اسلام ابتدا ہی ہے آخری پیغام کے عنوان سے ظاہر ہوا،مسلمانوں نے عقل وایمان کی روشنی میں اس حقیقت کو باقاعدہ تسلیم کیا کہ اسلام وحی اور نبوت کا جلوۂ آخر ہے اور گذشتہ کے تمام پاکیزہ ادیان کی تکمیل کنندہ ___ بے پناہ آیتوں اوربے شمار حدیثوں کی بنا پر تمام مسلمان اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ خدا کے آخری پیغمبر ہیں۔
قرآن مجید نے اپنی متعدد آیتوں میںاسلام کی جامعیت پر روشنی ڈالی ہے اور صراحت سےیہ بیان کیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ خدا کے آخری رسول ہیں۔
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلٰكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ۔
(سورۂ احزاب آیت ۴۰)
محمدؐ تم میں کسی ایک مرد کے باپ نہیں ہیںبلکہ وہ خدا کے رسول ہیں اور آخری نبی ہیں اور خدا ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
پیغمبر اسلامؐ نے حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا :
اے علی!تم کو مجھ سے وہ تمام نسبتیں حاصل ہیں جو ہارون کو موسیٰ سے حاصل تھیں ( ہارون موسیٰ کے بھائی تھے تو تم بھی میرے بھائی ہو اگر ہارون موسیٰ کے جانشین ہوئے تو تم بھی میرے جانشین ہوگے) لیکن بس فرق یہ ہے کہ موسیٰ آخری نبی نہ تھے اور میں آخری نبی ہوں۔
یا علی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی۔
یہ حدیث اکثرمحدثین نے ذکر کی ہے۔ تفصیل کے لئےدیکھیں الغدیر ۔ ج۳ ص۱۹۶۔۲۰۲۔)
آنحضرت ؐنے یہ بھی ارشاد فرمایا :
میں ایوان نبوت کی خشت آخر(آخری اینٹ) ہوں میرے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔
(قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: مثلی و مثل الانبیاء کمثل رجل بنیٰ دارا فاکملھا واحسنھا الا موضع لبنۃ فکان من دخل ونظرالیہا قال ما احسنھا الا موضع ھذہ اللبنۃ فانا موضع اللبنۃ ختم بی الانبیاء۔مسند ابی داؤد ص ۲۴۷ )
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ(علم ودانش کا اتھا ہ سمندر) میں ارشاد فرماتے ہیں :
رسول خداؐ پر وحی و نبوت کا خاتمہ ہوگیا۔
(نہج البلاغہ ۔ خطبہ ۱۳۳)
آٹھویں امام حضرت علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا دین قیامت تک منسوخ نہیں ہوگا اور آنحضرتؐ کے بعد قیامت تک کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔
(بحارالانوار طبع جدید ج۱۱ص۳۴)
پیغمبر اسلامؐ کے آخری نبی اور آپؐ کے دین کی جامعیت اور اس کی ابدیت کے سلسلے میں ہزاروں حدیثیں کتابوں میں مذکور ہیں ان حدیثوں کا ایک مختصر سانمونہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔
اسلام کی جامعیت
اسلام کے ابدی ہونے کا سب سے بڑا راز اسلام کی ’’جامعیت‘‘ ہے اسلام ایک ایسا جامع منشور(آئین) ہے جس کی بنیاد انسانی فطرت پر رکھی گئی ہے ۔ اس نے زندگی کے تمام پہلوؤں انفرادی ،اجتماعی، مادی، معنوی، اعتقادی، جذباتی، اقتصادی….. پر راہ نمائی کے چراغ روشن کئے ہیں۔ ہر ایک اصول بہت ہی دلچسپ حقائق پر مبنی، ہرنسل کے لئے،ہر زمانے کے لئے ہر جگہ کے لئے بیان کیا گیاہے۔
یورپ کے اسلام شناس دانشوروں نے اپنے مطالعہ اور اپنی تحقیقات کے مطابق اسلام کی جامعیت کااعتراف کیا ہے۔
(کتاب تمدن وعلوم اسلامی)
اسلام کی جامعیت کے بعض گوشے بیان کئے جارہے ہیں:
خدا،قرآن اور اسلام
اسلام کا خدا تمام کائنات کا پروردگار ہے!کسی خاص قبیلہ یا قوم کا خدا نہیں ہے تاکہ بس انھیں تک محدودر ہے۔ نماز میں پڑھتے ہیں کہ الحمد للہ رب العالمین (سورۂ فاتحہ آیت۲)}حمدوستائش اس خدا سے مخصوص ہے جو ساری کائنات کا پروردگار ہے۔
ہر وقت ہر جگہ جوچاہے پیدا کردے،اس کی ذات میں کسی قسم کی محدودیت نہیں ہے۔ ساری کائنات پر اس کا اختیار ہے۔
(تبارک الذی بیدہ الملک وھو علی کل شیء قدیر سورۂ ملک آیت۱)
ظاہر وباطن، گذشتہ اور آئندہ یہاں تک کہ وہ ان تمام چیزوں سے بھی واقف ہے جو ہمارے دلوں میں ہیں۔
(یعلم ما فی السمٰوات والارض یعلم ماتسرّون وما تعلنون ، واللہ علیم بذات الصدور، واللہ بکل شیء علیم۔ سورۂ تغابن آیت ۴)
وہ ہر جگہ ہے،ہر جگہ ا س کی بارگاہ میں رسائی ممکن ہے، اس تک پہونچنے کےلئے صحرا نوردی اور دربانوں سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے زیادہ قریب کوئی چیز نہیں ہے۔ (ونحن اقرب الیہ من حبل الورید ۔سورۂ ق آیت ۱۶) وہ ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ۔دوسرے مکاتب خیال کے برخلاف وہ تمام انسانی صفات سے منزہ وہ کسی مخلوق یا بشر کے مانند نہیں ہے۔ اس لئے اسے مکان کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہ خود ہی مکان کا خالق ہے۔
وہ زمان میں سما نہیں سکتا کیوں کہ اسی نے زمانہ کو پیدا کیا ہے۔
وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی کوئی ابتدا اور انتہا نہیں ہے لہٰذا اس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے۔
(لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر۔ سورۂ شوریٰ آیت ۱۱)
اس کی ذات نیند، تھکن، پشیمانی،اشتباہ…. جملہ تمام عیوب سے پاک ہے۔
(لاتاخذہ سنۃ ولا نوم ۔ سورۂ بقرہ آیت۲۵۴)
اکیلا ہے اس کا کوئی نظیر نہیں۔نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔
اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ مددگار۔
یہ وہ حقائق ہیں جوسورۂ توحید میں بیان کئے گئے ہیں اس سورہ کو مسلمان باربار نمازوں میں پڑھتے ہیں تاکہ وہ ہر طرح کے شرک سے پاک رہیں۔
(قل ھو اللہ احد ۔تاآخر سورہ۔ سورۂ توحید)
اسلام کا خدا وہ خدا ہے جس کے صفات قرآن کے الفاظ میں اوپر بیان کئے گئے ہیں کہ جن کے مفہوم کی وسعت ،شوکت و عظمت کا احاطہ عقل نہیں کرسکتی۔ فکر انسانی میںاتنی وسعت نہیں ہے کہ مفاہیم کی وسعت کو سمیٹ سکے۔ وہ بے نیاز ہے ،بلا شریک ہے،قادر ہے،نزدیک ہے،برتر ہے،مہربان ہےاور وہ بہت زیادہ مہربان ، ہر وقت اس تک رسائی ممکن ہے۔ ہر وقت ہر شخص اس سے اپنا رازِ دل کہہ سکتا ہے اس کی بارگاہ میں راز ونیاز کرسکتا ہے اپنی تمام حاجتیں اس سے طلب کرسکتا ہے۔ وہ حسبِ مصلحت و مفاد عطا کرتا ہے۔خود اس کا ارشاد ہے: اِنَّ اللہَ بِکُمْ لَرَؤُفٌ رَحِیْم۔ یقیناً خدا تم پر مہربان ہے عطا کرنے والا ہے۔
(سورۂ حدید۔ آیت۹۔)
اسلام اور مساوات
تمام نسلی اور طبقاتی امتیازات نہ صرف اسلام نے یکسر لغو قراردئے بلکہ انسانوں کی برابری اور مساوات کا بھی اعلان کیا۔
تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ سب ایک ماں باپ کی اولاد ہیں خاندانی اور نسبی شرافت میںباہم شریک ہیں۔کسی کو کسی پر تقویٰ اور پرہیزگاری کے علاوہ کوئی فوقیت نہیں ہے۔
(يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ۔ سورۂ حجرات آیت۱۳۔)
اسلام اور آزادیِ فکر
اسلام منطق واستدلال کی آزادی کا زبردست حامی ہے نظریات اور عقائد کو زبردستی منوانے کااسلام قائل نہیں ہے:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۔
(سورۂ بقرہ آیت ۲۵۶۔)
دین کے اختیار کرنےمیں کوئی جبر نہیں ہےہدایت وضلالت کی باقاعدہ نشان دہی کی جاچکی ہے۔
اسلام میں اصولِ عقائد کی تحقیق و جستجو ہر فرد کا فریضہ ہے۔ ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ بغیر دلیل کوئی بات قبول نہ کرے۔ گرچہ اسلام میں بعض احکام تعبدی (بے چون و چرا قبول کرلینا) ہیں۔ لیکن ان کے قبول کرنے کی دلیل یہ ہے۔
یہ احکام سرچشمۂ وحی (جو ہر قسم کی خطا و اشتباہ سے محفوظ ہے) سے پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ ہم تک پہونچے ہیں۔
اسلام ان لوگوں کی سخت مذمت کرتا ہے جو اندھی تقلید کی بنا پر اپنے خاندانی روایات پر قائم ہیں۔ اسلام انھیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ خود فکر کرو ،تحقیق کرو بے بنیاد باتوں سے چپکے نہ رہو صرف علم و یقین کی پیروی کرو۔
(سورۂ اسراء آیت۳۶)
اسلام مخالفین کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ علمی اجتماعات میں اپنے اعتراضات بیان کریں اور دلیلیں قائم کریں اور جوابات سنیں۔
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ۔
(سورۂ بقرہ آیت۱۱۱)
کہہ دیجئے:اگر سچےہوتو اپنی دلیلیں پیش کرو۔
تاریخ میں ایسے واقعات بکثرت ملتے ہیں کہ یہود نصاریٰ یا دوسرے مخالفینِ رسول خداؐ یا ائمہ علیہم السلام کی خدمتوں میں حاضر ہوتے تھے۔ بحث کرتے تھے دلیلیں پیش کرتے تھے۔
صدیوں تک یہ رواج تھا کہ مذہبی اقلیتیں دانشورانِ اسلام کے اجتماعات میں حاضر ہوتی اور مناظرہ کرتی تھیں ۔صفحاتِ تاریخ پر اس طرح کے واقعات درج ہیں۔
ڈاکٹر ’’گوسٹالوبن‘‘ اپنی کتاب ’’تمدن اسلام‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’بغداد میں ایسے اجتماعات ہوتے تھے جس میں ہر مذہب کے دانشور جمع ہوتے تھے، یہودی ، عیسائی،ہندو ،آتش پرست،دہریہ…. سب شریک ہوتے تھے اور کمالِ آزادی سے اپنی باتیں پیش کرتے تھے ان کے استدلال بہت غور سے سنے جاتے تھے، اس بحث میں صرف ایک شرط تھی کہ صرف عقلی دلیلیں پیش کی جائیں۔‘‘
ڈاکٹر موصوف اضافہ کرتے ہیں:
’’اگر غور کیا جائے تو ہزار سال کی وحشیانہ جنگ ،خود غرضانہ عداوتوں ،بے پناہ خون ریزیوں کے بعد بھی یورپ میں اس طرح کی آزادی حاصل نہیں ہے۔‘‘
(تمدن اسلام ص۷۱۳۔۷۱۵۔)
اسلام اور علم
اسلام نے تفکر کو کافی اہمیت دی ہے ۔عقل مندوں سے یہ تقاضا کیا ہے کہ وہ خلقتِ زمین و آسمان ،روز و شب ،حیوان وانسان ،کائنات اور جو چیزیں کائنات میں ہیں ان کے بارے میں بہت زیادہ غورو فکر کریں۔
(سورۂ بقرہ آیت ۱۶۴)
گذشتہ اقوام کی تاریخ پڑھیں ان کے حالات کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ان کے سقوط اورہلاکت کا کیا سبب تھا تاکہ خود ان کی زندگی ہلاکت کا شکار نہ ہونے پائے۔
(سورۂ آل عمران آیت۱۳۷)
ہاں اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان خوب فکرکرے،خوب گہرائی سے شبہ کا جائزہ لے تاکہ فکر کے دور دراز افق تک اس کی رسائی ممکن ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ علوم کے خزانے جمع کرسکے۔ اپنے وجود سے بہترین استفادہ کرسکے۔
اس بناپر اسلام نے علمی ترقیوں اور جدید انکشافات کی کافی قدر کی ہے خاص کر وہ انکشافات جو انسانی خدمت کےلئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظہورِ اسلام کے بعد دانشور انِ اسلام اٹھ کھڑے ہوئے۔ بشریت کی شاہراہِ تمدن اپنی کوششوں سے آراستہ کردی آج بھی علم کے کوہساروں پر ان کا نام چمک رہا ہے اور ہمیشہ چمکتا رہے گا۔
(جیسے جابرابن حیان، رازی، ابن سینا، خواجہ نصیر طوسی نے….عقلی ،طبعی،نجوم، کمسٹری علوم میں قابلِ قدر آثار چھوڑے ہیں ابھی آخری صدیوں میں ابن سینا کی کتابیں یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی تھیں۔ ڈاکٹر گولسٹالوبن نے لکھا ہے کہ: ’’سیورنان لکھتا ہے کہ البرت کے پاس جو کچھ تھا وہ اس نے ابن سینا سے حاصل کیا تھا۔تمدن اسلام ص۷۱ طبع اول۔)
عیسائی مورخ جرجی زیدان اپنی کتاب تاریخ تمدن اسلام ص ۵۹۸ پر لکھتا ہے:
’’ادھر اسلامی تمدن کی بنیاد پڑی،مسلمانوں میں علمی لہردوڑی ادھر دانشوران اسلام اٹھ کھڑے ہوئے بعض علوم میں ان کے افکار و نظریات ان علوم کے موسسین کے افکار و نظریات سے کہیں بلند تھے بلکہ اسلامی دانشوروں کی تحقیقات سے ان علوم نے نئی شکل اختیار کرلی اور اسلامی تمدن سے ہم آہنگ ہوکرترقی کی راہ پر گامزن ہوئے۔‘‘
میسولیبری لکھتا ہے کہ ’’اگر اسلام سلسلۂ تاریخ سے الگ ہوجاتا تو یورپ کی علمی بیداری کئی صدی پیچھے رہ جاتی۔‘‘
(تمدن اسلام ص۷۰۶۔۷۱۵۔)
اسلام اور زندگی
اسلامی نقطۂ نظر سے مادی و معنوی زندگی، دین ودنیا میں کوئی تضاد نہیں ہے وہ لوگ جو دنیا میں کوئی کام نہیں کرتے انھیںاسلام پسند نہیںکرتا اسی طرح اسلام ان لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہے جن کی ساری فکر،ساری سعی وکوشش صرف اپنے لئے ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :
جو شخص دنیا کو آخرت کے لئے ترک کردے۔ (زہد کی بنا پر دنیا سے دست بردار ہوجائے) اور جو آخرت کو دنیا کے لئے ترک کردے وہ ہم سے نہیں ہے۔
(وسائل الشیعہ ج۱۲ ص۴۹۔)
یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسلام نے اس بات کا باقاعدہ خیال رکھا ہے کہ مسلمان دنیاوی امور میں اپنی عقل و کوشش سے ترقیاں کرتے رہیں اور دنیوی معاملات میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں دنیا میں بھی آباد ہوں دین میں بھی۔ا س بنا پر اسلام میں رہبانیت اور سماج پر بوجھ بننا، گوشہ نشینی اختیار کرلینا ناروا سمجھا گیا ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد ہے :
لم یکتب علینا الرھبانیۃ انما رھبانیۃ امّتی الجھاد فی سبیل اللہ۔
(بحار ج۷۰ ص۱۱۵۔)
رہبانیت ہمارا نوشتۂ تقدیر نہیں ہے میری امت کی رہبانیت خدا کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔
اسلامی احکام اور عصری ترقیاں
تغیر وتبدل ،کمال و ارتقا ،نئے نئے وسائل کی ایجاد ،روزافزوں ترقی پذیر تمدن۔ اسلامی احکام کی ابدیت کے منافی(متضاد) نہیں ہیں ۔ کیوں کہ ترقیوں کے ساتھ احکام کی عدم مطابقت اس صورت میں ہوگی جب وہ قانون ابتدائی وسائل اور خاص عوامل(واسباب) کی بنیاد پر قائم ہو۔ اگر قانون یہ ہو کہ لکھتے وقت صرف ہاتھ سے استفادہ کرنا چاہیے اور سفر کے لئے صرف خچر استعمال کرنا چاہیے….. اس طرح کے قوانین علم وتمدن کی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتے ہیں۔
لیکن اگر قانون نے کسی خاص عوامل اور وسائل کو بنیاد نہ قرار دیا ہو بلکہ صرف مثال کے لئے پیش کیا ہو۔ اس صورت میں نئے وسائل کی ایجاد علم وتمدن کی ترقی قانون پر اثرانداز نہ ہوگی۔
اسلام نے قانون سازی کے وقت کسی خاص زمانے کو نظر میں نہیں رکھا ہے۔ اسلام کا حکم ہے کہ دوسروں کے مقابلہ کے لئے طاقت ور ہوتاکہ اپنے انسانی وجود اور حقوق کا دفاع کرسکو۔
یہ قانون گرچہ اس وقت وضع ہوا ہے جب جنگی وسائل سے گھوڑے اور تلواریں مراد لی جاتی تھیں لیکن اس قانون کی نظر اس وقت کے جنگی وسائل پر نہیں ہے۔ اسلام نے ہرگز یہ نہیں کہا ہے کہ:
اسلامی جہاد صرف تلوار سے ہوسکتا ہے۔
لہٰذا آج کی دنیا میں یہ قانون قابلِ نفاذ نہیں ہے۔
یہی صورت حال زندگی کے دوسرے مسائل میں ہے۔
تمدن اور اس کے اسباب وعوامل و وسائل جس قدر بھی ترقی یافتہ ہوجائیں ان کا دائرہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہوجائے کسی بھی منزل پر اسلامی قوانین کو تاہ دامنی کا شکار نہ ہوں گے اسلام کے ابدی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔
جارج برنادشا مشھور برطانوی فلسفی اور دانشور کا کہنا ہے کہ: اسلام اکیلا وہ دین ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کے لئے سازگار ہے اور ہرنسل کو اپنی طرف جذب کرنے کی اس میں صلاحیت ہے۔
(تمدن وعلوم اسلامی ص ۱۳۔)
کیا جدید نظریات ہمیں بے نیاز کرسکتے ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کے میدان میںانسان نے بے پناہ ترقی کی ہے لیکن دانشور خود اس بات کے معترف ہیں کہ جو کچھ وہ جانتے ہیں ۔ اس کا کوئی تناسب ان چیزوں سے نہیں ہے جن کو وہ نہیں جانتے ۔چوں کہ ان کی معلومات بہت محدود ہیں لہٰذا وہ کائنات کے تمام اسرار ورموز سے واقف نہیں ہیں۔
انسان جس قدر ترقی کرجائے پھر بھی خطا اور اشتباہ سے محفوظ نہیںہے ۔ اس بنا پر انسانی مسائل کے بارے میں جو باتیں پیش کی جائیں گی وہ کسی بھی زمانے میں سوفی صد قابلِ اطمینان نہ ہوں گی ۔اس بات کا بہر حال احتمال ہے کہ اس کے افکار ونظریات پر ماحول یا دوسرے عوامل کا لاشعوری اثر ہوجو اسے صحیح فکرسے دور کردے۔
اسلامی قوانین کا سرچشمہ وحی ہے جہاں خطا اور اشتباہ کاکوئی گذر نہیں ہے اس لئے وہ ہر زمانے میں سوفی صد قابلِ اطمینان ہیں لیکن یہ شرط ہے کہ اسلام کے پاکیزہ قوانین میں دوسرے ناپاک قوانین مخلوط نہ ہونے پائیں۔ اگر رسم و رواج اسلامی قوانین کا جز بن جائیں گے تو اسلامی قوانین سے صحیح استفادہ حاصل نہ ہوسکے گا۔
غیبی امداد
بعض لوگ آنحضرتؐ کے خاتم النبیین (آخری نبی) ہونے کامفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ کے بعد دنیائے غیب سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ ایک بے بنیاد بات ہے آنحضرتؐ کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا اورنہ کوئی دوسرا دین ۔ دنیائے غیب سے رابطہ منقطع ہونے کاکوئی سوال نہیں ہے۔
ہم شیعہ جو بارہ امام کی امامت و ولایت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ دنیائے غیب سے رابطہ برقرار ہے۔ مذہب شیعہ کے امتیازات میں یہ بھی ایک خاص امتیاز ہے۔(جو پیغام رسولؐ خدالائے تھے امام انھیں احکام کو بیان کرتا ہے۔) (جو پیغام رسول خداؐ لائے تھے امام انھیں احکام کو بیان کرتا ہے)
صدر المتالہین ملاصدرا شیرازی ’’مفاتیح الغیب‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’وحی کا سلسلہ یعنی پیغام رسانی کے لئے فرشتوں کا نزول گرچہ منقطع ہوگیا ہے لیکن الہام و اشراق کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سلسلہ کبھی بھی منقطع نہ ہوگا۔‘‘
دورحاضر میں اسلامی احکامات پر عمل
دورِحاضر میں ہر طرف فساد پھیلا ہوا ہے جس قدر ترقیاں ہورہی ہیں اسی قدر اخلاقی اقدار متزلزل نظر آرہی ہیں۔ یہ بات بھی فراموش نہ کرنا چاہیے کہ مرد آہن مشکلات ہی میں پیدا ہوتا ہے ہماری شخصیت اور استقلال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ زمانے کے انحرافات کا پامردی(بہادری) سے مقابلہ کریں۔
سماج کی اصلاح اور اس کے حالات پر کنٹرول کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ پیغمبروں کی زندگی زمانے کے انحرافات سے مقابلہ کرنے کادرس دے رہی ہیں۔ پیغمبر کبھی بھی سماج کی پستیوں سے متاثر نہیں ہوئے معاشرے کی ضلالت و گمراہی ان پر اثر انداز نہ ہوئی۔ پیغمبروں نے سماج کو بدل ڈالا نہ کہ سماج نے پیغمبروں کو۔
پیغمبر اسلامؐ نے جاہلیت کی پستیوں او رانحرافات کا جم کر مقابلہ کیا یہاں تک کہ سماج میں انقلاب برپا کردیا۔
قبیلۂ قریش کی بزرگ شخصیتیں خاص کر ہمیشہ پیغمبر اسلامؐ کی مصلحانہ روش سے خاصی ناراض تھیں رائے مشورے کےبعد یہ طے پایا کہ پیغمبر اسلامؐ کو ڈرا دھمکا کر بڑے بڑے وعدے کر کے ان کو ان کے ارادے سے باز رکھا جائے پیغمبر اسلامؐ نے ارشادفرمایا:
’’میری یہی ذمہ داری ہے خدا کی قسم! اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں ایک قدم پیچھے نہ ہٹوں گا اور اپنے ایمان سے دست بردار نہ ہوں گا یہاں تک کہ میں کامیابی یا موت سے ہم کنار ہوجاؤں۔‘‘
(سیرۂ ابن ہشام ص۲۶۶۔۲۹۵۔)
کامیابی پیغمبر اسلامؐ کی پیروی اور اطاعت میں مضمر ہے۔
آتیری راہ سے توشہ حاصل کریں!
اور اس راہ پر قدم اٹھائیں جس میں پیچھے ہٹنا نہ ہو۔
ہمیں دنیا کو بدلنا ہے،سماج کی اصلاح کرنا ہے،اخلاقی اقدار کو زندۂ جاوید بنانا ہے۔
ہمیں دنیا کے رنگ میں رنگ جانا نہیں ہے۔