اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٢١

قرآن

اسلام کا عالمی اور ابدی معجزہ

انبیا اور معجزہ

انبیا علیہم السلام ہمیشہ روشن اور واضح دلیلوں کے ساتھ مبعوث ہوتے رہے تاکہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ وہ اللہ کے نمائندے ہیں۔

وہ افراد جن کا ضمیر آئینہ تھا اور جن کا دل سرچشمہ کی طرح صاف و شفاف تھا وہ نشانیوں کو دیکھتے ہی دل و جان سے اس پر ایمان لے آتے تھےجس وقت فرعون کے جادوگروں نے یہ دیکھا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا بن کر ان کی رسیوں کو نگل رہا ہے انھیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ یہ کام انسانی حدود سے باہر ہے وہ فرعون کی دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر جناب موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔

جناب عیسیٰ ؑ کے حواریوں نے جناب عیسیٰ ؑ کے اعجاز کو دیکھا کہ کس طرح مردہ جسم میں جان ڈال دی اور وہ خدا کےحکم سے زندہ ہوگیا۔ حواری جناب عیسیٰ ؑ کی صداقت اور نبوت پر ایمان لے آئے اور اپنی بے جان روح کو اُن کے زندگی ساز پیغام سے حیات نو عطا کی۔

پیغمبر اسلامؐ سلسلۂ انبیا کی آخری کڑی اور تمام انبیا سے افضل تھے وہ ایسا ابدی اور عالمی دین لائے جس نے تمام گذشتہ آسمانی ادیان کی تکمیل کی اور جو قیامت تک باقی رہے گا۔ رسول خدا ؐ روشن اور واضح نشانیوں کے ساتھ مبعوث ہوئے تاکہ کسی کو آپ کے دین کی حقانیت اور صداقت پر شک و شبہ نہ ہو۔

قرآن ایک ابدی معجزہ

قرآن اسلام کی ابدیت کی سند بن کر فکر ونظر کے افق پر آفتاب بن کر نمودار ہوا۔

قرآن و ہ مشعل ہے جو بشریت کے وسیع ترین افق اور انسانی عقول کی وسعتوں میں فروزاں ہے اور ہمیشہ آفتاب کی طرح نور افشاں ہے اور رہے گا ۔ وہ اللہ کا دین ہے جس کی شعائیں آفتاب کی شعاعوں کی طرح ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں اور تمام انسانوں کو سعادت اور کامیاب راستے کی طرف نشان دہی کررہی ہیں۔

اس میں ہدایت کے تمام بنیادی اصول ذکر کردئے گئے ہیں۔

وہ عقائد ہوں یا خالق و مخلوق کے رابطے، یا انسانوں کے آپس میں ایک دوسرے سے تعلقات ۔ سب کا تذکرہ اتنے نرم اور جذاب انداز سے کیا ہے جیسے پہاڑ کے دامن میں پاک صاف شیریں اور حسین آبشار۔

اس میں انسانوں کی سماجی ذمہ داریوں کا تذکرہ اور زندگی بسر کرنے کے بہترین اسلوب کی تعلیم____اس میں طبقاتی اختلاف اور سماجی نابرابری کے مکمل خاتمہ کے فطری اصول____قرآن انسان کی برتری کا خواہاں،برادری اور برابری کا متمنی اور ان کی اعلیٰ تربیت کا علم بردار ہے۔

بے مثال فصاحت و بلاغت

لغات کاعلم،جملوں پر دست رس کوئی دشوار کام نہیں ہے لیکن جملوں کی ساخت،لفظوںکی ترتیب ، طرزِادا،دوسروں تک اپنی بات کو اس طرح پہونچانا کہ بات بھی مکمل ہوجائے اور فصاحت وبلاغت پر بھی حرف نہ آنے پائے۔ یہ ضرور دشوار ہے اور یہ کام فصاحت و بلاغت کے باریک اور دقیق اصولوں کی رعایت کے بغیر ناممکن ہے۔

فصاحت و بلاغت کے فن میں یہ وضاحت کی گئی ہے :

فصاحت و بلاغت تقریر ہو یا تحریرتین باتوں کی رعایت ضروری ہے۔

(۱) الفاظ اور معانی پر دست رس۔

(۲) قوت فکر اور ذوق سلیم۔

(۳) قدرت قلم وبیان۔

اگر کسی نے اپنی تقریر میں فصاحت و بلاغت کے تمام اصولوں کی مکمل پابندی کی ہو اس صورت میں بھی وہ اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کی تقریر یا تحریر کو ہر دور میں تمام تقریروں اور تحریروں پر فوقیت حاصل رہے گی۔

لیکن خداوند عالم جس کے علم اور قدرت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس نے قرآن میں لفظوں او رجملوں کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ بڑے سے بڑا ادیب اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز ہے اور قرآن کی ابدیت اور آنحضرتؐ کی لازوال نبوت کا یہی راز ہے۔

تاریخ گواہ ہے قرآن اس وقت نازل ہوا جب عرب کی فصاحت و بلاغت اپنے عروج پر تھی امروالقیس اور لبید جیسے عظیم شاعر جن کی عظمت آج بھی عربی ادب میں محفوظ ہے موجود تھے۔ کبھی کبھی ان کا کلام اتنا دل نشین اور موثر ہوتا تھا کہ اس کو پردے یا سونے کی تختیوں پر لکھ کر خانۂ کعبہ پر لٹکا دیئے تھے۔

لیکن جب قرآن کا سورج طلوع ہوایہ تمام ادبی شہ پار ے ستاروں کی طرح ماند پڑگئے ۔ عرب کے ادیب قرآن کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر مجسمۂ حیرت بن گئے ۔ اسلام اور آنحضرتؐ کے جانی اور شمشیر بکف دشمن اپنی تمام تلاش اور کوشش کے باوجود بھی قرآن میں ایک اشتباہ تک نہ نکال سکے___ کیوں کہ یہ ان کے اختیار میں نہ تھا۔

 

دشمنوں کے فیصلے

حج کا موسم تھا (اسلام سے پہلے بھی خاص انداز میں حج کا رواج تھا۔)ہر طرف سے لوگ مکہ میں جمع ہورہے تھے مگر قریش اس بات سے سخت پریشان تھے کہ آنحضرتؐ کی رسالت اور آپ کی تعلیمات سے دوسرے متاثر نہ ہوجائیں اور دین اسلام قبول کرلیں۔

قریش کے ولید کی صدارت میں ایک جلسہ کیا کہ آنحضرتؐ کی طرف نارواباتیں منسوب کرکے حضرتؐ کو بدنام کیا جائے تاکہ باہر سے آنے والے حضرتؐ کے بیانات سے متاثر نہ ہوں بلکہ حضرتؐ سے دورہی دور رہیں۔ ایک نے کہا کہ: ان کو ’’کاہن‘‘ مشہور کیا جائے۔

ولید نے کہا: کوئی اس بات کو قبول نہیں کرے گا کیوں کہ ان کی باتیں کاہنوں کی طرح نہیں ہے۔

دوسرے نے کہا: دیوانہ مشہور کیا جائے۔

ولید نے کہا: اسے بھی کوئی نہیں مانے گا ان کی باتیں دیوانوں جیسی نہیں ہیں۔

تیسر ے نے کہا:انہیں شاعر مشہور کردیا جائے۔

ولید نے کہا: کوئی اس تہمت کو بھی قبول نہیں کرے گا کیوں کہ عرب ہر طرح کے شعر سے واقف ہیں اور اس کا کلام شعر جیسا نہیں ہے۔

چوتھے نے کہا:جادو گر کہا جائے۔

ولید نے کہا: جادوگروں کا خاص انداز ہے مثلاً تاگے میں گرہ لگانا کچھ پڑھ کر اس پرپھونکنا اور دم کرنا اور محمدؐ اس طرح کا کوئی کام نہیں کرتے ۔

اس وقت ولید نے کہا:

خدا کی قسم! اس شخص کے کلام میں خاص قسم کی مٹھاس ہے اور عجب کشش ہے۔

اس کا کلام اس درخت کے مانند ہے جس کی جڑیں دور تک گہرائیوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور پھلوں کی زیادتی نے اس کی شاخوں کو جھکادیا ہے۔

ہم لوگ بس یہ کہہ سکتےہیں کہ اس کی باتوں میں سحر ہے جو باپ، بیٹے،شوہر وزوجہ اور بھائی بھائی میں جدائی ڈال دیتی ہیں۔ (ولید کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد تازہ مسلمان ایک ایسے راستہ پر گامزن ہوجاتے تھے کہ انھیں اپنے آپ کو مجبوراً دوسروں سے الگ رکھنا پڑتا تھا۔ پرانے عقائد سےدست برداری کی بنا پر رشتہ دار ان سے دست بردار ہوجاتے تھے۔)

وہ لوگ جو عرب نہیں ہیں اور عربی ادب سے ناواقف ہیں ان کے لئے قرآن کی فصاحت و بلاغت معلوم کرنے کے لئے اور یہ جاننے کے لئے کہ قرآن فصاحت وبلاغت کی کس بلند منزل کا حامل ہے۔ ان افراد کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ جو عربی ادب میں مہارت رکھتے ہیں اور سخن شناس ہیں تاریخ میں رسول خداؐ کے زمانے کے سخن شناس افراد کے اعتراضات محفوظ ہیں۔ اور آج بھی جنھیں عربی ادب میں مہارت حاصل ہے وہ قرآن کی عظمت کے معترف ہیں۔

ابتدائے اسلام سے آج تک ہر دور میں ادب شناس اور نکتہ سنج افراد نے قرآن کی عظمت کا اعتراف کیا ہے اور قرآن کا جواب لانے سے ہمیشہ اپنے کو عاجز اور مجبور پایا ہے۔

مصر کے بلند پایہ ادیب اور عالم ’’عبدالفتاح طبارہ کا قول ہے:

ہرزمانے کے علماء اور ادیبوں نے قرآن کے معجزہ ہونے کا اعتراف کیا ہے اور خود کو اس سے مقابلے میں عاجز پایا ہے۔

تاریخِ عرب ایسے افراد کثرت سے پیش کرتی ہے جنھیں نظم یا نثر میں بلند مقام حاصل ہے جس سے دوسرے محروم ہیں جیسے ’’ابن مقفع‘‘ ’’جاحظ‘‘ ’’ابن عمید‘‘ ’’ فرزدق‘‘ ’’ابونواس‘‘ ’’ابوتمام‘‘….. لیکن یہ سب کے سب عظمتِ قرآن کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’قرآن کسی انسان کا کلام نہیں ہے بلکہ وحی الہٰی ہے۔‘‘

(روح الدین الاسلامی ص ۳۰۔۳۲ پانچواں ایڈیشن)

بے مثال اسلوب

مصر کے عالمی شہرت یافتہ اور صاحبِ طرز ادیب ؎’’طٰہٰ حسین‘‘ کا کہنا ہے کہ ’قرآن نظم ونثر کے حدود سے بلند وبالا ہے کیوں کہ اس میں ایسی خصوصیتیں پائی جاتی ہیں جو کسی نظم ونثر میں نہیں ملتی ہیں لہٰذا قرآن کو نہ نثر کہا جاسکتا ہے اور نہ نظم ہاں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ :

قرآن،۔قرآن ہے اور بس……..

(ماخذ سابق)

قرآن کی یہ امتیازی حیثیت نتیجہ ہے قرآن کریم کے خاص اندازِ بیان ،مخصوص زبان اور جداگانہ اسلوب کا جو کسی عربی ادب کے کسی بھی شہ پارے میں نہیں ملتی ہیں۔

مطالب کی یکسانیت

کتنا ہی اچھا لکھنے والا ہو کتنا ہی ماہرِفن ہو کتنا ہی زبان و بیان پر عبور ہو کتنا ہی شیریں بیان ہو لیکن اس کا کلام ہر وقت یکساں نہیں رہتا،شرائط و حالات کے لحاظ سے اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں تالیف و تصنیف کے ابتدائی دور میں جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ ان خصوصیات سے کافی مختلف ہوتی ہیں جو دراز مدت تجربے اورمشق سے حاصل ہوتی ہیں جیسےجیسے وقت گذرتاجاتا ہے زبان و بیان میں پختگی آتی جاتی ہے اس لئے بعد کی تصنیفات ابتدائی تصنیفات سے مختلف اور بہتر ہوتی ہیں۔

لیکن قرآن کریم جو ۲۳ سال کی مدت میں رفتہ رفتہ اور مختلف حالات و شرائط میں نازل ہوا ہے وہ وسیع و عریض دریا کی طرح ہے جو سنگلاخ وادیوں پتھریلی زمینوں،پہاڑ کے درّوں ،مختلف صحراؤں سے گذرے جس کا پانی آج تک ہر جگہ صاف اور شیریں مزہ ہو۔ قرآن کے مطالب اور طرز کی یکسانیت تعجب خیز اور حیرت انگیز ہے یہ بات اس وقت اور زیادہ تعجب آور ہوجاتی ہے جب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ قرآن کے بارے میں مختلف جہات سے بحث کی گئی ہے مگر ہر جگہ اس کی عظمت اور خصوصیت کا وہی ایک عالم ہے۔

واضح ہے کہ جس فن میں مہارت اور دسترس حاصل کی ہو اگر اسی موضوع پر قلم اٹھایا جائے تو ایک شاہکار سامنے آئے گا لیکن اگر کسی دوسرے موضوع پر قلم اٹھایا جائے تو وہ درجہ حاصل نہ ہوگا جو اپنے فن میں حاصل تھا۔ لیکن قرآن ہرفن میں معجزہ ہے۔

قرآن کے علمی معجزات

قرآن کی تصریح کے مطابق قرآن کا اصلی مقصد لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہے دنیا و آخرت میں سعادت مند زندگی کی نشان دہی ہے لیکن ضمنی طورپرعلمی حقائق بھی واضح کئے ہیں مختلف علوم کے متعدد حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ بھی قرآنی اعجاز کی بہترین دلیل ہے۔ اس دورِ جاہلیت میں ایسے حقائق کی نشان دہی معجزہ ہے ۔ ذیل کی سطروں میں اس کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے:

۱موسمیات کا شمار جدید علوم میں ہوتا ہے پرانے زمانے میں ابروباد، بارش اور طوفان….. کے بارے میں معلومات زیادہ تر خیالی ہوا کرتی تھیں اس کی کوئی علمی اور ٹھوس بنیاد نہیں تھی۔

ناخدا اور کسان قرائن کی بنیاد پر پیشین گوئیاں کیا کرتے تھے مگر اس کی حقیقت سے ناواقف تھے۔ اسی طرح ہزاروں سال گذرگئے۔

۱۷ ویں صدی عیسوی میں تھرمامیٹر اور ۱۹ ویں صدی میں ٹیلی گراف کا وجود عمل میں آیا موسمیات سے متعلق دوسری ضروری چیزیں بھی رفتہ رفتہ وجود میں آتی رہیں بیسویں صدی کے پہلے ۵۰ سال میں (byerkness) برکنس موسمیات کے بارے میں کچھ اصول و قوانین بنانے میں کامیاب ہوا۔

اس کے بعد دوسروں نے مزید تحقیق اور تلاش و جستجو کے بعد اس علم کو اور پھیلایا اور نئے انکشافات کئے۔ کس طرح بادل بنتا ہے اور کس طرح بارش ہوتی ہے۔ اولے کب گرتے ہیں بجلی کب چمکتی ہے گرج اور چمک کیوں ہوتی ہے گرم علاقوں میں طوفان کیوں آتا ہے بادل کب برستا ہے اور کب نہیں برستا اسی طرح کے بہت سارے مسائل….. (بادو باراں در قرآن ص ۱۹۔۲۵)

موسمیات کے سلسلے میں جن باتوں کا انکشاف آج کی علمی تحقیق نے کیا ہے قرآن ان حقائق کی طرف ۱۴ سو سال قبل اشارہ کرچکا ہے۔

آج یہ بات ثابت ہوئی ہے اگر بادل پانی سے پوری طرح بھرا ہوا ہے ضروری نہیں کہ بارش ہوہی جائے اور اگر بارش ہوتو اس کے قطرے اتنے باریک ہوں کہ ہوا میں معلق رہ جائیں اور زمین تک نہ آئیں مگر وہ ہوا جو سمندر کے کھاری پانی سے اٹھی ہے اس میں نمک کے جوغیر مرئی ذرّات ہوتے ہیں اس کی وجہ سے پانی کے قطرے زمین تک آجائیں۔

یا یہ کہ برف سے ڈھکے پہاڑوں پر جو سرد ہوائیں چلتی ہیں وہ بارش کے باریک قطرات کو ایک دوسرے میں جمادیں اور اولے کی شکل میں بادلوں کے درمیان زمین پر گریں۔

جب کہ قرآن کریم نے ۱۴ سوسال قبل اشارہ کیا تھا :

ہم نے ہواؤں کو ’’تلقیح‘‘(تلقیح یعنی نرمادے کو مادنیہ تک پہونچانا۔ نرمادہ کا وجود پھول پودوں درختوں میں بھی ہوتا ہے اور ہواؤں کے ذریعہ آپس میں رابطہ برقرار ہوتا ہے ۔ ان ہواؤں کو ’’لواقح‘‘ کہا جاتا ہے۔)کے لئے چلایا جس کے ذریعہ ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں او ر تمھیں سیراب کرتے ہیں۔

(سورۂ حجر آیت ۲۲)

۲ہوائی جہاز کی ایجاد کے بعد انسان کو یہ موقع فراہم ہوا کہ وہ بادلوں سے اوپر نکل کر وہاں کی بھی دنیا دیکھے اس سے پہلے کسی کو اس کا علم نہ تھا کہ انسان کے سرپربرف کے پہاڑ بھی ہیں۔

لیکن قرآن نے یقین کے ساتھ فرمایا:

خدا(برف اور اولے) برف کے ان پہاڑوں سے نازل کرتا ہے جو آسمان میں ہیں۔

(سورۂ نور آیت ۴۳)

۳انسان گرچہ زمین کی حدوں سے گذر کر چاند کی وادی میں پہونچ گیا ہے لیکن ان جگہوں پر زندہ موجود کی تلاش صرف نظریہ اور تھیوری کی حد تک محدود ہے صرف احتمال کی بنیاد پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ دوسری جگہوں پربھی زندہ چیزیں ہوں گی۔

لیکن قرآن بغیر کسی ابہام کے فرماتا ہے کہ:

آسمانوں اور زمین کی خلقت اور ان دونوں میں چلنے پھرنے والی چیزیں اللہ کی نشانیاں ہیں اور وہ اس بات پرقادر ہے کہ جب چاہے انھیں یکجا کردے۔

(سورۂ شوریٰ آیت ۲۹)

(۴) سورۂ یٰسین کی ۳۶ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

پاک اور منزہ ہے وہ خدا جس نے تمام چیزوں کا جوڑا پیدا کیا وہ چیزیں جو زمین سے اگتی ہیں اور خود ان میں اور جس کو وہ نہیں جانتے۔

سورۂ طٰہ ٰ کی ۵۳ ویں آیت میں ارشاد ہوا :

ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے مختلف سبزیوں کے جوڑے پیدا کئے۔

جس وقت علم محدود تھا اور مفسرین کو اس کاعلم نہیں تھا کہ سبزیوں اور پھولوں کے بھی جوڑے ہوتے ہیں وہ ان آیات کی تفسیر اس طرح کرتے تھے کہ ہرسبزی کی دو قسم پیدا کی ہے اسی لئے زوجیت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن آج کی تحقیقات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ صرف انسانوں اور حیوانوں ہی میں جوڑے نہیں ہیں بلکہ سبزیوں اور پھولوں میں بھی جوڑے پائے جاتے ہیں وہاں بھی رشتۂ زوجیت برقرار ہے۔

آج کی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہواؤں کے ذریعہ رشتۂ زوجیت برقرار ہوتا ہے اور بسا اوقات پھولوں اور سبزیوں پر بیٹھنے والے کیڑے یہ کام انجام دیتے ہیں۔

قرآن کی مبارز طلبی

قرآن صرف فصاحت و بلاغت کا معجزہ نہیں بلکہ انسانی افکار کے تمام میدان میں معجزہ ہے۔

سخن شناس کے لئے فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے۔

حکما کے لئے حکمت کے لحاظ سے۔

علماء کے لئے علم کے لحاظ سے۔

اسی لئے قرآن ہر ایک کو مخاطب کرکے کہتا ہے:

اگر تم یہ کہتے ہو یہ کلام انسان کاکلام ہےتو ایسا کلام تم بھی پیش کرو۔

(۱) اگر تمام انس وجن مل کر قرآن کا جواب لانے کا تہیہ کرلیں تب بھی قرآن کا جواب نہیں لاسکتے گرچہ ایک دوسرے کی بھرپور مدد کیوں نہ کریں۔

(سورۂ اسریٰ آیت ۸۸)

(۲) کہتے ہیں کہ قرآن کو جھوٹی نسبت دی گئی ہے ان سے کہہ دیجئے ایسے ہی دس سورے تم بھی لے آؤ اور خدا کے علاوہ جس کو چاہو بلالو اگر سچے ہو۔ اور اگر تمھیں جواب نہ دیں تو جان لو کہ یہ علم خدا سے نازل ہوا ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور خدانہیں ہے۔

(سورۂ ہود آیت ۱۳)

(۳)جو چیز ہم نے اپنے بندے (محمدؐ) پر نازل کی ہے اگر اس میں تم کو شک ہے تو اس جیسا ایک سورہ لے آؤ۔

(سورۂ بقرہ آیت ۲۳)

تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت سے آج تک کسی کو یہ جرأت نہ ہوسکی کہ وہ قرآن کا جواب لاسکے۔ البتہ رسول خداؐ کے زمانے میں اور آپ کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے جواب لانے کی ضرور کوشش کی تھی جیسے مسیلمہ،سجاح، ابن ابی العوجا مگر کسی کو کامیابی نصیب نہ ہوئی اور ہر ایک کو اپنی عاجزی کا اعتراف کرنا پڑا۔

اسلام کے دشمنوں نے پیغمبراسلامؐ کو طرح طرح کی ایذائیں پہونچائیں ان کا اقتصادی محاصرہ کیا گیا۔ قتل کی سازشیں ہوئیں مگر قرآن کا جواب نہ بن سکا۔

آج بھی اسلام کو نابود کرنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں ۔ اگر یہ لوگ آج بھی قرآن کا جواب لاسکتے تو کبھی بھی اتنے مصارف(اخراجات) برداشت نہ کرتے۔ قرآن کا جواب دشمنانِ اسلام کی بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اسلام کے خلاف بھرپور سند۔ طرح طرح کے مظالم، نت نئے فتنے گواہ ہیں کہ دشمنانِ اسلام قرآن کا جواب لانے سے عاجز ہیں۔

دوسروں کے اعترافات

ترقی اور ارتقا کے اس دور میں یورپی دانشوروں نے قرآن کے معجزہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اٹلی کی ایک خاتون جو ’’ناپل‘‘ یونیورسٹی میں استاد ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسلام کی آسمانی کتاب بھر پور معجزہ ہے جس کی تقلید ناممکن ہے۔‘‘

اس کا اندازِ بیان عربی ادب میں بالکل اچھوتا(انوکھا) ہے ۔ انسان کی روح پر اس کے اثرات اس کی امتیازی حیثیت کی بنا پر ہے۔ یہ کتاب کیوں کر ’’محمدؐ‘‘ کی تالیف ہوسکتی ہے جب کہ انھوں نے کسی ایک سے بھی تعلیم حاصل نہیں کی۔

ہم اس کتاب میںعلم کے خزانے پاتے ہیں، جو عظیم ترین فلاسفہ اور سیاست دانوں کی عقل وفکر سے بالاتر ہیں۔ اسی بنا پر کہاجاسکتا ہے کہ کوئی تعلیم یافتہ بھی ایسی کتاب لکھنے کی قدرت نہیںرکھتا ہے۔

(پیش رفت سریع اسلام ص ۴۹ کے بعد)

استاد سینس کا کہنا ہے کہ: ’’قرآن ایسا عمومی اور مکمل قانون ہے جس میں کسی طرف سے بھی باطل کا گذر نہیں ہے لہٰذا ہر جگہ اور ہر وقت کی ضرورت ہے۔ اگر مسلمان اس کو باقاعدہ اختیار کریں اور اس کی تعلیمات پر مکمل عمل کریں تو اپنی کھوئی ہوئی عزت اور قیادت کو دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘

(تفسیر نوین ص ۴۲)

J.W.Droloer کا کہنا ہے کہ: ’’قرآن میں اخلاقی باتیں بہت ہیں قرآن کا طرز تحریر اتنا زیادہ منظم ہے کہ ہم جس صفحہ پر بھی نظر ڈالتے ہیں اس میں ہر ایک کی پسند کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں قرآن کا یہ خاص انداز جو چھوٹے چھوٹے سوروں کی شکل میں ہے اور اس میں مطالب ،شعار اور قوانین کے مکمل نمونے نظر آتے ہیں۔

(تاریخ ترقی فکر اروپاص ۳۴۳ ۔۳۴۴مطبوعہ لندن)

آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اگر ہم قرآن کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور اس کتاب سے خوب اُنس پیدا کریں۔ اس کے بتائے ہوئے راستے پر سنجیدگی سے عمل کریں تو اوج و ترقی ہمارا ہی حصہ ہوگی۔

ہم مسلمانوں کی عظمت اور ترقی کی بلند پایہ عمارت اس وقت متزلزل ہوگئی جب ہم نے اس آسمانی کتاب کے حکم پر عمل کرنا چھوڑدیا اور اس کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہوگئے ہم نے صرف اسلام کے نام کو کافی جانا اس لئے بس نام کے مسلمان رہ گئے۔

اپنی کھوئی ہوئی عزت ہم اس وقت حاصل کرسکتے ہیں جب ہم اپنی کج رفتاری سے بازآئیں اور ازسر نومسلمان ہوں۔ دل ودماغ کو آیاتِ قرآن سے روشن کریں اور اس کے معین کردہ راستہ پر زندگی گذاریں۔

حضرت رسول خدا ﷺ نےارشاد فرمایا ہے کہ:

’’اِذَا الْتَبَسَتْ عَلَيْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فَعَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ۔‘‘

جب رات کی سیاہی کی طرح ہر طرف سے تم کو فتنے گھیرلیں تو تم قرآن سے تمسک اختیار کرو۔

(اصول کافی ج۲ص۵۹۹)