تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ پیغمبر اسلامﷺ معصوم ہیں اور آپ کا قول خدا کاقول اور آپ کی مرضی خدا کی مرضی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو خداوندعالم بغیر کسی قید وشرط کے آپ کی اطاعت اور پیروی کا حکم نہ دیتا۔ لہٰذا پیغمبرؐ کا حکم خدا کاحکم ہے اور اس کی اطاعت ہر ایک پر واجب ہے۔
اس کے علاوہ آیتوں میں ملتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ____ خدا کا سلام ہو ان پر____ کو لوگوں پر حاکمیت حاصل ہے اور آپ کا حکم ہر ایک کی مرضی اور اس کی خواہش پر فوقیت رکھتا ہے اوراجتماعی مسائل میں آپ کا فیصلہ واجب العمل ہے۔
ان تینوں میں سے بعض یہ ہیں :
(۱)اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ۔
مومنین کی بہ نسبت نبی کو ان پر زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔
(۲) وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۔ (سورۂ احزاب آیت۳۶)
جب خدا اور اس کا رسول کسی مسئلے میں کوئی فیصلہ کرے تو کسی بھی مومن مرد یا عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خود کوئی چیز اختیار کرے۔
ان آیات کی تفسیر پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبرؐ کا حکم ہر صورت میں واجب العمل ہے خواہ وہ ذاتی مسائل ہی کیوں نہ ہوں کیوںکہ دوسری آیت خود ایک ذاتی مسئلہ میں نازل ہوئی ہے اور وہ ہے زینب کی شادی زید سے۔
عربوں میں ایک جاہلی رسم یہ تھی کہ وہ بڑے اور ثروت مند خاندانوں کے علاوہ کہیں اور شادی نہیں کرتے تھے ۔پیغمبرؐ نے عربوں کی اس رسم کو توڑنے کے لئے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام زید سے طے کی۔ جاہلی رسوم اس شادی کی اجازت نہ دے رہی تھیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی جس نے تمام جاہلی رسومات کو یکسر قلم زد کر(مٹا) دیا۔ اس موقع پر آیت نے نازل ہوکر واضح کردیا کہ ذاتی مسائل میں بھی پیغمبرﷺ کا حکم نافذ ہے۔
(تفسیر نورالثقلین ج۴ ص۲۸۰۔)
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا
(سورۂ نساء آیت۔۶۵)
قسم ہے آپ کے رب کی اس وقت تک ان کا ایمان حقیقی نہ ہوگا جب تک یہ اپنے مسائل و اختلافات میں آپ کو حاکم قرار نہ دیں اور آپ جو فیصلہ کریں اسے قبول کریں اور دل میں بھی اس کے خلاف کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور مکمل آپ کے فیصلے کے سامنے تسلیم ہوں۔
کیا پیغمبر ؐاکثریت کے تابع ہیں
بعض علمائے اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اکثریت کی رائے کو پیغمبرؐ کی رائے پر فوقیت حاصل ہے اور پیغمبر ؐکے لئے ضروری ہے کہ وہ اکثریت کی رائے کی پیروی کریں۔
گذشتہ آیات پر غور کرنے سے اس نظریے کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور اس کی بے ثباتی کا علم ہو جاتا ہے..... اہل سنت نے اپنے اس نظریے کی تائید میں اس آیت کو دلیل بنایا ہے:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ۔
(سورۂ آل عمران۔۱۵۹)
’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ نرم طبیعت کشادہ رو ہیں اگر آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے چلے جاتے____ آپ ان سے درگذر کیجئے ان کے حق میں استغفار کیجئے اور ان سے مسائل میں مشورہ لیجئے اگر آپ نے کسی کام کا ارادہ کرلیا ہے اللہ کے بھروسہ پر اسے انجام دیجئے یقیناً اللہ ان لوگوںکو دوست رکھتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں ۔‘‘
اگر اکثریت کی رائے کا احترام ملحوظ خاطر نہ ہوتا تو کبھی بھی پیغمبرﷺ کو لوگوں سے مشورہ کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔
اس دلیل کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ پیغمبرؐ اکثریت کے تابع نہیں ہیں اجتماعی مسائل میں پیغمبرؐ ہی کو حاکمیت کا حق حاصل ہے۔ مشورے کے بعد بھی پیغمبرؐ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے پر عمل کریں کیونکہ ارشاد خداوندی یہ ہے کہ:
’’ ان سے مشورہ کیجئے اور اگر آپ نے خود کسی کام کا ارادہ کرلیا ہے تو اللہ کے بھروسہ پر کر ڈالیے.......‘‘
اگر دوسروں کی رائے کی پیروی مقصود ہوتی تو اس طرح ہونا چاہیے تھا کہ: ’’.....جب اکثریت کسی بات پر متفق ہوجائے تو آپ بھی اسے قبول کیجیے اور اس کی پیروی کیجیے..... ‘‘ بلکہ آیت نے بالکل برخلاف حکم دیا ہے۔
اس کے علاوہ تاریخ میں ایسی مثالیں کافی ہیں جہاں اکثریت کی رائے کو نظرانداز کیا گیا ہے جیسے’’ صلح حدیبیہ‘‘ (یہ صلح’’حدیبیہ‘‘ نامی جگہ پر واقع ہوئی تھی اس لئے اس کو صلح حدیبیہ کہتے ہیں۔) کے موقع پر۔
رسول خداؐ خانۂ کعبہ کی زیارت کے لیے مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے اس وقت کفار قریش کا ایک نمائندہ آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کفار کا پیغام آنحضرتؐ کی خدمت میں پیش کیا کہ کفار نے یہ طے کیا ہے کہ آپ مکہ تشریف نہ لائیں۔ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: ہم جنگ کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ صرف زیارت کی غرض سے آئے ہیں۔
کافی گفت و شنید کے بعد قریش صلح کے لئے تیار ہوگئے ہیںپیغمبر اسلامؐ نے مخصوص شرائط کے ساتھ صلح کر لی۔ مسلمانوں کو یہ صلح اچھی نہ لگی وہ چاہ رہے تھے کہ طاقت کے بل بوتے مکہ میں داخل ہوجائیں۔
(سیرت ابن ہشام ج۳ ص۳۲۱۔)
آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: میں خدا کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں میں ہرگز خداکے حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتا ہوں اور نہ وہ مجھ سے دست بردار ہو گا۔
(تاریخ طبری ج۳ ص۱۵۴۶ مطبوعہ لیدن۔)
یہاں عقلی طور پر چند سوال ہوسکتے ہیں کہ :
پیغمبر اسلامؐ کو مشورے کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا مفہوم کیا ہے؟
پیغمبر اسلامؐ اس لئے مشورہ کرتے تھے تاکہ لوگوں کی فکر و نظر کا احترام ہو عقل کو ترقی کی راہ پر لگایا جائے اور اسلام کی تبلیغ میں نئی راہوں کی نشان دہی ہو اور ان لوگوں کی روک تھام ہو سکے جو کارشکنی(مخالفت) کرتے رہتے ہیں کیوں کہ جب ان کو مشورے میں شامل کرلیا جائے گا تو وہ بھی اپنے کو شریک کار خیال کریں گے اور احساس کمتری کا شکار نہ ہوکر کارشکنی (مخالفت) نہیں کریں گے لیکن مشوروں میںآنحضرتؐ اکثریت کے تابع نہیں تھے۔ اگر وہ کسی کی رائے پر عمل کرتے تھے وہ صرف اس لئے کہ وہی پیغمبرؐ کی رائے ہوتی تھی ۔
کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں ملتا کہ پیغمبرؐ نے اکثریت کی رائے کا اتباع کیا ہو اور اکثریت کی رائے کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا ہو۔
کیا پیغمبرؐ کے بعد کسی شوریٰ کی تشکیل ہوئی
یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پیغمبرؐ کی رائے اکثریت کی رائے کے تابع نہیں ہے بلکہ اکثریت کی رائے پر پیغمبرؐ کی رائے پر برتری اور فوقیت حاصل ہے۔ پیغمبر اسلام ؐکا حتمی فیصلہ حضرت علی علیہ السلام کا انتخاب تھا جس کا اعلان آپ نے غدیر کے موقع پر فرمایا اور لوگوں کو پہچنوادیا کہ میرے بعد میرا جانشین کون ہوگا۔
وفات پیغمبر ؐکے بعد پیغمبرؐ کے جانشین کے سلسلے میں رائے و مشورہ کرنا خدا اور رسولؐ کی صریحی مخالفت ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہے______ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے آئیے دیکھیں کہ پیغمبرؐ کے بعد کسی شوریٰ کی تشکیل ہوئی یا نہیں اور اگر شوریٰ کی تشکیل ہوئی تو اس میں اکثریت تھی کہ نہیں۔
سب سے پہلے معتبر تاریخوں کی روشنی میں’’ سقیفہ بنی ساعدہ‘‘ کے واقعہ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
سقیفہ بنی ساعدہ پر ایک نظر
جب پیغمبر اسلامؐ نے اس دنیا سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اس وقت انصار’’ سقیفہ بنی ساعدہ ‘‘میں جمع ہوئے اور کہنے لگے:
پیغمبر اسلامؐ کے بعد حکومت و ولایت’’ سعد ابن عبادہ‘‘ کو سونپ دیتے ہیں۔سعد اس وقت مریض ہونے کے باوجود وہاں موجود تھے ____خدا کی حمد و ثنا کے بعد کہنے لگے:
’’......اے انصار! اسلام میں تمہیں جو فضیلت اور منزلت حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہے ۔پیغمبرؐ۱۳ سال تک مکہ میں قریش کے درمیان تبلیغ کرتے رہے انہیں بت پرستی سے منع کرتے اور توحید کی طرف بلاتے رہے مگر ایمان لانے والے صرف چند تھے اور وہ بھی اتنے کمزور تھے کہ پیغمبرؐ کی طرف سے دفاع نہیں کر سکتے تھے۔ یہاں تک کہ خدا نے تم پر احسان کیا اور پیغمبرؐ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تم نے ان کا دین قبول کیا، ان پر ایمان لائے، اس پر ثابت قدم رہے اور ان کے دین کی بھرپور حمایت کی ان کی طرف سے دفاع کیا ____اور جس وقت رسول خداؐ نے اس دنیا سے رحلت فرمائی وہ تم سے راضی و خوشنود تھے____ ہاں ہوشیار رہو کہ تمہارے علاوہ کوئی اور ان کا جانشین نہ ہونے پائے اور یہ منصب انصار کے علاوہ کسی اور کو نہ ملنے پائے۔‘‘
انصار نے کہا: آپ کی باتیں بالکل صحیح ہیں لہٰذا آپ ہی جانشینی و حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالیےاور بعض یہ کہنے لگے: اگر قریش سامنے آگئے تو اس وقت کیا ہوگا؟
بعض نے اس طرح جواب دیا: اگر قریش بھی اس منصب کے خواہش مند نظر آئے تو ہم ان سے یہ کہیں گے کہ تم اپنے لیے ایک الگ امیر معین کر لو۔
سعد نے کہا:____ یہ پہلی ناکامی ہے۔
یہ باتیں عمر تک پہنچیں عمر نے ابو بکر کے پاس آدمی بھیج کر انہیں بلایا اس وقت ابوبکر رسول خداؐ کے گھر میں علیؑ کے ساتھ تھے_____ پیغام بھیجا میں یہاں مصروف ہو ںعمر نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ تازہ خبر ہے اور تمہاری موجودگی نہایت ضروری ہے۔
رسول خداؐ کی تجہیز و تکفین چھوڑ کر چلے آئے اور حضرت علی علیہ السلام پیغمبر ؐکے غسل و کفن میں مشغول رہے۔۔۔ عمر نے کہا: تمہیں نہیں معلوم کہ انصار سقیفہ میں جمع ہو گئے ہیں اورسعد کو خلیفہ بنانے والے ہیں۔
اس کے بعد یہ دونوں افراد وہاں سے جلد روانہ ہو گئے راستہ میں’’ ابوعبیدہ جراح‘‘ سے ملاقات ہوئی ان کو بھی اپنے ساتھ لے لیا اور سقیفہ پہنچ گئے۔
ابو بکر نے اس طرح گفتگو کا آغاز کیا:____
حمد وتعریف ہے خدا کے لئے اور درود ہو پیغمبرؐ پر____ خدا نے پیغمبرﷺکو اس لئے بھیجا تا کہ لوگ خدائے واحد کی عبادت کریں۔وہ جو متعدد خداکے قائل تھے اور اس بات کے معتقد تھے کہ یہی ہماری شفاعت کریں گے۔
عربوں کے لئے یہ بات سخت دشوار تھی کہ وہ اپنے آباء و اجداد کے دین کو ترک کر دیں اس لئے خداوندعالم نے سب سے پہلے مہاجروں کو یہ فضیلت دی کہ وہ پیغمبرؐ کے دین پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ سختیاں برداشت کیںنرم وگرم حالات میں ان کے ساتھ رہے۔ لہٰذا اس منصب کے سب سے زیادہ حق دار مہاجر ہیں اوراے انصار! تمہاری فضیلتوں سے کون انکار کرسکتا ہے۔ مہاجرین کے بعد سب سے بلند درجہ تمہاراہی ہے لہٰذا ہم حکمراں و فرماں رواں ہو اور تم وزیر، ہم تمہارے مشورے کے بغیر کوئی کام انجام نہیں دیں گے....‘‘
’’ حباب ابن منذر‘‘ نے کھڑے ہو کر کہا:...... اے انصار! ہوشیارر ہو! حکومت تمہارے ہاتھوں سے نہ جانے پائے لوگوں نے تمہارے سایہ میں زندگی بسر کی ہے ۔کوئی بھی تمہارے برابر نہیں ہیں ایک دوسرے کی مخالفت نہ کرو تاکہ کام خراب نہ ہونے پائے ۔اگر یہ لوگ ہماری ریاست و حکومت کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں تو ہمارا الگ ایک امیر ہو اور ان کاالگ حاکم۔
عمر نے کہا:..... یہ تو ہرگز نہ ہوگا عرب تمہاری حکومت پر ہرگز راضی نہ ہوں گے کیوں کہ پیغمبرؐ تم میں سے نہ تھے۔
حباب نے دوبارہ کہا:
اے انصار! بیدار رہو اور ہوشیار! اس کی اور اس کے دوستوں کی باتوں پر دھیان نہ دو یہ تمہارے حقوق پامال کر دیں گے____ اگر یہ لوگ تمہاری بات نہ مانیں تو انہیں اپنے شہر سے باہر نکال دو۔ اور حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لو۔ خدا کی قسم! تم ہی سب سے زیادہ حق دار ہو۔
عمر نے کہا:____ خدا تجھے غارت کرے ۔
حباب____ تمہیں غارت کرے۔
اس درمیان ابوعبیدہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:........
اے انصار! تم ہی وہ پہلے گروہ ہو جو رسولؐ پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی لہٰذا ردوبدل میں تم پہل نہ کرو۔
اس وقت’’ بشیر ابن سعد‘‘ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:......
اےانصار! ہم نے مشرکوں سے جہاد کیا اور دین میں جو سبقت حاصل کی وہ صرف رضائے خدا کی خاطر۔ اور اللہ ہی کی خوشنودی کے لئے ہم نے زحمتیں برداشت کیں۔
ابوبکر کہنے لگے:......یہ عمر ۔اور یہ ابوعبیدہ جراح ان دونوں میں جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کر لو ۔
ان دونوں نے کہا: خدا کی قسم! آپ ہم سب سے بہتر ہیں آپ کی موجودگی میں ہم قطعی اس منصب کی لیاقت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ ہاتھ بڑھائیں تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں۔
عمر اور عبیدہ بیعت کرنے کے لیے بڑھے ہی تھے کہ بشیر ابن سعد____ جو انصار میں سے تھے اور قبیلۂ اوس سے تعلق رکھتے تھے....... (اوس وخزرج مدینہ کے دو بڑے قبیلے تھے جن میں پرانی رنجش تھی اور یہی رنجش اور رقابت اس بات کا سبب ہوئی کہ قبیلۂ اوس نے ابوبکر کی بیعت کرنے میں سبقت حاصل کی تاکہ سعد ابن عبادہ کو خلافت نہ ملنے پائے۔) نےسب سے پہلے ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
قبیلۂ اوس کے دوسرے افراد نے جب یہ دیکھا کہ بشیر نے پہل کر دی ہے اور قریش کو اپنے سے بہتر جانا ہے۔قبیلۂ خزرج کے افراد سعد ابن عبادہ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں تو ایک دوسرے سے کہنے لگے :
اگر خزرج اس منصب پر فائز ہوگئے تو ان کو ہمیشہ کے لئے یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی لہٰذا اٹھو اور فوراً ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرو۔
اسی ہنگامہ میں عمر اور سعد ابن عبادہ آپس میں دست و گریبان ہوگئے۔ عمر نے لوگوں سے کہا: اس کو قتل کر دو...... اور سعد نے آخردم تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔
(جن لوگوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی ہے ان کی تعداد کافی ہے جیسے بنی ہاشم، عباس اور ان کی اولاد حباب ا بن منذر، سلمان فارسی،ابوذر، مقداد،عمار،زبیر،خذیمہ ،ابی ابن کعب، فردہ، خالد، براء ابن عازب وغیرہ۔(فصول المہمہ،ص۴۵)۔ طبری جلد۴ ص۱۸۳۷ کے بعد سے اختصار کے ساتھ۔)
فیصلہ کیجیے
سقیفہ کے واقعات میں کسی طرح بھی شوریٰ نہیں تھا اور یہ منظم سازش تھی حضرت علی علیہ السلام کے حق کو غصب کرنے کے لیے اور ریاست حاصل کرنے کے لیے ......ان دلیلوں پر توجہ فرمائیے۔
(۱) سقیفہ جاتے وقت عمر نے صرف ابوبکر کو اطلاع دی ۔جب کہ اس وقت رسول خداؐ کے گھر میں اصحاب رسولؐ اور حضرت علی علیہ السلام بھی موجود تھے۔ ابو بکر یہ خبر سنتے ہی پیغمبرؐ کی مصیبت بھول گئے اور خاموشی سے وہاں سے نکل آئے ۔اگر واقعی کوئی منظم سازش نہ تھی تو ابو بکر نے عمر سے کیوں کہا کہ بنی ہاشم اور دوسرے اصحاب کو بھی اطلاع کر دی جائے..... اس وقت اس مسئلہ کو رہنے دو۔ پہلے پیغمبرؐ کو دفن کردیں اس کے بعد خلافت کے مسئلہ کو طے کریں گے۔
کیا شوریٰ اسی کو کہتے ہیں کہ تین آدمی ایک جگہ جمع ہو جائیں اور چرب زبانی سے ایک دوسرے کو خلیفہ بنائیں دوسرے کو ڈرائیں دھمکائیں اور لوگوں کو دھوکہ دے کر اور بزور شمشیر بیعت لے لیں۔ اہم شخصیتوں کو واقعات سے بالکل بے خبر رکھیں ۔اور اگر کوئی اختلاف کرے اس کو قتل کی دھمکی دیں اور کہیں:
اس عمل کی مخالفت امت کے اجماع اور ملت کے مصالح کے خلاف ہے ۔جو مخالفت کی بات کرے وہ باغی ہے اور اس کا خون حلال ہے اور انہی باتوں کو بہانہ بنا کر کچھ لوگوں کو سولی دی جائے اور کچھ کو شہر بدر کیا جائے۔
اس عظیم مسئلہ میں مشورہ کرتے وقت بنی ہاشم اور دوسرے بزرگ اصحاب نہیں بلائے جا سکتے تھے کم ازکم حضرت علی علیہ السلام کو مطلع کیا ہی جاسکتا تھا۔؟
(۲) اس وقت سقیفہ فٹ بال کا میدان ہو رہا تھا ۔
چرب زبانی اور خود ستائی کے بعد ابوبکر انصار سے کہتے ہیں کہ یہ ’’عمر‘‘ ہے اور یہ ہے ’’ابوعبیدہ‘‘ جس کے ہاتھوں پر چاہو بیعت کرلو یعنی ان دونوں کے خلیفہ ہونے میں کسی بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کو خلیفہ ہونا ہے۔
یہ دونوں افراد بھی اپنے پرانے پڑھے ہوئے سبق کو دہراتے ہیں اور خلافت کے گیند ابوبکر کی طرف ’’پاس‘‘ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کی موجودگی میں ہمیں یہ جرأت کہاں؟
علمائے اھل سنت نے اس ڈرامے کا نام ’’امت کا اجماع اور شوریٰ‘‘ رکھا ہے۔
(۳) سقیفہ کے واقعہ کو عرصہ گذرنے کے بعد عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ سقیفہ میں’’ شوریٰ‘‘ و’’ اجماع‘‘ نہیں ہوا تھا۔عمرنے منبر پر کہا:
’’ میں نے سنا ہے کہ تم میں سے کسی نے یہ کہا ہے کہ اگر عمر کا انتقال ہوجائے تو ہم فلاں کی بیعت کرلیں گے کوئی اس فکر میں نہ رہے اِنَّ بَیْعَۃَ اَبِیْ بَکْرٍ کَانَتْ فَلْتَۃً‘‘ یقیناً ابوبکر کی بیعت ایک حادثاتی واقعہ تھی یعنی اس میں کسی مشورےاور اجماع کا سوال نہ تھا اور یہ بات اب نہیں ہونے والی وہ ایک بات تھی جو ہوگئی۔
صحیح ہے کہ ابوبکر کی بیعت ایک حادثاتی واقعہ تھی جو بغیر سوچے سمجھے انجام پذیر ہوا۔ خدا نے اس کے شر سے محفوظ رکھا......اب تمہارے درمیان کوئی بھی ابوبکر جیسا نہیں ہے کہ سردار ان قوم اس کی اطاعت کریں۔
(طبری ج۴ ص۱۸۲۰ سے ۱۸۲۳ تک۔)
اگر شوریٰ اور اجماع ہوا تھا اصحاب پیغمبرؐ نےآزادی سے اپنی رائے دی تھی تو ابوبکر کی بیعت حادثاتی واقعہ کیسے ہوگئی اور کیسے یہ بات مشہور ہوگئی کہ ابوبکر کی بیعت بغیر سوچے سمجھے انجام پاگئی؟
(۴) عمر کا کہنا ہے کہ’’ پیغمبرؐ کی وفات کے بعد علیؑ و زبیر اور ان کے ساتھی ہماری مخالفت کرنے لگے اور فاطمہؑ کے گھر میں جمع ہوئے۔(طبری جلد۴ ص۱۸۲۲۔) کیا اتنی واضح مخالفت سے چشم پوشی(قطع نظر) کی جا سکتی ہےجب کہ خود عمر نے ان لوگوں کی مخالفت کا اعتراف کیا ہے؟.......
کیا اسی کو اجماع کہتے ہیں؟
(۵) اگر خلافت کا مسئلہ شوریٰ سے حل ہونا تھا تو پیغمبر اسلامؐ کو اپنی زندگی میں اس کے اصول و ضوابط کی طرف کم ازکم اشارہ تو کرنا ہی چاہئے تھا کہ میرے بعد خلیفہ کا انتخاب اس طرح ہوگا.....یہ بات عقل کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کہ جس پیغمبر ؐنے چھوٹے چھوٹے مسائل بیان کیے ہوں معمولی معمولی باتوں کی طرف اشارہ کیا ہو۔ اتنے عظیم مسئلہ میں کیوں خاموش رہے۔اشارتاً بھی کوئی بات نہیں کہی؟
کس طرح حضرت علیؑ کے حق کو غصب کیا گیا؟
ہر سماج میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو حکومت اپنے ہاتھوں میں لے کر عوام پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح اپنا مقصد حاصل کیا جائے اور کس طرح فرصت سےاستفادہ کیا جائے خواہ اس راہ میں خدا اور رسولؐ کے احکام پامال ہی کیوں نہ ہوں۔
خلافت اور جانشینی پیغمبرؐ کے سلسلے میں ایسے متعدد ذہن تاریخ کے صفحات پر نظر آ رہے ہیں وہ لوگ جو سقیفہ میں جمع ہو کر اسلام کا دم بھر رہے تھے وہ کچھ اس طرح کے تھے۔
اس سلسلے میں پیغمبرؐ کی بیماری کے وقت کے چند واقعات پیش کرتے ہیں۔
لشکر اسامہ
جس زمانے میں پیغمبرؐ اسلام مریض تھے اور صاحب فراش تھے اس وقت آپ نے پاک سیرت اور راست باز(سچے) جوان ’’اسامہ ابن زید‘‘ کو یہ حکم دیا کہ اپنی سرداری میں لشکر ’’موتہ‘‘ کی طرف لے جاؤ۔
اس لشکر میں مہاجر و انصار تھے جس میں ابوبکر عمر اور عبیدہ جراح وغیرہ بھی شامل تھے پیغمبرؐ بار بارتاکید فرمارہے تھے کہ اس لشکر سے جدا نہ ہوجائے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ اسامہ نے آنحضرتؐ سے دریافت کیا۔ کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ آپ کی صحت یاب ہونے تک ہم مدینہ ہی میں رہیں ؟
فرمایا: جلدی سفر کرو۔ خدا کے نام سے اپنا سفر آغاز کرو۔
...... اس حالت میں اگر میں لشکر لے کر چلا جاؤں تو میرا دل آپ ہی میں لگا رہے گا اور فکر مند رہوں گا۔
فرمایا: سفر کرو اللہ تمہیں کامیابی عطا کرے گا۔
...... مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں آنے والوں سے آپ کی خیریت دریافت کروں۔
فرمایا: جو میں نے تمہیں حکم دیا ہے بس اسی پر عمل کرو.......
اس کے بعد آنحضرتؐ بے ہوش ہوگئے جب ہوش آیا تو فرمایا:
’’ خدا لعنت کرے اس پر جو اسامہ کے لشکر سے الگ ہو‘‘(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ص۲۱، مطبوعہ درچہار جلد۔) اس کے بعد بھی عمر و ابوبکر اس لشکر سے الگ ہو گئے اور مدینہ واپس آ گئے۔
۲۔قلم و دوات
پیغمبر اسلامؐ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں یہ حکم دیا کہ کاغذ وقلم لایا جائے تاکہ میں ایسی چیز لکھ دوں جس سے تم میرے بعد گمراہ نہ ہو۔
لیکن بعض نے کہا:......... یہ تو ہذیان کہہ رہے ہیں۔
(تاریخ طبری ج۴ ص۱۸۶۔ صحیح مسلم۔ کتاب الوصیۃ۔)
ابن عباس کا بیان ہے کہ:
عمر کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں عمر کے پاس گیا۔
عمر نے پوچھا:...... کیا ابھی بھی وہ( علی علیہ السلام) اپنے کو خلیفہ جانتے ہیں؟
........... ہاں
............ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ پیغمبرؐ نے ان کے خلافت کی باقاعدہ تصریح کی تھی؟
..........ہاں یقیناً بہت ہی صاف اور واضح ہے۔ میں نے اس سلسلے میں خود اپنے والد سے دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا: علیؑ جو فرما رہے ہیں وہ بالکل صحیح ہے۔
عمر نے کہا:...... پیغمبرؐ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ان کے نام کی صراحت کرنا چاہتے تھے مگر میں نے یہ کام نہ ہونے دیا.....
(شرح ابن ابی الحدید ج۲ ص۵۶۳۔)
اس جملہ سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ کسی شخص نے پیغمبرؐ کی طرف ہذیان کی نسبت دی تھی۔ کیا عمر پیغمبرؐ سے زیادہ سمجھتے تھے۔ ا مت کی مصلحتوں کو زیادہ بہتر درک کر رہے تھے جس کی بنا پر پیغمبرﷺ کوتصریح کرنے سے روک دیا کہ وہ علیؑ کے نام کی وضاحت نہ کریں۔
ان واقعات کی روشنی میں یہ نتائج سامنے آتے ہیں کہ :
جو لوگ مسند خلافت پر براجمان ہوئے وہ پیغمبر اسلامؐ کی رحلت کے وقت بلکہ اس سے پہلے ہی خلیفہ بننے کی فکر میں تھے اور اس کے لیے پہلے ہی سے نقشہ(منصوبہ) بنا چکے تھے۔ یہ ساری باتیں جاہ طلبی کی نشانیاں ہیں ۔
یہی جاہ طلبی اس بات کا سبب ہوئی کہ اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں انھیں دور کیا جائے۔ سعد ابن عبادہ جو ابوبکر کی خلافت کے مخالف تھے اور جنہوں نے بیعت نہیں کی تھی انہیں قتل کردیا اور مشہور کردیا کہ انہیں ’’جن‘‘ نے قتل کیا ہے۔ ’’مالک ابن نویرہ‘‘ وہ پاک باز اورراست کردار شخص جس کے بارے میں پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا تھا: جو شخص اہل بہشت کو دیکھنا چاہتا ہے وہ مالک کو دیکھیں اور جس نے پیغمبرؐ کی زبانی سنا تھا کہ خلافت صرف حضرت علیؑ کا حق ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کی وفات کے بعد جب مالک مدینہ آئے اور دیکھا کہ دوسروں نے خلافت پر قبضہ جما لیا ہے تو انہوں نے اس کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں خالد ابن ولید نے انہیں قتل کردیا اور ان کی ناموس کی بے حرمتی کی لیکن خلیفۂ وقت نے خالد سے کوئی باز پرس نہیں کی اور اسے کوئی سزا نہیں دی۔
اسی زمانے میں فدک بھی آل محمدؐ سے چھین لیا گیا۔
فدک وہ علاقہ تھا جہاں سرسبز و شاداب باغات لگے ہوئے تھے اور یہ پیغمبرؐ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اختیار میں تھا آپ ہی اس کی مالک تھیں۔
ابوبکر نے اس پر قبضہ کرلیا اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے آدمیوں کو وہاں سے باہر نکال دیا۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔
ابوبکر نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو ایک سند پیش کی کہ فدک ان کی ملکیت ہے۔
لیکن عمر نے اس سند کو پارہ پارہ کر دیا(سیرت حلبیہ ج۳ ص۲۔) اور ابوبکر نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا اور نہ دوسری سند حضرت زہراؑ کے حوالے کی۔
ان واقعات سے بس یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ لوگ دنیا پرست اور جاہ طلب تھے انہیں صرف منصب و مقام کی فکر تھی جس کے حصول کے لیے ہر کام کرنے پر تیار تھے۔