اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٢٤

خلافت و امامت

آخر کار وہ وقت آپہونچا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طائرِ روح آشیانۂ ابدیت کی طرف پرواز کرگیا۔ ’’جس کو نہ موت آئی ہے نہ آئے گی وہ خدا کی ذات ہے۔‘‘

پہلے سے اندازہ تھا کہ پیغمبر اسلامؐ کی وفات سے اسلام کے پُرسکون سمندر میں تلاطم برپا ہوجائے گا،فتنہ وفساد کی موجیں اٹھیں گی۔ اور موقع پرست اس بحران سے فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ بھی معلوم تھا کہ اکثریت کی عقل آنکھوں میں ہوتی ہے ۔عوام ہمیشہ ایسی آگ کاایندھن بنتے رہے ہیں جس کو دوسروں نے بھڑکایا ہو..... اس لئے عوام کی مسلسل تربیت مستقل نگرانی کی ضرورت ہے ۔کسی مخلص اور فدا کار مربی کے بغیر عوام ارتقائی منزلیں خود طے نہیں کرسکتے ہیں۔

اب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ:

اس طرح اور ایسے سماج کے لئے کیا کسی رہبر کی ضرورت نہیں ہے جو پیغمبر اسلامؐ کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے تاکہ پیغمبرؐ کی زحمتیں بے کار نہ ہوپانے پائیں؟ کیا کسی ایسے مرکز کی ضرورت نہیں ہے جو خدا کے تمام قوانین کا علم رکھتا ہو اور زندگی کے تمام مسائل میں عوام کی رہبری کرسکتا ہو؟

شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا کا لطف بے پناہ رحمت اور لا محدود حکمت اس بات کی متقاضی(تقاضا مند) ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے بعد بھی کوئی رہبر ہو وہ بھی معصوم رہبر ہو جس کے علم وکردار کی ضمانت خود خدا نے لی ہوجو غیر معمولی انسان اور نگاہِ خالق کا انتخاب ہو تاکہ سماج کی زمام(لگام) اپنے ہاتھوں میں لے سکے اور اپنے وسیع اور لامحدود علم (جو اسے پیغمبرؐ سے ورثہ میں ملا ہے) کی بنیاد پر عوام کی رہنمائی کرسکے۔

وہ خدا جس نے پیغمبر ؐ کے زمانے میں ہادی ورہنما معین فرمایا۔ وفات پیغمبرؐ کے بعد کیا اس کی دیرینہ سنت بدل جائے گی؟!

وہ خدا جس نے ہمارے بدن کی حفاظت اور رشدونمو کے لئے ہزارہا انتظامات کئے ہیں جس نے آنکھ کو پیشانی کے پسینے ، گردوخاک سے محفوظ رکھنے کے لئے ابرو قراردئےسورج کی تیز شعاعوں سے بچنے کے لئے پلک بنائی تاکہ آنکھ محفوظ بھی رہے اور خوبصورت بھی،..... نہ معلوم بدن کی حفاظت کے لئے کیا کیا انتظامات کئے ہیں۔ کیا اس خدا نے پیغمبر اسلامؐ کا جانشین معین نہ فرمایا ہوگا۔ بہترین اور مثالی معاشرے کی تشکیل (جو اسلام کا بنیادی مقصد ہے) کے لئے بہترین اور مثالی رہبروں کی ضرورت نہیں ہے؟ معصوم رہبروں کا تعین سعادت مند معاشرے کے لئے لازمی نہیں ہے؟

اسلامی معاشرہ بغیر کسی معصوم رہبر کے سعادت کی منزلوں سےہم کنار ہوسکتا ہے؟

اگر ایک معصوم رہبر کی ضرورت ہے اور سماج کی اصلاح کے لئے الہٰی نمائندے کی ضرورت ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسلام نےاس موضوع پر کوئی توجہ نہ کی ہو اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہو۔

مختصر یہ کہ جس بنا پر انبیا کی بعثت ضروری ہے بالکل اسی بنا پر یہ بھی ضروری ہے کہ خدا نے پیغمبرؐ کے ذریعہ اس کے جانشین کا انتخاب و اعلان کیا ہو۔

پیغمبر اسلامؐ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ارشاد فرمایا کہ :

 اے لوگو! خدا کی قسم! ہر وہ چیز جو تمھیں جنت سے نزدیک کرتی ہو اور ہر وہ چیز جو جہنم سے دو ر کرتی ہو ان سب کو میں نے بیان کردیا ہے۔(اصول کافی طبع آخوندی ج۲ ص۷۴۔) کیا اب بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے اپنا جانشین معین نہ فرمایا ہو؟

 

کیا قرآن کافی ہے؟

تمام اسلامی تعلیمات ،افکار و نظریات کی بنیاد قرآن کریم ہے۔ اسلام کے بلندوبالا ایوان کی خشت اول یہی قرآن مجید ہے۔ یہ وہ سوتا(منبع) ہے جس سے اسلامی افکار و نظریات کے چشمے پھوٹتے ہیں۔

دین کے دوسرے مآخذ کااعتبار اور حیثیت اسی قرآن سے وابستہ ہے۔

لیکن یہ بات واضح دلیلوں سے ثابت ہے کہ معاشرے کی رہبری اور سماج کے اختلافات کو حل کرنے کے لئے تنہا قرآن کافی نہیں ہے۔

۱قرآن کے معانی و مطالب اتنے عمیق اور بلند ہیں کہ توضیح و تفسیر کی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کی تمام آیتیں بالکل واضح نہیں ہیں ناشناس اور ناواقف افراد منحرف ہوسکتے ہیں۔ راہ سے بے راہ ہوسکتے ہیں۔

لہٰذاخود پیغمبر اسلامؐ یا وہ افراد جن کو پیغمبرؐ نے معین فرمایا ہو عالم غیب سے جن کا رابطہ ہو وہ اس وادی میں رہبری فرمائیں اور قرآنی مطالب کی توضیح و تفسیر فرمائیں۔ ورنہ عوام قرآن کی غلط تفسیر بیان کریں گے اور راہ راست سے منحرف ہوجائیں گے۔

(پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد ہے کہ یہ جو شخص اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرے وہ آتش جہنم میں خود اپنی جگہ تلاش کرے۔ تفسیر صافی ج۱ص۲۱)

تاریخ میں اس طرح کے واقعات بہت ہیں۔

معتصم خلیفۂ عباسی کے دربار میں ایک چور پکڑکرلایاگیا تاکہ اس پر وہ حد جاری کی جائے جو قرآن نے چور کے لئے معین کی ہے۔

اس سلسلہ میں قرآن کا حکم یہ ہے کہ ’’چور کے ہاتھ کاٹے جائیں۔‘‘

لیکن معتصم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ چور کے ہاتھ کہاں سے کاٹے جائیں ۔ اس نے اہل سنت کے علماء سے دریافت کیا۔

ایک نے کہا: گٹے سے ہاتھ کاٹا جائے۔

دوسرے نے کہا: کہنی سے ہاتھ کا ٹا جائے۔

یہ جواب سن کر معتصم مطمئن نہیں ہوا۔ اس نے امام محمد تقی علیہ السلام (جو اس وقت وہاں موجود تھے) سے دریافت کیا:تو آپ نے ارشاد فرمایا:

صرف چار انگلیاں کاٹی جائیں۔

کیوں؟

فرمایا: خدا نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ : اِنَّ الْمَسَاجِدَ لِلہِ۔

(سورۂ جن آیت ۱۸۔)

سجدہ کرنے کی جگہیں اللہ کے لئے ہیں۔چونکہ سات اعضائے سجدہ میں ہاتھ کی ہتھیلی بھی شامل ہے لہٰذا وہ خدا کے لئے ہے اور اسے نہیں قطع ہونا چاہیے۔

امامؑ کا یہ استدلال ہر ایک کو پسند آیا اور ہر ایک مطمئن ہوگیا۔

(تفسیر نورالثقلین ج۵ ص ۴۳۹۔)

اس طرح کی قرآن سے قرآن کی تفسیر اہل بیت علیہم السلام کی خصوصیت ہے اورکوئی بھی تفسیر کا حق ادا نہیں کرسکتا ہے خواہ وہ اپنی جگہ علامۂ دہر کیوں نہ ہو۔ مگر یہ کہ اس نے تعلیمات اہل بیت علیہم السلام سے خوشہ چینی کی ہو۔

۲تفسیر قرآن کے سلسلے میں اب تک جو کچھ بیان کیا گیا وہ تصویر کاایک رخ تھا جو قرآن کے ظاہری مطالب اور احکام سے متعلق تھا۔

جب کہ انھیں ظاہری الفاظ و مطالب میں مفاہیم کے سمندر پوشیدہ ہیں خاص کر عقائد اورعلوم و معارف کے سلسلے میں۔

پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد ہے کہ: قرآن کا ظاہر خوش نما او رباطن عمیق ہے۔

(اصول کافی ج۲ ص ۵۹۹ طبع آخوندی۔)

آنحضرتؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: قرآن کے مطالب میں گہرائیاں ہیں اور ان گہرائیوں میں سات گہرائیاں پوشیدہ ہیں۔

(تفسیر صافی ج۱ ص۳۹ طبع اسلامیہ۔)

عظیم مفسرین کا کہنا ہے کہ: سارا قرآن ظاہر و باطن پر مشتمل ہے ۔ صرف غور وفکر کے ذریعہ ان مفاہیم تک رسائی ممکن نہیں ہے۔

قرآنی مطالب ہر ایک کے لئے لفظوں سے بیان نہیں کئے جاسکتے ہیں کیوں کہ عوام ان مطالب کو درک نہیں کرسکتے ہیں۔

صرف اولیائے خدا اور پاک سیرت افراد ہی ان مطالب کو درک کر سکتے ہیں ۔ اختلافات اور مشکلات کو ان مطالب کی روشنی میں حل کرسکتے ہیں۔یہ معصوم ہستیاں صاحبان استعداد کو ان مطالب سے آگاہ کرسکتی ہیں۔

یہ اولیا ئےخدا اور معصوم ہستیاں پیغمبر اسلامؐ اور ان کے اہل بیت علیہم السلام ہیں انھیں کے بارے میں قرآن کا یہ ارشاد ہے کہ:

’’خدا نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ تم اہل بیت سے ہر طرح کی نجاست کو دور رکھے گا اور تمھیں پاک و پاکیزہ قرار دے گا۔‘‘

(سورۂ احزاب آیت ۳۳۔)

حدیث میں یہ جملہ ملتا ہے کہ ’’:إِنَّمَا يَعْرِفُ الْقُرْآنَ مَنْ خُوطِبَ بِه‌‘‘۔(مقدمہ تفسیر مرآۃ الانوار ص۱۶)صرف پیغمبر اور ان کے اہل بیت قرآن کے مخاطب ہیں اوروہی قرآنی مطالب کو درک کرسکتے ہیں۔

(جبرئیل ؑوحی لے کر پیغمبرؐکے گھر پر نازل ہوتے تھے اور اہل بیت خاندان نبوت کے افراد تھے لہٰذا اہل بیت سب سے زیادہ قرآن سمجھتے تھے۔)

قرآن اور اہل بیت کے اسی باہمی ربط کی بنا پر پیغمبر اسلامؐ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ارشاد فرمایا تھا کہ:

وَإِنِّي تَارِكٌ فِيْكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللهِ عَزَّوَجَل وَعِتْرَتِي۔

میں تمہارے درمیان دوامانت چھوڑ کر جارہا ہوں۔اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت اگر تم ان دونوں سے متمسک رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔

(مسند ابن حنبل ج۳ ص۱۷ طبع بیروت، الغدیر ج۱ص۔۹۔۵۵۔غایۃ المرام ص۲۱۲۔)

قرآنی احکام اپنے نفاذ میں معصوم کے محتاج ہیں کیوں کہ قرآن ایک دستوراساسی ہے اس کے لئے ایک نافذ کرنے والا اور انتظامیہ درکار ہے ،نفاذ کی ذمہ داریوں کو وہی رہبر نبھا سکتا ہے جو پیغمبر اسلامؐ کی طرح ہر خطا اور اشتباہ سے پاک ہو اور قرآنی مفاہیم پر مکمل دست رس رکھتا ہو۔

یہ خصوصیات صرف ہمارے ائمہ علیہم السلام کی ذات میں منحصر ہیں۔ اس حقیقت کا بہترین گواہ حضرت علی علیہ السلام کا مختصر دورِحکومت ہے،تمام مشکلات ،مسائل، جنگیں...... تمام چیزوں کے باوجود حضرت علی علیہ السلام نے قرآنی احکام کا مکمل نفاذ فرمایا۔

اس سبق کے آخر میں آپ ایک ایسا مناظرہ پڑھیں گے جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک شاگرد اور اہل سنت کے عالم کے درمیان امامؑ کے حضور میں ہوا تھا۔

ایک شخص دمشق سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرف یاب ہوا۔ اور کہنے لگا :میں آپ کے شاگردوں سے مناظرہ کرنے آیا ہوں۔

امامؑ کے حکم کے مطابق اس شخص کو امامؑ کے سب سے کم عمر شاگرد جناب ہشام سےملوادیا گیا۔

شامی: اے فرزند! تم مجھ سے اس شخص (امام جعفر صادقؑ) کی امامت کے بارے میں سوال کرو۔

شامی کی بے ادبانہ گفتگو سے ہشام کو غصہ تو بہت آیا لیکن اس کا اظہار نہیں کیا اور شامی سے سوال کرنا شروع کئے۔

خدابندوں پر زیادہ مہربان ہے یا بندے اپنے آ پ پر زیادہ مہربان ہیں؟

خدا زیادہ مہربان ہے۔

مہربان خدا نے بندوں کے لئے کیا کیا ہے؟

ان کے لئے رہنما اور رہبر معین فرمایا تاکہ وہ انھیں اختلاف و انتشار سے محفوظ رکھے، ان میں اتحاد وبرادری پیدا کرے، ان کو دینی احکام سے آگاہ کرے۔

وہ رہبر اور رہنما کون ہے؟

پیغمبر اسلامؐ۔

پیغمبر اسلامؐ کی وفات کے بعد کون ہے؟

خدا کی کتاب ،اور رسول خداؐ کی سنت۔

خدا کی کتاب اور رسول خداؐ کی سنت ہمارےموجودہ اختلافات کو دور کرسکتی ہے؟

ہاں یقیناً۔

ہم اور آپ (جو مسلمان ہیں) آپس میں اختلافات کیوں رکھتے ہیں اسی اختلاف کی بنا پر تو آپ شام سے یہاں تشریف لائے ہیں؟

شامی خاموش ہوگیا اور کوئی جواب نہ دیا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس شامی سے کہا: جوا ب کیوں نہیں دیتے؟!

شامی نے کہا: کیا جواب دوں! اگر یہ کہوں کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، یہ خلافِ واقع ہے۔ اگر یہ کہوں کہ خدا کی کتاب اور رسول خداؐ کی سنت اختلافات کو دور کرسکتی ہے تب بھی بات صحیح نہیں ہے کیوں کہ قرآن اور سنت میں بہت سے مطالب ایسے ہیں جو واضح نہیں ہیں جن سے اختلافات کودور کیا جاسکے۔

اس کے بعد شامی نے کہا: یہی سوالات اب میں ہشام سے کرنا چاہتا ہوں۔

امامؑ نے فرمایا: ہاں ضرور سوال کرو۔

اے ہشام! بندوں پر خدا زیادہ مہربان ہے یا خود بندے؟

خدا۔

خدا نے لوگوں کی ہدایت ،ان کو متحد رکھنے اور اختلافات و انحرافات سے محفوظ رکھنے کے لئے کسی کو معین فرمایا ہے؟

آپ کا یہ سوال رسولؐ خدا کے زمانے سے متعلق ہے یا آج کے دور سے؟

رسول خدا ؐ کے زمانے میں آنحضرتؐ خود نمائندے تھے۔ آج کےدور میں بتاؤ؟

ہشام نے امام جعفر صادق ؑ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: آج کے دور میں یہی خدا کے نمائندے ہیں۔ دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ ان کی خدمت میںحاضر ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں آسمان و زمین کی باتیں بتاتے ہیں انھیں علم ودانش رسول خدا ؐ سے وراثت میں ملی ہے۔

تمھاری بات کس طرح قبول کروں اور اس کی تصدیق کروں؟

سوالات کرکے دیکھو!

ہاں یہ بات صحیح ہے۔ تصدیق کے لئے لازم ہے کہ میں سوال کروں۔

اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس کے سفر کی تفصیلات بیان کی ،وہ تمام واقعات جو دورانِ سفر پیش آئے تھے بیان فرمائے جس کو اس کے علاوہ کسی او رکو خبر نہ تھی۔ امام نے اتنی تفصیل سے واقعات بیان فرمائے کہ شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس کے بعد شامی حضرتؑ کی امامت پر ایمان لے آیا۔

(اصول کافی ج۱ ص۱۷۱۔۱۷۳۔)