اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ١٩

نُورِ رسالت (ص)

قبلِ اسلام

اسلام سے پہلے دنیا کی جو گری ہوئی حالت تھی اس کا عکس تاریخ کے صاف آئینہ میں بخوبی نظر آتا ہے۔

فتنہ و فساد کی تاریکی ،ستم کی آندھیاں،خونریزی کے سیلاب،بت پرستی کے بادل……. تاریخ کے آئینہ میں باقاعدہ نظر آرہے ہیں۔

اسلام سے پہلے بشریت کا قافلہ تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑا تھا اور ہر آن اس کی ہلاکت کا خوف لگارہتا تھا کہ ایک ذرا سی جنبش میں ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہوسکتا ہے۔

مذاہب اور عقائد

جزیرۂ عرب

عربوں نےاپنا دل و دماغ بتوں کے حوالے کردیا تھا جس چیز پر نگاہ پڑتی اسی کوبت مان لیتے تھے اور اس کے سامنے صرف سجدہ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی ساری پونجی اسی پر بھینٹ چڑھادیتے تھے ، یہاں تک اپنی زراعت کا بھی بعض حصہ بتوں کی نذر کردیتے تھے۔

(سورۂ انعام آیت ۱۳۶)

ان کا عقیدہ یہ تھا کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے اس کے علاوہ کوئی اور زندگی نہیں ہے۔

(سورۂ جاثیہ آیت ۲۴)

جن بتوںکو انھوں نے اپنا خدا منتخب کیا تھا۔ اس کی کسمپرسی سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ عرب جو بتوں کی لاچاری کو نہ سمجھ پاتے ہوں وہ حیاتِ آخرت کے کیا معتقد ہوتے!

یقیناً یہ بات تعجب خیز ہے کہ ان لوگوں نے اس گھر کو بتوں سے سجایا تھا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے خدا کے لئے تعمیر کیا تھا۔

(ملل و نحل شہرستانی ج۲،تاریخ یعقوبی جلد۱، ص۲۲۴)

ایران

اس وقت ایران میں بھی مختلف مذاہب کا وجود تھا لیکن اکثریت جس دین ومذہب کی معتقد تھی وہ’’زرتشت‘‘ تھا اور یہی ایران کی حکومت کا دین تھا۔

اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ’’زرتشت‘‘ خدا کے پیغمبر تھے اور انھوں نے ’’توحید‘‘ کی بنیاد پر دین کی عمارت استوار کی تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی تعلیمات زمانے کی دست برد(بے جا تصرف) سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ اور اتنی اس میں تحریف کی گئی کہ رفتہ رفتہ یہ دین حکمراں طبقہ کے مفاد کا ضامن ہوگیا۔ اور اس کی شکل و صورت سب ہی بدل گئی۔

اس دین کے خوش نما اور پُر مغز اصول ایک پردہ بن گئے جس کی آڑ لے کر مذہبی رہنما جس طرح چاہتے ان اصول کی تفسیر و توجیہ بیان کرتے ہر تفسیر اپنے مفاد اور حکمراں کے مفاد کے تحفظ کے لئے ہوتی۔ یہاںتک کہ توحید کی جگہ شرک نے لے لی۔ دین کی صرف ظاہری صورت باقی رہ گئی اور اندر سے دیمک چاٹ گئی۔

’’آریا‘‘ قوم کے پرانے خداؤں نے زرتشت مذہب میں دوبارہ جنم لیا۔

آریا قوم کے بہت پرانے خدا بنام ’’بازارتا‘‘ ان خداؤں کا دوبارہ ظہور ’’یشت‘‘ (Yasht) کی کتاب اوستا میں ہوا۔ اسی طرح ہوا کے خدا ’’وایو‘‘ (Vayu) کا بھی ظہور ہوا لیکن سب سے زیادہ اہم خدائے رحمت’’ متھرا ‘‘ (Mithra) ہے جس کا ذکر اوستا کے آخری دستاویزات میں عظمت کے ساتھ کیا گیا ہے ، لوگوں نے متھرا کو خدائے نور اور روشنی جانا ہے جو سچوں کو ثواب دیتا ہے اور جو اس سے مدد کا طالب ہو اس کی مدد کرتا ہے۔ متھرا کی عظمت اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ زرتشتی کہنے لگے کہ: اہرمن و یزدان بھی اس کی بارگاہ میں قربانی پیش کرتے ہیں ایرانیوں نے اہرمن و یزدان کے لئےصرف شریک ہی قرار نہ دئے بلکہ وہ اعتقاد کی منزل میں بھی پرانے آریائیوں سے آگے نکل گئے۔

سورج اور آگ کی بھی پرستش کا رواج تھا،اسی لئے جب ساسانی کسی عیسائی عالم دین کو عیسائیت چھوڑنے پر مجبور کرتے تھے تو اس سے دوسرے خداؤں کی عبادت کے علاوہ یہ بھی عہد لیتےتھے کہ وہ سورج کی بھی پوجا کرے گا۔

شہزادۂ دوم نے ’’سیموں برصعی‘‘ سے کہا: اس کی جان اس وقت بخش سکتا ہے جب وہ سورج کی مدح وثنا کرے۔

(ایران درزمان ساسانیان، ص۱۶۴)

کتاب’’سددر‘‘ جس میں زرتشتی مذہب کے احکام کی تشریح کی گئی ہے۔ یہ ملتا ہے کہ:

’’تمام ہم مذہب افراد کے لئے ضروری ہے کہ روزانہ تین مرتبہ سورج کی پرستش کریں اور اسی طرح چاند اور آگ کی بھی پرستش کریں۔ لہٰذا دین میں ان چیزوں کی عبادت کرنا واجب ہے۔

(کتاب (سددر) در۹۵،ص۱۲۴)

رُوم

اس وقت روم کی حالت ایران سے کچھ بہتر نہ تھی، روم میں بھی عیسائیت تحریف ہوچکی تھی تو حید کی جگہ شرک اور تثلیث کا اضافہ کردیا گیاتھا۔

فرانس،برطانیہ اور اسپین میں بھی خدائے واحد کا عقیدہ نہ تھا۔

ہندوستان میں طرح طرح کے دین رائج تھے لیکن سب سے زیادہ بت پرستی کا رواج تھا۔

طبقاتی اختلاف اور نسلی امتیاز

ایران میں لوگوں کو طبقات میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ ہر طبقہ خاص امتیاز کا مالک تھا۔ سب سے زیادہ ممتاز وہ طبقے تھے جو حکومتِ وقت سے نزدیک تھے۔

مشہور مورخ طبری کے بقول:طبقات کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ تھا کہ ’’انوشیروان‘‘ کے زمانے میں بھی مزدور طبقہ کے لئے لکھنے پڑھنے کی آزادی نہ تھی۔

یہ تفریق اس وقت اس قدر نمایاں تھی، جب انوشیرواں کی علم دوستی اور عدالت گستری کا چرچا سن کرروم کے فلاسفہ نے ایران میں پناہ لی تو وہ اس تفریق کو برداشت نہیں کرپائے اور ایران سے واپس چلے گئے۔

(ایران درزمان ساسانیان،تالیف پروفیسر کریسٹن سن،ترجمہ رشید یاسمی، ص۴۶۰)

فردوسی نے اپنے شاہنامہ میں اس تفریق کی منظر کشی کی ہے۔

’’غموریہ‘‘ اور ’’حلب‘‘ کے درمیان انوشیرواں کی فوج اور سپاہ روم میں زبردست جنگ چھڑی تھی جب جنگ کی آگ بھڑکتے بھڑکتے ایران کی چھاؤنی ’’قلعہ سقیلا‘‘ کے دروازے تک پہونچ گئی تو اس وقت ایران کے تین لاکھ سپاہی پیسے کی کمی اور اسلحہ کی قلت سے فریاد بلند کرنے لگے۔

اس وقت فوج کو پیسہ کی سخت ضرورت ہے اورجنگی گھوڑے اور دیگر وسائل جنگ کی فوری حاجت ہے۔

جب یہ خبر انوشیروان تک پہونچی تو وہ سوچ میں پڑگیا جس نے اسے مریض کردیا۔ اس نے اپنے وزیر ’’بزرگ مہر‘‘ کو بلایا اور کہا:

فوراً ’’مازندران‘‘(یہ مازندران موجودہ مازندران کے علاوہ ہے۔)چلے جاؤ اور خزانے میں جو کچھ ہے لے آؤ۔

وزیر کو شکست سرپر منڈلاتی نظر آرہی تھی مازندران کی مسافت کافی طولانی تھی جس کی بنا پر وزیر کو یہ خطرہ تھاکہ مازندران سے آتے آتے کہیں شکست نہ ہوجائے۔ لہٰذا اس نے انوشیرواں سے کہا:

بادشاہ! خزانے تک جانے میں کافی وقت لگے گا جب کہ فوج کو فوری ضرورت ہےمیری رائے یہ ہے کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو یہیں کسی نزدیک شہر کے روسا سے قرض لے لیا جائے اور ا س طرح اس مشکل سے نجات حاصل کی جائے۔

انوشیرواں نے وزیر کی رائے سے اتفاق کیا اور کہا کہ فوراً کسی کو بھیج کر قرضہ حاصل کرلیا جائے۔

بزرگ مہر نے ایک وجیہ اور عقل مند شخص کو منتخب کیا اور نزدیک ہی ایک شہر کی طرف روانہ کردیا تاکہ وہ وہاں کے رؤسا سے قرض حاصل کرے۔

نمائندہ شہر پہونچا اور تلاش کرتے ہوئے ایک بوڑھے موچی کے پاس پہنچا جو مزدور طبقہ سے تعلق ضرور رکھتا تھا مگر ساری ضرورتیں پورا کرنے کی قدرت رکھتا تھا وہ خوشی خوشی راضی ہوگیا لیکن اس کی ایک تمنا یہ تھی کہ بادشاہ اس کے اکلوتے فرزند کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دے جو اس وقت اونچے طبقہ کا حق تھی۔

نمائندے نے واپس آکر بزرگ مہر کے سامنے سارا قصہ بیان کردیا۔ بزرگ مہرانوشیروان کے پاس گیا اور سارا قصہ دہرادیا۔

انوشیروان نے اس بوڑھے موچی کی اس تمنا کو توہین محسوس کیا اور کمالِ بے حیائی کے ساتھ اس کی یہ تمنا رد کردی اور اپنی سخت ضرورت کے باوجود بھی اس کے قرضہ کی پیش کش کو قبول نہ کیا۔ غصہ کے عالم میں بزرگ مہر سےکہنے لگا:

تمھاری عقل پر پتھر پڑگیا ہے کیا؟! فوراًاس نمائندہ کو واپس بلاؤ کہیں وہ اس سے قرض حاصل نہ کرلے۔ اب تو یہ نوبت آگئی ہے کہ نچلے طبقہ کے افراد اپنی اولاد کو تعلیم دلانے کی تمنا کریںتاکہ جب وہ تعلیم حاصل کرلیں اور ہماری اولاد تخت نشین ہوتو اس پر برتری حاصل کرے۔ بعد میں آنے والی نسلیں ہمیں کس نام سے یاد کریں گی سوائے ہم پر لعنت بھیجنے کے۔

(شاہنامہ فردوسی۔ طبع حجری امیر بہادر خط عمادالکتاب ۱۳۲۶ھ؁)

یہ واقعہ طبقات کے درمیان اختلاف و امتیاز کو بخوبی بیان کررہا ہے۔ یہی کچھ حالت اس وقت روم اور ہندوستان کی بھی تھی اونچے طبقے کے لئے سارے وسائل فراہم تھے اور نچلا طبقہ ہر سہولت سے محروم تھا۔

اس وقت لوگ نسلی امتیازپر فخر و مباہات کرتے تھے اور اپنے کو دوسروں سے بلند و بالا جانتے تھے (یہی صورت حال اس وقت بھی ہے مگر پہلے سے کچھ کم)۔

عورت کی منزلت اسلام سے قبل

عرب

انسان دوسری تمام چیزوں کی طرح عورت کا بھی مالک ہوتا تھا۔ بیٹے کو جہاں اور چیزیں باپ سے ورثہ میں ملتی وہاں عورت بھی ملتی تھی،عورت،باپ، بیٹے یا شوہر کی ملکیت ہوتی تھی۔

(تاریخ ویل ڈورانٹ ج۱۱،ص۸)

لڑکیاں ان کے لئے باعث ذلت تھیں بعض قبیلہ تو لڑکی کو اس قدر باعثِ لعنت سمجھتے تھے کہ اس کو زندہ دفن کردیتے تھے۔

(سورۂ نحل آیت ۵۹ تاریخ ویل ڈورانٹ ج۱۱،ص۷)

ایران

پست طبقاتی نظام نے عورت کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہ کیا تھا ہر ایک کی طرح اس کے بھی حقوق پامال کئے جارہے تھے۔

یونان

عورت نجس العین تصور کی جاتی تھی ۔اس کو شیطان کی اولاد جانتے اور مجسم جانور سمجھتے تھے۔

ہندوستان

یہاں بھی عورت کی حالت دوسری جگہوں سے بہتر نہ تھی،عورت ہمیشہ باپ شوہر یا بیٹے کی غلام رہتی تھی،ا س کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے شوہر کو آقا کہہ کر خطاب کرے۔ اور اگر اس کی زندگی میں شوہر کا انتقال ہوجاتا تھا تو ا س کو بھی اس کے ساتھ زندہ جلادیا جاتا تھا۔

جاپان

عورتیں تازندگی ،باپ، بیٹے یا شوہر کی سرپرستی میں زندگی بسر کرتی تھیںلڑکیوں کے لئے وراثت میں کوئی جگہ نہ تھی۔

چین

باپ کو یہ قدرت حاصل تھی کہ وہ اپنی زوجہ اور اولاد کو غلام بنا کر فروخت کرسکتا تھا۔ بسا اوقات وہ قتل بھی کرسکتا تھا۔

ویل ڈورانٹ نے چین کے قدیمی شاعر کا ایک قطعہ نقل کیا ہے جس سے عورت کی حیثیت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ قطعہ کا مفہوم یہ ہے:

عورت ہونا کس قدر غم انگیز ہے۔

زمین پر کوئی بھی چیز عورت سے سستی نہیں ہے

جس وقت لڑکی پیدا ہوتی ہے اس وقت کسی کے بھی چہرے سے خوشی نظر نہیں آتی ہے ۔کسی کے لب پر مسکراہٹ نہیں کھیلتی۔

(تاریخ تمدن۔’’ویل ڈورانٹ‘‘ تیسری فصل ص ۔۱۰۶۳۔۱۰۶۸)

اس سماج میں عورت کی کوئی بھی وقعت نہ تھی کبھی تو اس کو بیابانوں میں بھیڑیے کے حوالے کردیتے تھے۔

روم

یہاں بھی عورت کو برائیوں کا پتلا جانا جاتا تھا اور بچوں کی طرح اس کی بھی نگرانی ضروری سمجھی جاتی تھی۔

اس وقت ساری دنیا فتنہ و فساد کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی کہیں بھی کوئی روشنی نظر نہیں آرہی تھی ،گرچہ فطرت کی تہوں میں اصلاح کی شمع ٹمٹما رہی تھی لیکن کبھی شہوت اور ظلم وستم کی سیاہی میں ایک طرف سے اور دوسری طرف سے فقروفاقہ کی فلاکت باز فضا میں کھوگئی تھی ۔یہ فطری آرزو اس قدر بے نور ہوگئی تھی جو رہروان ِراہ راست کی رہنمائی کرنے سے قاصر تھی۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا ساری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لئے تھا ساری دنیا اسی تاریکی میں سردھن رہی تھی چاروں طرف ظلمت اس قدر پھیلی ہوئی تھی جسے صرف چمکتا دمکتا سورج ہی دور کرسکتا تھا۔

ساری دنیا سے زیادہ عرب میں تاریکی تھی جہاں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ گویا یہ لوگ پستی اور فساد کی آخری حد کو پہونچ گئے تھے۔

اس وقت کی عکاسی حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام نے ان الفاظ میں فرمائی ہے:

اے گروہِ عرب! تم اس سے پہلے بدترین دین کی پیروی کرتےتھے اور بدترین جگہ زندگی گزاررہےتھے ۔سنگلاخ وادیوں اور سانپوں کے درمیان دن گذار رہے تھے ایسے سانپ جو بہرے تھے ۔ کسی آواز کا ان پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔

تم گندہ پانی پیتے تھے ، خراب غذا استعمال کرتے تھے ،ایک دوسرے کاخون بہاتے تھے او ررشتہ داروں سے دور رہتے تھے۔

بت کی پرستش کرتے تھے او رگناہوں میں ملوث رہتے تھے۔

(نہج البلاغہ، ص۶۸ خطبہ ۲۶ صبحی صالح)

 

پیغمبر اسلامؐ کی ولادت

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت ۱۷؍ربیع الاول ۵۷۰ء ہجرت سے ۵۳ سال قبل مکۂ معظمہ میں ہوئی۔

آپ کے والد جناب عبداللہ جناب اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے تھے آپ کا انتقال آنحضرتؐ کی پیدائش سے پہلے ہی ہوگیا تھا۔ آپ کی والدۂ ماجدہ جناب آمنہ اپنے وقت کی پارساترین خاتون تھیں۔

آنحضرتؐ کو پاکیزہ ترین عورت جناب حلیمہ کے سپرد کیا گیا تاکہ وہ آپ کو دودھ پلائیں اور ساتھ ہی ساتھ دیکھ بھال بھی کرتی رہیں۔

ابھی آنحضرتؐ چار سال کے نہیں ہوئے تھے کہ جناب حلیمہ سے فرمائش کی کہ اپنے رضاعی (دودھ شریکی) بھائیوں کے ہمراہ صحرا جائیں گے۔ جناب حلیمہ کا بیان ہے کہ میں نے دوسرے دن آنحضرتؐ کو نہلایا بالوں کو سنوارا آنکھوں میں سرمہ لگایا اور ایک یمنی پتھر(یہ ایک یمنی پتھر ہے جس میں سفید ،زرد اور سرخ تل ہوتے ہیںیہ پتھر عقیق کی کان میں پایا جاتا ہے۔ فرہنگ عمید)  آنحضرتؐ کے گلے میں لٹکادیا تاکہ صحرائی بھوت آپ کو کوئی گزند نہ پہونچانے پائیں۔ لیکن آنحضرتؐ نے اس کو اتاردیا اور فرمایا: مادر گرامی ! آپ مطمئن رہیں میرا خدا میرے ساتھ ہے جو میری حفاظت کرے گا۔

(بحارالانوار ج۱۵ص۳۹۲ طبع جدید)

ابتدا ہی سے رحمتِ الٰہی آنحضرت ؐ کے شامل تھی ۔ مسلسل فرشتوں کے ذریعہ آپ کی مدد ہوتی رہی اور تمام غلط باتوں کے سدھار کے لئے آپ کو الہام کیا جاتارہا۔

آنحضرتؐ کی رفتار و گفتار نے بچپنے ہی میں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا ایام جوانی میں بھی آپ تمام جاہلی آداب ورسوم سے دوررہے،کبھی بھی کسی بز مِ غزل خوانی، محفلِ رقص وسرود میں شرکت نہیںکی،شراب منھ نہ لگائی،بتوں کو ہمیشہ دشمن سمجھا،آپ راست باز اور راست کردار تھے۔ اعلانِ نبوت سے برسوں قبل لوگ آپ کو ’’امین‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے، پاک دل، روشن فکر اور الٰہی خوبیوں کے مالک تھے۔ ہر سال ایک مہینہ غار حرا میں رہتے تھے اور اپنے خدا سے رازونیاز کی باتیں کرتے تھے۔ ایک ماہ کے بعد جب غارحرا سے باہر آتے تو گھر جانے کے بجائے خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اس کے بعد گھرتشریف لے جاتے تھے۔

چالیس سال کی عمر میں جب آپ غارحرا میں عبادت میں مشغول تھے اس وقت آپ کو مبعوث برسالت کیا گیا۔

تین سال تک آپ پوشیدہ طور سے تبلیغ کرتے رہے اس مدت میں بہت کم لوگ ایمان لائے مردوں میں ایمان لانے والے حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام تھے اور عورتوں میں جناب خدیجۃ الکبریٰ کی ذات گرامی تھی۔(تاریخ طبری ج۳ص۱۱۵۹)  تین سال بعد آپ کو یہ حکم ملا کہ آپ کھلے عام لوگوں کو دین الٰہی کی دعوت دیں۔ اس لئے آپ نے اپنے اعزا کو رات کے کھانے پر دعوت دی ۴۰ افراد اس دعوت میں شریک تھے۔ لیکن آنحضرتؐ نے دعوت کے لئے کھانا جو تیار کرایا تھا وہ صرف ایک آدمی کی غذا سے زیادہ نہ تھا۔ لیکن خدا کے فضل سے اس مختصر سی غذا سے سب سیر ہوگئے۔ یہ دیکھ کر ابولہب نے بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا کہ: ’’محمد جادوگر ہے۔‘‘۔ اس دن قبل اس کے کہ آنحضرتؐ کچھ بیان فرماتے سارے رشتہ دار اٹھ کر چلے گئے۔ آنحضرتؐ نے دوسرے دن پھر ان لوگوں کو دعوت دی۔ دوسرے دن کھانا تمام ہونے کے بعد آنحضرتؐ نے ان سے کہا: اے فرزندانِ عبدالمطلب! کسی بھی قوم میں کوئی بھی جوان اس چیز سے بہتر کوئی چیز نہیں لایا ہے جو میں تمھارے لئے لایا ہوں میں تمھارے لئے دنیا وآخرت کی نیکی لے کر آیا ہوں۔ مجھے خدا کی طرف سے یہ حکم ملا کہ میں تمھیں اس کی طرف بلاؤں، تم میںسے کون ہے جو میری مدد کرے تاکہ میرا بھائی اور جانشین قرار پائے؟

حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ علی علیہ السلام نے نصرت کا وعدہ کیا۔ آنحضرتؐ نے علی علیہ السلام کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: یہ میرا بھائی ہے۔ یہ میرا وصی ہے تمھارے درمیان، اس کی باتیں سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

(تاریخ طبری ج۳، ص۔۱۱۷۱،ص۔۱۱۷۳۔ مجمع البیان ج۷،ص۲۰۶)

ایک روز آپ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور لوگوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے فرمایا !لوگو! اگر میں تم سے یہ کہوں کہ دشمن تمھاری گھات میں ہے، جو صبح یا شام کسی وقت حملہ کرسکتا ہے۔ تو کیا تم میری بات کا یقین کروگے،سب نے مل کر کہا: ہاں! یقیناً۔ آ پ نے فرمایا!: میں تمھیں اس سخت عذاب سے ڈرارہا ہوں جو تم پر نازل ہونے والا ہے۔ اس خوف سے کہ کہیں حضرتؐ کی بات لوگوں پر اثرانداز نہ ہوجائے۔ فوراً ابولہب نے کہا: آپ نے یہی بات سنانے کے لئے ہمیں بلایا تھا۔

آنحضرتؐ نے اپنی دعوت کا آغاز کلمۂ توحید سے فرمایا۔ توحید ہی کو تمام عقائد کی بنیاد قرار دیا ،لوگوں کو اس خدا سے واقف کرایا جو ان کی بہ نسبت ان سے زیادہ نزدیک ہے تمام قسم کی بت پرستی اور شرک کو غلط قراردیا۔مکہ کی فضا میں عظیم انقلاب برپا کردیا لوگوں کے افکار اپنے دین کی طرف موڑ دئے، گرچہ قریش اسلام کی ترقی سے سخت ناراض تھے، آنحضرتؐ کو تبلیغ سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور کبھی آنحضرتؐ کے قتل کا بھی منصوبہ بنایا لیکن خدا وند عالم کی نصرت و مدد اور آنحضرتؐ کے ثبات قدم سے قریش کی ہر کوشش نقش برآب ثابت ہوئی اسلام روزافزوں ترقی کرتاگیا یہاں تک کہ مکہ سے باہر والے بھی اسلام کے معتقد ہونے لگے اورلوگ جان کی بازی لگا کر دین الٰہی قبول کرنے لگے۔

بعثت کے گیارہویں سال’’قبیلۂ خزرج‘‘ کے کچھ افراد حج کی غرض سے مدینہ سےمکہ آئے۔ پیغمبر اسلامؐ نے انھیں دین مقدس اسلام کی دعوت دی جس کو انھوں نے قبول کرلیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ وعدہ بھی کیا جب ہم اپنے وطن مدینہ واپس جائیں گے تو لوگوں کو آپ کے دین کی دعوت دیں گے۔ یہ لوگ مدینہ واپس آئے اور پیغمبر اسلام ؐ کا پیغام سارے مدینہ میں نشرکردیا۔ دوسرے سال مدینہ کے ۱۲؍افراد نے ’’عقبہ‘‘ کے مقام پر آنحضرتؐ کے ہاتھوں پر بیعت کی اور یہ اقرار کیا: کبھی شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے،زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، کسی پر تہمت نہیں لگائیں گے اور جس چیز کا آنحضرتؐ حکم دیں گے اس پر عمل کریں گے۔ اس وقت آنحضرتؐ نے ’’مصعب‘‘ نامی جوان کو قرآن کی تعلیم دینے کے لئے ان کے ہمراہ مدینہ بھیجا ۔ اس طرح مدینہ کا بھاری گروہ آپ کا گرویدہ اور دین اسلام کا معتقد ہوگیا۔

ہجرت

پیغمبر اسلامؐ بعثت کے تیرہویں سال تک مکہ میں رہے اور لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ بہت ہی پامردی اور ثبات قدم کے ساتھ قریش کے تمام تر مظالم کا مقابلہ کرتے رہے۔ ہر طرح سے شکست کھانے کے بعد قریش نےآنحضرتؐ کے قتل کا عجیب و غریب نقشہ تیار کیا۔ لیکن آنحضرتؐ کے اقدام نے اس نقشہ پر بھی پانی پھیر دیا ۔ آنحضرتؐ نے حکمِ خداسے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بستر پر سلایا اور رات ہی رات مکہ سے کوچ کرگئے۔ پہلے غارِحرا میں پناہ لی پھر وہاں سے مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔

آنحضرتؐ کی ہجرت نے تاریخِ اسلام میںایک نئے باب کا اضافہ کیا جس کے سبب بہت ہی چشم گیر(نمایاں) کا میابی اسلام کو نصیب ہوئی اور یہی ہجرت مسلمانوں کی تاریخ کی ابتدا قرار پائی۔

قبیلۂ ’’اوس‘‘ و ’’خزرج‘‘ کی پرانی جنگ آنحضرتؐ کی برکت سے ختم ہوگئی اور اسلامی تعلیمات نے دیرینہ دشمنوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا،برسرِپیکار رہنے والے قبیلے ایک دوسرے کا تعاون کرنے لگے اور دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہوگئے۔

آنحضرتؐ کےکردار کی بلندی ،پاکیزگی ، آپ کی اخلاقی خصوصیات روحانی صفات، اور دین اسلام کی فطری تعلیمات اس کا سبب ہوئیں کہ لوگ گروہ درگروہ اسلام قبول کرنے لگے اور اسلام کا دائرہ وسیع ہوتاگیا۔

پیغمبرؐ انھیں لوگوں میں سے تھے اور انھیں کےساتھ رہتے تھے آنحضرتؐ نے کبھی بھی لوگوں سے دوری اختیار نہ کی، آنحضرتؐ لوگوں کے نقصان و فائدے میں برابر کے شریک رہے۔ آپ ظلم وتعدی کے سخت مخالف تھے اور لوگوں کو ظلم وجور سے منع کرتے تھے۔ عورتوں کے لئے ہر وہ قانون بیان کردیا جس سے ان کی شخصیت رشد کرتی اور انھیں ترقیاں نصیب ہوتیں۔ آپ نے ان تمام مظالم کی روک تھام کی جو اسلام سے پہلے عورتوں کے حق میں روا سمجھے جاتے تھے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ بے عفتی اور بے قید وشرط آزادی کے بھی سخت مخالف تھے۔ آپ کی تمنا یہ تھی کہ عورتیں اسلامی قوانین کے سائے میں رشدوکمال حاصل کریں اور اسلامی حدود میں رہ کر ترقیاں کریں۔

غلاموں کے حقوق کا دفاع آپ اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔ غلاموں کی آزادی کے لئے ایک جامع قانون بیان کیا۔ آنحضرتؐ نے ایک ایسے عالی شان سماج کی تشکیل کی جس میں سفید و سیاہ، امیروغریب،بڑا چھوٹا،عرب ،عجم،قریش غیر قریش سب برابر تھے، انسان واقعی بننے کے لئے امکانات ہر ایک کے لئے برابر سے فراہم تھے، ہر شخص اپنی انسانیت سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ یہ ایک ایسا سماج تھا جہاں نسلی، خاندانی…… امتیاز کا کوئی سوال نہ تھا۔ جہاں معیارِ فضیلت،عزت،بزرگی،صرف تقویٰ، علم،انسانی صفات اور اخلاقی بلندیاں تھیں گورے کالے کا فرق نہ تھا ذات پات کا جھگڑا نہ تھا۔ شرافت کا معیار پرہیز گاری تھی۔

ذیل کی داستان سماج کی بلندی کی عکاسی کررہی ہے۔ یہ اس سماج کا صرف ایک نمونہ ہے جس کی بنیاد پر پیغمبر اسلامؐ کی تعلیمات ہیں۔

’’جویبر‘‘ ایک غریب جوان تھے ،کوئی خاص صورت نہ تھی بلکہ کسی حد تک بدصورت تھے۔ اسلام کے شوق میں مدینہ آئے تھے اور اسلام قبول کرلیا تھا۔

آنحضرتؐ نے شروع شروع میں ان کو مسجد میں جگہ دی بعد میں اس سائبان میں جگہ دی جسے صفہ کہا جاتا ہے۔

ایک روز پیغمبر اسلامؐ نے جویبر سے فرمایا: کیا اچھا ہوتا جو تم شادی کرلیتے اپنی پاک دامنی کو محفوظ رکھتے اور منظم طریقے سے زندگی بسرکرتے۔

میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں! میں غریب الوطن ،فقیر اور بدصورت ہوں، کون لڑکی مجھے پسند کرے گی او رکون میری ہمسر بننے کے لئے راضی ہوگی جب کہ میں کسی اعلیٰ خاندان سے تعلق بھی نہیں رکھتا ہوں۔

جویبر!اسلام نے تمام جاہلی آداب ورسوم کو ختم کردیا ہے شرافت کا وہ معیار نہ رہا جو اسلام سے پہلے تھا۔ گورے ،کالے،عرب ،عجم سب کے سب حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اور خداوند عالم نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔لہٰذا آج کے دن سیاہی و سفیدی…….. شرف وفضیلت کا سبب نہیں ہے بلکہ نقص و عیب بھی نہیں ہے۔

خداوندعالم کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو۔

بس ابھی زیاد کے گھر جاؤ اور ان کی لڑکی ’’ذلفا‘‘ کو میری طرف سے اپنے لئے خواستگاری (شادی) کرو۔

جو یبر نے وہی کیاجو پیغمبر اسلامؐ نے حکم دیا تھا لیکن زیاد کو جو مدینہ کے اعلیٰ فرد تھے یقین نہ آیااو رکہا!

ہم اپنی لڑکیوں کی شادیاں اپنے جیسے خاندان وقبیلہ میں کرتے ہیں۔ اور پیغمبر اسلامؐ کو اس بات کا باقاعدہ علم ہے لہٰذا تم واپس جاؤ میں خود پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور معذرت پیش کرتا ہوں۔

جویبر واپس ہوگئے لیکن غصہ میں زور زور یہ کہہ رہے تھے: ’’خدا کی قسم!‘‘ نہ قرآن نے ایسا کہا ہے اور نہ پیغمبرؐ نے ایسا حکم دیا ہے کہ اپنی لڑکیوں کی شادیاں اپنے جیسے خاندانوں میں کرو۔‘‘

جویبر کی آواز ’’ذلفا‘‘ نے سن لی، باپ کو بلا کر دریافت کیا:

آپ نے اس جوان سے کیا کہا جو اسے غصہ آگیا؟

وہ مجھ سے کہہ رہا تھا: ’’پیغمبر ؐ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ اپنی لڑکی کی شادی میرے ساتھ کردیجئے۔‘‘

جویبر جھوٹ نہیں بول سکتے ۔ آپ اس کو واپس بلائیے اور خود پیغمبرؐ کی خدمت میں جاکر دریافت کیجئے تاکہ بات صاف ہوجائے۔

زیاد نے لڑکی کے کہنے پر عمل کیا۔ معذرت کرکے جویبر کو واپس بلایا اور خود پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں گئے۔ اور کہا:

جویبر آپ کی طرف سے ایک پیغام لائے تھے ۔ میں آ پ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ اپنی لڑکیوں کی شادیاں صرف اپنے جیسے خاندانوں میں کرتے ہیں۔

جویبر باایمان شخص ہے باایمان مرد کے لئے ہم شان باایمان عورت ہے اس کو اپنی لڑکی کا شوہر منتخب کرلو۔

زیاد واپس گھر پہونچے اور سارا واقعہ لڑکی سے دہرادیا۔

لڑکی نے کہا: بابا جان!،پیغمبر اسلامؐ کے حکم کی نافرمانی کفر ہے ۔ میں خوشی سےحاضر ہوں آپ جویبر کو اپنا داماد بنا لیجئے۔

زیاد جویبر کو لے کر اپنے خاندان کے افراد کے پاس آئے اور اسلامی قوانین کے مطابق اپنی لڑکی سے ان کا نکاح کردیا۔ بلکہ لڑکی کا مہر بھی اپنے پاس سے ادا کیا اور ایک سجا سجایا گھر بھی ان کو دیا تاکہ ہنسی خوشی اپنی زندگی گذارسکیں۔

(فروع کافی ج۵ کتاب نکاح۔ ص۳۴۰۔۳۴۱)

ہاں! ا س خیرہ کردینے والی روشنی نے، اس مرکزِ نور نے، ایک ایسی شمع روشن کی جو پاکیزہ دلوں کو ہمیشہ راہِ توحید کی طرف رہنمائی کرتی رہے۔ اور ایسا ہوا بھی، تاریکیوں میں بسنے والے جب تاریکیوں سے عاجز آگئے تو پروانے کی طرح اس شمع روشن کی طرف آنے لگے اور قرآن کریم کے نورانی دستور کے سائے میں گروہ در گروہ اسلام قبول کرنے لگے۔

’’یونس ویلی‘‘ یہ لکھتا ہے کہ:

’’…… محمد ایک مہذب دین تمام دنیا والوں کے لئے لائے۔

وہ عنایتِ پروردگار کے مظہر تھے۔

خداوندعالم نے انھیں مبعوث فرمایا کہ عیسائیوں کو ان کی گمراہی کی طرف متوجہ کریں،بت توڑدیں ،ایرانیوں کو توحید کی دعوت دیں، انھوں نے ’’خدا شناسی ‘‘ کے پاکیزہ دین کو دیوار چین سے اسپین کے ساحل تک پھیلا دیا۔

محمد کا دین اس قدر عاقلانہ ہے کہ جس کی تبلیغ میں تلوار و طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ دینی اصول لوگوں کو سمجھا دینا ہی کافی ہے تاکہ ہر شخص جان ودل سے اس کا گرویدہ ہوجائے اصول دین عقل سلیم سے اس قدر ہم آہنگ ہے کہ نصف صدی سے کم کی مدت میں آدھی دنیا کے باشندوں کے دلوں میں نفوذ کرگیا تھا۔

(زندگی محمدؐ۔ ص۱۷۷)