (عام طور سے ان حالات میں اولاد کی توقع نہیں ہوتی) تو تعجب اور شوق کے ملے جلے جذبات سے کہا: خدایا! ان حالات میں اور اس عمر میں کس طرح مجھے فرزند عطا فرمائےگا؟! جواب ملا:
یہ کام خدا کے لئے بہت آسان ہے کیوں کہ وہی خدا تم کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ جناب زکریاؑ کے یہاں فرزند متولد (پیدا)ہواجس کا نام پہلے ہی سے یحییٰ رکھا جاچکا تھا۔
جناب یحییٰؑ پیغمبر تھے جنھوں نے اپنی تمام عمر تبلیغ اور لوگوں کو رشد وہدایت کی دعوت دینے میں صرف کردی۔ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے انھیں اس وقت قتل کردیا جب انھوں نے بادشاہ کو اس بات سے منع کیا کہ وہ اپنی بھتیجی کے ساتھ شادی نہیں کرسکتا ہے۔
(تفسیر المیزان ج۱۴،ص۔۲۶۔۲۷)
عیسےٰ مسیح
مریم (وہی بچی جس کی کفالت اور تربیت کی ذمہ داری جناب زکریاؑ جیسے پیغمبرؐ نے اپنے سر لی تھی اور جس کی پرورش خانۂ خدا میں ہوئی تھی) ایک روز عبادت میں مشغول تھیں کہ انسانی شکل وصورت میں ایک فرشتہ ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔
مریم جو اسے واقعاً انسان سمجھ رہی تھیں خوف کے مارے خدا سے پناہ مانگی لیکن فرشتہ نے ان کو یہ بشارت دی : میں تمھارے پروردگار کی طرف سے آیا ہوں،تاکہ ایک پاک و پاکیزہ بچہ تمھیں عطا کروں۔
مریم نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے جب کہ میں نہ کسی مرد سے ملی اور نہ ہی میں بدکار اور زناکار ہوں۔
فرشتہ نے کہا: تمھارے پروردگار کا یہی کچھ ارادہ ہے اور اس نے کہا کہ یہ کام میرے لئے آسان ہے تاکہ اس بچہ کولوگوں کے لئے ایک علامت قراردوں اور اسے اپنی رحمتوں کا مرکز بناؤں۔
جناب مریم حاملہ ہوگئیں۔ مگر چوں کہ ان کا کوئی شوہر نہ تھا لہٰذا بعض لوگو ں نے الٹی سیدھی باتیں کرنا شروع کردیں اور طرح طرح کے خیالات کااظہار کرنے لگے۔
یہ باتیں جناب مریم کے لئے سخت تکلیف دہ تھیں ۔تہمت و الزام کے کرب و بے چینی سے نجات حاصل کرنے کے لئے ان لوگوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ اور دوردراز مقام پر چلی گئیں اور وہاں اپنے بچہ کی ولادت کا انتظار کرنے لگیں۔
آخر کار وقتِ ولادت آپہونچا۔ جناب مریم دردِزہ سے بے چین تھیں۔صحرا میں کھجور کے ایک سوکھے درخت کے نیچے پناہ لی۔ تمام لوگوں سے دور جہاں کوئی بھی یارومددگار نہ تھا۔ وہاں بچہ کی ولادت ہوئی۔ تنہائی ، درد، عزت و آبرو کا خوف، ان چیزوں نے جناب مریم کومتفکر اور پریشان کردیا۔ اپنے آپ سے کہنے لگیں:
’’اے کاش! میں اس کے قبل ہی مرگئی ہوتی۔ میرا نام بھی ختم ہوگیا ہوتا۔‘‘
اسی وقت جناب مریم نے ایک آواز سنی جس نے انھیں دلاسہ دیا اور ان کے حوصلے بلند کئے۔
’’غمگین مت ہو، تمھارے پروردگار نے تمھارے پاؤں کے نیچے ایک شیریں چشمہ جاری کیا ہے، اس سوکھے ہوئے درخت کی شاخوں کو ہلاؤ اس سے تروتازہ خرمے گریں گے ان کو کھاؤ پیو اور مطمئن رہو۔ اگر کوئی مرد تمھارے پاس آئے تو اسے اشارے سے یہ سمجھا دو کہ میں نے خاموشی کے روزے کی نذر کی ہے۔ میں آج کسی بھی مرد سے گفتگو نہیں کروں گی۔‘‘
معجزات اور یکے بعد دیگر غیبی امداد نے مریم کو قوتِ قلب عطا کی جس کی وجہ سے جناب مریم اپنے نومولود بچے کے ساتھ اپنی رہائش گاہ واپس آگئیں جب لوگوں نے مریم کی آغوش بھری دیکھی تو ہر ایک کی زبانیں اعتراض کے لئے کھل گئیں۔ کہنے لگے: ’’ نہ تو تمھارے والد بدکردار تھے اور نہ تمھاری والدہ ہی بدکردار تھیں۔‘‘
جناب مریم نے کچھ کہے بغیر بچہ کی طرف اشارہ کیا۔ یعنی جو کچھ سوال کرنا ہو اس بچہ سے دریافت کرو اور اسی سے اپنے سوال کا جواب مانگو۔
وہ لوگ ہنس کر کہنے لگے: ہم کیسے اس چھوٹے سے بچے سے گفتگو کریں؟
جناب مریم کا یہ نومولود قدرتِ خدا سے گویا ہوا اور بہت ہی صاف روشن الفاظ میں ان سے کہا:
میں خدا کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتا ب عطا کی ہے، ا س نے مجھے پیغمبر منتخب کیا ہے ، مجھے ہر جگہ بابرکت اور خیررساں قرار دیا ہے، اور مجھے اس کا حکم دیا ہے کہ میں تادمِ حیات نماز پڑھتا رہوں ، زکوٰۃ ادا کرتا رہوں، اس نے مجھے میری ماں کے لئے مہربان قرار دیا ہے۔
(سورۂ مریم آیت۱۶۔۳۲۔ تفسیر المیزان ج۱۴،ص۲۳۔۴۸)
لوگ بچہ کی گفتگو سن کر مبہوت(حیران) ہوگئے۔ اور اللہ کی اس عظیم نشانی نے اپنی ماں کےدامن سے تمام تہمت اور بدگمانی کے دھبے دھودئے اور ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ یہ بچہ جو بغیر باپ کے پیدا ہوا ہے وہ حکمِ خدا سے مستقبل میں ایک عظیم منصب پر فائز ہوگا اور ایک بڑی ذمہ داری اسے سونپی جائے گی۔
حضرت عیسیٰ ؑ کی رسالت کے قبل کی حالت
جناب عیسیٰ کی ولادت سے پہلے فلسطین رومیوں کے قبضہ میں تھا فلسطین کے لوگ اپنی کم مائیگی اور بغیر کسی پشت پناہی کے باوجود ہمیشہ رومی اجنبیوں سے برسرِپیکار رہتے جس کی بنا پر وہ ہمیشہ پریشا ن حال رہتے تھے۔ ان کی اقتصادی حالت خراب تھی۔ حکومت کے زبردست ٹیکس نے انھیں اور کمرخمیدہ کردیا تھا۔یہ آزادی طلب کرنے والے قیدخانہ میں یا پھر برسرِپیکار رہ کر اپنی تمام عمر گذاردیتے تھے۔ آبادیاتی اور تمام تعمیراتی کام رک گئے تھے او رہر پروگرام بے بنیاد ہوگیا تھا ۔ یہاں تک کہ ان کا ایمان بھی اس زد سے باہر نہ تھا۔ وہ مذہبی اقدار کی بھی پابندی نہیںکر رہے تھے۔
ایمان کا یہ ضعف رومی سامراج کا تحفہ تھا جو اس نے فلسطینیوں کو دیا تھا۔
سامراج نے ہمیشہ اس راستہ سے استفادہ کیاہے اور آج بھی کررہا ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی جنگ میں کسی اسلحہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیوں کہ لوگ اگر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تولاشعوری طورپر رفتہ رفتہ ختم ہوجائیں گے۔
ہاں ان شرائط میں اور اس پُر آشوب زمانے میں ایک آسمانی رہبر کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی تھی جو لوگوں کو انحراف سے روکے اور انھیں گمراہی سے نجات دلائے۔
خداوندعالم کے رحم وکرم کے تقاضے کے بموجب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، آپ کی ولادت عجائبات میں گھری ہوئی ہے جو آپ کی عظمت اور بلندی کی گواہی دے رہی ہے۔ یہ تمام باتیں اس حقیقت کی نشان دہی کررہی ہیں کہ آپ خدا کے نمائندہ ہیں۔ اس کے منتخب کردہ رہبر ہیں اور دستِ قدرت نے انھیں ایک عظیم انقلاب برپا کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت
جناب عیسیٰ علیہ السلام پر ’’انجیل‘‘ ناز ل ہوئی تاکہ گمراہیوں کے لئے ہادی اور رہنما ہو۔
جناب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی رسالت کا اعلان کیا اور وسیع پیمانہ پر تبلیغات شروع کی۔ یہودیوں کو گمراہی سے نجات دلانے کے لئے اور انھیں انحراف سے روکنے کے لئے زحمتیں برداشت کیں اور مصائب سہے۔
لیکن یہودی پیشواؤں کو اپنا منصب و مقام زیادہ عزیز تھا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وجود کو اپنے جاہ و مقام کے لئے خطرہ تصور کررہے تھے اور ان کی رسالت سے خوف زدہ تھے۔ آپس میں رائے اور مشورہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہونچے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف قیام کرنا چاہیے اور فتنہ برپاکر کے ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو روکنا چاہیے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے منصوبوں سے آگاہ تھے۔ وہ راہِ تبلیغ میں پہاڑ کی طرح جمے رہے۔ لوگوں کی ہدایت کرتے رہے ، انھیں انحراف سے باز رکھتے رہے، انھیں خرافات سے آگاہ کرتے رہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین میں جو کچھ بھی تحریف کی گئی تھی اس سے بھی انھیں باخبر کرتے رہے۔ راہِ تبلیغ و ہدایت میںحکمِ خدا سے کبھی کسی مریض کو شفادیتے، کبھی حکمِ خدا سے کسی مُردے کو زندہ کردیتے تاکہ سب کو یقین ہوجائے کہ وہ جو خدا کےنمائندہ ہیں اور خدائے وحدۂ لاشریک نے انھیں اپنا پیغامبر بنا کر بھیجا ہے۔
انجام کار
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اعوان وانصار اور ان کی پیروی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتاچلاگیا۔ ان کی تعداد میں جس قدر اضافہ ہوتا یہودی پیشوا بھی اپنی مخالفت تیز کردیتے ۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی ٹھان لی۔
لیکن خداوندعالم نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھا اور ان لوگوں نے جناب عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہ ایک شخص کو سولی پر چڑھا دیا اور اسی شبہ میں مبتلا رہے کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی ہے۔
قرآ ن کریم نے اس حقیقت کی طرف صاف لفظوں میں اشارہ کیا ہے:
وَ ما قَتَلُوهُ وَ ما صَلَبُوهُ وَ لکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَ إِنَّ الَّذینَ اخْتَلَفُوا فیهِ لَفی شَکّ مِنْهُ ما لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْم إِلَّا اتِّباعَ الظَّنِّ وَ ما قَتَلُوهُ یَقیناً۔ بَلْ رَفَعَهُ اللّهُ إِلَیْهِ وَ کانَ اللّهُ عَزیزاً حَکیماً۔
’’نہ انھیں قتل کیا اورنہ انھیں سولی دی بلکہ حقیقت ان کے لئے مشتبہ ہوگئی۔ جن لوگوں نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے انھیں اس کاعلم نہ تھا۔(وہم وگمان کی بنیاد پر کہہ رہے تھے) یہ لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ یقیناً عیسیٰ کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ خداوند عالم نے انھیں او پر بلالیا ہے۔خدا صاحب عزت اور حکیم ہے۔‘‘
جناب عیسیٰ علیہ السلام کا سولی پر چڑھایا جانا بالکل بے بنیاد ہے، اسی طرح اس طرزِ فکر کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے جو عیسائیوں کے درمیان آج بھی رائج ہے کہ ____’’تمام لوگ ذاتی طورپر گناہ گار ہیں گرچہ انھوں نے تمام عمر ایک گناہ بھی نہ کیا ہو۔ اسی لئے جناب عیسیٰ نے دارپرجانا گواراکیا تاکہ تمام انسانوں کے گناہوں کا کفارہ اداہوجائے اور اس طرح تمام انسان آتشِ جہنم سے آزاد ہوجائیں‘‘۔(طریق الحیات، ڈاکٹر فندرجرمن ص۱۳۵۔۱۳۸) یہ تمام باتیں بے اساس ہیں۔
عیسائے مسیح یا بندۂ خدا
قرآن کریم اور انجیل کے بعض موجودہ نسخوں(انجیل مرقس باب ۱۲ بند۲۹) سے اس بات کا استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے کو بندۂ خدا کہا، ہمیشہ اس کی عبادت کی اور اسی کی لوگوں کو دعوت دیتے رہے۔
جناب عیسیٰ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا اور تمھارا پروردگار صرف ایک ہے اس کی پرستش کرو یہی راہ راست ہے۔
(سورۂ آل عمران آیت۵۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی بھی خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہ جو عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو خدامان لیاہے یہ خود ان کے ذہن کی پیداوار ہے۔
جواہرلال نہرو نے اپنی کتاب ’’نگاہی بہ تاریخ جہاں‘‘ (دنیا کی تاریخ پر ایک نظر) میں لکھاہے: حضرت مسیح الوہیت اور خدائی کے مدعی نہ تھے لیکن لوگ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی عظیم شخصیتوں کو کسی طرح خدا ثابت کردیں۔ (ج۱،ص۲۰۰)
دوسرے پیغمبروں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک انسان تھے ۔ جن پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ لوگوں کی رشد وہدایت کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔ اگر حضرت عیسیٰ کے پاس معجزات تھے تو دوسرے پیغمبرؑ بھی اپنے ساتھ معجزات لائے تھے۔ اگر وہ بغیر باپ کے پیداہوئے تھے تو حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیداہوئے تھے، لیکن کسی عیسائی نے حضرت آدم علیہ السلام کو خدا کا فرزند نہ کہا؟
قرآن کا ارشاد ہے :مریم کے فرزند مسیح صرف خدا کے پیغمبر تھے ۔ ان سے پہلے بھی ان کی طرح پیغمبرؑ آئے تھے اور اس دنیا سے گذرگئے۔ ان کی والدہ ایک راست گو خاتون تھیں۔ وہ اور ان کی والدہ دونوں ہی کھانا کھاتے تھے۔( سورۂ مائدہ آیت ۷۵) یعنی بشری حیات کے تمام لوازمات ان میں پائے جاتے تھے اور تمام انسانوں کی طرح انھیں ان تمام چیزوں کی ضرورت تھی۔
کلامِ خدا وندی نے جس روشن حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے عقل اور فکر بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔ کیوںکہ وہ انسان جسے دوسرے تمام انسانوں کی طرح زندگی کے تمام لوازمات کی ضرورت اور احتیاج ہو، اسے بھی دوسرے انسانوں کی طرح کھانے اور سونے کی ضرورت ہو تو عقل یہ حکم دیتی ہے کہ ایسے شخص کی عبادت کرنا سزاوار نہیں ہے۔
لہٰذا
بنا برحکمِ عقل
اور مطابقِ تصدیق قرآن
اور موافق ِموجودہ انجیل( انجیل مرقس)
اور بتصدیقِ اقوال مورخین
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بندۂ خدا اور خدا کے پیغمبر تھے۔ انھوں نے کبھی خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔
لیکن حضرت عیسیٰ کے بعد ان کا پاک وپاکیزہ آئین اپنی اصلی حالت پر باقی نہ رہا۔ شرک اور بت پرستی کی رسم اس میں شامل کردی گئی۔ یہاں تک کہ ’’ویل ڈیورانٹ‘‘ کو اپنی کتاب ’’تاریخ تمدن‘‘ کی تیسری جلد کی تیسری فصل کے صفحہ ۲۳۹؍۲۴۰ پر لکھنا پڑا کہ ’’عیسائیت نے شرک کو ختم نہ کیا بلکہ اس کو باقاعدہ قبول کیا ہے۔‘‘
جو شخص بھی عیسائی عقائد کا مطالعہ کرے گا وہ اس بات کی ضرور تصدیق کرے گا کہ اس مورخ نے ایک تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے عیسائیوں کے درمیان آج بھی اس قسم کے عقائد پائے جاتے ہیں۔
۱ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کی ذات کا ایک حصہ ہیں وہ مخلوق نہیں ہیں بلکہ وہ فرزندِ خدا ہیں۔
(تاریخ کلیسائے قدیم ص۲۴۴)
۲ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بشر تھے مگر ایسے بشر جس میں خدا حلول کرگیا تھا۔
(طریق الحیات از ڈاکٹر فندرجرمن عیسائی)
۳ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود خدا ہیں جو بصورتِ بشر ظاہر ہوئے ہیں۔
(نظام التعلیم طبع بیروت ۱۸۸۸، ج۲، ص۲۰۴)
لیکن یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ خدا جسم نہیں ہے تاکہ اسے کسی جگہ کی احتیاج ہو اور جب وہ جسم نہیں ہے تو اس سے کسی جز کا الگ ہونا بے معنی ہے تاکہ کوئی اس کا فرزند بن سکے۔ عقل کی روشنی میں ہر ایک اس حقیقت سے واقف ہے کہ خدا کے لئے کسی جگہ کی ضرورت نہیں ہے تاکہ وہ اس میں سماجائے یا حلول کرجائے اور بشری شکل وصورت میں ظاہر ہو۔
اس کے علاوہ یہ بات کیوں کر ممکن ہے وہ خدا جو مستغنی ہو، بے نیاز ہو، وہ خوراک او رپوشاک کا محتاج ہو؟
اگر عیسائی صحیح معنوں میں غوروفکر کریں تو وہ اس بات کی ضرور تصدیق کریں گے کہ تمام دوسرے پیغمبروں کی طرح حضرت عیسیٰؑ بھی خدا کے بندے ہیں اور حضرت عیسیٰ کی الوہیت اور خدائی کامسئلہ بالکل بے بنیاد ہے۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے:
’’وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مریم کے پسر عیسیٰ’’خدا ہیں‘‘ وہ کافر ہیں۔ ان سے کہہ دو اگر خدا مریم کے پسر عیسیٰ اور ان کی والدہ اور روئے زمین پر تمام بسنے والوں کو ہلاک کرنا چاہے تو کون اسے روک سکتا ہے؟ آسمان و زمین اور وہ تمام چیزیں جو ان کے درمیان ہیںاس کی بادشاہت اور حکمرانی صرف خدا کے لئے ہے۔ خدا جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتاہے اور خدا ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘
(سورۂ مائدہ۔ آیت۹۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اقوال
پیغمبر اسلام حضرت رسول اکرم ؐ نے فرمایا:
’’حضرت عیسیٰ کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کس کے ساتھ ہم رہن سہن رکھیں؟
فرمایا: اس کے ساتھ جس کی ملاقات تمھیں خداکی یاددلائے، جس کی گفتگو تمھارے علم میں اضافہ کرے، جس کا کردار تمھارے شوقِ آخرت میں اضافہ کا سبب ہو۔‘‘
(صول کافی جلد۔۱، ص۳۹)
نیز آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا:
حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اس بات کی درخواست کی کہ وہ ان کی ہدایت کریں۔
ا س وقت فرمایا:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تم سے فرمایا تھا کہ جھوٹی قسم مت کھاؤ! میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کے نام کی سچی قسم بھی نہ کھاؤ۔
حواریوں نے مزید نصیحت کی درخواست کی۔
فرمایا: خدا کے پیغمبر جناب موسیٰ علیہ السلام نے تم سے فرمایا تھا: زنا نہ کرنا میں تمھیں اس بات کا حکم دے رہا ہوں کہ ہر گز زنا کی فکر نہ کرنا۔ کیوں کہ جو شخص زنا کے بارے میں سوچے گاوہ اس شخص کے مانند ہے جو نقش ونگار سے مرصع(آراستہ) گھر کودھوئیں سے بھردے۔ اگر وہ بھی نہ جلے تو وہ خراب اور سیاہ تو ہی جائے گا۔
(بحارالانوار جلد۱۴، ص۳۳۱)
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ:
عیسیٰ ابن مریمؑ نے ارشاد فرمایا: خوش قسمت ہے وہ جس کی خاموشی تفکر اور جس کی نگاہ نصیحت آمیز ہو، ا س کا گھر اسے راحت و آرام پہنچائے،اپنے برے کردار پر آنسو بہائے،لوگ اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے آسودہ خاطر رہیں۔
(بحارالانوار جلد۱۴، ص۲۲۰)
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اے فرزندانِ آدم دنیا سے خدا کی طرف چلو، دنیا سے دل وابستہ نہ کرو،تم صرف دنیا کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ہو، دنیا بھی تمہارے لائق نہیں ہے، نہ تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور نہ وہی ہمیشہ باقی رہے گی۔ اس دنیا نے بہتیروں کو غافل کرکے انھیں ہلاک کردیا جو شخص اس کے سلسلہ میں حسن ظن رکھے گا اور دنیا پر اعتماد کرے گا وہ نقصان اٹھائے گا،جو کوئی اسے چاہے گا اور اسے طلب کرنے کی کوشش کرے گا وہ ہلاک و برباد ہوجائے گا۔
(بحارالانوار جلد۱۴، ص۲۸۹)
نیز امام جعفر صادق علیہ السلام نےارشاد فرمایا:جناب عیسیٰؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
دوسروں کی عورتوں پر نگاہ کرنے سے پرہیزکرو۔ کیوں کہ یہی نگاہ انسان کے دل میں شہوت کا بیج بوتی ہے اور انسان کی ہلاکت کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے۔
تف ہے اس پر جس کا مقصدِ حیات صرف عیش و عشرت ہو، اور جس کا کردار اس کے گناہ ہوں۔
تمھیں کچھ اس کی بھی خبر ہے کہ قیامت کے دن کس طرح خدا کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔
(بحارالانوار جلد۱۴،ص۳۲۴)