اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٢٢

اسلامی تعلیمات

اسلامی تعلیمات کی روح اس ایک جملے میں بیان کی جاسکتی ہے۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ !خدائے واحد کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔

درختِ اسلام کے سرسبز ،شاداب اور پھل دارہونے کایہی راز ہے۔ اگر ہم اسلام کی مثال ایک درخت سے دیں اور اس کی آئیڈیا لوجی کو اس کی جڑ قراردیںتو جاننا چاہیے کہ درخت کی سلامتی اور پھلوں کی شادابی جڑ کی سلامتی پر موقوف ہے۔

اس ایک جملہ میںاسلامی آئیڈیالوجی کی بنیاد کو بیان کیا گیا ہے یہ آئیڈیالوجی کس قدر مستحکم اور پائیدار ہے۔

سعادت اور ایمان

اگر انسان کی تمام ضروریات کی بنیاد پر مادیت پر ہوتی ماورائے مادہ کسی چیز کی احتیاج نہ ہوتی تو مادی آسودگی سے سعادت حاصل ہوجاتی۔

لیکن ہم جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی ، صنعت اور مادیت کی گہرائیوں سے روح انسانی کی یہ آواز آرہی ہے کہ:

جس قدر مادی و سائل میں اضافہ ہورہا ہے ،روح کی پیاس بڑھتی جارہی ہے اور سماج کی معنوی ضروریات میں اضافہ ہوتاجارہا ہے آج کے سماج کی اضطرابی کیفیت اس حقیقت کی مکمل عکاسی کررہی ہے ۔ بیسویں صدی کی ابتدا سے سماج کے اوپر نااتفاقی اور بحرانی کیفیت نے سایہ ڈال رکھا ہے۔ معاشرے کے افراد خاص کر جوان ایک ایسے روحانی بحران کا شکار ہیں جس کو کنٹرول کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔

’’مادیت کی متمدن ثقافت(کلچر) میں انسان ایک زندہ جسم ہے……. وہ کسی پیغام ،اقدار اور خوبیوں کا علم بردار نہیں ہے۔ اس کی روحانی کمالات اور معنوی ضروریات کی تکمیل کے لئے کسی راہ کا انتخاب نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

انسان کی اوج پسند روح شاہین بلند پرواز کی طرح کوہساروں کی بلندیوں پرپرواز کرنا چاہتی ہے۔ اور جب تک بلندیوں کو طے نہ کرلے،روحانی فضیلتوں اور معنوی اقدار کے سرچشمہ میں غوطہ زن نہ ہولے اس وقت تک انسان کو سکون حاصل نہ ہوسکے گا۔ اس کی روح مضطرب رہے گی۔

یہ تمام سرکشی طغیانیت، فسادات،……. انسان کی روحانی تشنگی کے اثرات ہیں جب تک انسان روحانی اقدار کے ساحل سے ہم کنار نہ ہوگا اس وقت تک آرام نصیب نہ ہوگا۔

ساحل نجات صرف لامحدود طاقت، لامتناہی علم،کمالِ مطلق پر ایمان لانا اور تمام خیالی خداؤں کا انکار ہے۔ ایسی ذات کی یاد، اس پر مستحکم ایمان،اور پختہ عقیدہ سے دلوں کو آرام ملتا ہے۔

قرآن کریم نے اس حقیقت کی طرف ایک مختصر سے جملے میں اشارہ کیا ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔

(سورۂ رعد آیت ۲۸)

ہاں یقیناً اللہ کی یاد سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

ہاں اطمینانِ قلب یادِخدا میں ہے، خدا پر ایمان اور اس کی طرف توجہ وہ چیز ہے جس سے فطری تقاضوں میں اعتدال باقی رہتا ہے اور سعادتوں کی سمت رہنمائی ہوتی ہے۔

اسی معیار پر اسلام نے انسانی اقدار کو پرکھا ہے:

 إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللّہِ أَتْقَاکُمْ۔

(سورۂ حجرات آیت ۱۳)

سب سے زیادہ بزرگ وہ ہےجو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

اسلام کا مقصد مادی کثافتوں اور پست خواہشات سے انسان کو نجات دلانا اور بلند وبالا افق کی نشان دہی ہے تاکہ انسان معنوی اور حقیقی لذتو ں کے صدابہار گلستاں سے واقف ہو،مادیت کی اجاڑراہوں سے کنارہ کش ہو اور سعادت و نجات کے راستہ پر گامزن ہو۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

(سورۂ انفال آیت ۲۴)

خدا اور رسول خدا کی آواز پر لبیک کہو جب وہ ان چیزوں کی طرف تمھیں بلائیں جو تمھیں زندگی عطا کرتی ہیں۔

اسلامی تعلیمات سے نیم جاں انسانیت کو حیات اور دبی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے سایہ میں انسانی صلاحیتیں پھولتی ہیں پھلتی ہیں پھیلتی ہیں۔ زندگی کی یہ بہاریں اسلامی تعلیمات کے چمن زارمیں باقاعدہ نظر آتی ہیں۔ ذیل کی سطروں میں اسلامی تعلیمات کے بعض اصولوں کو بطور اختصار پیش کیا جارہا ہے۔

۱۔اخوت اسلامی

۲۔عام نگرانی

۳۔علم ودانش

۴۔کام اور کوشش

۵۔تشکیل ِخاندان

اخوت اسلامی

اخوت اسلامی عالی ترین انسانی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ غیر معقول تکلفات سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اسلامی اخوت کا ہدف ہر مسلمان میں فداکاری اور ایثار کے جذبات کو مستحکم کرنا ،خلوص اور صفائے باطن کو تقویت پہونچانا ہے۔ اس اخوت اور برادری کا اثر زندگی کے تمام شعبوں میں ایک کو دوسرے کا ذمہ دار قراردینا ہے۔ اس اخوت کی بنا پر ناممکن ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے دردوغم میں شریک نہ ہو۔

صدرِاسلام میں اسلامی اخوت کی بنیاد اس خوش اسلوبی سے ڈالی گئی کہ امیروغریب دل وجان مال ومتاع سے ایک دوسرے کے بھائی قرارپائے۔

اخوت اسلامی کے مفہوم کو بہت ہی سادہ اور وسیع دائرے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایاہے:

مومنین ا س طرح آپس میں بھائی بھائی ہیں جس طرح انسانی جسم کے مختلف اعضا اگر کسی ایک عضو میں درد ہوتو بقیہ اعضا بھی بے چین رہتے ہیں۔

(بحارالانوار ج۷۴،ص۲۶۸)

آپؑ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

اخوت اسلامی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ:

خود سیر وسیراب رہو اور تمھارا مسلمان بھائی بھوکا پیاسا رہے۔

تمھارے پاس لباس ہوں اور تمھارا بھائی برہنہ رہے۔

جو کچھ اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی اس کے لئے بھی پسند کرو۔

جس طرح وہ تمھارا سہارا ہے تم بھی اس کو سہارا دو۔

جب وہ سفر میں ہو تو اس کے مال اور ناموس کی حفاظت کرو۔

جب وہ سفر سے واپس آئے تو اس کی ملاقات کو جاؤ۔ اس کا احترام کرو۔

وہ تم سے ہے اور تم اس سے ہو۔

اگراس کو کوئی اچھائی نصیب ہوئی تو اس خوشی میں خدا کا شکر ادا کرو اگر وہ مشکلات میں گرفتار ہوتو اس کی مدد کرو۔

(بحار ج۷۴ص۲۴۳)

عام نگرانی

خداوند عالم نے ہمارے بد ن میں سفید خلیے پیدا کئے ہیں جو ایک ہوشیار محافظ کی طرح جراثیم (صحت و سلامتی بدن کے دشمن) سے ہمارے بدن کی حفاظت کرتے ہیں۔

یہ چیز مسلمانوں کے لئے بہترین نمونہ بن سکتی ہے ۔ سماج کے مسائل میں مسلمانوں کو بھی ہوشیار محافظ کی طرح ہونا چاہیے ۔ جس وقت معنویت اور صدق و صفا پر مادیت اور ظاہر داری کے اہریمن حملہ آور ہوں اس وقت ان کاجم کر مقابلہ کیا جائےاور ان کے قدم اکھاڑدئے جائیں اور وقت آنے پر معنویت کے تحفظ میں جان تک کی بازی لگادیں۔

ورنہ سماج بے جان پیکر کی طرح رہ جائے گا۔ اگر برائیوں کے حملوں کے مقابلہ میں مسلمان خوش رہیں تو ایسے ٹھہرے ہوئے گندے پانی کی طرح ہوجائیں گےجس میں طرح طرح کے جراثیم پرورش پاتے ہیں جس کی بنا پر ان کا تابناک سماج تیرۂ و تاریک ہوجائے گا صحت مند معاشرہ امراض کا شکار ہوجائے گا۔

لہٰذا سمندر کی موجوں کی طرح ہمیشہ حرکت میں رہنا چاہیے ایک لحظہ بھی سعی و کوشش کے لئےرکنا نہ چاہیے تاکہ برائیاں اثر انداز نہ ہوسکیں۔

سماج کی صحت و سلامتی ،معاشرے کی زندگی کے لئے اسلام نے عام نگرانی کو مسلمانوں کے اہم فرائض میں قرار دیا ہے۔ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اجتماعی ذمہ داریاں انفرادی ذمہ داریوں سے کم نہیںہیں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اجتماعی ذمہ داریاں بھی پوری تن دہی(دل جمعی) سے انجام دیں۔

اس سلسلہ میں قرآن نے دو اصولی باتیں بیان کی ہیں:

(۱) اچھائیوں کا حکم۔ امربمعروف

۰۲) برائیوں سے روکنا۔ نہی از منکر۔

(سورۂ آل عمران آیت ۔۱۱)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے :

ان الامر بالمعروف والنہی عن المنکر فریضۃ عظیمۃ بھا تقام الفرائض۔

(کافی ج۵ ص۵۵)

اچھائیوں کاحکم اور برائیوں سے روکنا ایک عظیم فریضہ ہے جس سے دوسرے واجبات ادا ہوتے ہیں۔

جس دن مسلم سماج ان دو اصولوں سے لاپرواہی برتے گا اپنی عظمت اور بزرگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

اس بنا پر اسلام کی منطق میں اس طرح بے کار باتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ مجھے تمھاری قبرمیں یا تم کو میری قبر میں نہیں دفن کیاجائے گا!

ہم اپنے راستہ پر،تم اپنے راستہ پر!

ننگ و عار سے بچنے کے لئے دوسروں کے ہم رنگ ہوجاؤ۔

اس بات کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ امربمعروف او رنہی از منکر ہر ایک مسلمان کی عظیم ذمہ داری ہے جس پر عمل کرنے سے سماج زندہ اور معاشرہ صحیح وسالم رہے گا۔

علم ودانش

اسلام سے پہلے لکھنے پڑھنے کا عام رواج نہیں تھا، عوام کو علم حاصل کرنے کی اجازت نہ تھی صرف حکمرا ں طبقہ، بڑے خاندانوں اور سرمایہ داروں کو تعلیم کی اجازت تھی۔ یہ خصوصیت ان ممالک میں کافی نمایاں تھی جہاں ملوک الطوائفی(قبیلہ ای حکومت) تھی۔

تمدن اور ثقافت سےعرب قوم اور عرب ممالک کے عوام کافی دور تھے۔ جس وقت حجاز میں اسلام آیا اس وقت وہاں کے تعلیم یافتہ افراد انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے۔

ایسے زمانے میں اور ایسے افراد کے درمیان اسلام نے شروع ہی سے تعلیم پرزور دیا یہاں تک کہ حصول علم کو واجب قرار دیا۔

یہ قرآن کریم ہے جو اپنے ملکوتی اور شیریں انداز میں جگہ جگہ طالبان علم کی مدح و ثنا کررہا ہے اور انھیں اعلیٰ مراتب عطا کررہا ہے۔

(سورہ ٔ مجادلہ آیت۱۱ )

پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد ہے کہ : علم حاصل کرناہر مسلمان کا فریضہ ہے خداطالبانِ علم کو دوست رکھتا ہے۔

(اصول کافی ج۱ ص۳۰)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : علم حاصل کرنا ہر ایک پر واجب ہے۔

(اصول کافی ج۱ ص۳۰)

امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: (جس طرح مال کی زکوٰۃ یہ ہے کہ اس کا کچھ حصہ خدا کی راہ میں دیا جائے) علم کی زکوٰۃ یہ ہے کہ دوسروں کو تعلیم دی جائے۔

(اصول کافی ج۱ص۴۱)

تاریخِ اسلام اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام نے علم ودانش کو کتنا سراہا ہے۔

علم حاصل کرنے کی باربار تاکید اس بات کا سبب ہوئی کہ جس وقت یورپ جہالت کی تاریکیوں میں زندگی بسرکررہا تھا اس وقت علم وتمدن کی مشعل فروزاں مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی۔

یہ ایک حقیقت ہے جس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ مسلمان صرف دنیا کی خاطر علم حاصل نہیں کرتے تھے بلکہ خدا پر مستحکم ایمان اور معنوی اقدار پر مکمل یقین کے سایہ میں علم حاصل کرتے تھے۔

افسوس کہ آخری صدیوں میں مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات سے روگردانی کی جس کی بنا پر وہ خود بھی نظروں سے گرگئے جو کاروانِ علم کے علم بردار تھے وہ بہت پیچھے ہوگئے۔

کام اور کوشش

کام او رکوشش فطری اورتخلیقی اصولوں میں شامل ہے۔ خداوند عالم نے ترقی کارازکام اور کوشش ، حرکت و جنبش میں پوشیدہ رکھا ہے۔

بہار کی آمد، فصل کی حرکت و جنبش ،دریاؤں او رنہروں کی روانی سرچشموں کا جوش وخروش ، گھونسلہ کی تعمیر پرندوں کی نقل وحرکت ،نسیمِ صبح کی خوش خرامی ہلکی ہلکی ہواؤں کا دریا پر سے گذر، سبزہ زاروں کا رشد ونمو….. پرندوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت…… سب اسرارِ خلقت کے بلیغ اشارے ہیں تاکہ انسان جمود کا شکار نہ ہونے پائے ہمیشہ کارو کوشش حرکت وجنبش میں سرگرم رہے پھلے پھولے،بڑھے ، پھیلے ،یقین محکم کے ساتھ ساتھ عمل پیہم اور سعی مسلسل ہو۔

اسلام نے اسی فطری اصول کی بنیاد پر انسانوں کو سعی وکوشش کی دعوت دی ہے۔

عظیم ترین رہبر حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے : جس کے اختیار میں زمین اور پانی ہو۔( وہ ان دو عظیم نعمتوں اور سرمائے سےفائدہ نہ اٹھائے) اور وہ فقیر ہو۔ خدا کی لعنت ہو اس پر۔

(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۲۴)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے : خداوند عالم کو کوئی کام زراعت سے زیادہ پسند نہیں ہے۔

(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۱۹۲)

آپ کا یہ بھی ارشاد ہے:

الزارعون کنوز الانام۔

(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۲۵)

کسان عوام کا خزانہ ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ:

مختلف طرح کی تجارت کرو خداوندعالم امانت دار تاجروں کو دوست رکھتا ہے۔

(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۴)

امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل ہوئی ہے :۔ انسان کی عزت و بزرگی اس کا کسب معاش اور سعی و کوشش ہے۔

(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۳)

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :

ان اللہ لیبغض العبد الفارغ۔

(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۳۷)

خدا بے کار لوگوں کو ناپسند کرتا ہے۔

ہمارے پانچویں امام اور رہبر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سخت گرمی کے موسم میں جب کہ آپ پسینہ سے شرابور تھے مدینہ کے باہر اپنے فارم گئے ہوئے تھے۔ (تاکہ وہاں کے امورانجام دے سکیں)۔ایک شخص (جو یہ خیال کرتا تھا کہ کام کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے ذلت کا سبب ہے)۔آپ کے سامنے آیا اور تعجب آمیز اور بظاہر دردمندانہ لہجے میں کہنے لگا:

آپ قریش کے بزرگ اور محترم افراد میں شامل ہیں۔دنیا کو اس حدتک اہمیت کیوں دیتے ہیں! اتنی سخت گرمی میں پسینہ میں تربتر ہورہے ہیں اور اس حالت میں یہاں تشریف لاتے ہیں اگر اس حالت میں آپ کو موت آجائے تو آپ کا کیا حال ہوگا؟!

امامؑ نے فرمایا! اگر اس وقت موت آجائے تو خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری میں موت آئے گی میں یہاں اس لئے آیا ہوں تاکہ اپنے اہل و عیال کا آزوقہ فراہم کرسکوں اور تمھارے جیسوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاؤں انسان کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے کہ موت آئے اور وہ گناہ میں مشغول ہو۔

وہ شخص کہنے لگا: میں آپ کو نصیحت کرنا چاہتا تھا لیکن آپ نے مجھے خود نصیحت کردی۔

(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۱۰)

اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ رہنا چاہیے کہ گرچہ اسلام نے تجارت ،زراعت اور دوسرے کام کی کافی تاکید کی ہے اور اسے عبادت شمار کیا ہے (وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۱۳) لیکن کسی بھی کام میں افراط کی بھی اجازت نہیں دی ہے۔

اسلام کا اصول یہ ہے کہ :

دن رات کا ایک حصہ کام اور کوشش کے لئےایک حصہ دوسری مادی اور معنوی ضروریات کے لئے۔

(نہج البلاغہ کلمات قصار شمارہ۳۹۰)

آرام کرو،گھریلو امور کی دیکھ ریکھ کرو ، دینی مسائل کا علم حاصل کرو، نماز پڑھو،قرآن کی تلاوت کرو، ایک دوسرے کی ملاقات کو جاؤ…….

تشکیلِ خاندان

ازدواج (شادی) ایک فطری اصول ہے یہاں تک کہ نباتات کو پھل دار ہونے کے لئے ایک طرح کی شادی ضروری ہے۔

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ شادی کی حیثیت صرف انفرادی ہو بلکہ اس کی سماجی حیثیت زیادہ ہے قوموں کی بقا اور دوام ،سماج کی بقا اور اس کا دوام اور دوسرے مظاہر کے لئے شادی ایک ضروری چیز ہے بعض افراد اپنے اعلیٰ مقاصد اور سماجی اہداف کی تکمیل آئندہ نسل کو سونپ دیتے ہیں۔

شادی سے انسانی خواہشات میں اعتدال قائم ہوتا ہے اور انسان گناہ سے محفوظ رہتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ خداوندعالم نےشادی کی بنیاد جنسی خواہشات پر رکھی ہے۔ اگر انسان شادی سے دوسرے فائدوں سے واقف نہ ہوتب بھی جنسی خواہشات سے مجبور ہوکر شادی کرلے۔

لیکن ضروری یہ ہے کہ جنسی خواہشات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عملی ہوں اور اس کو کنٹرول میں رکھا جائے۔جس طرح ایک قوی ہیکل ٹرک ایک لاپرواہ ڈرائیور کے ہاتھ میں جس کا نتیجہ کسی گڑھے میں گر کر ہلاک ہوجانا ہے۔ یہی صورت جنسی معاملات میں لاپرواہ انسان کی ہوگی۔

اسلام نے شادی کے ساتھ ساتھ اس کے شرائط بھی آسان اور سادہ رکھنے پر کافی زور دیا ہے۔

قرآن کا ارشاد ہے : شادی اللہ کا عطیہ ہے سکون اور اطمینان کا سبب ہے۔

(سورۂ روم آیت ۲۱)

رسول خداؐ کا ارشاد ہے : شادی اور تشکیل خاندان میری سنت ہے۔

(وسائل الشیعہ ج۱۴ص۷)

آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے : اگر ایسا شخص خواستگاری(منگنی) کے لئےتمھارے پاس آئے جس کا اخلاق اور دین داری تمہیں پسند ہو اس کے ساتھ شادی کے لئے تیار ہوجاؤ ورنہ روئے زمین پر فساد پھیل جائے گا۔

(کافی ج۵ ص۳۴۷)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :

پیغمبر اسلامؐ لڑکیوں اور عورتوں کا مہر پانچ سو درہم سے زیادہ نہیںرکھتے تھے۔( کافی ج۵ ص۳۷۶)گرچہ یہ رقم اس وقت کے حیثیت دار گھرانوں کے اعتبار سے بہت کم تھی۔

(کافی ج۵ ص۳۷۸)

یہ ساری باتیں اس حقیقت کی نشان دہی کررہی ہیں کہ اسلام نے جنسی خواہشات کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے شادی کی پیش کش کی ہے اور اس کے لئے آسان اور سادہ شرائط رکھے ہیں۔

اس سلسلہ میں اسلام نے سنہرے خوابوں اور طبقاتی امتیازات پر بہت سخت تنقید کی ہے اور اس کی مخالفت کی ہے ،بے جا تکلفات کو ناروا قرار دیا ہے۔

مقداد، حقیقی مسلم، ایمان سے سرشار دماغ،عقیدہ سے بھرپور دل،لیکن نہ کوئی خاندان نہ دولت وثروت۔

’’ضباعہ‘‘ جناب عبدالمطلب کی پوتی پیغمبر اسلامؐ کی چچا زاد بہن خاندان قریش کی ایک فرد۔

پیغمبر اسلامؐ کے مشورے سے ان دونوں کی شادی ہوئی۔ اس نامورلڑکی نے مقداد کے غربت کدہ میں زندگی گذاردی اپنی محبت و ایثار سے مقداد کے گھر کو منور بنائے رہی۔

امام صادق علیہ السلام نے اس شادی کا فلسفہ بیان فرمایا ہے کہ:

پیغمبر اسلامؐ نے یہ اقدام اس لئے کیا تاکہ شادی کو تکلفات اور بے جا رسم ورواج سے آزاد کردیا جائے اور دوسرے افراد رسول خداؐ کی پیروی کریں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ خدا کے نزدیک وہی سب سے زیادہ محترم ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

(کافی ج۵ ص۳۴۴)

ایک دوسری مثال امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ عبدالملک مروان کو یہ خبر ملی کہ امامؑ نے اپنی آزاد کردہ کنیز سے عقد فرمایا ہے عبدالملک کی نگاہ میں یہ کام امام کے لئے مناسب نہیں تھا کہ امامت کی منزلوں پر فائز ہونے کے ساتھ اپنی آزاد کردہ کنیز سے عقد کریں۔اس (عبدالملک) نےامام علیہ السلام کو ایک خط لکھا کہ جس میں اس اقدام کی مذمت کی تھی۔

امامؑ نے جواب میں تحریر فرمایا:

تمھارا خط ملا۔

تم یہ خیال کرتے ہو کہ کسی قریشی عورت سے شادی کرنا میرے لئے باعث عزت ہے؟

یہ تمھار ااشتباہ ہے۔ پیغمبر ؐ سے بزرگ تر اور محترم تر کوئی نہیں ہے(اور میں پیغمبرؐ کی اولاد ہوں)۔

میں نے اپنی آزادکردہ کنیز سے عقد کیا ہے کیوں کہ اس کے دین اور اخلاق میں کوئی خامی نہیں تھی۔

خداوند عالم نے اسلام کی برکت سے ہر طرح کے خیالی امتیازات کی بساط تہ کردی ہے اور شرافت و بزرگی کا معیار تقویٰ اور ایمان قراردیا ہے۔

تم نے یہ جو مذمت کی ہے، یہ زمانۂ جاہلیت کی بات ہے اسلام سے پہلے اس طرح کی باتیں روا تھیں اسلام کے بعد ایسی بے بنیادباتوں کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔

(کافی ج۵ ص۳۴۴)