خدا کی آخری حجت
عدل گستر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت۲۵۵ ہجری ۱۵؍شعبان عراق کے ایک شہر سامرا میں ہوئی۔۔۲۶۰ ہجری میں آپ کے والد کا انتقال ہوا اور اسی وقت آپ منصب امامت پر فائز ہوئے ۔
آپ کا نام پیغمبرؐ کا نام’’ محمد‘‘ اور آپ کی کنیت پیغمبرؐ کی کنیت ’’ابوالقاسم‘‘ ہے۔ آپ کے والد ہمارے گیارہویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام اور آپ کی والدہ جناب نرجس خاتون سلام اللہ علیہا ہیں۔
بعض علل و اسباب کی بنا پر آپ ابتدا ہی سے پوشیدہ رہے ستّر سال تک آپ کے خاص قائدین کے ذریعے آپ تک رسائی ہوتی رہی-اس ستّر سال میں آپ کے خاص نائب یہ افراد تھے۔ عثمان ابن سعید، محمدا بن عثمان، حسین ابن روح اور علی ابن محمد سمری۔ اس ۷۰ سال کی مدت کو ’’ غیبت صغریٰ‘‘ کہتے ہیں اور اس کے بعد سے’’ غیبت کبریٰ‘‘ کا آغاز ہوتا ہے۔
غیبت کبریٰ کی ابتدا سے ظہور تک کسی خاص نائب کا تعین نہیں فرمایا ہے۔ ان دنوں لوگوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ فقہا اور معتبر راویان حدیث جنہیں دینی مسائل میں دست رس ہو ان کی طرف رجوع کریں اور اپنی ذمہ داریاں معلوم کریں۔
حضرت مہدی علیہ السلام اور عالمی اصلاح
حضرت مہدیؑ اور عالمی مصلح کے ظہور کا انتظار صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہے اسلام کے دوسرے فرقے بلکہ یہودی اور عیسائی اور دنیا کے عظیم دانشور ایک عالمی مصلح کے ظہور کی خبر دیتے ہیں۔
حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور میں ہے کہ:
’’...... خداوند کے منتظر زمین کے وارث ہوں گے.......‘‘
’’...... حلیم و بردبار زمین کے وارث ہوں گے۔ صحت و سلامتی کی عمومیت سے استفادہ کریں گے...... نیکوکاروں کی خدا تائید کرےگا۔خدا مخلصوں کے دن کا علم رکھتا ہے۔ ان کی میراث ابدی ہوگی۔جن لوگوں نے اس سے برکت حاصل کی وہ زمین کے وارث ہوں گے اور جن پر لعنتیں بھیجی گئی ہیں وہ نیست و نابود ہوجائیں گے۔ نیکوکار زمین کے وارث ہوں گے اور وہ ہمیشہ رہیں گے......
(مزمور ۳۷۔بند۳۰۔۱۰)
قرآن اور عقیدۂ حضرت مہدی علیہ السلام
قرآن میں ایک ایسے دن کا وعدہ کیا گیا ہے جس دن حق کے پرستار، اللہ کے نیک بندے، اس روئے زمین کے حکمران ہوں گے۔ دین مقدس اسلام ساری دنیا میں پھیلائیں گے اور دوسرے تمام ادیان پر غالب ہو گا۔ اس کے علاوہ ایسی متعدد آیتیں ہیں جن کی تفسیر حضرت مہدی علیہ السلام سے کی گئی ہے۔
(۱)وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ۔(سورۂ انبیاء: آیت۱۰۵)
اس کتاب کے بعد ہم نے زبور میں یہ بات لکھ دی کہ ہمارے نیکوکار بندے زمین کے وارث ہوں گے۔
(ابھی زبور کی جو عبارت نقل کی گئی ہے۔ جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ نیکوکار افراد عالمی حکومت کے حکمراں ہوں گے۔)
(۲)وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۔(سورۂ نور آیت۵۵)
خدا نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور عمل صالح بجا لائے ہیں وہ انہیں زمین پر اپنا خلیفہ قرار دے گا جس طرح اس نے گذشتہ لوگوں کو خلیفہ معین کیا تھا۔ جس دین کو اللہ نے پسند کیا ہے اسے مستحکم کرے گا اور ان کے خوف و ہراس کو امن وامان میں تبدیل کردے گا۔ صرف میری( اللہ) کی عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک نہیں قرار دیں گے۔
(۳)هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ۔
(سورۂ صف۔آیت۹)
وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ تمام ادیان پر غلبہ حاصل کریں اگرچہ یہ بات مشرکین کو ناگوار کیوں نہ لگے۔
(۴)وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ ۔
(سورۂ قصص آیت۵)
ہم نے ارادہ کرلیا ہے کہ کمزوروں( وہ خدا پرست افراد جنہیں ظالموں نے کمزور و ناتواں کر دیا تھا) کوقابلِ عنایت قرار دیں گے انہیں رہنما اور زمین کا وارث بنا ئیں گے۔
ان آیتوں سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اس دنیا کی زمام حکومت ایک دن ضرور نیکوکاروں کے ہاتھوں میں ہوگی خدا کے شائستہ بندے رہنما ہوں گے اور دین اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا۔
حضرت مہدی علیہ السلام اور اہل سنت کی کتابیں
علمائے اھل سنت نے اس سلسلے میں متعدد روایتیں اپنے معتبر راویوں کے ذریعے پیغمبر اسلامؐ سے نقل کی ہیں۔ ان روایتوں سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امام سب قریش سے ہوں گے۔
حضرت مہدی علیہ السلام پیغمبر اسلام ؐکے نور نظر اور علیؑ و زہراؑ کے فرزند ہوں گے۔بہت سی روایتوں میں یہ تصریح ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی نسل سے ہوں گےعلمائے اہل سنت نے اپنی معتبر کتابوں میں سیکڑوں حدیث ذکر کی ہیں۔ بطور نمونہ صرف چند کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
|
مسند |
تالیف |
|
احمدا بن حنبل |
۲۴۱ ہجری میں وفات پائی |
|
صحیح بخاری |
’’ |
|
بخاری |
۲۵۶ ہجری میں وفات پائی |
|
سنن ابی داؤد |
’’ |
|
سلیمان ابن اشعث سجستانی |
۲۷۵ ہجری میں وفات پائی |
|
صحیح ترمذی |
’’ |
|
محمدا بن عیسیٰ ترمذی |
۲۷۹ ہجری میں وفات پائی |
مذکورہ بالا کتابیں اہل سنت کی معتبر ترین کتابیں ہیں اور ان کے مؤلف اہل سنت کے بلندپایہ‘ عظیم المرتبت علماء اور معتبر محدثین ہیں۔ یہ افراد یا امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت۲۵۵ ہجری سے پہلے انتقال کرچکے تھے یا ان کی ولادت کے تھوڑے دنوں بعد۔
اس کے علاوہ
|
مصابیح السنہ |
تالیف |
|
بغوی |
۵۶۱ ہجری میں وفات پائی |
|
جامع الاصول |
’’ |
|
ابن اثیر |
۶۰۶ ہجری میں وفات پائی |
|
الفتوحات المکیہ |
’’ |
|
محی الدین عربی |
۶۳۸ہجری میں وفات پائی |
|
تذکرۃ الخواص |
’’ |
|
سبط ابن جوزی |
۶۵۴ہجری میں وفات پائی |
|
فرائدالسمطین |
’’ |
|
حموی |
۷۱۶ہجری میں وفات پائی |
|
صواعق |
’’ |
|
ابن حجر ہیثمی |
۹۷۳ہجری میں وفات پائی |
|
ینابیع المودۃ |
’’ |
|
شیخ سلیمان قندوزی |
۱۲۹۳ہجری میں وفات پائی |
اہل سنت کے بعض بزرگ علماء نے حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے موضوع پر مستقل کتابیں تحریر کی ہیں جیسے:
|
۱۔ |
البیان فی اخبار صاحب الزمانؑ |
تالیف |
علامہ گنجی شافعی |
|
۲۔ |
عقدالدرر فی اخبار الامام المنتظرؑ |
’’ |
شیخ جمال الدین یوسف الدمشقی |
|
۳۔ |
مہدی آل الرسول |
’’ |
علی ابن سلطان الہروی الحنفی |
|
۴۔ |
کتاب المہدی |
’’ |
ابی داؤد |
|
۵۔ |
علامات المہدی |
’’ |
جلال الدین سیوطی |
|
۶۔ |
مناقب المہدی |
’’ |
حافظ ابی نعیم اصفہانی |
|
۷۔ |
القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر |
’’ |
ابن حجر |
|
۸۔ |
البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان |
’’ |
ملاعلی متقی |
|
۹۔ |
اربعین حدیث فی المہدی |
’’ |
ابوالعلاء ہمدانی |
حضرت مہدی علیہ السلام اور شیعہ
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ علیہم السلام سے حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں تین ہزار سے زائد احادیث نقل ہوئی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں آپ کے والد حسن عسکری علیہ السلام اور آپ کی والدہ جناب نرجس خاتون علیہا السلام ہیں۔ آپ کا نام پیغمبرؐ کا نام اور آپ کا لقب مہدی..... ہے ۔سامراء میںآپ کی ولادت ہوئی اور بچپنے ہی میں آپ سایۂ پدری سے محروم ہوگئے۔ آپ اس وقت زندہ ہیں اور اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک خدا چاہے گا ۔ایک دن آپ کا ظہور ہوگا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جب کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔ بعض مصلحتوں کی بنا پر آپ لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔
جب آپ تشریف لائیں گے_____( خدا وہ دن جلدلائے) کعبہ کی دیوار پر تکیہ دے کر اپنے دوستوں کوصدا دیں گے اس وقت ۳۱۳؍افراد آپ کے پاس جمع ہو جائیں گے جناب عیسیٰؑ آسمان سے روئے زمین پر تشریف لائیں گے اور حضرتؑ کی اقتدا میں نماز جماعت ادا کریں گے۔ دنیا کے گوشہ گوشہ میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی احکام پھیلائیں گے اور آپ کی حکومت میں یہ دنیا جنت ہو گی۔
حضرتؑ کے سلسلے میں جو حدیثیں شیعہ اور سنی علماء نے اپنی کتابوں میں ذکر کی ہیں وہ بے شمار ہیں تفصیل کے لئے’’ بحارالانوار‘‘ اور’’ منتخب الاثر‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ منتخب الاثر کے مؤلف نے حدیثوں کی جو فہرست مرتب کی ہے اسے ہم یوںنقل کر رہے ہیں بعد میں چند حدیثیں بھی ذکر کریں گے۔
____ موضوع____ حدیثوں کی تعداد
وہ حدیثیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ امام بارہ ہیں۔
پہلے امام حضرت علی علیہ السلام اور آخری امام حضرت امام مھدی سلام اللہ علیہ ہیں۔۵۸
وہ حدیثیں جن میں حضرتؑ کے ظہور کی خوش خبری دی گئی ہے۔۶۵۷
وہ حدیثیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام رسول اللہؐ کے فرزند ہیں۔۳۸۹
وہ حدیثیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرتؑ کا نام پیغمبرؐ کا نام اور حضرتؑ کی کنیت پیغمبر کی کنیت ہے۔۴۸
وہ حدیثیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت امیرالمومنینؑ کی نسل میںسے ہیں۔۲۱۴
وہ حدیثیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نسل میں سے ہیں۔۱۹۲
وہ حدیثیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی نسل میںسے ہیں۔۱۸۵
وہ حدیثیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں۔۱۴۸
وہ حدیثیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔۱۸۵
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت امام محمد باقر علیہ ا لسلام کی نسل سے ہیں۔۱۰۳
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔۱۰۳
وہ روایتیں جو یہ بتا تی ہیں کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔۱۰۱
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ امام علی رضا علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔۹۵
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے تیسرے فرزند ہیں۔۹۰
وہ روایتیں جویہ بتاتی ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام کے فرزند ہیں۔۹۰
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں۔۱۴۶
وہ روایتیں جویہ بتاتی ہیں کہ حضرتؑ کے والد کا نام حسن ہے۔۱۴۷
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔۱۲۳
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ان کی غیبت طولانی ہے۔۹۱
وہ روایتیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ان کی عمر مبارک طولانی ہوگی۔۳۱۸
وہ روایتیں جویہ بتاتی ہیں کہ ان کی بدولت اسلام ساری دنیا میں پھیلے گا۔۴۷
وہ روایتیں جویہ بتاتی ہیں کہ بارہویں اور آخری امامؑ ہیں۔۱۳۶
حدیثوں کے اعدادوشمار پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرتؑ کے بارے میں جو روایتیںذکر ہوئی ہیں وہ تواتر کی حدود سے کہیں زیادہ ہیں۔ اتنی کثرت سے روایتیں بہت ہی کم موضوعات پر ملتی ہیں۔ ہر وہ شخص جو اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کا معتقد ہے حضرت مہدی علیہ السلام پر عقیدہ رکھنا اس کے لئےلازمی اور ضروری ہے کہ وہ اس وقت زندہ ہیں اور غیبت کے پردے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایک دن یقیناً ان کا ظہور ہو گا۔
اب چند حدیثیں
۱ینابیع المودہ کے مؤلف اپنی کتاب میں رسول خداؐ سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: مہدی میرے فرزندوں میںسے ہیں جن کے لیے غیبت ہے اور جب وہ ظاہر ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔
(منتخب الاثر ص۲۴۹۔)
۲اسی کتاب میں یہ روایت بھی مذکور ہے کہ سلمان فارسی کا بیان ہے: میں رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت امام حسین علیہ السلام رسول خداؐ کی آغوش میں تھے۔ آنحضرتؐ کی آنکھ اور بھوںکا بوسہ لے کر فرما رہے تھے:تم کریم ہو، کریم کے فرزند ہو، کریم کے بھائی ہو۔ تم امام ہو، امام کے فرزند ہو، امام کے بھائی۔ تم حجت خدا ہو، حجت خدا کے فرزند ہو، اور حجت خدا کے بھائی۔ تم تو حجت خدا کے والد ہو، تمہارا نواں فرزند قائم ہوگا۔
(المہدی ؑص ۶۰۔)
۳’’ابن ابی دلف‘‘ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
میرے بعد میرے فرزند حسن امام ہوں گے اور ان کے بعد ان کے فرزند’’ قائم‘‘ امام ہوں گے جو دنیا کو عدل وانصاف سے اس طرح سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی ۔‘‘
(منتخب الاثر ص۲۲۵۔)
۴.......’’ حذیفہ‘‘ کا بیان ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے ارشاد فرمایا کہ :
اگر دنیا کے فنا ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا خدا اس دن کو اتنا طولانی کرے گا کہ میرا ایک فرزند جو میراہم نام ہو گا وہ ظاہر ہوگا۔ سلمان نے دریافت کیا: یارسول اللہ! وہ فرزند کس کی نسل سے ہوگا؟ حضرتؐ نے امام حسین علیہ السلام کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: اس کی نسل سے۔
(ذخائر العقبیٰ ص ۱۳۶۔)
۵ ’’مسعدۃ‘‘نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
ہمارا قائم حسن کی صلب سے ہوگا( گیارہویں امام حسن عسکری علیہ السلام) اور حسن‘ علی کی صلب سے( دسویں امام علی نقی علیہ السلام) اور علی‘ محمد کی صلب سے۔(نویں امام محمد تقی علیہ السلام) اور محمد‘ علی کی صلب سے( آٹھویں امام علی رضا علیہ السلام) اور علی میرے اس فرزند کی صلب سے۔ ا س وقت آپ نے ساتویں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا: ہم بارہ امام ہیں سب کے سب معصوم اور پاکیزہ۔ خدا کی قسم! اگر دنیا کے فنا ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گاخدا اس دن کو اتنا طولانی کرے گا کہ ہم اہل بیت کے ’’قائم ‘‘کا ظہور ہو۔
(اثبات الہداۃ ج۲ ص۵۶۲۔)
سماجیات کے ماہرین اور ان کے نظریات
دنیا کے دانشوروں کا یہ نظریہ ہے کہ اس وقت جو ساری دنیا میں خوں ریزی، جنگ، فساد ، ہنگامے، قتل و غارت گری، روزانہ بڑھتے ہوئے جرائم کا بازار گرم ہے اس کی وجہ یہ ہے روحانی اور جسمانی تقاضوں اور ضرورتوں میں تناسب اور توازن باقی نہیں رہا۔
یہ صحیح ہے آج کے انسان نے دنیا کو تسخیر کرلیا ہے سمندروں کی تہوں تک اس کی رسائی ہو چکی ہے چاند پر وہ کمند ڈال چکا ہے لیکن مادی اعتبار سے مالا مال ہونے کے باوجود روحانی اور معنوی لحاظ سے بالکل فقیر ہے ۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ طاقت اور قوت کی بنیاد پر دنیا میں عدالت نہیں قائم ہوسکتی صرف جدید ٹیکنیک اور مادی علوم کے سہارے بھی انسان کو ابدی سعادت نصیب نہیں ہوسکتی ۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ انسان اپنے سماجی امور کی عمارت ایمان اور اخلاق کی بنیادوں پر تعمیر کرے۔ ایک عالمی مصلح کی ہدایتوں پر عمل کرکے آپ کو ہلاکتوں سے نجات دلائے۔ خلوص، صفائے دل، پاکی باطن اور عدل وانصاف کی فضا میں حکومت قائم کرے اس صورت میں یہ انسانی سماج حضرت مھدی علیہ السلام کے ظہور و قیام کے لئے زمین ہموار کرے گا۔
امامؑ اورطول عمر
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کی طولانی عمر محال نہیں ہے کیونکہ قرآن میں صراحت سے یہ تذکرہ ملتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے طولانی عمر پائی تھی اور انھوں نے صرف ۹۵۰ سال تبلیغ اور ہدایت میں گزارے۔
(فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا ۔(سورۂ عنکبوت آیت۱۴))
علم حیاتیات کی جدید تحقیقات بھی ہمارے عقیدے کی تائید کرتی ہیں ۔بڑے دانشوروں کا نظریہ یہ ہے کہ اگر غذاؤں اور دواؤں میں ضروری احتیاط برتی جائے تو انسان طولانی زندگی بسر کر سکتا ہے۔
حضرت آیۃ اللہ صدر علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ’’المھدیؑ‘‘ میں ایک مضمون ’’المقتطف‘‘ نامی ماہنامے کے سال ۱۳۹۵ ھ کے تیسرے شمارے سے نقل فرمایا ہے اس مضمون میں جو باتیں ذکر کی گئی ہیں وہ ہمارے موضوع سے مناسبت رکھتی ہے اس لیے اس مضمون کا خلاصہ ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں۔ ’’ عظیم دانشوروں کا کہنا ہے کہ حیوانی بدن کے تمام سِل سلس میں ہمیشہ رہنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ انسان ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتا ہے بشرطیکہ کوئی حادثہ اس کے رشتۂ حیات کو منقطع نہ کر دے۔ یہ باتیں تخمینہ نہیں ہیں بلکہ ان کی بنیاد مسلسل تحقیق اور تلاش ہے۔‘‘
جونس،بکنس یونیورسٹی کے پروفیسر ’’ڈیمنڈ برل‘‘ کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے اعضا میں ہمیشہ رہنے کی استعداد پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی تحقیق ڈاکٹر’’جاک لوب‘‘ نے کی تھی اس کے بعد ڈاکٹر ’’ورن لویس‘‘ نےاپنی شریک حیات کے تعاون سے تحقیق کر کے یہ ثابت کیا تھا کہ ایک پرندے کے جنین کو نمکین پانی میں زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں برابر تحقیقات ہوتی رہی یہاں تک کہ ڈاکٹر’’الکسیس کارل‘‘ نے مسلسل تجربات سے یہ ثابت کیا کہ جن اعضا پر تجربات کیے گئے ہیں ان میں بڑھاپے کے آثار نظر نہیں آتے۔ بلکہ ان اجزا کی زندگی خود ان جانوروں سے زیادہ ہے جن کے بدن سے یہ اجزا لیےگئے ہیں۔ اس نے جنوری ۱۹۱۲ء سے اپنے تجربات کا آغاز کیا اس راہ میں طاقت فرسا مشکلات کا سامنا کیا۔
ان تجربات سے یہ نتائج برآمد ہوئے۔
(۱) اگر غذائی مواد میں کمی نہ ہو اور جراثیم پیدا نہ ہوں تو یہ سیلزCells ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں۔
(۲) یہ اجزا زندہ رہنے کے علاوہ رشدو نمو بھی کرتے رہیں گے۔
(۳) جو غذائیں ان اجزا کو مل رہی ہیں ان سے رشد و نمو کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
(۴) وقت کی رفتار ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ وقت کے گزرنے سے یہ کمزور اور بوڑھے نہیں ہوتے۔ بوڑھاپے کے ذرا سے بھی اثرات ان میں نظر نہیں آتے۔ ہر سال گذشتہ سال کی طرح رشدونمو کرتے رہتے ہیں۔
اگر یہ صورت ہے تو انسان کو موت کیوں آتی ہے اور عام طور سے اس کی زندگی سو سال سے کیوں تجاوز نہیں کر پاتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ: انسان اور حیوان کے جسم میں بے پناہ اضافہ اجزا ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف اور متفاوت ہونے کے باوجود آپس میں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں کہ ایک کی زندگی سے دوسرے کی زندگی اور ایک کی کمزوری اور ناتوانی سے دوسرے کی کمزوری اور ناتوانی وابستہ ہیں ۔حادثاتی موتیں اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ جراثیم یکبارگی حملہ کردیتے ہیں جس سے بہت سے اجزامر جاتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان کی موت کی نیند سو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی متوسط عمر ستّر یا اسّی سال ہے۔ تجربہ سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ موت اس بنا پر نہیں آتی کہ انسان۷۰ یا۸۰ سال کا ہوجاتا ہے بلکہ موت کا اصلی سبب وہ امراض اور عوارض ہیں جوان اجزا پر حملہ آور ہوتے ہیں اور انھیں کام کرنے سے روک دیتے ہیں ۔ان اجزا کے بیکار ہونے سے دوسرے اجزا متاثر ہوتے ہیں اور اجزا کا باہمی ربط ختم ہو جاتا ہے جس کی بنا پر دوسرے اجزا دھیرے دھیرے موت کا شکار ہوتے رہتے ہیں نتیجہ میں موت واقع ہو جاتی ہے۔
اگر علم اتنی ترقی کرلے کہ یہ امراض و عوارض ختم ہوجائیں یا ان کے اثرات سے اجزا واعضا محفوظ رہیں تو یقیناً انسان طولانی زندگی بسرکرسکتا ہے اور طولانی عمر کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔
(المہدیؑ ص۱۳۲۔۱۳۶)
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ طولانی عمر محال نہیں ہے تو یہ ممکن ہے کہ اس قادر مطلق خدا ایک شخص کو ہزاروں سال سے زندہ رکھے۔ کیونکہ طولانی عمر کے شرائط کی فراہمی خداوندعالم کے دستِ قدرت میں ہے ۔وہ ایسا نظام بنا سکتا ہے جو موجودہ نظام پر فوقیت رکھتا ہو جیسا کہ انبیاء علیھم السلام کے معجزے کے سلسلے میں اس نے کیا ہے۔ جناب ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کا سرد ہو جانا، جناب موسیٰؑ کے لئے اژدہے کا عصا بن جانا۔ جناب عیسیٰؑ کے لئے مردوں کا زندہ ہونا یہ سب معمول کے خلاف تھا لیکن خداوندعالم نے اپنی قدرت سے ایک ایسے نظام کو ایجاد کیا جو عام نظام پر فوقیت رکھتا ہے جس سے معجزات ظاہر ہوئے تمام مسلمان بلکہ یہودی اور عیسائی بھی ان معجزات پر یقین رکھتے ہیں۔
اس لیے حضرت امام زمانہ( خدا کا سلام ہو ان پر) کی طول عمر کے سلسلے میں کسی بھی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اگرطول عمر کو ناممکن مانا جائے تو خود قرآن اور جدید تحقیقات اس کی تکذیب کریں گی اور اگر یہ کہا جائے کہ طول عمر نا ممکن تو نہیں ہے لیکن معمول اور عام نظام کے خلاف ضرور ہے! اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عمر بھی انبیاء علیہم السلام کے معجزے کی طرح ہے ہر وہ شخص جو انبیاء علیہم السلام کے معجزات پر اعتقاد و یقین رکھتا ہے اسے حضرت امام زمانہؑ کی طول عمر کے سلسلے میں ذرا بھی شک وشبہ نہیں کرنا چاہیے ۔
امام ؑاور غیبت
حضرتؑ کی غیبت کے سلسلے میں بارہا پیغمبر اسلام ؐنے ارشاد فرمایا ہے اور کثرت سے ائمہ علیہم السلام نے تذکرہ کیا ہے ۔حضرتؑ کی غیبت کو پیدائش سے پہلے اس حد تک بیان کیا گیا تھا کہ جو شخص بھی حضرت امام زمانہؑ کے وجود پر ایمان رکھتا تھا وہ حضرتؑ کی غیبت پر بھی اعتقاد رکھتا تھا۔ اس سلسلے میں موج درموج روایتیں ملتی ہیں یہاں صرف چند کا تذکرہ کر رہے ہیں۔
۱۔ پیغمبر اسلامؐ نے ارشاد فرمایا کہ:
میرے فرزندوں میں قائمؑ اس عہد کی بنا پر جو میری طرف سے ان تک پہنچے گاایسی غیبت اختیار کریں گے کہ اکثر لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ خدا کو آل محمدؐ کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض افراد ان کی ولادت میں شک وشبہ کریں گے جو شخص اس زمانے کو پائے وہ اپنے دین پر ثابت قدم رہے شک و شبہ کو اپنے خیالوں میں جگہ نہ دے شیطان کو اپنے اوپر مسلط نہ کرے ورنہ اسے میرے دین اور میری ملت سے خارج کر دے گا۔
(اثبات الہداۃ ج۶ ص۳۸۶۔)
۲۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
ہمارے قائم کی غیبت ایسی ہو گی جس کی مدت طولانی ہوگی ......ہوشیار رہو! جو شخص اپنے دین پر ثابت قدم رہے گا اور غیبت کی طولانی مدت اسے سنگ دل نہ بنائے گی( دین سے منحرف نہ کرے گی) وہ قیامت میں میرا ہم درجہ ہوگا۔
(اثبات الہداۃ ج۶ ص۳۹۴۔۳۹۵۔)
۳۔ محمدا بن مسلم کا بیان ہے کہ:
امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا کہ اگر اپنے امامؑ کی غیبت کی خبر سننا تو ہرگز انکار نہ کرنا۔
(اثبات الہداۃ ج۶ ص۳۵۰۔)
۴۔ علامہ طبرسی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ شیعہ محدثین نے غیبت کی حدیثیں ان کتابوں میں درج کی ہیں جو حضرت امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں لکھی گئی ہیں۔ ان با اعتماد اورقابلِ اطمینان محدثین میں ایک ’’حسن ابن محبوب‘‘ ہیں انہوں نے غیبت سے سو سال قبل کتاب’’ مشیخہ ‘‘تحریر فرمائی اور اس میں غیبت کی حدیثوں کو درج کیا ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث انہی میں سے ایک ہے.......
ابو بصیر کا بیان ہے کہ: میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت امام باقر علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ قائم آل محمد کی دوغیبت ہوگی ایک طولانی دوسری مختصر ۔فرمایا: ہاںابوبصیر ان دونوں غیبتوں میں ایک طولانی تر ہو گی۔
(اعلام الوریٰ ص۲۱۶۔)
اس بیان کے مطابق رسول خداؐ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام نے حضرت ولی عصرؑ کی غیبت کے بارے میں اسی طرح حدیث بیان فرمائی ہے جس طرح حضرتؑ کی ولادت اور وجود کے سلسلے میں بیان فرمائی ہیں حضرتؑ کے وجود کے عقیدے کے ساتھ ساتھ حضرتؑ کی غیبت کے عقیدے کی بھی تعلیم دی ہے۔
جناب شیخ صدوق علیہ الرحمہ سید حمیری سے نقل فرماتے ہیں کہ: میں’’ محمدا بن حنفیہ‘‘ کا غلو کی حد تک معتقد تھا اور ان کی غیبت پر عقیدہ رکھتا تھا یہاں تک کہ خداوند عالم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ذریعے مجھ پر احسان فرمایا آتش جہنم سے نجات دلاکر راہ راست کی ہدایت فرمائی اور وہ اس طرح کہ جب دلیلوں کے ذریعہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی امامت مجھ پر واضح اور روشن ہو گئی۔ ایک دن حضرت جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: اے فرزند رسولؐ! آپ کے آباواجداد سے غیبت کی حدیث ہم تک پہنچی ہیں ۔ آپ یہ ارشاد فرمائیں کہ یہ غیبت کس شخص کو نصیب ہو گی؟
فرمایا: وہ شخص میری نسل کا چھٹا فرزند ہوگا اور رسول خداؐ کے بعد بارہواں امام ہوگا جس سلسلے کے پہلے امام حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور آخری امام قائم بحق،خدا کی آخری حجت کارخانۂ قدرت کے آخری شاہکار حضرت صاحب الزمان ہیں۔
(کمال الدین ج۱ ص۱۱۲۔)
کیوں امام غائب ہیں؟
پچھلے اسباق میں یہ بات ذکر کی جاچکی ہے کہ امامؑ اور جانشینی پیغمبرﷺکا وجود بے شمار جہتوں سے لازم اور ضروری ہے جیسے رفع اختلافات،قوانین الہٰی کی صحیح تفسیر، معنوی اور باطنی ہدایت خدائے رحمٰن و رحیم نے رسول خداؐ کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام کو اور ان کے بعد ان کے فرزندوں کو یکے بعد دیگر امام معین فرمایا ہے۔
یہ بات بدیہی(واضح) ہے کہ امام زمانہؑ کی بھی وہی ساری ذمہ داریاں ہیں جو ان سے پہلے اماموں کی تھیں۔ اگر رکاوٹیں نہ ہوتیں تو دوسرے اماموں کی طرح یہ بھی ظاہر ہوتے اور لوگ ان سے تمام تر فوائد حاصل کرتے ۔لیکن امام زمانہؑ ابتدا ہی سے نگاہوں سے غائب کیوں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
خدا وند عالم کی حکمت پر اعتقاد و ایمان رکھنے کے بعد ضروری نہیں ہے کہ ہم غیبت کا فلسفہ اور اس کی علت تلاش کریں کیونکہ غیبت کی اصلی علت نہ جاننے سے ہمیں کوئی ضرر نہیں پہنچے گا بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کی علت اور فلسفہ سے ہم ناواقف ہیں۔ یہ بس اتنا کافی ہے کہ ہم بے پناہ حدیثوں اور دلیلوں کے ذریعے یہ یقین رکھیں کہ خدا نے اپنی حجت کو بھیجا ہے اور بعض مصلحتوں کی بنا پر ہماری نگاہوں سے دور پردۂ غیبت میں رکھا ہے۔
بعض روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ غیبت کا اصلی فلسفہ ظہورکے بعد واضح ہو گا۔
’’ عبداللہ فضل ہاشمی‘‘ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ:’’ صاحب الامر‘‘ کے لئے یقیناً ایک ایسی غیبت ہو گی جس میں اہل باطل شک و شبہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کیوں؟ فرمایا: ان علل واسباب کی بنا پر جن کے بیان کرنے کی ہمیں اجازت نہیں ہے۔
عرض کیا :اس کی حکمت کیا ہے؟
فرمایا: وہی حکمت ہے جو اس سے پہلے کی حجتوں کی غیبت کے بارے میں تھی۔ یہ حکمتیں حضرتؑ کے ظھور کے بعد ہی ظاہر ہوں گی۔ جس طرح جناب خضرؑ کے کاموں کی حکمتیں ۔(کشتی میں سوراخ کرنا، جو ان کا قتل، گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرنا) ابتدا میں معلوم نہ ہو سکیں یہ حکمتیں اس وقت ظاہر ہوئیں جب جناب موسیٰؑ حضرت خضرؑ سے جدا ہوئے۔
اے فرزند فضل! غیبت امر الہی اور اسرار خداوندی ہے چونکہ خدا کو حکیم جانتے ہیں اس لئے ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے اگرچہ اس کی تفصیلات سے ہم ناواقف ہی کیوں نہ ہوں۔
(اثبات الہداۃ ج۶ ص۴۳۸۔)
بعض روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ غیبت کے بعد ظاہری فوائد بھی ہیں جن میں سے چند کا تذکرہ کریں گے۔
(۱)لوگوں کی آزمائش
غیبت کاایک فائدہ لوگوں کی آزمائش ہے تاکہ وہ لوگ جو صاحب ایمان نہیں ہیں ان کی حقیقت واضح ہوجائے اور وہ لوگ جن کے دل کی گہرائیوں میں ایمان کی جڑیں موجود ہیں وہ مصائب اور سختیاں برداشت کرکے اور پختہ ہوجائیں غیبت پر تو ان کا ایمان اور زیادہ کامل ہو جائے تاکہ سعادت اور ثواب کے بلند درجات حاصل کر سکیں۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ:
جس وقت میرا پانچواں فرزند نگاہوں سے پوشیدہ ہو گا اس وقت دین پر ثابت قدم رہو اور ہوشیار رہو تاکہ کوئی تمہیں دین سے منحرف نہ کرسکے۔ صاحب الامرؑ کے لیے ایک ایسی غیبت ہوگی جس میں عقیدت مندوں کا ایک گروہ ان سے دست بردار ہوجائے گا۔ یہ غیبت ایک آزمائش ہے جس سے خدا بندوںکا امتحان لےگا۔
(بحارالانوار ج۵۲ص۱۱۳۔)
(۲)قتل سے حفاظت
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے رہبر ان دین ائمہ برحق علیہم السلام سے خلفائے وقت کے جو روابط رہے ہیں وہ بخوبی واضح ہو جاتے ہیں اور یہ حقیقت روشن ہوجاتی ہے کہ اگر بارہویں امامؑ بھی ظاہر ہوتے تو اپنے آباء و اجداد کی طرح قتل کردیے جاتے یا ان کو زہر دے دیا جاتا کیونکہ ہر ایک اس بات سے واقف تھا کہ خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علی علیہ السلام اور فاطمہ سلام اللہ علیہا خدا کا سلام ہو ان سب پر۔ کے فرزندوں میں ایک ایسی ذات ظاہر ہو گی جو ظالموں جابروں اور ستمگروں کی بساط حکومت تہ کر دے گی اور وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرزند ہوگا اس لئے عباسیوں نے ان کو قتل کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر خدا وند عالم نے ان کی حفاظت کی اور دشمنوں کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
زرارہ حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ قائم علیہ السلام کے ظہور سے پہلے طولانی غیبت ہے عرض کیا: کیوں؟
فرمایا :قتل سے محفوظ رہنے کے لئے۔ یہ غیبت اس وقت تک باقی رہے گی یہاں تک کہ ان کی حکومت کے اسباب فراہم ہوجائیں اور ظالموں جابروں کی حکومت پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے زمین ہموار ہو جائے۔
(منتخب الاثر ص۲۶۹۔)
غیبت میں وجود امامؑ کا فائدہ
ابھی ہم یہ بات کہہ چکے ہیں کہ خدا وند عالم نے امام زمانہ علیہ السلام کو اس لئے معین فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان رہیں اور ان کی ہدایت کرتے رہیں۔ لیکن یہ عوام ہی ہے جو حضرتؑ کے ظہور کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جس وقت لوگ ایسی حکومت کے لئے آمادہ ہوگئے جس کی بنیاد عدل و انصاف پر ہو جس میں ہر ایک کے حق کا پورا پورا خیال رکھا جائے ۔تمام اسلامی احکام بغیر کسی خوف و ہراس کے نافذ کئے جائیں اس وقت حضرتؑ کا ظہور ہو جائے گا۔ لہٰذا خداوند عالم کی طرف سے کوئی کمی نہیں تقصیر خود ہماری اپنی ہے جس کی بنا پرامام نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور عالمی حکومت کے قیام میں تاخیر ہو رہی ہے۔ یہ بات بھی جان لینا چاہیے کہ وجود امامؑ کا فائدہ صرف ظاہری ہدایت اور رہبری میں منحصر نہیں ہے بلکہ نظام کائنات اور نظام شریعت کے لحاظ سے اور بھی بہت سے فائدے ہیں جس کے لئے امامؑ کا ظاہر ہونا ضروری نہیں ہے۔
وجود امامؑ کا ایک بہترین فائدہ یہ ہے کہ امامؑ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطۂ فیض ہیں اپنی جگہ یہ حقیقت متعدد دلیلوں اور حدیثوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ اگر امامؑ نہ ہوں تو خالق اور مخلوق کے درمیان رابطہ منقطع ہوجائے کیوں کہ خدا کے تمام فیوضات اور برکتیں امام ہی کے ذریعہ لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ حدیثوں میں اس مضمون کی متعدد حدیثیں ملتی ہیں کہ:’’ لو بقیت الارض بغیر امام لساخت...... اگر زمین بغیر امام کے رہ جائے تو دھنس جائے۔
(اصول کافی ج۱ ص۱۷۸۔ طبع آخوندی۔)
ہاں امام علیہ السلام اس کائنات کا نقطۂ مرکزی ہے نوع بشر کا مربی اور رہنما ہے لہٰذا نگاہوں کے سامنے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ باصلاحیت اور شائستہ افراد کے حق میں امامؑ کی معنوی ہدایت ہمیشہ جاری ہے خواہ لوگ اسے دیکھ پائیں یا نہ دیکھ پائیں۔
بعض روایتوں سے اشارہ ملتا ہے کہ امامؑ مومنین کی بزم میں آتے رہتے ہیں لیکن مومنین انہیں پہچان نہیں پاتے ہیں۔(اصول کافی ج۱ ص۳۳۷۔) غیبت کے زمانے میں بھی امامؑ دین کی حفاظت کر رہے ہیں اور شائستہ افراد کی اخلاقی تربیت کر رہے ہیں۔ غیبت کے زمانے کا وجود ایسا ہی ہے جیسے بادلوں کی اوٹ میں آفتاب کے اس کے نور اور اس کی حرارت سے ساری کائنات بہرہ مند ہو رہی ہے ان اثرات کو دیکھتے ہوئے بدلی میں آفتاب کے وجود سے انکار کور چشم(اندھا) اورکور باطن(کینہ ور) ہی کرسکتا ہے۔
ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ غیبت کے زمانے میں لوگ کس طرح وجود امام ؑسے استفادہ کریں گے؟
امامؑ نے ارشاد فرمایا: جس طرح بادلوں کی اوٹ میں پوشیدہ آفتاب سے استفادہ کرتے ہیں۔
(منتخب الاثر ص۲۷۰۔۲۷۲۔)
اس سلسلے میں ایک(ڈاکٹر کرین۔ سورین یونیورسٹی فرانس ہے۔) مستشرق کے بیان کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
’’میرا عقیدہ یہ ہے کہ صرف مذہب شیعہ وہ تنہا مذہب ہے جس نے خالق اور مخلوق کے درمیان واسطے کو ہمیشہ محفوظ رکھا ھے اورہمیشہ ہدایت الہی کے رابطہ کو باقی رکھا ہے۔ یہاں ولایت و ہدایت کا سلسلہ ابتدا سے آج تک قائم ہے یہودیوں نے سلسلۂ ولایت و ہدایت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ختم کر دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہ لائے۔ عیسائی اس سلسلہ کو حضرت عیسیٰؑ سے آگے نہ بڑھا سکے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے معتقد نہ ہوئے مسلمانوں میں اہل سنت اس سلسلے میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آکر رک گئے اور آنحضرتؐ کے بعد یہ سلسلۂ ولایت و ہدایت منقطع ہو گیا۔
صرف مذہب شیعہ وہ مذہب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت پر اعتقاد رکھتا ہے اور اس مذہب نے سلسلۂ ولایت و ہدایت کو آنحضرتؐ کے بعد اماموں کے ذریعے محفوظ رکھا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گا۔
ہاں تنہا مذہب شیعہ وہ مذہب ہے جہاں خالق اور مخلوق کے درمیان واسطۂ فیض ہمیشہ محفوظ اور باقی ہے(سال نامہ مکتب تشیع سال دوم ص۲۰۔۲۱) (اور یہی اس کی حقانیت کی دلیل ہے۔)
ایک یاددہانی
امام زمانہ علیہ السلام کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اور عالم غیب کے درمیان رابطہ منقطع نہیں ہوا ہے اور جو اس عقیدے پر قائم اور ثابت قدم ہے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ حضرتؑ کی یاد میں رہیں اور ان کا تذکرہ کرتے رہیں ایک غیبی مصلح کی آمد کا انتظار کرتے رہیں۔
انتظار کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ سارے مسلمان اور شیعہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور اسلامی مقاصد کی ترقی اور توسیع کی کوئی سعی و کوشش نہ کریں۔ بلکہ جیسا کہ ہمیشہ سے علماء کہتے آئے ہیں کہ ہر مسلمان اور شیعہ کا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے اسلامی معاشرے کی تشکیل کی کوشش کرے۔ اسلامی علوم و معارف کی نشر واشاعت کی حتی الامکان سعی و کوشش کرے، ظلم اور ظالموں کے خلاف آواز اٹھائے اور اپنے امکان بھر ان کا مقابلہ کرے تاکہ عادلانہ عالمی حکومت کے لئے زمین ہموار ہو سکے۔ یعنی سماج کو اس طرح کی تعلیم دی جائے کہ ہر شخص عدل کا خوگر اور انصاف کارسیا نظر آئے۔ اگر معاشرہ میں ظلم و جور کی حکمرانی ہے ہر ایک اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے اور ان اعمال سے نفرت و بیزاری کا اظہار کریں۔
ہاں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ایمان اور اسلام کی راہ میں فدا کاری کرے اور ہمیشہ حضرت مہدی علیہ السلام کے استقبال کی تیاری میں رہے یعنی اپنے زندگی کے لئے ایسے اصول معین کرے جو حضرتؑ کے منصوبوں کے متضاد نہ ہوں تاکہ وہ حضرتؑ کے جانثاروں،فداکاروں اور مددگاروں کے قدم سے قدم ملا کر ان کی صف میں کھڑا ہو سکے۔