اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٢٠

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ

عصر انتظار و اُمید

گذشتہ انبیاء علیہم السلام نے اور خاص کر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام نے اپنے ماننے والوں کو اسلام کے ظہور کی بشارت دی تھی۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلامؐ کی بعض خصوصیات بھی ان کی آسمانی کتابوں میں موجودہیں۔ لہٰذا یہودی اور عیسائی بلکہ دوسرے مذاہب والے بھی اسلام کا اس طرح انتظار کررہے تھے جس طرح کشتی والے ساحل کا انتظار کررہے ہوں جس کا بادبان بھی ختم ہوگیا ہو،لنگر بھی ٹوٹ گیا ہو اور غرق ہوجانا نزدیک ہو۔

(سیرۂ ابن ہشام ج۱ ص۲۱۱۔۲۲۶)

بعض یہودیوں نے تو حکومت اسلامی کے مرکز بھی تعیین کردی تھی کہ وہ  جگہ کو’ ’ احد‘‘ اور ’’عیر‘‘(عیروہ پہاڑی ہے جس کے جنوب میں مدینہ اور شمال میں احد واقع ہے۔ الجبال زمخشری، ص۸ اور ۱۰۰)  نامی پہاڑی کے درمیان ہے۔ بہتوں نے تلاش بسیار کے بعد اس جگہ کا پتا لگایا اور وہیں جاکر بس گئے اور ظہورِ اسلام کا انتظار کرنے لگے۔

(روضۂ کافی ص۳۰۸)

اس سلسلے میں قرآن بہترین گواہ ہے کہ ’’توریت ‘‘ اور ’’انجیل‘‘ نے آنحضرتؐ کی آمد کی خبر دی ہے۔ قرآن کی چند آیتیں ملاحظہ ہوں:

۱۔(یہودی اور عیسائیوں کا وہ گروہ رحمتِ خدا کا مستحق ہے) جو اس رسول اور نبی کی پیروی کرتا ہے جو ’’اُمی‘‘ ہے جس کی نشانیاں توریت اور انجیل میں موجودہیں۔

وہ پیغمبر ایسا ہے جو انھیں نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے ،پاک و صاف چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتا ہے اور گندگی و نجس چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے۔

اور سخت احکام کا بوجھ جو ان کی گردن پر تھا اور وہ پھندے جو ان کی گردن میں پڑے ہوئے تھے ان سب کو وہ پیغمبران سے الگ کردیتا ہے۔

جولوگ اس پر ایمان لائے، اس کی عزت کی، اس کی مدد کی اور اس نور (قرآن) کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے تو یقیناً یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘

(سورۂ اعراف آیت۱۵۷)

۲۔محمد مصطفیٰ ﷺ خدا کے رسول ہیں او رجو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں بڑے رحم دل ہیں۔

تم انھیں اس حال میں دیکھو گے کہ وہ خدائے واحد کے سامنے) تن برکوع اورسربسجود ہیں۔ خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے خواستگار ہیں، ان کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشان ہیں۔

ان کے یہی اوصاف توریت میں ہیں اور یہی حالات انجیل میں بھی مذکور ہیں۔

وہ گویا ایک کھیتی کے مانند ہیں کہ اس نے اپنی کوپل نکالی ،پھر اس کو قوت پہونچائی پھر وہ موٹی ہوگئی ۔ پھر اپنے پیروں پر (جڑ) کھڑی ہوگئی اور اتنی تازگی سے کسانوں کو خوش کرنے لگی،تاکہ ان کے ذریعہ کافروں کا جی جلائے۔

جولوگ ایمان لائے ہیں اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں خدا نے اس سے بخشش اور اجرعظیم کا وعدہ کیا ہے۔

(سورۂ فتح آیت۲۹)

یہ مثال اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ پیغمبر اسلامؐ اور ان کے جاں باز ساتھیوں نے اپنی تبلیغ کا آغاز صفر سے کیا اور اوج ترقی تک پہونچے۔ اپنی فدا کاری، ایمان ،اتحاداور ایثارسے ساری دنیا کو انگشت بدنداں(حیران) کردیا۔

۳۔ جب مریم کے پسر عیسیٰ نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمھاری طرف خدا کا پیغامبر ہوں،اور جو کتاب توریت میرے سامنے موجود ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں تمھیں ایسے رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئیں گے اور جن کا نام احمدؐ ہوگا۔

لیکن جب وہ (پیغمبراحمدؐ) ان کے پاس واضح و روشن معجزات اور دلیلیں لے کر آئے (تو انھیں اس کی بشارت کا یقین نہ ہوا) اور کہنے لگے:،یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

(سورۂ صف آیت ۶)

۴۔جن کو ہم نے آسمانی کتاب دی ہے وہ پیغمبر اسلامؐ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،ان میں سے کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو دیدہ و دانستہ (دیکھتے اور جانتے ہوئے)حق بات کو چھپاتے ہیں۔

(سورۂ بقرہ آیت ۱۴۷۔ سورۂ انعام آیت۲۰)

ا ن آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گذشتہ انبیاء علیہم السلام نے پیغمبر اسلامؐ کی آمد کی بشارت اپنی قوم کو دی تھی اور پیغمبر اسلامؐ کی خصوصیات اور صفات بھی بیان کردی تھیں،اور اس کا تذکرہ ان کی مذہبی کتابوں میں بھی موجود تھا، تاکہ آنحضرتؐ کے ظہور اور اعلان بعثت کے بعد اہل کتاب کے لئےکسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہ جائے۔

اگر آنحضرتؐ کے زمانے کے یہودیوں و عیسائیوں کی کتابوں میں آنحضرتؐ کا تذکرہ نہ ہوتا اور آنحضرتؐ کے ظہور کی بشارت نہ دی گئی ہوتی تو آنحضرتؐ جیسے صاحبِ کردار سے یہ بات بعید تھی کہ وہ اپنی رسالت کے اثبات کے لئے تمام یہودیوںاور عیسائیوں کے سامنے کھڑے ہو کر یہ اعلان کرتے ہیںکہ میرا نام ، میری خصوصیات تمھاری توریت اور انجیل میں موجود ہیں۔

اگر یہ بشارتیں ان کی کتابوں میںنہ ہوتیں تو یہ اہل کتاب کبھی بھی خاموش نہ بیٹھتے اور آنحضرتؐ کی رسالت کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنی کتابوں کے نسخے پیش کردیتے اور کہتے کہ دکھائیے اس میں آپ کا تدکرہ کہاں ہے؟

لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ان لوگوں نے اس آسان راستہ کو چھوڑ کر آنحضرتؐ کی مخالفت کی ہر ممکن کوشش کی اور امکان بھر تبلیغِ اسلام کی راہ میں روڑے اٹکائے، جنگ کے لئے آمادہ بھی ہوگئے۔ مگر اپنی کتابیں نہ پیش کیں۔

یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آنحضرتؐ کا تذکرہ آپ کا اسم مبارک آپؐ کی خصوصیات اور صفات ان کی کتابوں میں موجود تھیں ، جن سے وہ واقف بھی تھے۔

چند تاریخی شواہد

اسلام سے پہلے مدینہ میں دوگروہ زندگی بسر کررہے تھے۔

۱ یہودی جو پیغمبر اسلامؐ کے شوقِ دیدار میں اپنا اصلی وطن چھوڑ کر یہاں آباد ہوگئے تھے۔

(روضۂ کافی،ص۳۰۸)

۲ اوس اور خزرج ،جو یمنی بادشاہ ’’تیع‘‘ کے خاندان کے افراد تھے۔ تیع جس وقت مدینہ پہنچا اور اسے یہ معلوم ہوا کہ پیغمبرؐ ہجرت کرکے یہیں تشریف لائیں گے اور یہیں حکومت اسلامی تشکیل پائے گی تو اس نے دو قبیلوں سے کہا: تم لوگ یہیں رہو،اور جب حضرتؐ کا ظہور ہو تو ان کی نصرت اور مدد کرنا،اگر مجھے ان کی زیارت نصیب ہوئی تو میں بھی ان (آنحضرتؐ) کی مدد کروں گا۔

(بحارالانوار جلد۱۵)

یہ لوگ مدینہ میں رہ گئے، دھیرے دھیرے ان کی تعداد بڑھتی گئی، اسی اعتبار سے ان کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا گیا، یہ اتنے طاقت ور ہوگئے کہ یہودیوں پر حملہ کرنے لگے، ان کے مال ومتاع پر قبضہ کرنے لگے، اور رفتہ رفتہ یہ بات بھی ان کے ذہنوں سے نکل گئی کہ ان کے بزرگ یہاں کیوں آباد ہوئے تھے، اور اس کا سبب کیا تھا۔

ان لوگوں کے مقابلے میں یہودی کمزور پڑتے تھے، وہ پیغمبر اسلامؐ کے ظہور کو سوچ کر اپنے دل کو تسکین دے لیتے تھے کہ ظہور کے بعد ان تمام مظالم کا خاتمہ ہوجائے گا اور پھر وہ آرام سے زندگی بسر کریں گے ان لوگوں کے بارے میں قرآن کا ارشاد:

’’اسلام سے پہلے یہودی کہا کرتے تھے کہ اسلام کی آمد سے کفار کو شکست اٹھانا پڑے گی اور اسی طرح ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے تھے لیکن جب اسلام ظاہرہوا تو اس کو پہچاننے سے انکار کردیا اور اسے قبول نہ کیا۔‘‘

(سورۂ بقرہ آیت ۸۹)

_______________

’’ابن حواش‘‘ کا شمار علمائے یہود میں ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کے شوقِ دیدار میں اس نے شام کی رہائش ترک کرکے مدینہ میں سکونت اختیار کی۔ لیکن اس کی حیات تک حضرت ؐمبعوث نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے اس نے مرتے وقت یہودیوں سے کہا:

’’پیغمبر محمدؐ کی زیارت کے شوق میں اور ان کے عشق میں ، میںنے شام کی آسودہ زندگی کو ترک کردی اور یہاں آگیا اور یہاں روٹی او رکھجور پر قناعت کی۔افسوس کہ میری تمنا پوری نہ ہوئی،لیکن یہ یقین کر لو کہ وہ مکہ میں مبعوث ہوگیا اور ہجرت کرکے یہاں آئے گا وہ غذا میں ایک ٹکڑا روٹی اور کھجور پر اکتفا کرے گا، ا س کی زندگی اس قدر سادہ ہوگی کہ بغیر زین کے مرکب پر سوار ہوگا، اس کی حکومت کی کامیابی حیرت انگیز ہوگی۔ وہ کسی سے ڈرے گا نہیں جو لوگ اس کی حق و حقیقت کی راہ میں سدّراہ بنیں گے وہ انھیں راستہ سے ہٹا دےگا۔

(اثبات الہداۃ ج۱،ص۸۴۔ بحارالانوار ج۱۵،ص۲۰۶ اور سیرۂ ابن ہشام ج۱،ص۳۳)

’’زید ابن عمرو‘‘ حجاز کے رہنے والے تھے،دین مقدس ابراہیم کی تحقیق کا شوق پیدا ہوا،اسی جستجو میں مکہ سے شام، شام سے موصل کا سفر کیا،لیکن جتنا ہی زیادہ تلاش کیا ،اتنی ہی کم کامیابی ہوئی۔ آخر کار ایک عیسائی عالم نے ان سے کہا:اس وقت دین ابراہیمی کے آثار ختم ہوچکے ہیں،لیکن عنقریب تمھاری ہی سرزمین پر ایک پیغمبر مبعوث ہوگا تمھیں اس کی گفتار وکردار میں اپنا مطلوبہ دین مل جائے گا۔

زید مکہ واپس ہوگئے،لیکن راستہ میں انھیں قتل کردیا گیا۔

پیغمبر اسلامؐ زید کو نیکی سے یاد کرتے تھے اور فرماتے تھے:

’’زید وہ ہیں جو دین خدا تک پہونچنے کی راہ میں قتل کردئے گئے ۔‘‘

(بحارالانوار ج۱۵،ص۲۰۴)

عیسائی عالم’’ بحیرا‘‘ نے آنحضرت ؐ کو بچپنے میں دیکھا جو باتیں اس نے اپنی کتابوں میں پڑھی تھیں اس نے آنحضرتؐ کو پہچان لیااور حضرت ابوطالبؑ سے جو اس وقت آنحضرتؐ کے ہمراہ تھے کہنے لگا:

’’یہ پیغمبرہوں گے ان کی حفاظت کرو اور جلد واپس چلے جاؤ۔‘‘

(سیرۂ ابن ہشام ج۱،ص۱۸۰۔۱۸۳)

’’نسطور‘‘ کا شمار عیسائی علماء میں ہوتا ہے ، اس نے جس وقت آنحضرتؐ کو جوانی کے عالم میں دیکھا تو اس نے واضح لفظوں میں آنحضرتؐ کی رسالت کی بشارت دی اور کہا:

پیغمبر آخرالزماں یہی ہیں۔

(طبقات ابن سعدج۱ (حصہ اول)۸۳)

مقدس کتابوں کی ان پیشین گوئیوں کی بنا پر بعض لوگوں نے اسلام کے آغاز ہی  میںہنسی خوشی اس دعوت کو قبول کیا اور بغیر کسی جبرواکراہ کے مسلمان ہوگئے۔

اہلِ مدینہ کا رجحان اسلام کی طرف

جس وقت پیغمبر اسلام ﷺ کو خدا کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ ظاہری طورپر اپنی رسالت کا آغاز کریں اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں، اس زمانے میں بھی ایک طریقہ کاحج رائج تھا۔ حج کے موقع پر کافی لوگ اکٹھا ہوجاتے تھے۔ اس موقع سے پیغمبر اسلامؐ فائدہ اٹھاکر لوگوں سے ملاقات کرتے تھے اور ان کے سامنے اسلام پیش کرتے تھے ایک مرتبہ آپؐ نے منیٰ میں قبیلۂ’’خزرج‘‘ کے چند افراد سے ملاقات کی۔دریافت فرمایا:

’’تم لوگ کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو۔‘‘؟

’’قبیلۂ خزرج سے‘‘

’’کیا تمھارے پاس وقت ہے کہ تھوڑی دیر آپس میں گفتگو کریں۔‘‘؟

’’بالکل ہم حاضر ہیں۔‘‘

’’تمھیں خدائے واحد کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘

اس وقت پیغمبر اسلامؐ نے قرآن کی چند دل نشین آیتیں اُن کے سامنے تلاوت کیں۔

قرآن کی جاذبیت نے اُن پر ایسا اثر کیا کہ بے اختیار ایک دوسرے سے کہنے لگے:

’’ہم قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہی ہے جس سے یہود ہم کو ڈراتے دھمکاتے تھے۔ یہود ہم پر سبقت حاصل نہ کرنے پائیں۔‘‘

وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے اور مدینہ واپس جاکر اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ ان لوگو ں کے بعد پیغمبر اسلامؐ نے مصعب ابن عمیر‘‘ کو مدینہ بھیجا تاکہ ان لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں اور دوسروں کو اسلام کی طرف بلائیں۔

مصعب نے مدینہ میں کافی تعداد میں لوگوں کو مسلمان کیا۔من جملہ ان میں قبیلہ ’’اوس‘‘ کے سردار ’’اسید‘‘ نے بھی اسلام قبول کرلیا اور اپنے قبیلہ والوں سے کہا:

’’محمد(ﷺ) وہی ہیں جن کے بارے میں یہودی برابر خبر دیتے رہے ہیں۔‘‘

اسید کے پورے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا ۔ اس طرح مدینہ میں اسلام پھولنے پھلنے لگا۔ مکہ کے بعض مسلمان بھی ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے اور آخر کار خود پیغمبر اسلام ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حکومت اسلامی کی بنیاد ڈالی۔

داستانِ سلمان

جناب سلمان ایرانی تھے اور ایک کسان کے بیٹے تھے ۔ ان کے والدین آگ کے پجاری اور زرتشتی تھے، اس وقت جناب سلمان کا نام ’’روزبہ‘‘ تھا۔ والدین انھیں بے پناہ چاہتے تھے ۔ اپنے دینی عقائد انھیں سکھلاتے تھے اور انھیں کسی سے ملنے نہیں دیتے تھے۔

ایک دن باپ کے حکم سے کھیتی کے کام سے دُور جارہے تھے ۔ راستہ میں گرجا گھر ملا جس میں کچھ لوگ خدا کی عبادت اور نماز میں مشغول تھے سلمان سوچ میں ڈوب گئے ،غروب آفتاب تک انھیں کے پاس رہے اور سوچتے رہے اور آخر کار یہ بات سلمان کے ذہن نشین ہوگئی کہ ان لوگوں کا مذہب ان کے والدین کے مذہب سے بہتر ہے۔

دریافت کیا کہ ’’ا س دین کا مرکز کہاں ہے۔؟‘‘

کہا: ’’شام‘‘

دیر ہوجانے کی بنا پر باپ سخت پریشان تھا،ایک آدمی کو سلمان کی تلاش کے لئے بھیجا۔

جب سلمان گھر واپس آئے تو باپ نے سوال کیا: کہاں تھے۔‘‘؟

انھوں نے سارا واقعہ بیان کردیا ۔ باپ نے کہا: تمھارے بزرگوں کا دین بہت بہتر ہے۔

روزبہ نے جواب دیا کہ میں سوچنے کے بعد اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ ان لوگوں کا دین ہمارے بزرگوں کے مذہب سے کہیں بہتر ہے۔

یہ سُن کر باپ کو اور زیادہ غصہ آگیا، روزبہ کو بُرا بھلا کہا اور گھر میں قید کردیا۔

روزبہ نے پوشیدہ طورپر ایک آدمی کے ذریعہ عیسائیوں کے پاس یہ پیغام بھیجا ،جس وقت شام کے تاجر یہاں آئیں اور اپنے سارے کام انجام دے کر شام واپس جانے لگیں تواس کی اطلاع مجھے کردی جائےتاکہ پوشیدہ طورپر گھر سے باہر آؤں اور خفیہ  طریقہ سے شام پہونچ جاؤں۔

چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور روزبہ شام پہونچ گئے۔ وہاں انھوں نے ایک بزرگ عیسائی عالم دین کی بارگاہ میں حاضری دی اور اس سے یہ درخواست کی کہ وہ انھیں اپنی خدمت گذاری کے لئے رکھ لے تاکہ اس سے علم حاصل کریں اور خدا کی عبادت کریں۔ اس عالم نے روزبہ کی یہ درخواست قبول کرلی۔

جب اس عالم کا انتقال ہوگیا تو روزبہ نے اسی عالم کے مشورے کے مطابق دوسرے جید علما کے پاس حاضری دی اور ان سے کسب فیض کیا۔

اس سلسلے کے آخری عالم جو شام میں ’’عموریہ‘‘ نامی جگہ رہتا تھا۔ روزبہ نے اس سے مرتے وقت، یہ درخواست کی کہ وہ انھیں یہ مشورہ دیں کہ اب کس عالم کی خدمت میں حاضری دوں، اس عالم نے کہا:

مجھے اس وقت کسی عالم کا علم نہیں ہے،لیکن بہت جلد سرزمینِ عرب پر ایک پیغمبر مبعوث ہوگا وہ اپنے وطن سے اس جگہ ہجرت کرےگا جسے کھجور کے درختوں نے اپنے سایہ میں لے لیا ہے اور یہ سرزمین دوریگستانوں کے درمیان ہے۔

اس عظیم المرتبت شخصیت کی بعض خصوصیات اس طرح ہیں:

وہ تحفے جو اس کی عزت و احترام کے ساتھ اس کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے انھیں وہ قبول کرلے گا،لیکن صدقہ کو ہاتھ نہیں لگائے گا اور اس کے شانوں کے درمیان مہر رسالت ہے۔

اگرتم وہاں جاسکتے ہو تو چلے جاؤ۔

اس عالم کی وفات کے بعد روزبہ نے ایک تجارتی قافلہ سے بات کی، جو عرب جارہاتھا کہ انھیں بھی اپنے ہمراہ عرب لے چلے۔

ان لوگوں نے روزبہ کی یہ خواہش قبول کرلی، لیکن قافلہ والوں نے راستہ میں خیانت کی اور انھیں ’’بنوقریظہ‘‘ کے ہاتھوں غلام بناکرفروخت کردیا۔ یہ یہودی انھیں اپنے کام کاج کے سلسلے میں مدینہ کی طرف لے گیا۔

روزبہ جیسے ہی وہاں پہونچے یہ دیکھ کر ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ یہ وہی جگہ ہے جس کے بارے میں اس عالم دین نے بیان کیا تھا۔ روزبہ اپنے مالک کے کھجور کے باغ میں ہنسی خوشی کام کرنے لگے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ظہور کا انتظار کرنے لگے چونکہ چاروں طرف سے سخت پابندیوں میں گھرے ہوئے تھے لہٰذا زیادہ تلاش وجستجو نہ کرسکے۔

آخر کار انتظار کی گھڑیا ں ختم ہوئیں، شبِ ہجر آخر کو پہونچی اور صبحِ وصال نمودار ہوئی۔ پیغمبر اسلامؐ نے اپنے چند اصحاب کےہمراہ مدینہ سے نزدیک جگہ تشریف لے گئے۔ روزبہ کو آپ کے آنے کی اطلاع مل گئی۔

اس نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ میں اپنے درمقصود کو تلاش کروں اور ان نشانیوں کی جستجو کروں جو اس عالم نے مجھے بتائی تھیں، اس غرض سے جو غذا ان کے پاس تھی اسے لیا اور پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ تھوڑی سی غذا پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں پیش کی اور کہا کہ یہ صدقہ ہے اور محتاجوں کے لئے مخصوص ہے، آپ کے ساتھیوں میں ضرورت مند لوگ موجود ہیں، میری تمنا ہے کہ آپ اسے قبول فرمالیں۔

پیغمبر اسلامؐ نے وہ غذا اپنے اصحاب کو دے دی۔ روزبہ بہت ہی غور سے دیکھ رہے تھے کہ پیغمبرؐ نے اس غذا کو استعمال نہیں فرمایا۔ یہ دیکھ کر روزبہ پھولے نہیں سمارہے تھے کہ علامت کی تصدیق ہوگئی۔

ایک دوسری غذا جو روزبہ اپنے ہمراہ لائے تھے،اسے بھی جلدی جلدی پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں پیش کیا اورعرض کیا: یہ میری طرف سے ہدیہ ہے۔ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اسے قبول فرمالیں!

پیغمبر اسلامﷺ نے خندہ پیشانی سے اسے قبول فرمالیا اور اسے تناول فرمایا۔

یہ دیکھ کر روزبہ اور زیاد ہ خوش ہوئے۔

روزبہ پیغمبر اسلامؐ کے گردگھوم رہے تھے کہ انھیں آخری علامت وہ مہر بھی مل جائے جو شانوں کے درمیان ہے۔ پیغمبر اسلامؐ روزبہ کا مطلب سمجھ گئے انھوں نے اپنے دوش مبارک سے لباس ہٹادیا تاکہ وہ اس مہر کو باقاعدہ دیکھ سکیں۔

روزبہ نے اس مہر رسالت کی زیارت کی اور اسلام قبول کرلیا۔ اب روزبہ کا نام’’سلمان‘‘ رکھ دیا گیا اور ان کو آزاد کرانے کے لئے بھی وسائل فراہم کردئے گئے،وہ بھی پیغمبر اسلامؐ کے اصحاب میں شامل ہوگئے۔ جناب سلمان اپنی فکر، ایمان،عقیدہ کی گہرائیوں اور وسعتوں کی بنا پر بہت کم مدت میں پیغمبر اسلامؐ کے ممتاز ترین شاگرد بن گئے۔

(سیرۂ ابن ہشام ج۱، صفحہ۲۱۴۔۲۲۲ طبقات ابن سعد ج۴،حصہ اول۔ ص۵۴۔۵۶۔ بحارالانوار ج۲۲ صفحہ ۳۵۵۔۳۶۸)

حقیقت کے وہ تمام متلاشی جو اس خشک اور جلتے ہوئے ماحول میں تشنہ کامی اور تفتیدہ جگری(دل سوزی) کی زندگی بسر کررہے تھے ،جو سرچشمۂ حیات اور وجود کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ وہ تمام نشانیاں جو انھوں نے اپنی مقدس کتابوں میں پڑھی تھیں یا دوسروں سے سنی تھیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات گرامی میں مل گئیں تو انھوں نے اپنے کو اس سمندر حیات سے منسلک کردیا۔ اور اسی سرچشمۂ زندگی سے اپنی روح اور قلب وجگر کو جلابخشی ۔ گروہ در گروہ افراد اسلام کے معتقد ہونے لگے۔ اور آنحضرتؐ کی رسالت پر ایمان لانے لگے۔ اور قرآن کے الفاظ میں:

’’لوگ فوج درفوج دین ِ خدا میں داخل ہورہے ہیں۔‘‘۔

(سورۂ نصر آیت ۳)

اس کے ساتھ ساتھ یہودیوں اور عیسائیوں میں بعض ایسے بھی تھے جن پر حقیقت باقاعدہ روشن ہوگئی تھی۔ وہ پیغمبر اسلامؐ کو خوب اچھی طرح پہچانتے تھے،مگر ان کا تعصب ،تنگ نظری ،جاہ و منصب سے والہانہ عشق ان کے لئے ایمان کی راہ میں سخت رکاوٹ بن گیااور آخرکار وہ ایمان نہ لائے۔

سرچشمۂ حیات کو پہچانتے ہوئے بھی سراب زندگی کے عاشق تھے ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے۔ راہِ سعادت و نجات سے کتراتے رہے اور ہلاکتِ ابدی سے ہم آغوش ہوگئے۔

فَلَمَّا جَاءهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِ فَلَعْنَةُ الله عَلَى الْكَافِرِينَ۔

(سورۂ بقرہ آیت ۔۸۹)

’’جب وہ پیغمبر اُن کے پاس آیا جسے وہ پہچانتے تھے تو اس کا انکار کردیا اور اس پر ایمان نہ لائے۔ پس خدا کی لعنت ہو کافروں پر۔‘‘

اب اس سلسلہ کی دومثالیں:۔

(۱)          ’’حی بن اخطب ‘‘ کی بیٹی صفیہ کا بیان ہے:

جس وقت حضرت محمد(ﷺ) نے مدینہ ہجرت کی اور ’’قبا‘‘ میں فروکش(قیام پذیر) ہوئے اس وقت میرے والد میرے چچا ’’ابویاسر‘‘ کے ہمراہ صبح کے جھٹ پٹے میں(تڑکے) ان کی تلاش میں گئے۔ جب یہ لوگ غروب آفتاب کے وقت واپس آئے میں بچوں کی طرح کھیلتی ہوئی ان کے پاس گئی وہ لوگ زیادہ تھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔ میری طرف کوئی توجہ نہ کی میرے چچا میرے والد سے کہہ رہے تھے:

آیا یہ وہی شخص ہے؟

خدا کی قسم! وہی شخص ہے۔

اس کو پہچانا؟

ہاں۔

اب اس کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟

خدا کی قسم! تازندگی دشمنی کروں گا۔‘‘

(سیرۂ ابن ہشام ج۲، ص۵۱۸)

(۲)         ایک روز پیغمبر اکرمؐ نے ’’کعب ابن اسد‘‘ سے فرمایا:۔

’’کیا تمھیں شامی عالم’’ ابن حواش‘‘ کی باتیں یاد نہیں ہیں اور ان سفارشات کا تم پر کوئی اثر نہیں ہوا۔‘‘

کعب نے کہا:’’ مجھے وہ باتیں یاد ہیں لیکن مجھے یہودیوں کی سرزنش اور ملامت کا خوف ہے کہ وہ یہ ضرور کہیں گے کہ: ’’کعب قتل ہونے سے ڈرگیا۔‘‘ اس لئے میں آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا اور تازندگی دینِ یہود پر باقی رہوں گا۔‘‘

(اثبات الہداۃ ج۱ ص۲۵۰)

قرآن کریم ان سیاہ دل اور کور باطن(کینہ ور) لوگوں کو جو خود ہی اپنی حیات وسعادت کو برباد کررہے ہیں،نقصان اٹھانے والا سمجھتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

’’انھوں نے اپنے ساتھ بہت بُرابرتاؤ کیا کہ ان لوگوں نے سرکشی اور حسد کی بنا پر خدا کی نازل کردہ چیز کا انکار کردیا ،کہ خداوندعالم نے کیوں اپنے فضل کو بعض لوگوں سے مخصوص رکھا ہے، ان پر غضب ٹوٹ پڑا اور کافروں کے لئے رُسوا و ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔‘‘

(سورۂ بقرہ آیت۵۰)