اصول دین
مینو
پیچھے
اگلا
انڈیکس۔
کوئز
سبق - ٢٦

حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام

جانشین پیغمبر

الغدیر اور علامہ امینی: غدیر کے موضوع پر عالمی کتاب’’ الغدیر‘‘ جو حضرت علامہ مجاہد شیخ عبدالحسین امینی علیہ الرحمہ کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب علامہ امینی کی ساری زندگی کی تلاش و جستجو کا ماحصل ہے یہ کتاب عربی میں ہے اور ابھی تک گیارہ جلدیں چھپ چکی ہیں۔ کتاب کی سلاست آب ِسبیل کی طرح اور مطالب کا استحکام پہاڑوں کی طرح علمائے اہل سنت کے بقول اس کتاب نے تشیع کی حقانیت ثابت کردی اور تعصب کی وہ خلیج پاٹ دی جو ان دونوں فرقوں کے درمیان تھی۔ علامہ امینی پر ہمیشہ اللہ کی بے شمار نعمتیں نازل ہوں۔ اس سبق میں الغدیر سے کافی استفادہ کیا گیا ہے ۔

 شیعہ اثناعشری کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد امت اسلامیہ کی قیادت اور رہبری علی علیہ السلام اور ان کے بعد‘ ان کے گیارہ معصوم فرزندوں کا حق ہے اور اس عقیدے کی صحت پر آفتاب کی طرح ایسی روشن اور واضح دلیلیں موجود ہیں کہ ہر انصاف پسند کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

 جناب جابر ابن عبداللہ انصاری رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خاص اصحاب میں ہیں آپ فرماتے ہیں کہ: جس دن آیت اطاعت خدا، رسول اوراولی الامر نازل ہوئی،(اطیعو االلہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔ سورۃ نساء آیت ۵۹۔) رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ خدا اور اس کے رسول کو پہچانتا ہوں لیکن اولی الامر سے کون افراد مراد ہیں؟

فرمایا :وہ سب امام ہیں اور میرے جانشین ہیں۔ سب سے پہلے حضرت ابو طالبؑ کے فرزند علیؑ ہیں اس کے بعد حسن، حسین، علی ابن الحسین، محمد ابن علی توریت میں ان کا نام باقر مرقوم ہے اور اے جابر!تم ان سے ملاقات کرو گے اس وقت ان کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دینا اور ان کے بعد جعفر ابن محمد الصادق، موسیٰ ابن جعفر، علی ابن موسیٰ، محمد ابن علی، علی ا بن محمد، حسن ابن علی اور آخر میں حسن ابن علی کے فرزند ہوں گے جن کا نام میرا نام جن کی کنیت(عربی زبان میں وہ نام جس میں پہلے ’’اب‘‘ یا ’’ام‘‘ لگاہو ا س کو کنیت کہتے ہیں۔) میری کنیت ہوگی

پیغمبر اسلامؐ کا نام ’’محمد‘‘ اور کنیت ’’ابوالقاسم‘‘ ہے۔ منتخب الاثر ص۱۰۱ نقل از کفایۃ الاثر‘‘ مولف نے پیغمبر اسلامؐ سے اس طرح کی ۵۰ حدیثیں نقل کی ہیں جس میں بارہ اماموں کے نام بتائے گئے ہیں۔

 

 پہلے امام

 کوئی بھی سماج کسی بھی وقت ایک رہبر کی قیادت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ ہر وقت اور ہر جگہ معاشرہ کو رہنما کی ضرورت ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر سب ہی متفق ہیں اس حقیقت کو بنیادبناتےہوئےبات کو آگےبڑھاتےہیں۔

اگررہنماکو معاشرہ کا درد ہے اور وہ معاشرے کی بقا کا خواہاں ہے تو معاشرے کی حفاظت اس کا فریضہ ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اور اپنے علم، قدرت اور دوراندیشی کے سہارے معاشرے کے حال اور مستقبل بعید کی بھی فکر کرے، سماج کی فلاح و بہبودی اور کامیابی و سعادت کے لیے جامع منصوبہ پیش کرے۔

 یہی وجہ ہے کہ جب کوئی رہنما یا حکمراں مسافرت کرتا ہے تو چند دن کی عدم موجودگی کے لیے بھی اپنا نائب معین کرتا ہے۔

 خاندان کا بزرگ، مدرسہ کا پرنسپل، کارخانہ کا مالک اپنی مختصر سی غیبت میں اپنا جانشین معین کرتا ہے اور اپنی عدم موجودگی کے زمانے میں اپنے جانشین کی اطاعت اور فرماں برداری کا دوسروں کو حکم دیتا ہے۔ یہ بات اس قدر واضح ہے کہ اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

 دُوراندیش اورمہربان پیغمبرؐ

 پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اسلامی سماج کے رہنما اورقائدتھے ۔ان کی بھی روش یہی تھی۔ جو لوگ اسلام قبول فرماتے تھے ان کی تعداد کتنی مختصر کیوں نہ ہو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے لیے ایک رہنما ضرور معین فرماتے تھے اسی کے ذریعے احکام نافذ ہوتے تھے۔

 لشکر کو جہاد کے لئے روانہ کرتے وقت سردار معین فرماتے تھے اور کبھی کئی سردار معین فرماتے تاکہ اگر ایک شہید ہوجائے تو لشکر بغیر سردارکے نہ رہے اور دوسرا اس کی جگہ لے لے۔

 ہمارے سامنے ایسے نام بھی ہیں کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو انہیں مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کرتے تھے تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدم موجودگی میں مدینہ بغیر رہنما کے نہ رہے۔

(وہ کتابیں جو تاریخ اسلام پر لکھی گئی ہیں جیسے سیرت ابن ہشام وغیرہ ان کی طرف رجوع کیا جائے۔)

 شیعوں کا کہنا ہے کہ اس عقلی دلیل کی روشنی میں یہ بات کیوں کر ممکن ہے کہ پیغمبر اکرمؐ دنیا سے رحلت فرمائیں اور اپنا کوئی جانشین معین نہ فرمائیں؟

ث مندرجہ ذیل باتوں میں عقل کس کی تائید کرتی ہے؟

ث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد اسلامی سماج کو رہنما کی ضرورت نہ تھی ؟یا:

ث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے انتقال کے بعد اسلامی معاشرے کی اہمیت کے قائل نہ تھے ؟یا:

ثمعاشرے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلچسپی ختم ہوگئی تھی ۔یا: کسی کو جانشینی کے لائق نہیں پاتے تھے؟

  ان باتوں میں کون سی بات صحیح ہے؟ اورکون عقل کی کسوٹی پر پوری اترتی ہے؟

 پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں امت کا جو درد تھا۔ امت کے مسائل میں کس طرح ان کے شریک حال رہتے تھے اور ان کی مشکلات کے حل میں کتنا زیادہ کوشاں رہتے تھے۔ جگہ جگہ رہنما اور سردار معین فرماتے تھے۔ ایسی صورت میں کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اتنے عظیم مسئلہ کو نظر انداز فرمایا۔

 ان حقائق کو مدّنظر رکھتے ہوئے شیعوں نے تاریخِ اسلام کے ابتدائی مآخذ کی چھان بین شروع کی۔ اس جستجو میں ایسی بے پناہ چیزیں دریافت ہوئیں جن سے واضح ہو گیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانشینی کے سلسلے میں کتنے روشن نقوش اور احکام صادر فرمائے ہیں۔

جیسے۔ آیت ولایت، حدیث غدیر، حدیث سفینہ، حدیث ثقلین، حدیث حق، حدیث منزلت، حدیث دعوت ذوالعشیرہ اور بہت ساری چیزیں جو معتبر کتابوں میں تفصیل و تحقیق کے ساتھ موجود ہیں۔ آپ کی انصاف پسندی پر بھروسہ کرتے ہوئے صرف حدیث غدیر کا ذکر کرتے ہیں ۔

حدیث غدیر

 سن۱۰ ہجری میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کی نیت سے مکہ کا سفر کیا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حج اپنی زندگی کے آخری ایام میں انجام دیا اسی لئے تاریخ میں اس حج کو حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج کہا جاتا ہے۔

 عاشقانِ نبوت و رسالت جو اس تاریخی سفر میں پیغمبر کےہم سفر تھے اور اعمالِ حج کی جزئیات معلوم کرنا چاہتے تھے مورخین نے ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی ہے اور کافی لوگ مکہ میں آپ سے ملحق ہوئے۔

 فریضۂ حج کی ادائیگی کے بعد جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے۔ ذی الحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو’’ غدیر خم‘‘ میں یہ آیت نازل ہوئی:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ۔(سورۂ مائدہ آیت۶۷)

 اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !وہ بات پہنچا دیجئے جو آپ کے پروردگار نے آپ پر نازل فرمائی ہے اگر نہیں پہنچایا تو اس کی رسالت کو انجام نہیں دیا۔ خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

 معلوم ہو رہا ہے کہ ایک عظیم اور اہم پیغام کو پہنچانے کی ذمہ داری خدا کی طرف سے پیغمبرؐ پر عائد کی گئی ہے۔

لوگ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کر رہے ہیں۔

 خدا نے حکم دیا ہے........

 سب خدا کے حکم کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

اسی درمیان پیغمبرؐ حکم دیتے ہیں کہ یہیں سفر روک دیا جائے اور آنے والوں کا انتظارکیاجائے چنانچہ حکم کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔ کاروان ٹھہرتا ہے۔ لوگ حکم سننے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور غدیر خم کا طویل وعریض ،بے آب و گیاہ جلتا اورجھلستا ہوا میدان ہے۔

 دوپہر کا وقت ہے اور آفتاب پوری طاقت سے گرمی برسا رہا ہے۔

 آخر وہ کون سا پیغام ہے جس کے لیے ایسے ہنگامی وقت میں لوگوں کو روکے رکھا ہے تمازتِ آفتاب سے لوگ جھلسے جا رہے ہیں۔

 اتنے میں اذان کی آواز سنائی دی۔ پیغمبر کی امامت میں نماز، جماعت سے ادا کی گئی اونٹوں کے کوہان سے ایک بلند جگہ بنائی گئی۔ پیغمبر اکرمؐ وہاں تشریف لے گئے لوگ دم بخود(بالکل خاموش) پیغمبر اکرمؐ پر نظر جمائے ہوئے تھے، سینوں میں سانس رکی ہوئی تھی، صحرا کے ذرّوں کی طرح لوگ خاموش کھڑے تھے پیغمبر ؐکی آواز پر کان دھرے تھے ۔

پیغمبر اکرمؐ کی زبان مبارک پر جو الفاظ جاری تھے ان میں دل نواز چشمے کی روانی بھی تھی خنکی کے ساتھ ساتھ مٹھاس بھی سننے والے ان الفاظ سے اپنے جگر کی پیاس بجھا رہے تھے۔ خدا کی حمد و ثنا کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:

- ہم اور تم دونوں ہی ذمہ دار ہیں(پیغمبر ؐکی ذمہ داری پیغام پہونچانا ہے اور اس پر عمل کرنا لوگوں کی ذمہ داری ہے۔)تم کیا کہتے ہو؟

- ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپؐ نے خدا کا پیغام ہم تک پہنچایا اور اس راہ میں بےشمار زحمتیں برداشت کیں۔ خدا آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ۔

- کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت اور اس کے بندے محمدؐ کی رسالت کے گواہ نہیں ہو؟

- جنت، دوزخ، موت، حشر اور قیامت کے معتقد نہیں ہو؟

- ہم ان سب باتوں کا اقرار کرتے ہیں اور ان کی حقانیت کی گواہی دیتے ہیں۔

- خدایا گواہ رہنا! اس کے بعد لوگوں کی طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا:

- لوگو! ہم ایک دوسرے سے کوثر کے کنارے ملاقات کریں گے دیکھنا ہے کہ میرے بعد تم لوگ دو’’ گراں بہا‘‘ چیزوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو!

- اے رسول خداؐ! دو’’ گراں بہا‘‘ چیزیں کیا ہیں؟

- خدا کی کتاب اور میرے اہل بیت۔ مجھے خدا نے یہ خبر دی ہے کہ دونوں اس وقت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے جب تک کوثر پر مجھ سے ملاقات نہ کرلیں۔ دیکھو کبھی اس پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور اگر اس سے الگ رہو گے تب بھی ہلاک ہو جاؤ گے۔

 اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو ہاتھوں پر بلند کرتے ہیں تاکہ تمام لوگ انہیں دیکھ لیں اور پہچان لیں اس کے بعد اپنی جانشینی کا آسمانی پیغام اس طرح سناتے ہیں کہ:

اَیُّھَا النَّاسْ مَنْ اَوْلَی النَّاسَ بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ۔

 لوگو! مومنین سے کس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان کا سرپرست، ولی اور حاکم ہو اور سب سے زیادہ حق رکھنے والا ہو؟

- خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔

- خدا کو مجھ پر ولایت حاصل ہے اور مجھے مومنوں پر خود ان سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔

 لہٰذا:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہٗ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہٗ۔

 جس کا’’ میں‘‘ ولی اور سرپرست ہوں اس کے یہ’’ علی‘‘ بھی ولی و سرپرست ہیں۔

 میرے پروردگارا____ ان کے دوستوں کو دوست رکھ، اور ان کے دشمنوں کو دشمن، جو ان کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو ان سے برسرپیکار ہو تو بھی اس سے جنگ کر۔

 جو لوگ اس وقت یہاں موجود ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ دوسروں تک اس پیغام کو پہنچا دیں ابھی لوگ منتشر نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَامَ دِينًا 

 آج کے دن تمہارے دین کو کامل اور تم پر نعمتیں تمام کردیں اورمیںراضی و خوشنود ہوں کہ تمہارا دین اسلام ہو۔ اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے تکبیرکہی:

’’اَللہُ اَکْبَرْ‘‘

 خدا کا دین کا مل ہو گیا، خدا میری رسالت اور میرے بعد علیؑ کی امامت سے راضی و خوشنود ہو گیا۔

 اس کے بعد لوگوں نے علی علیہ السلام کی خدمت میں مبارک باد پیش کی ۔مبارک باد پیش کرنے والوں میں جو لوگ پیش پیش تھے وہ تھے ابو بکر اور عمر جو یہ کہہ رہے تھے :بَخٍّ بَخٍّ لَکَ یَا عَلِی اَصْبَحْتَ مَوْلَایَ وَ مَوْلٰی کُلِّ مُوْمِنٍ وَ مُوْمِنَۃٍ۔مبارک ہو مبارک ہو اے علی ! آپ میرے بھی مولا ہوگئے اور ہر مومن ومومنہ کے بھی مولا ہو گئے۔

(الغدیر ج۱ ص۹۔۱۱۔)

 حدیث غدیر کی سند

 یہ حدیث راویوں کے تسلسل کے لحاظ سے اس درجہ مستحکم ہے کہ اس طرح کی کم حدیثیں ملتی ہیں۔

۱۱۰؍ وہ اصحاب ہیں جو غدیر خم میں موجود تھے انہوں نے بغیر کسی واسطے کے یہ حدیث پیغمبر اکرمؐ سے روایت کی ہے(الغدیر ج۱ص۱۴۔۶۱) اور ۸۴ تابعین نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔

(الغدیر ج۱ ص۶۲۔۷۲ تابعین وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود پیغمبر اکرمؐ کو نہیں دیکھا بلکہ آنحضرت ؐ کے صحابہ کو دیکھا۔)

 انصاف پسند اہل سنت دانشور اور علماء نےخواہ وہ مورخ ہوں یا مفسرقرآن...  سب نے اپنی اپنی کتابوں میں واقعۂ غدیر کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ الغدیر میں اس طرح کے۳۵۰  علماء کا ذکر موجودہے۔

 متعدد علماء نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ علامہ امینی نے ’’الغدیر‘‘ میں اس طرح کے۲۶ علمائے اہل سنت کا ذکر کیا ہے اور ان کتابوں کی خصوصیات بھی ذکر کی ہیں۔

لغت لکھنے والوں نے بھی لفظ ’’الغدیر‘‘ کے تحت واقعۂ غدیر لکھا ہے۔

 اس طرح حدیث غدیر کی سند کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ہاں وہ لوگ ضرور انکار کرسکتے ہیں جو دن دوپہر سورج کے منکر ہو جائیں ۔

حدیث غدیر کا مفہوم

 خود حدیث غدیر اور اس کے اطراف میں ایسے روشن شواہد موجود ہیں جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین وخلیفہ معین کر رہے تھے ۔ذیل کی سطروں میں بعض شواہد ذکر کرتے ہیں۔

(۱) اس حدیث میں جو’’ مولیٰ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ خود بہترین دلیل ہے۔

 مولیٰ وہ شخص جسے ولایت،امامت،سرداری، حکمرانی، فرمان روائی اور جسے ہر ایک پر بالادستی ہو۔ کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لیے بھی یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہٗ....... خود پیغمبر اکرمؐ نے اپنے مولیٰ ہونے کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ:

اَیُّہَا النَّاسَ مَنْ اَوْلیٰ النَّاسَ بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ۔

لوگو! کس کو سب پر بالادستی اور سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں؟

 پیغمبراکرمؐ کی اولویت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ  کے حکم کوہر ایک حکم پر اور پیغمبرؐ کی مرضی کو ہر ایک کی مرضی پر فوقیت حاصل ہے۔پیغمبرؐ کا حکم واجب العمل ہے اور اس کی  اطاعت ضروری ہے۔ پہلے جملے میں پیغمبرؐ کی جو اولویت واضح کی گئی ہے اسی اولویت کی طرف دوسرے جملے میں اشارہ کیا گیا ہے تاکہ دونوں جملوں کا آپس میں ربط برقرار رہے اور کلامِ پیغمبرؐ بے ربط نہ ہونے پائے۔

 اس جملے سے جو مفہوم ذہن میں آتا ہے وہ اس طرح ہے کہ پیغمبرؐ نے فرمایا:

 کیا مجھے تمہاری بہ نسبت خود تم پر زیادہ اختیارات حاصل نہیں ہیں؟ سب نے کہا: یقیناً آپ کو ہم پر سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔‘‘ اس وقت پیغمبر اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: جو اختیارات مجھے تم پر حاصل ہیں وہی تمام اختیارات میرے بعد علیؑ کو حاصل ہیں۔ علیؑ تمام مسلمانوں کے مولیٰ اور میرے جانشین ہیں۔

 اس حدیث میں اس کے علاوہ مولیٰ کا کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا گیا ہے بقیہ دوسرے تمام معانی بے ربط ہیں...... اس چلچلاتی دوپہر میں پیغمبرﷺکا قافلہ کو روکنا اور اس دھوپ میں وہاں ٹھہرنا اس واقعہ کی عظمت اور تاریخی حیثیت کو واضح کر رہا ہے۔ اگر بات اتنی زیادہ اہم نہ ہوتی تو ہرگز پیغمبرﷺ لوگوں کو اس طرح نہ روکتے۔ اور یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ پیغمبرؐ اتنے بڑے قافلہ کو ایسی جگہ صرف یہ بتانے کے لئے روکیں کہ’’ علیؑ‘‘ میرے دوست ہیں۔‘‘

 (۲)پیغمبر اسلامؐ نے اس کے بعد یہ جملہ ارشاد فرمایا:’’ خدایا! جو علیؑ کی مدد کرے تو بھی اس کی نصرت فرمااور جو علیؑ کی مدد نہ کرے اسے اپنی رحمت سے محروم رکھ۔‘‘

 پیغمبرﷺکو معلوم تھا کہ ان کے بعد اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت کے لئے ضروری ہے کہ علیؑ کے ہاتھ مضبوط ہوں۔ علیؑ کے پاس قدرت ہو، طاقت ہو لوگ ان کے ساتھ رہیں تاکہ اسلام پھیل سکے اور اسلامی حکومت کو استحکام حاصل ہو۔ حکومت کے استحکام کے لئے جہاں عادل رہنما کی ضرورت ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ لوگ مکمل اس کی اطاعت کریں اس کے حکم کی نافرمانی نہ کریں اور پیغمبرؐ کے جانشین کی ہر بات کو اپنی تمام باتوں پر ترجیح دیں۔ اسی لیے پیغمبرؐ نے علیؑ کے دوستوں کے حق میں دعا اور ان کے دشمنوں کے لئے بددعا کی تا کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ علیؑ کی مخالفت خدا کے غضب اور پیغمبرؐ کی لعنت کا سبب ہے ۔

(۳)پیغمبر اسلامؐ نے خطبہ کی ابتدا میں ارشاد فرمایا ہے کہ:

کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت اور اس کے بندے محمدؐ کی رسالت کی گواہی نہیں دیتے ہو؟ سب نے کہا: بے شک ہم تصدیق کرتے ہیں اس کے بعد آنحضرت ؐنے فرمایا: تمہارا ولی اور حاکم کون ہے؟ اس کے بعد ارشاد فرمایا: جس کا میں ولی اور حاکم ہوں علیؑ بھی اس کے ولی اور حاکم ہیں۔

 خدا کی وحدانیت اور پیغمبر ؐکی رسالت کے بعد علی علیہ السلام کی ولایت کا تذکرہ اس بات کی دلیل ہے کہ ولایت سے حضرت علیؑ کی امامت مراد ہے۔ اگر امت کے علاوہ ولایت کا کوئی اور مفہوم لیا جائے تو جملوں میں ربط باقی نہیں رہے گا۔ سب جانتے ہیں کہ پیغمبرؐ سب سے زیادہ فصیح و بلیغ تھے اس لئے یہ بات بالکل نامناسب ہے کہ پیغمبرؐ ایسے جملے ارشاد فرمائیں جس میں آپس میں کوئی ربط نہ ہو ۔

(۴)پیغمبر اسلامؐ کے اعلان کے بعد لوگ حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں مبارک باد پیش کر رہے تھے ۔یہ مبارک باد تہنیت اس وقت صحیح ہوگی جب یہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت علی علیہ السلام کو خدا اور رسولؑ کی طرف سے ایک بلند اور عظیم منصب ملا تھا ورنہ معمولی سی بات کے لئے اس طرح کی مبارک باد دی کچھ بھلی نہیں معلوم ہوتیں۔

(۵) يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔

 اے پیغمبرؐ! پہنچا دیجئے اس چیز کو جسے آپ کے رب نے آپ پر نازل کیا ہے اور اگر آپ نے نہیں پہنچایا تو آپ نے اس کی رسالت کو انجام نہیں دیا اور اللہ آپ کو لوگوں کے( شر) سے محفوظ رکھے گا۔

 اہل سنت کے علماء گواہ ہیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کے سلسلہ میں غدیر کے دن نازل ہوئی ہے۔

(علامہ امینی نے ’’الغدیر‘‘ میں علمائے اہل سنت کے ۳۰ ایسے علماء کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علیؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔)

 نمونے کے لئے اسلام کے عظیم مورخ اور مفسر اور اہل سنت کے بلند پایہ عالم ’’حافظ ابو جعفر محمد ابن جریر طبری‘‘ کا بیان نقل کرتے ہیں ۔

’’......جب غدیر خم میں یہ آیت نازل ہوئی پیغمبرؐ نے ارشاد فرمایا کہ: خدا کی طرف سے جبرئیل پیغام لائے ہیں کہ میں یہیں ٹھہروں اور ہر سیاہ فام اور سفید فام کو یہ بتادوں کہ ابوطالب کے فرزند علی علیہ السلام میرے بھائی، میرے جانشین اور میرے بعد اس امت کے امام ہوں گے ۔‘‘

(الغدیر ج۱ص۲۱۴ نقل از کتاب الولایۃ طبری۔)

(۶)وہ اشعار وقصائد جو اس وقت سے آج تک غدیر اور حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کے موضوع پر لکھے گئے ہیں۔ ان اشعار وقصائد کی جو ادبی اہمیت ہے وہ ایک مستقل حیثیت ہے اس کے علاوہ یہ اشعار ہمارے موضوع پر بھرپور دلیل ہیں کیونکہ ان شعراء نے خطبۂ غدیر کوولایت اورجانشینی سمجھ کر اس کی توضیح وتفسیر کی ہے۔

یہ اشعار اور ان شعراء کے تذکرے تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔ وہ افراد جو عربی ادب سے واقفیت رکھتے ہیں وہ’’ الغدیر‘‘ کا مطالعہ کریں۔ اس کتاب میں پہلی صدی سے آج تک کے اشعار اور شعراء کے تذکرے ترتیب وارمذکور ہیں اور ان پر نقد و تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔

(۷) پیغمبر اسلامؐ اور ہمارے ائمہ علیہم السلام نے۱۸؍ذی الحجہ کو اسلام اور مسلمانوں کی ایک عظیم عید شمار کیا ہے تاکہ ہر سال غدیر کا واقعہ شدومد(زوروشور) کے ساتھ دہرایا جاتا رہے۔ پانچویں صدی کے مشہور و معروف عالم’’ ابوریحان بیرونی‘‘ نے اپنی کتاب’’ آثار الباقیہ‘‘ میں ’’ابن طلحہ شافعی‘‘ نے اپنی کتاب’’ مطالب السؤل‘‘ میں غدیر کے دن کو اسلام کی عید شمار کیا ہے۔ اسی طرح مشہور ادیب اور دانشور’’ ابومنصور ثعالبی‘‘نے اپنی کتاب’’ ثمار القلوب‘‘ میں شب غدیر کو اسلام کی باعظمت شبوںمیں شمار کیا ہے۔

(۸) مناظرے۔ جب کبھی حضرت علی علیہ السلام یا دوسرے ائمہ علیہم السلام نے حدیث غدیر کو خلافت و جانشینی اور امامت کے سلسلے میں دلیل کے طور پر مخالفین کے سامنے پیش کیا تو کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس حدیث کا تعلق خلافت سے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے حدیث غدیر کے استدلال کے مقابلے میں خاموش رہ کر حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو تسلیم کیا ہے۔

(الغدیر ج۱ص۱۵۹ سے۔)

 ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:تمہیں خدا کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں تم میں سے جس نے بھی غدیر کے دن پیغمبر اکرمؐ کی زبانی میری خلافت اور جانشینی کے بارے میں سنا ہو وہ کھڑا ہو جائے ہاں صرف وہی لوگ سامنے آئیں جنہوں نے خود اپنے کان سے پیغمبرؐ کو فرماتے سنا ہو۔ وہ لوگ ہرگز نہ اٹھیں جنہوں نے دوسروں کی زبانی واقعۂ غدیر سنا ہو____یہ سن کر کافی لوگ کھڑے ہوئے۔

 اہل سنت کے بزرگ عالم’’ امام احمدا بن حنبل‘‘ کا بیان ہے: اس دن جو لوگ سامنے آئے ان کی تعدادتیس(۳۰) تھیں جنہوں نے حدیث غدیر کی تصدیق کی۔

 یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اس وقت واقعۂ غدیر کو۲۵ سال گزر چکے تھے اور اصحاب کی کافی تعداد کوفہ میں نہیں تھی۔ کافی صحابہ کا انتقال ہوچکا تھا اور کافی لوگوں نے ذاتی اغراض  کی بنا پر گواہی نہیں دی تھی۔

 جس وقت حضرت امام حسین علیہ السلام نے مکہ کے اسلامی اجتماع میں تقریر فرمائی اس وقت سات سو(۷۰۰) صحابہ اور تابعین موجود تھے۔(ان میں ۲۰۰ صحابہ تھے۔)اس تقریر میں امام علیہ السلام نے فرمایا :

’’......تمہیں خدا کی قسم! کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر ؐنے غدیر میں علیؑ کو خلافت اور ولایت کے لئے منتخب فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ حاضرین کی ذمہ داری ہے کہ اس خبر کو ان تک ضرور پہنچائیں جو یہاں نہیں ہیں۔‘‘؟

 سب نے یک زبان ہو کرکہا:...... خداگواہ ہے کہ واقعہ بالکل اسی طرح ہے۔

(الغدیر ج۱ میں ص۱۵۹۔۲۱۳ تک اس طرح کے ۲۲ مناظرے اور استدلالات پیش کئے گئے ہیں۔)

اس سبق کے اختتام پر اس تقریظ کا اقتباس نقل کر رہے ہیں جو شہر حلب کے بلندپایہ سنی عالم اور وہاں کے امام جمعہ’’ شیخ محموددوح ‘‘نے الغدیر پر لکھی ہے۔

’’...... الغدیر کتاب نے حقیقتوں کو استوار کیا اور خرافات کو نیست ونابود۔ وہ چیزیں ثابت کی ہیں جو ہم نہیں جانتے تھے اور ان باتوں کو باطل قرار دیا جنہیں ہم اپنی جہالت کی بنا پر کلیجے سے لگائے ہوئے تھے۔

 گذشتہ واقعات کچھ اس طرح پیش آئے تھے کہ ہم ان کے بارے میں کبھی سوچتے بھی نہیںتھے اور ان کے اسرار و رموز سے بالکل بے خبر تھے۔ جب کہ ضروری تھا کہ ہم گذشتہ واقعات سے درس حاصل کرتے اور تاریخی واقعات کو حقائق کی بنیاد پر پرکھتے اور انہیں حقائق کی بنیاد پر اپنے عقائد و افکار کی عمارت تعمیر کرتے .....‘‘

آپ نے دیکھا کہ الغدیر سے پہلے لوگ کس طرح حقائق سے بے خبر تھے اور غدیر کے سلسلے میں سنی علماء کی معلومات کس حد تک تھی۔ الغدیر کے بعد علماءاپنے ایک ایسے سمندر کے کنارے پاتے ہیں جہاں واضح دلیلیں اور روشن براہین موجیں مار رہے ہیں۔ الغدیر کے مطالعہ کے بعد ہر ایک یہی کہتا ہے کہ:’’ سورج کی روشنی چھپنے والی نہیں ہے۔‘‘