اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٢٥

معنوی ہدایت

اسلامی تعلیمات اور احکام کی مکمل ترجمانی اور تفسیر رسول خداؐ کی زندگی اور سیرت پاک ہے۔ و ہ وحی کے ذریعہ خداوندعالم سے احکام و قوانین حاصل فرماتے تھے اور اسلامی معاشرے میں اس کو نافذ فرماتے تھے وہ مسلم سماج کے سیاسی رہبر اور قائد بھی تھے ۔ آپ کا کردار مجسم قانون ،آپ کی رفتار سراپا اخلاق، آپ کی گفتار الٰہی قانون ۔ آپ کی رہبری عقل کی بنیاد ، آپ کی ہدایت نجات کی ذمہ دار۔ آپ صرف موعظہ اور نصیحت پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ عدل وانصاف کی بنیاد پر اسلامی معاشرے کی تشکیل کی ہمیشہ کوشش کرتے رہتے تھے۔

کیوں کہ اسلام کے پاس معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے ’’نفاذی ضمانت‘‘ بھی موجود ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ مجرمین اور فساد پھیلانے والوں، سماج میں برائیوں کو عام کرنے والوں ..... کو صرف اخروی عذاب سے ڈرایا گیا ہو بلکہ ان لوگوں کے لئے اس دنیا میں بھی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ یہ قوانین اس بات کی دلیل ہیں کہ ایک حکومت کی تشکیل بھی آنحضرت ؐ کی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔

دنیا کے دوسرے مکاتب فکر اور نظام ہائے حیات کے برخلاف اسلام نے صرف مادی پہلو پر نظر نہیں رکھی ہے بلکہ انسانی زندگی کے دوسرے رخ یعنی معنویت کوبھی خاص اہمیت دی ہے اس لئے اسلام کی اکثر تعلیمات میں معنوی اور انسانی فضیلتوں کے حصول کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

آج کی متمدن دنیا میں جس چیز کو بالکل فراموش کردیا گیا اور جس کے مضر اثرات بھی روز بروز ظاہرہورہے ہیں۔ ’’وہ ہے انسانیت اور آخرت‘‘ ان دونوں ہی چیزوں کو بھلا دیا گیا ہے۔

لیکن اسلام نے ان باتوں پر خاص توجہ دی ہے۔ اسلامی رہنماؤں نے اپنی تعلیمات کی بنیاد معنویت کو قرار دیا ہے۔

اکثرافراد ’’انسانیت کے گراں قدر جوہر‘‘ سے ناواقف ہیں۔ یہ جو ہرِ انسانیت اس قدر لطیف اور پاکیزہ ہے کہ اس کو دیکھنے کے لئے چشمِ بصیرت درکار ہے۔ یہ سرسبز و شاداب چمن عام نگاہوں سے اتنا دورہے کہ مادی نگاہیں اس کو درک نہیں کرسکتی ہیں چہ جائیکہ وہ اس سلسلہ میں کچھ رہنمائی کریں۔

ہزاروں سال کی تلاش وجستجو کے بعد بھی انسان اس بات پر قادر نہیں ہوسکا ہے کہ وہ اپنے بدن کے مادی عمل اور عکس العمل(ایکشن) کے نصف اثرات کو بھی صحیح طورسے پہچان سکے۔ اس انسان سے کیوں کر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ روحانی پہلو سے واقف ہوگیا ہو اور اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل پیش کرسکتاہو۔

بغیر کسی بحث وگفتگو کے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس میدان میں وہی رہنمائی کرسکتا ہے جس کاجو ہرِ وجود روحانیت اور معنویت سے ہم آغوش رہا ہو۔جو معنوی دنیا کے نشیب وفراز سے خوب اچھی طرح واقف ہوبلکہ اس دنیا کے گوشہ گوشہ کی سیرکرچکا ہو۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے انسان کی معنوی ترقی اور روحانی سربلندی کی کوئی امید نہ رکھی جائے؟

انسان کے وجود میں جو روحانی استعداد اور معنوی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں ان کونظر انداز کرلیا جائے؟ اور انسان کو حیوان کا درجہ دے دیا جائے جس کی ساری فکر اور ساری کوشش بس کھانا پینا،سونا جاگنا،خواہشات.... کی برآوری (پوری ہونا)..... ہے۔

یہ باتیں انسانیت کی بلند وبالا منزلت کی توہین ہیں۔

انسان میں روحانی صلاحیتیں او رملکوتی صنعتیں ودیعت کی گئی ہیں۔خداوند عالم نے انسان کو معنوی استعداد سے سرشار کیا ہے۔ انسان شاہکارِ قدرت اور عالمِ مخلوق کا نیرّ تابان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ آفتاب کی طرح بلندیاں حاصل کرے اور ان بلندیوں سے سورج کی طرح ساری دنیا میں اپنی شعاعیں پھیلائے اور کائنات کو نورِعلم اور حرارتِ ایمان سے مالا مال کردے۔

یہ منتخب روزگار اس نظام شمسی میں سرگرداں و حیراں نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ اس ذرہ پر خورشیدِ ربوبیت نے اپنی شعائیں ڈالی ہیں اور اپنی خاص عنایتوں سے نوازا ہے۔

خداوند عالم کی یہ خاص عنایتیں بعثت انبیاء کی شکل میں ظاہر ہوئیں۔ انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ہر دور میں نبی آتےرہے تاکہ ہر پہلو سے انسان کی رہنمائی کرسکیں اور فضیلتوں کی متلاشی روح کو سعادتوں اور الٰہی خصلتوں کے ساحل سے ہم کنار کرسکیں۔

اس حقیقت کی طرف قرآن نے اپنی متعدد آیتوں میں اشارہ کیا ہے ۔ایک جگہ جناب ابراہیم علیہ السلام کی زبانی ارشاد ہوتا ہے کہ:

خدایا!میرے فرزندوں پر انھیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث فرما۔ جو ان کے سامنے تیری واضح آیتوں کی تلاوت کرے انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انھیں پاکیزہ کرے تو عزیز اور حکیم ہے۔

(سورۂ بقرہ آیت۱۲۹۔)

اس آیت میں ہدایت اورعلم وحکمت کی تعلیم کے علاوہ ایک بات کا اور تذکرہ کیا گیاہے اور وہ ہے ’’پاکیزگی نفس‘‘ او ر روح کی پاکیزگی، جس کو اصطلاحی طورپر ’’تذکیۂ نفس‘‘ کہتے ہیں۔ یہ معنوی اور روحانی تربیت انبیاء کی بعثت کا ایک خاص رکن ہے۔

پیغمبر اسلامؐ کی تربیت گاہ میں ایسے افراد نظرآتے ہیں جو اس معنوی اور روحانی تربیت سے سرشار تھے، فضیلتوں کے دل دادہ ، حقیقتوں کے متلاشی اور اعلیٰ صفات کا مجسمہ تھے۔ جن کی روحانی بلندیاں حیرت انگیز ہیں۔ سلمان، ابوذر،مقداد،عمار ،میثم،اویس قرنی...... یہ افراداسی چمن کے گل سرسبز ہیں۔

جن کا وجود پاکیزگی اور نیکی کا سرچشمہ ،تمام برائیوں سے پاک ،جملہ آلودگیوں سے دوران کی رگ و پے میں بس خدا کا تصور تھا۔ خدا سے ہٹ کر نہ کچھ چاہتے تھے اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور فکر کرتے تھے ان کی روح ،ان کے قلب ،ان کے دماغ ، ان کے افکار ،ان کے خیالات ......ان کے روئیں روئیں پر بس خدا کی حکمرانی تھی۔

اسی لئے ان میں سے ہر ایک مکمل انسان تھا بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے منارۂ ہدایت، انسان کی معنوی اور روحانی ارتقا میں ہر ایک نے بے پناہ خدمتیں انجام دی ہیں اور فضیلتوں کی طرف معاشرے کی رہنمائی کی ہے۔

لہٰذا اخلاق ،پاکیزگیِ نفس،کوئی اضافی چیز نہیں ہے تاکہ ہم اس کی طرف کوئی توجہ نہ دیں اور اگر متوجہ بھی ہوں تو اس وقت جب زندگی کا کوئی اور کام نہ ہو____ ہر گز ایسا نہیں ہے بلکہ اخلاق،پاکیزگی نفس سب سے اہم چیز ہے،زندگی کا ایک اہم جز ہے  عالی صفات، پاکیزگیِ نفس،صفائے باطن وہ عظیم اورتہ دار خصلتیں ہیں جہاں انسان شکل وصورت کے ظاہری نقش و نگار سے گذر کر حیاتِ معنوی اور حقیقی انسانی زندگی کے اعلیٰ مدراج پر فائز ہوجاتا ہے جہاں اس کی نگاہوں کے سامنے سے پردے ہٹ جاتے ہیں اور وہ ان چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے جس کو دیکھنے سے عام نگاہیں قاصر ہیں۔

معنوی زندگی اور قرآن

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۔

(سورۂ نمل آیت ۹۷۔)

جس کا ( مرد ہو یا عورت) کردار بھی اچھا ہوگا اور ایمان بھی ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۔

(سورۂ انفال آیت ۲۴۔)

اے مومنو! جب خدا اور رسول تمھیں اس چیز کی دعوت دیں جو تمھیں زندگی عطا کرے تو تم ان کی آواز پر لبیک کہو تاکہ تمھیں زندگی دی جائے۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس حیات اور پاکیزہ زندگی کا تذکرہ ان آیات میں کیا گیا ہے وہ اس ظاہری حیات سے یقیناً مختلف زندگی ہے۔ اور وہ حیات ،معنوی حیات اور روحانی زندگی ہے جہاں زندگی کی علامت ،نیک کردار ، انسانی صفات، پاکیزگیِ نفس، صفائے باطن..... ہے۔

(ان آیات میں جس پاکیزہ زندگی کا تذکرہ کیا گیا ہے اسے مجازی زندگی نہ سمجھنا چاہیے بلکہ یہ وہ حقیقی زندگی ہے جو ایسے باایمان کو عطا کی جاتی ہےجس کا کردار بلند ہوتا ہے۔ اس حقیقی زندگی کی علامت و ہ خاص بصیرت، شعور،ادراک اور قدرت ہے جو مومن کو عطا ہوتی ہے اور عام لوگوں میں جس کا سراغ نہیں ملتا ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسروں نے دوسری باتیں بیان کی ہے۔ لیکن ہم نے یہ مفہوم دورحاضر کے عظیم مفسر حضرت علامہ طباطبائی طاب ثراہ کی گراںبہا تفسیر’’ المیزان‘‘ سے استفادہ کیا ہے۔)

معنوی زندگی کس طرح حاصل ہوتی ہے؟

تمام دوسری چیزوں کی طرح معنوی زندگی کے حصول کے کچھ شرائط ہیں۔

معنوی زندگی انسان کے اچھے کردار اور پاکیزہ اخلاق کا لازمی نتیجہ ہے۔ البتہ وہ کردار اور وہ اخلاق جو آسمانی رہبروں اور اخلاقی مربیوں کےبتائے ہوئے نقوش پر تعمیر ہوا ہو۔

خداوندعالم نے اوامر اور نواہی جسے اصطلاحی طور پر ’’تشریع ‘‘کہا جاتا ہے اور کائنات کے وہ حقائق اور اسرار ورموز سے جسے اصطلاحی طورپر ’’تکوین‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہم آہنگ ہیں ہمارا علم چونکہ محدود ہے اس لئے ہم کائنات کے اسرارورموز اور ان کی مصلحتوں سے ناواقف ہیں۔ اسی لئے ہم حیات معنوی کے صحیح نقوش سے بھی بے خبر ہیں۔ لیکن امامؑ کائنات کے ہر اسرار ورموز اور ان کی تمام مصلحتوں سے واقف ہیں۔ وہ ان حقائق کو ایک مہربان اور شفیق استاد کی طرح عام فہم الفاظ میں انسانوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ ہم ان ہدایتوں پر عمل کرکے سعادت مند اور کامیاب زندگی بسر کریں۔

لہٰذا دین ایسے حقائق اور معارف کا مجموعہ ہے جو عام انسانوں کی فہم سے بالاتر ہے جسے خداوندعالم نے اپنے پیغمبروں اور ان کے معصوم جانشینوں کے ذریعہ ہم تک بھیجا ہے تاکہ ہم حیات معنوی سے سرشار ہوجائیں او رہماری سعادت و کامیابی یقینی ہوجائے۔

اگر ہم ان احکام اور فرامین کی پیروی کریں گے تو سعادت مند ہوں گے اور اگر ہم نافرمانی کریں گے تو نقصان میں رہیں گے ۔ ایک بچہ کی طرح جس کی تربیت ایک معلمِ اخلاق کے ذمہ ہے جہاں بچہ معلم کے اشاروں پر عمل کرتا ہے۔ جن چیزوں کا حکم دیتا ہے انھیں انجام دیتا ہے او رجن باتوں سے روکتا ہے اس سے پرہیز کرتا ہے گرچہ بسا اوقات ان چیزوں کی حقیقت اور ان کی مصلحتوں سے ناواقف رہتا ہے ۔ لیکن تربیت کی مدت گذرنے کے بعد اس بچہ میں اعلیٰ صفات، انسانی خصلتیں ، روحانی فضیلتیں کوٹ کوٹ کے بھرجاتی ہیں جس کی بنا پر اس کی زندگی سعادتوں سے مالا مال اور کامیابیوں سے سرشار رہتی ہے ۔ اگر یہ بچہ ابتدا میں معلم کی ہدایتوں پر عمل نہ کرے اس کے احکام کی نافرمانی کرے تو کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوگا کہ کس قدر نقصان میں ہے۔

رہنما کون؟

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معنوی زندگی میں اور اس کے ارتقائی مراحل میں رہبری کے فرائض کون انجام دے؟

کیا عام انسان اس ذمہ داری کو نبھاسکتا ہے؟ یا رہبری کے فرائض وہ انجام دے جس کی باتیں اور جس کے الفاظ سراپا صداقت ہوں جو ہر طرح کی خطا اور لغزش سے پاک ہو یعنی اصطلاحاً معصوم ہو جو خود بھی حیات معنوی کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز ہو۔

کیوں کہ جو شخص خود ہدایت یافتہ نہ ہو خدا ہرگز اسے دوسروں کا رہبر قرار نہیں دے گا۔

أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ۔

(سورۂ یونس آیت۳۵۔)

 جو خود ہدایت کا محتاج ہو وہ دوسروں کی کیا ہدایت کرے گا۔

اس کے علاوہ امامت کا مفہوم عام اور معمولی ہدایت نہیں ہے کیوں کہ اس معیار کی ہدایت اور رہنمائی ہر مسلمان کافرض ہے خاص امامؑ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

جس ہدایت کی ذمہ داری امامؑ کو انجام دینا ہے وہ ’’ہدایت بامر ‘‘ہے۔ جب تک وہ خود حیات معنوی میں ڈوبا ہوا نہ ہو اور جب تک خود اس پر کائنات کے اسرار ورموز منکشف نہ ہوں وہ دوسروں کی رہبری کیوں کر کرسکےگا؟

قرآن کی آیتوں میں غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ جہاں امامت کا تذکرہ کیا گیا ہے وہاں اکثر امامت کے بعد ’’ہدایت بامر‘‘ کا ذکر توضیح اور تفسیرکےعنوان سے کیا گیا ہے۔

ہدایت بامر کیا ہے؟

احکام کی تعلیم اور ظاہری ہدایت کے علاوہ باطنی ہدایت اورر وحانی رہنمائی میں بھی امام ؑ کو ولایت اور حاکمیت حاصل ہے۔

وہ افراد جن میں صلاحیت اور استعداد پائی جاتی ہے امامؑ ان کی باطنی طورپرہدایت کرتے ہیں اور معنویت کی ارتقائی منزلوں کی سمت ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔

اس ہدایت کی بنیاد چوں کہ معنوی فیوض و برکات اور باطنی و روحانی امور پر قائم ہے اس لئے اس سلسلۂ ہدایت کو ’’ہدایت بامر‘‘ کہاجاتا ہے۔

باطنی ہدایت وہ بلند وبالا منصب ہے جس پر انبیا ؑمنصبِ نبوت ورسالت کے بعد فائز ہوتے ہیں خداوندعالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو نبوت ورسالت کے عظیم منصب کے بعد ہدایت معنوی یعنی امامت کا منصب عطا فرمایا۔

اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔

(سورۂ بقرہ آیت۱۲۴۔)

یقیناً ہم نے آپ کو لوگوں کا امام قرار دیا۔

امام کو ولایتِ امراور ہدایتِ امر کا منصب حاصل ہے اس لئے امام ایسے امور انجام دےسکتے ہیں جو دوسروں کی نگاہوں میں حیرت انگیز اور ناممکن معلوم ہوں۔

قرآن اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ’’سلیمان‘‘ (ع) کے وزیر جناب’’ آصف ابن برخیا‘‘ نے پلک جھپکنے سے پہلے ملکۂ سبا کا تخت ان کے سامنے حاضر کردیا تھا۔ وہ اس بنا پر کہ جناب ’’آصف ابن برخیا‘‘ اس کائنات کے بعض اسرار ورموز اور حقائق کا علم رکھتے تھے اور وہ اس باطنی نظام سے واقف تھے جو اس کائنات پر حکم فرما ہے۔

ہمارے ائمہ علیہم السلام کا درجہ اور علم آصف ابن برخیا سے کہیں زیادہ بلند اور لامحدود ہے۔ اس بات پر وہ بے شمار واقعات گواہ ہیں جو تاریخ اور معتبر روایات کے دامن میں محفوظ ہیں جہاں امامؑ کی باطنی ہدایت اور ولایتِ امرجلوہ گرہے۔

امامؑ خود حیات معنوی اور روحانی زندگی کے اعلیٰ ترین نقطۂ ارتقا پر فائز ہیں اس بنا پر امام میں روحانی کشش پائی جاتی ہے جس سے پاک باطن اور ذی صلاحیت افراد اثر قبول کرتے ہیں۔ روحانی ارتقا کی منزلوں کی طرف قدم بڑھاتے اور اپنے دل ودماغ کو حیات نوسے آشنا کرتے اور معنوی فضیلتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ذیل میں چند افراد کا تذکرہ کریں گے جو امامؑ کی ہدایت معنوی سے بہرہ مند ہوئے ہیں۔ جن کے کردار پر تاریخ فخرومباہات کررہی ہے۔

(۱) مردد مشقی

’’علی ابن خالد‘‘ زیدی تھے(یعنی امام زین العابدین علیہ السلام کے بعد دوسرے اماموں کے معتقد نہیں تھے۔) اور امام محمد تقی علیہ السلام کےہم عصر تھے۔

علی ابن خالد کا بیان ہے کہ :میں عراق کے شہر سامرا میں تھا۔وہاں مجھے یہ خبر ملی کہ دمشق سے ایک شخص کو یہاں لاکر قید کیا گیا ہے جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کررہا ہے۔

میں اس کی ملاقات کو گیا اور اس سے اس کی سرگذشت دریافت کی۔

اس نے کہا: شام میں جس جگہ امام حسین علیہ السلام کا سرِاقدس رکھا گیا تھا وہاں میں عبادت کیا کرتا تھا ایک شب ناگاہ ایک شخص کو اپنے سامنے دیکھا اس نے مجھ سے کہا: اٹھو!

میں لاشعوری طورپر اٹھ کھڑا ہوا اور چند قدم اس کے ساتھ چلا کہ اپنے کو مسجدِ کوفہ میں پایا۔

فرمایا: کیا تم اس مسجد کو جانتے ہو؟

عرض کیا: جی ہاں یہ مسجدِ کوفہ ہے۔

انھوں نے وہاں نماز پڑھی میںنے بھی ان کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس کے بعد ان کے ہمراہ چل دیا ابھی چند قدم ہی گیا تھا کہ اپنے کو مسجدِ مدینہ میں پایا۔

انھوں نے رسول خداؐ پر درود بھیجا۔ ہم دونوں نے وہاں نمازیں پڑھیں۔

وہاں سے باہر نکلے اور چند قدم تھوڑی دیر بعد اپنے کو مکہ میں پایا۔ طواف کیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے اور تھوڑی دیر بعد اپنے کو وہیں دمشق میں پایا جہاں میں عبادت کیا کرتا تھا اس کے بعد وہ شخص میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔

گویا نسیمِ صبح تھی جس کی چند نرم ولطیف لہریں آئیں اور ختم ہوگئیں۔

اس واقعہ کو ایک سال کا عرصہ گذرگیا۔ سال بھر کے بعد پھر اسی شخص کی زیارت نصیب ہوئی پہلی مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی تمام سفر کئے اور اس بزرگ کی ہمراہی میں گذشتہ سفر کی طرح ساری چیزیں انجام دیں اس مرتبہ جب میں اپنی جگہ واپس پہونچا جس وقت وہ شخص جانے لگا میں نے ان سے کہا:

قسم ہے آپ کو اس ذات کی جس نے آپ کو یہ قدرت و توانائی عطا فرمائی ہے! اپنا تعارف کرائیے:

فرمایا: میں محمدا بن علی ابن موسیٰ ابن جعفر (یعنی محمد تقی) ہوں۔

جس سے بھی ملاقات ہوتی تھی میں یہ واقعہ اس سے بیان کردیتا تھا رفتہ رفتہ اس واقعہ کی خبر ’’محمدا بن عبدالملک زیات‘‘ تک پہونچی۔ اس نے میری گرفتاری کا حکم دیا اور یہ مشہور کیا کہ میں پیغمبری کا دعوےدار ہو ں اور اس وقت جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اس کے قید خانہ میں قید وبند کی زندگی گذاررہا ہوں۔

میں نے اس سے کہا: تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ صحیح واقعات سے محمد ابن عبدالملک کو باخبر کروں ہوسکتا ہے اس کو صحیح واقعہ نہ معلوم ہو۔

اس نے کہا: لکھو تمھیں اجازت ہے۔

میں نے پورا واقعہ محمدا بن عبدالملک کو لکھا۔ اس نے میرے جواب میں لکھا کہ:

’’اس سے کہہ دو کہ جو شخص ا سے ایک شب میں شام سے کوفہ ،مدینہ او رمکہ لے گیا اور وہاں سے پھر واپس شام لے آیا اسی سے رہائی طلب کرے۔ وہی اس کو قید خانہ سے نجات دلائے۔

یہ جواب سن کر مجھے بڑی شرمندگی ہوئی اور مایوسی بھی۔

دوسرے دن صبح قید خانہ گیا تاکہ اسے جواب سے باخبر کردوں اور صبرواستقامت کی تلقین کرکے اس کا حوصلہ بڑھاؤں۔

جب میں قید خانہ پہونچا تو دیکھا کہ کافی تعداد میں سپاہی اور دوسرے افراد قید خانہ کے ارد گرد تلاش کررہے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا تلاش کررہے ہو؟

کہنے لگے: وہ قیدی جو پیغمبری کا دعویٰ کررہا تھا وہ قید خانہ میں نہیں ہے، نہیں معلوم کہاں گیا زمین نگل گئی کہ آسمان اٹھالے گیا!

علی ابن خالد کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد میں زیدی مذہب سے دست بردار ہوگیا۔ اور محمد تقی علیہ السلام کی امامت کا قائل ہوگیا اور ان کے شیعوں میں شامل ہوگیا۔

(ارشاد مفید ص۳۰۴۔۳۰۵۔)

میثم تمار

قافلۂ تقویٰ اور پرہیزگار ی کے قافلہ سالار ،نیکوکاروں کے امام، پا ک طینتوں کے رہنما حضرت علی ا بن ابی طالب علیہ السلام نے جناب میثم کو خریدا اور آزاد کردیا۔ ان سے دریافت کیا کہ :تمھارا نام کیا ہے؟

سالم

میں نے پیغمبر اسلامؐ کی زبانی سنا ہے کہ تمھارا اصلی نام ’’میثم‘‘ ہے۔

آنحضرتؐ نے سچ فرمایا اور آپ نے بھی صحیح فرمایا میرا اصلی نام ’’میثم‘‘ ہے۔

جو نام پیغمبر اسلامؐ نے بیان فرمایا ہے اسی کو اختیار کرو اور دوسرے ناموں کو ترک کردو۔

اس طرح حضرت علی علیہ السلام نے ایک غلام کو خریدکر آزاد کردیا لیکن اپنی شفقت اور محبت سے اس کو ہمیشہ کے لئے اپنا گرویدہ کرلیا اور وہ رشتہ استوار کیا کہ موت بھی اسے منقطع نہ کرسکی، دنیا بھر کی سازشیں ان دونوں میں جدائی نہ ڈال سکیں۔

میثم وہ بندۂ آزاد تھے جن میں صلاحیتیںکوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی تربیت میں رفتہ رفتہ پوشیدہ صلاحیتیں ظاہر ہوتی رہیں۔ مولا کی تعلیم نے اس کو گوہرِ آب دار بنادیا یہاں تک کہ میثم حضرت علی علیہ السلام کے خاص الخاص اصحاب میں شمار ہونے لگے۔

اسرارورموز سے واقف ہوئے اور حقائق کا علم حاصل کیا۔ مولائے کائنات پر دل  وجان سے عاشق ہوئے جیسے خشک گھاس اور ابرباراں ، وہ علی علیہ السلام کی تعلیمات سے دل و دماغ منور کرتے اور انھیں میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ چشم و ابرو کے اشاروں پر زندگی بسر کرتے، ان کو دیکھ کر اپنے وجود میں روشنیاں جمع کرتے یہاں تک کہ خود نور ہوگئے۔ اور اس سے ان کو وہ لذت حاصل ہوتی تھی جس کے مقابلے میں ساری دنیا کی نعمتیں ہیچ تھیں۔

ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے ان سے فرمایا:

میرے بعد تمھیں سولی دی جائے گی!تمھارے جسم کو اسلحہ سے زخمی کیا جائے گا! تیسرے دن تمھاری ڈاڑھی تمھاری ناک اور دہن کے خون سے رنگین ہوگی! تمھیں عمرو ابن حریث کے گھر کے پہلو میں دارپر چڑھا یا جائے گا!تمھارے ساتھ ۹ آدمیوں کو سولی دی جائے گی۔ تمھارے دار کی لکڑی سب سے چھوٹی ہوگی۔ آؤ چلو! اس درخت خرمہ کی طرف چلیں جس کی شاخ پر تم لٹکائے جاؤ گے۔

حضرت علی علیہ السلام نے وہ درخت میثم کو دکھلادیا۔ اس واقعہ کو ایک مدت گذر گئی۔

یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام شہید کردئے گئے۔

بنی امیہ عوام پر باقاعدہ مسلط ہوگئے۔

میثم برابر اس درخت کے پاس جاتے تھے۔ وہاں نماز پڑھتے تھے اور اس درخت سے باتیں کرتے تھے۔

اے درخت! خدا تجھے برکت دے! میں تیرے لئے پیدا کیا گیا ہوں اور تو میرے لئےنشوو نما کررہا ہے۔

جس سال جناب میثم شہید ہونے والے تھے اس سال وہ مکہ تشریف لے گئے خانۂ کعبہ کی زیارت کا شرف حاصل کیا اور جناب ’’ام سلمہ‘‘ سے ملاقات کی۔

جناب ’’ام سلمہ‘‘نے ان سے فرمایا: میں نے پیغمبرؐ سے تمھارا نام بارہاسنا ہے وہ حضرت علی ؑسے تمھارے بارے میں برابر تاکید فرمایا کرتے تھے۔

میثم نے ان سے امام حسین علیہ السلام کے بارے میںدریافت کیا۔ معلوم ہوا امامؑ شہر سے باہر تشریف لے گئے ہیں، کہا: امامؑ کی خدمت میں میراسلام پہونچا دیجئے گا اور کہہ دیجئے گا کہ عنقریب ہم اور آپ دوسری دنیا میں خدا کے حضور میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔

جناب ام سلمہ نے عطر منگوایا کہ میثم کی ڈاڑھی کو معطر کیا جائے اس کے بعد فرمایا کہ بہت جلد (محمد وآل محمدؑ کی دوستی کی بنا پر) تمھاری ڈاڑھی تمھارے خون سے رنگین کی جائے گی۔

میثم کو فہ پہونچے ابن زیاد کے سپاہی انھیں گرفتار کرکے ابن زیاد کےپاس لے گئے۔ وہاں یہ گفتگو ہوئی:

ثتمھارا خدا کہاں ہے؟

ثمیرا خدا ستم گاروں کی تاک میں ہےتو بھی ان میں سے ایک ہے۔

ثتمھارے مولا علیؑ نے تمھارے اور میرے بارے میں کیا کہا ہے؟

ثفرمایا ہے کہ: تم مجھے ۹ آدمیوں کے ساتھ سولی دوگے اور میرے دار کی لکڑی سب سے چھوٹی ہوگی۔

ث میں تمھارے مولا کی باتوں کی مخالفت کرنا چاہتا ہوںکہ میں تمہیں ایک دوسرے طریقے سے قتل کروں گا ۔

 ثتم یہ کام کیوں کر کرسکتے ہو؟! میرے مولا نے یہ بات پیغمبرؐ سے سنی اور پیغمبر ؐکو جبرئیل نے خبر دی ہے کیا تم خدا کی مخالفت کرو گے ؟ میںاپنی شہادت کی جگہ کو بھی جانتا ہوں اور میں وہ پہلا مسلمان ہوں جس کے منہ میں لگام لگائی جائے گی ۔

 یہ سن کر عبیداللہ ابن زیاد غصے سے بھر گیا اور اس نے حکم دیا کہ اس وقت میثم کو قید کردیا جائے ۔اسی قیدخانہ میں میثم کی ملاقات مختار ثقفی سے ہوئی اور انہیں آزادی کی بشارت دی اور کہا :

 تم حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے خون کے انتقام میں ابن زیاد کو قتل کرو گے..... اور ایسا ہی ہوا۔

 جناب میثم کو قربان گاہ کی طرف لے گئے ....منزل پرواز روح جہاں سے اعلیٰ ترین اور بلند ترین روحانی ارتقاء کی منزلیں طے ہوتی ہیں جہاں انسان مادی قیود سے آزاد ہو جاتا ہے اورملکوت ارضی وسماوی میں پرواز کرتا ہے۔میثم کو’’ عمرو ابن حریث‘‘ کے پہلو میں اسی درخت کی لکڑی پر سولی دی گئی جس کو وہ بہت پہلے سے پہچانتے تھے ۔عوام ان کے گرد جمع ہو گئے۔ دار کی بلندی کو منبر قرار دے کر حضرت علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنا شروع کیے لوگوں کی نگاہوں سے پردے ہٹائے، علی علیہ السلام کے فضائل سے دل منور کیے ان کو نئی روشنی عطا کی۔

 ابن زیاد کو خبر دی گئی کہ میثم نے تمہیں ذلیل و رسوا کر دیا۔

 اس نے حکم دیا کہ ان کے منھ میں لگام لگاؤ تاکہ کچھ کہہ نہ سکیں...... اسلحہ سے ان کو زخمی کیا گیا، بالکل اسی طرح جس طرح حضرت علی علیہ السلام خبر دے گئے تھے ......

میثم’’ اللہ اکبر‘‘ کہہ رہے تھے۔ تیسرے دن کے آخری لمحات میںمیثم کی ناک اوردہن سے خون جاری ہوا جس سے ان کی ڈاڑھی رنگین ہوگئی اورمیثم دار پر پھول کی طرح کھل گئے.........

 خدا کی بےپناہ رحمتیں اور سلام ہو جناب میثم پر۔

(ارشاد مفید ص ۱۵۲۔۱۵۴۔)

 اویس قرنی

 پیغمبر اسلام ؐنے ارشاد فرمایا کہ:

’’قرن‘‘ کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ اے اویس قرنی! میں تمہاری ملاقات کا بہت زیادہ مشتاق ہوں جو بھی ان سے ملاقات کرے میرا سلام ان تک پہنچا دے۔‘‘

(سفینۃ البحار ج۱ ص۵۳۔)

 جس وقت لوگوں نے’’ ذی قار‘‘ کے مقام پر حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی اس وقت آپ نے فرمایا کہ کوفہ سے ایک ہزار(نہ ایک کم نہ ایک زیادہ) سپاہی آئیں گے اور میری بیعت کریں گے.......

 جب وہ آ گئے

 ابن عباس نے سپاہیوں کو شمار کیا وہ۹۹۹ تھے۔انہیںبہت زیادہ تعجب ہوا کہ ایک کم کیوں ہے؟

 کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص اونی لباس پہنے تلواروسپر اور سارے جنگی سامان لئے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا:

 میں زندگی کے آخری لمحات اور جاںنثاری کی آخری حد تک آپ کے ہاتھوں پر بیعت کرنا چاہتا ہوں۔

 حضرت علی علیہ السلام نےدریافت فرمایا: تمہارا کیا نام ہے؟

ث اویس

ث تم وہی اویس قرنی ہو ؟

ثجی ہاں!

ث ’’اللہ اکبر‘‘۔ میرے آقا پیغمبر خداؐ نے مجھے خبر دی تھی کہ میں ان کے ایک پیروکار کو دیکھوں گا جس کا نام اویس قرنی ہوگاجو خدا اور رسول کے گروہ میں ہوگا اسے شہادت نصیب ہوگی اور بے شمار افراد کی شفاعت کرے گا۔

(ارشاد مفید ص۱۴۹۔)

 چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

(اسدالغابہ ج۱ ص۱۵۲۔)

 جناب اویس معنویت اورروحانیت کی بلند منزلوں پر فائز تھے عبادت سے خاص لذت ملتی تھی دنیاوی چیزوں کی طرف کوئی توجہ نہ تھی۔

(اعیان الشیعہ ج۱۳ ص۸۱ ۔۹۳طبع دوم۔)

 جناب اویس کی روحانی بلندیاں ان کے کلمات سے ظاہر ہیں۔ فرماتے تھے:

ث خدا کی قسم! موت کا تصور اور آخرت کا خوف صاحب ایمان کو دنیا میں شادمانی کا موقع عطا نہیں کرتا۔

 امر بہ معروف اور نہی از منکر کے سلسلے میں ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔ تہمت لگاتے ہیں ان تمام باتوں کے باوجود ہم صرف خدا کے لئے کام کرتے ہیں۔

(سفینۃ البحار ج۱ ص۵۳۔)

۴ قنبر

 جناب قنبر بھی ان آزاد لوگوں میں شامل ہیں جن پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور علی علیہ السلام کے کردار کی شعاعیں پڑیں اورذرّہ آفتاب بن کر چمکنے لگا ۔

راہ راست پر چلنے اور حق بات کہنے سے انہیں کوئی خوف و ہراس نہ تھا۔ دنیا والوں کی نظر میں وہ صرف ایک غلام تھے لیکن معنویت کے اس بلند درجے پر فائز تھے کہ حضرت علی علیہ السلام کے رازداں ہو گئے۔

 حجاج ابن یوسف (تاریخی ستم گری کا خون آشام حکمراں) سے گفتگو کرتے وقت جناب قنبر نے جو حقائق میں ڈوبے کلمات ادا کیے ہیں وہ آج بھی تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔

حجاج نے پوچھا :

ثتم علی کی خدمت میں کیا کرتے تھے ؟

ثمیں ان کے لئے وضو کا پانی لاتا تھا۔

ث وضو کرنے کے بعد وہ کیا کہتے تھے ؟

ثاس آیت کی تلاوت کرتے تھے کہ:

 فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۔۔۔

(سورۂ انعام آیت۴۴۔۴۵۔)

 جب انہوں نے ہماری یاد آور یوں کو بھلا دیا ہم نے تمام دروازے ان کے لیے کھول دیے تاکہ وہ ہماری چیزوں سے لطف اندوز ہونے لگیں (اس وقت) ہم انہیں یکبارگی گرفتار کرلیں گے، سر جھکائے ہوئے مایوس و ناامید ان کے پاس کوئی دلیل و عذر نہ ہو گا جن لوگوں نے ظلم و ستم کیا ہے ان کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا۔وَ الْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ........

ثمیرا خیال یہ ہے کہ وہ اس آیت کی تاویل ہمارے اوپر کرتے تھے۔قنبر نے شجاعت و شہامت کے ساتھ کہا:

- ہاںیقیناً۔

ثاگر تمہیں قتل کروں تو کیا کرو گے؟

- میں سعادت مند ہو جاؤں گا اور تم سخت نقصان اٹھاؤ گے۔

(بحار ج۴۲ ص۱۳۵۔۱۳۶۔)

- اپنے مولا علی علیہ السلام سے بیزاری کا اعلان کرو۔

- اگر میں ان کے دین سے بیزار ہو جاؤں تو کیا تم ان کے دین سے بہتر اور دین بتا سکتے ہو؟

(حجاج نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور کہا:)

 میں تمہارا قاتل ہوں جس طرح کہو اس طرح تمہیں قتل کروں؟

- اس سلسلے میں تمہیں اختیار دیتا ہوں۔

- کیوں؟

ث  اس لئے کہ جس طرح تم یہاں مجھے قتل کرو گے اسی طرح آخرت میں میں تمہیں قتل کروں گا۔

 میرے مولا حضرت علی علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ناحق قتل کیا جائے گا۔

چنانچہ حجاج نے حکم دیا..... اور جناب قنبر کا سرقلم کردیا گیا۔

(ارشاد مفید ص۱۵۵)